کم از کم امریکہ United States و بھارت India کی زبان تو نہ بولیں!

کس سے منصفی چاہیں - انصار عبا سی

25 جولائی 2019

America or India ki zubaan to na bolen

وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کا دورۂ امریکہ United States کامیاب رہا یا نہیں، اس کا فیصلہ تو صرف وقت ہی کرے گا لیکن فوری طور پر مسئلہ کشمیر Kashmir Issue پر ایک صحافی کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں جو بات صدر ٹرمپ نے کی اُس سے بھارت India سٹپٹا اُٹھا ہے بلکہ وہاں ایک طوفان برپا ہو گیا ہے۔ صد ٹرمپ کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتے اور کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے ساتھ وائٹ ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاید وہ کچھ لمحوں کے لیے مودی کی جپھیاں بھول گئے اور عمران خان Imran Khan کی تعریفیں کرنے لگے، بھارت India اور امریکہ United States کے درمیان گہرے اسٹرٹیجک تعاون کو بھی ایک طرف رکھ کر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کے لیے پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہونے کی بات کر دی اور یہ بھی کہا کہ مودی نے حال ہی میں اُنہیں کشمیر کے مسئلہ پر ثالث کا رول ادا کرنے کے لیے کہا تھا۔ کل ٹرمپ کیا کہیں گے، کسی کو کچھ معلوم نہیں، امریکہ United States اور امریکی صدر اگلے لمحے کیسے پاکستان Pakistan سے متعلق کیا رنگ اپناتے ہیں، یہ بھی کسی کو نہیں پتا لیکن کم از کم ٹرمپ کے بیان نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کو فوری طور پر عالمی سطح پر اس انداز میں اجاگر کیا کہ پاکستان Pakistan اور کشمیری خوش جبکہ بھارت India اور اس کا میڈیا پاگل سے ہو گئے۔ بھارتی Indian میڈیا نے تو ٹرمپ کو جھوٹا قرار دے دیا لیکن مودی ابھی تک خاموش ہیں۔ بھارتی Indian حکومت نے ایک نرم سا تردیدی بیان تو جاری کیا لیکن یہ نہیں کہا کہ ٹرمپ نے جھوٹ بولا ہے۔ اسی لیے بھارتی Indian اپوزیشن مودی کی زبان سے سننا چاہتی ہے کہ آخر سچ ہے کیا؟ ٹرمپ نے جو کہا وہ چاہے سوال کے جواب میں ہی کیوں نہ ہو، یہ وزیراعظم عمران خان Imran Khan کی کامیابی ہی تصور ہوگی کہ اُن کے دورۂ امریکہ United States کے موقع پر مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کو اتنی اہمیت ملی۔ آگے کیا ہوتا ہے اس کا انتظار سب کو رہے گا۔

اس ملاقات میں ٹرمپ ماضی کی حکومتوں سے ناخوش نظر آئے کہ اُنہوں نے وہ نہیں کیا جو امریکہ United States چاہتا تھا لیکن امید ظاہر کی کہ عمران خان Imran Khan وہ کریں گے جو ٹرمپ یا امریکہ United States چاہتے ہیں۔ افغانستان Afghanistan کے مسئلہ کے پُرامن حل کے لیے وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے امریکی صدر کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا لیکن ٹرمپ کی اس بات پر کہ پاکستان Pakistan نے ماضی میں وہ کچھ نہیں کیا جو امریکہ United States کے لیے اُسے کرنا چاہئے تھا، وزیراعظم نے کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا۔ ہو سکتا ہے یہ حکمت کا تقاضا ہوکہ اُنہوں نے ٹرمپ کو اس موقع پر یہ یاد نہیں دلایا کہ پاکستان Pakistan کو کس طرح امریکہ United States نے بار بار استعمال کیا اور ڈو مور، ڈو مور کا تقاضا کرتا رہا۔ عمران خان Imran Khan نے ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اُن کی بہت تعریفیں کیں اور کہا کہ وہ صاف اور کھری بات کرتے ہیں۔ خان صاحب بھی صاف اور کھری بات کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں لیکن امریکی صدر کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق پاکستانی صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے سوال سے وہ کچھ زیادہ خوش نظر نہیں آئے، جس پر دو پاکستانی صحافیوں طیبہ ضیاء اور متین حیدر نے اپنے وڈیو پیغامات میں حیرانی کا اظہار بھی کیا۔ بعد ازاں ایک امریکی ٹی وی کو اپنے انٹرویو کے دوران اُنہوں نے کہا کہ اگر امریکہ United States نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ United States کے حوالے کرنے کی بات کی تو پاکستان Pakistan بدلے میں عافیہ صدیقی کی پاکستان Pakistan منتقلی کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ اچھا ہوتا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ خان صاحب ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات میں خود اٹھاتے۔ اپنے دورۂ امریکہ United States کے موقع پر خان صاحب نے بڑے فخر سے یہ بھی بتایا کہ کس طرح اُن کی حکومت نے آسیہ مسیح کو جیل سے نکال کر بیرونِ ملک بھجوایا۔ خان صاحب نے حافظ سعید یا اُن کی کالعدم تنظیم کا نام لیے بغیر یہ بھی کہا اُن کی حکومت نے پرائیویٹ مسلح گروپوں کو ختم کر دیا ہے۔

آنے والوں دن فیصلہ کریں گے کہ پاکستان Pakistan سے امریکہ United States کیا چاہتا ہے اور کیا حکومت وہ سب کچھ کر سکتی ہے جس کا امریکہ United States تقاضا کرتا ہے۔ اگرچہ افغانستان Afghanistan اس وقت امریکہ United States کی سب سے اہم ترجیح ہے اور وہ پاکستان Pakistan سے توقع رکھتا ہے کہ وہ طالبان کو جنگ بندی اور مستقل امن معاہدے کیلئے تیار کرے لیکن مذہبی آزادی کے نام پر امریکہ United States پاکستان Pakistan میں نہ صرف Blasphemy Law (قانونِ تحفظ ِ ناموسِ رسالت) کا خاتمہ چاہتا ہے بلکہ آئین پاکستان Pakistan کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے پر بھی ناخوش ہے اور اس آئینی شق کے خاتمے کا بھی خواہشمند ہے۔ ہمیں امریکہ United States سمیت ہر ملک سے اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں لیکن امید ہے وزیراعظم پاکستان Pakistan امریکہ United States یا یورپ کے کسی ایسے مطالبے پر توجہ نہیں دیں گے جس کا تعلق مسلمانوں کے ایمان سے ہے۔

جس وقت ٹرمپ اور عمران خان Imran Khan کے درمیان وائٹ ہاوس میں ملاقات ہو رہی تھی تو وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نعیم الحق کو جیو نیوز پر اس ملاقات کے حوالے سے بات کرتے سنا۔ نعیم الحق صاحب نے درست کہا کہ اس ملاقات کا سب سے اہم موضوع افغانستان Afghanistan میں امن کے قیام اور پاکستان Pakistan کا اس سلسلے میں کلیدی کردار ہے۔ اس کے بعد نعیم الحق نے کہا کہ امریکہ United States دہشت گردی اور پاکستان Pakistan میں ایسے گروپوں جو دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں، کے بارے میں بھی بات کرے گا تاکہ حکومت اُن گروپوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے۔ اُنہوں نے بتایاکہ ہماری حکومت نے پہلے ہی بہت اہم اقدامات کیے ہیں اور پچھلے دنوں حافظ سعید کو بھی گرفتار کیا ہے اور مدارس یاجو بھی اس قسم کے سنٹرز ہیں، اُن پر اب حکومت کا کنٹرول بھی ہے اور جو مدارس کا نصاب ہے، ہم اُس کو بہتر کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ نعیم الحق کو سن کر میں حیران ہوا کہ کس آسانی سے وہ وہی زبان بول رہے ہیں جو امریکہ United States اور بھارت India کی زبان ہے۔ ٹھیک ہے، حافظ سعید کو بین الاقوامی فیصلوں جس کا پاکستان Pakistan پابند ہے، کے تناظر میں گرفتار کیا گیا اور اُن کی تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا لیکن تحریک انصاف کی حکومت اور اُس کے مشیر اگر غیروں کی زبان بولتے ہیں تو یہ بھی بتا دیں کہ حافظ سعید اور اُن کی کالعدم تنظیم نے کون کون سی دہشت گردی کی؟ ذرا حکومت یہ بھی بتائے کہ ممبئی حملوں میں حافظ سعید کی شمولیت کے بھارت India نے پاکستان Pakistan کو کیا ثبوت دیئے؟ ٹرمپ نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں حافظ سعید کو نام نہاد دہشت گرد لکھا لیکن نعیم الحق صاحب تو بہت آگے نکل گئے۔ ٹھیک ہے، حافظ سعید کی وزیراعظم کے دورۂ امریکہ United States سے پہلے گرفتاری دورے کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی تھی لیکن نعیم الحق ذرا یہ بتا دیں کہ حافظ سعید اور اُن کی کالعدم تنظیم نے ملک کے اندر کون کون سی دہشت گردی کی؟ عمران خان Imran Khan کے ماضی میں حافظ سعید کے بارے میں کیا خیالات تھے؟ کابینہ کے اراکین بالخصوص شیخ رشید اورشہریار آفریدی اس بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں؟ کیا سیلاب زدگان اور زلزلہ متاثرین کی مدد، غریبوں کے لیے اسکولوں، اسپتالوں کا جال بچھانا اور بلوچستان Balochistan اور تھر جیسے علاقوں میں پانی کے کنوئوں، گھروں کی تعمیر اور دوسرے فلاحی کام کرنا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے؟ کم ازکم امریکہ United States اور بھارت India کی زبان تو نہ بولیں۔ اگر مدرسوں سے متعلق اصلاحات کا تعلق امریکہ United States سے ہے اور یہ کام بھی حکومت امریکہ United States کو خوش کرنے کے لیے ہی کر رہی ہے تو پھر یہ تو بڑے خطرے کی بات ہے۔

 169