ٹرمپ ثالثی کے لئے تیار تو سو بسم اﷲ

برملا - نصرت جاوید

24 جولائی 2019

Trump Salsi kay liye tiyar

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ایک لطیفے میں بیان ہوا جنگل کا بادشاہ اور بڑا ’’جانور‘‘ ہے۔ اس کی مرضی ،انڈا دے یا بچہ۔

2019کے آغاز کے ساتھ ہی وائٹ ہائوس کو سمجھ آچکی تھی کہ پاکستان Pakistan کو On Boardلئے بغیر امریکی افواج کی افغانستان Afghanistan سے باعزت واپسی کی راہ نکالنا ممکن نہیں۔ٹرمپ کو بتایا گیا کہ اگر وہ پاکستان Pakistan کی سیاسی اور عسکری قیادت کو اپنے ملک مدعو کرے۔ پاکستان Pakistan کی اہمیت کا برسرِ عام اعتراف کرے تو افغانستان Afghanistan کے حوالے سے اس کی مشکلات آسان ہوسکتی ہیں۔ وہ قائل ہوگیا۔ سینیٹر لنڈسی گراہم کو پاکستان Pakistan بھیجا۔اس نے وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan سے ملاقات کی۔سعودی ولی عہد Crown Prince محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman نے بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کیا اور اس سال اپریل کے مہینے سے زلمے خلیل زاد نے پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران عمران-ٹرمپ ملاقات کی ممکنہ ’’تاریخ‘‘ تلاش کرنا شروع کردی۔

وائٹ ہائوس کی شدید خواہش تھی کہ پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister کی امریکی صدر سے جون کے آخری ہفتے میں ملاقات ہوجائے ۔ عمران خان Imran Khan نے بجٹ کی منظوری سے جڑی مصروفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے معذرت چاہی۔ جولائی کے آخری دس دنوں میں سے کسی ا یک کا ذکر کیا۔ 22جولائی کی تاریخ لہذا پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister کی خواہش کے مطابق طے ہوئی۔ اگرچہ زلمے خلیل زاد اور اس کے ساتھ کام کرنے والوں کو خدشہ لاحق تھا کہ اگر عمران-ٹرمپ ملاقات جون میں نہ ہوپائی تو اس کے لئے ستمبر تک انتظار کرنا ہوگا۔ یہ وہ مہینہ ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوتا ہے۔ دُنیا بھر کے کئی ممالک کے سربراہان اس کے افتتاحی اجلاسوں میں شرکت کے لئے نیویارک جاتے ہیں۔

مزید تفصیلات میں جائے بغیر اس حقیقت کو خطِ کشیدہ کے ذریعے نمایاں کرنا ہوگا کہ 22جولائی کی ملاقات کے لئے پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister نہیں امریکی صدر بے تاب تھا۔ اس کی بے تابی کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ ستمبر کے آغاز میں امریکی عوام کو بتانا چاہ رہا ہے کہ اس کی صورت میں نمودار ہوئے حتمی Deal Makerنے افغانستان Afghanistan کا ’’حل تلاش کرلیا‘‘ ہے۔افغانستان Afghanistan سے اس کی افواج اب ’’باعزت‘‘ انداز میں وطن لوٹیں گی۔ ویت نام والا حال نہیں ہوگا۔ امریکہ United States کو ’’ایک اور ویت نام‘‘ سے بچانے کے بعد وہ نکسن سے بڑا Statesmanثابت ہوگا۔افغانستان Afghanistan لہذا 22جولائی 2019کے روز ہوئی ملاقات کا بنیادی سبب تھا۔

ٹرمپ لیکن ٹرمپ ہے۔لطیفے والا ’’بڑا جانور‘‘۔ پاکستان Pakistan کے وزیر اعظم Prime Minister کی موجودگی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نے تقریباََ 2ہفتے قبل جاپان کے شہر اوسا کا میں ہوئی ایک ملاقات میں اس سے درخواست کی تھی کہ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کا حل ڈھونڈنے میں اس کی مدد کی جائے۔ پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister بھی امریکی صدر سے کشمیر کے حوالے سے ’’کچھ کرنے‘‘ کے خواہاں ہیں۔ٹرمپ لہذا ’’ثالثی‘‘ کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

امریکی صدر کے کشمیر کے بارے میں ادا کئے ریمارکس کے فوری بعد بھارتی Indian میڈیا چراغ پا ہوگیا۔ اس کی اکثریت کو کامل یقین تھا کہ مودی سرکار کو ٹرمپ کو ’’جھوٹا‘‘ قرار دینے سے قبل سوبار سوچنا ہوگا۔ اس کی سوچ کو جھٹلانے کے لئے بھارتی Indian وزیر خارجہ کے ترجمان نے عمران-ٹرمپ ملاقات ختم ہوتے ہوئے پاکستانی وقت کے مطابق تقریباََ رات کے بارہ بجے ایک بیان جاری کردیا۔

اس بیان میں ٹرمپ کو ’’جھوٹا‘‘ تو نہیں کہا گیا۔ سفارتی زبان میں اگرچہ یہ کہتے ہوئے کہہ دیا گیا کہ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نے اوساکا میں امریکی صدر سے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حوالے سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست نہیں کی تھی۔

بھارتی Indian میڈیا اور اپوزیشن مگر اس بیان سے مطمئن نہیں ہوئے۔ ان دنوں بھارتی Indian پارلیمان کا اجلاس جاری ہے۔ وہاں پیش ہوا بجٹ زیر بحث ہے۔ کانگریس نے مگر ایک تحریک التوا پوسٹ کردی۔ مطالبہ ہوا کہ باقی معاملات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے بھارتی Indian پارلیمان کو بتایا جائے کہ وزیر اعظم Prime Minister مودی نے صدر ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی یا نہیں۔

پارلیمان میں ممکنہ ہنگامے کے تدارک کے لئے بھارتی Indian وزیر خارجہ منگل کی صبح وہاں کے راجیہ سبھا ،جو ہمارے سینٹ جیسا ہے،پہنچ گیا۔ ایک تحریری بیان پڑھتے ہوئے جے شنکر نے ٹرمپ کا نام لئے بغیر اس کے اس دعویٰ کی تردید کی کہ نریندر مودی narendra modi نے اس سے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ کہنے کے بعد تاشقند اور لاہور میں ہوئے معاہدوں کو یاد دلاتے ہوئے اصرار ہوا کہ پاکستان Pakistan اور بھارت India اپنے مسائل کا حل باہمی مذاکرات کے ذریعے ہی تلاش کرسکتے ہیں۔اس ضمن میں کسی اور ملک کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

بھارتی Indian میڈیا اور اپوزیشن اپنے وزیر خارجہ کے اس بیان سے مطمئن نہیں ہوئے۔اب مطالبہ یہ ہورہا ہے کہ چونکہ امریکی صدر نے بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister کا نام لیتے ہوئے ’’ثالثی‘‘ کا دعویٰ کیا ہے،اس لئے نریندرمودی ذاتی طورپر اس کی تصدیق یا تردید کرے۔مجھے خدشہ ہے کہ بھارتی Indian وزیراعظم اس مطالبے کو زیادہ عرصے تک نظرانداز نہیں کر پائے گا۔

نریندرمودی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دو ماہ قبل اس نے بھرپور انتخابی مہم کے ذریعے اپنی اپوزیشن کو بری طرح پچھاڑتے ہوئے عام انتخابات جیتے ہیں۔ پلوامہ Pulwama واقعہ کے بعد ہوئے واقعات کی بنیاد پر وہ یہ بڑھک لگاتارہا کہ اس کی 56انچ چوڑی چھاتی نے پاکستان Pakistan کو ’’سبق سکھادیا‘‘۔بھارتی Indian اپوزیشن اس کے دعویٰ کو مؤثرانداز میں جھٹلا نہیں پائی۔ اپنی شکست سے بے تحاشہ مایوس ہو کر مودی کو للکارنے کا بے تابی سے کوئی موقعہ ڈھونڈ رہی تھی۔ ٹرمپ نے 22جولائی کے دن کرکٹ کی زبان میں اسے ایک ’’لوزبال‘‘دے دیا۔ اپوزیشن اس پر چھکا لگائے بغیر رہ نہیں سکتی۔

ٹرمپ نے مودی کا نام لے کر جو دعویٰ کیا اس کی وجہ سے بھارت India میں اُٹھے شوروغوغا نے مجھ جیسے مود ی کے نقاد پاکستانیوں کو یقینا بہت خوش کیا ہے۔وقتی خوشی سے بالاترہوکر وسیع تر تناظر میں غورکریں تو فکر لاحق ہوتی ہے کہ آئندہ چند دنوں تک پاکستان Pakistan اور امریکہ United States یکسوہوکر افغانستان Afghanistan پر توجہ مرکوز نہیں کر پائیں گے۔انگریزی زبان والا Focusوقتی طورپر افغانستان Afghanistan کے بجائے کشمیر پر Shiftہوگیا ہے۔

مسئلہ کشمیر Kashmir Issue پر امریکی توجہ اگرچہ ہمارے اطمینان کا باعث ہے کیونکہ 1990کی دہائی سے ہم ثابت قدمی سے دُنیا کو یاد دلارہے ہیں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوجانے کے بعد جنوبی ایشیاء میں دائمی امن قائم ہونے کی کوئی صورت بن نہیں پارہی۔ مودی کی لاہور آمد کے باوجود کارگل ہوا۔ کارگل کے ذمہ دار ٹھہرائے جنرل مشرف بھی مودی اور من موہن سنگھ کی حکومتوں سے ’’مثبت مذاکرات‘‘ کے کئی ادوار کے باوجود مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کا حل ڈھونڈ نہیں پائے۔ ان کی رخصتی کے بعد آصف علی زرداری ایوان صدر پہنچے تو ممبئی ہوگیا۔ نواز حکومت بھی اس حوالے سے کوئی ٹھوس پیش قدمی اٹھانہ پائی۔

عمران حکومت کے ابتدائی ایام ہی میں پلوامہ Pulwama ہوگیا اور اس سال کی فروری میں ہم ایک اور پاک -بھارت India جنگ کو بہت مشکل سے ٹال پائے۔ وہ جنگ بھی امریکہ United States اور دیگر ممالک کی بھرپور مداخلت کے سبب ٹلی تھی۔ جنوبی ایشیاء میں امن کے قیام کے لئے ’’تیسری قوت‘‘ خاص طور پر امریکہ United States جیسی سپرپاور کی مداخلت لہذا ضروری ہے۔ ٹرمپ ثالثی کے لئے تیار ہے تو سو بسم اللہ۔

تلخ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ ہندوتوا کے جنون میں مبتلا ہوا آج کا بھارت India کھلے دل کے ساتھ تیسری قوت کی مداخلت کی اہمیت کا اعتراف کرنے کی ہمت سے محروم ہے۔ ایسا کرتے ہوئے اس حقیقت کو ڈھٹائی سے بھلادیا جاتا ہے کہ کارگل سے بھارت India کی جان صدر کلنٹن نے چھڑائی تھی۔ 2019کی فروری میں پاک-بھارت India جنگ ٹالنے کے لئے امریکہ United States ہی نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ٹرمپ کے پیرکے روز ادا کئے ریمارکس کے بعد نریندرمودی نے واضح بیان کے ذریعے امریکی صدر کو ’’جھوٹا‘‘ نہ پکارا تو بھی وہ اپنی ہندوانتہاپسند Baseکے اطمینان کے لئے کشمیری عوام اور پاکستان Pakistan کے خلاف ’’جارحانہ‘‘ نظر ا ٓنے کی سرتوڑ کوشش کرے گا۔

نظر بظاہر Damage Controlکی خاطر اپنائی بھارتی Indian پالیسی یاPosturingافغانستان Afghanistan میں امن کی تلاش کے عمل کو بری طرح متاثر کرسکتی ہے۔ہمیں وقتی خوشی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بھی آنے والے دنوں میں بہت چوکس رہنا ہوگا۔

 305