وزیر اعظم Prime Minister کا دورہ امریکہ United States ۔۔۔۔

زیر بحث - عارف نظامی

24 جولائی 2019

Prime Minister Visit America

وزیراعظم عمران خان Imran Khan کا دورہ وائٹ ہاؤس توقع سے کہیں زیادہ کامیاب نظر آیا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے گرمجوشی سے استقبال کیا۔نتائج کے اعتبار سے تو اس سرکاری دورے کی تفصیلات بعد میں سامنے آئیں گی لیکن تاحال یہی صدر ٹرمپ جنہوں نے پاکستان Pakistan کی امداد بند کر دی تھی اور یہ کہتے تھے کہ پاکستان Pakistan ہم سے امداد لیکر ان دہشتگردوں کی مدد کرتا ہے جو افغانستان Afghanistan میں امریکی فوجیوں کو مار رہے ہیں۔اب ان کے مطابق اسلام آباد Islamabad ایک سچا دوست ہے۔ظاہر ہے اس تبدیلی کی وجہ امریکہ United States کی ضرورت ہے کہ وہ افغانستان Afghanistan میں قیام امن چاہتا ہے، وہاں پر صدر اشرف غنی کی حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور مل جل کر ایسی حکومت بن جائے تاکہ امریکی فوج کا انخلا ممکن ہو جائے۔صدر ٹرمپ یقیناً چاہتے ہیں کہ 2020ء کے انتخابات سے پہلے پہلے ایسا ہو جو ان کیلئے بڑی کامیابی ہوگی۔صدر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کرانے کی پاکستان Pakistan کی فرمائش پر صاد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ دو ہفتے قبل مودی بھی مجھ سے کہہ چکے ہیں کہ ہماری کشمیر پر بات چیت کرا دیں لیکن بھارت India اب اس ضمن میں صدر ٹرمپ کو جھوٹا قرار دے رہا ہے کہ وزیر اعظم Prime Minister مودی نے ٹرمپ سے ایسی کوئی بات نہیں کی۔بھارتی Indian خارجہ امور کی وزارت کے ترجمان کے مطابق بھارت India ہمیشہ کہتا ہے کہ پاکستان Pakistan کی ساتھ دوطرفہ مذاکرات ہو سکتے ہیں اور ثالثی کا مخالف ہے کیونکر ایسی فرمائش کرے گا؟۔حقائق کچھ بھی ہوں جیسا کہ حریت کانفرنس کے لیڈر سید علی گیلانی نے عمران خان Imran Khan کے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حوالے سے موقف پر شکریہ ادا کیا ہے۔خان صاحب کے اس دورے سے بھارت India کو کافی تکلیف پہنچی ہے لیکن ہمیں بھی ٹرمپ سے جپھی ڈالنے کے مابعد زیادہ ڈونگرے نہیں برسانے چاہئیں۔واضح طور پر امریکہ United States اور پاکستان Pakistan کے تعلقات دوطرفہ مفادات پر مبنی ہیں۔کیا پاکستان Pakistan پرامن افغانستان Afghanistan کے حوالے سے امریکہ United States کی خواہشات کی تکمیل کر سکتا ہے؟ ورنہ یہ کہ دہشت گرد گروپ پاکستان Pakistan کی مدد سے افغانستان Afghanistan کارروائیاں کر رہے ہیں ’ڈور مور‘ کا مطالبہ زور پکڑتا جائے گا۔مزید برآں ایف اے ٹی ایف کی پاکستان Pakistan کو گرے لسٹ میں رکھنے کی تلوار اب تک سر پر لٹک رہی ہے جس کو اکتوبر میں اٹھایا نہ گیا تو پاکستان Pakistan کی اکانومی کیلئے ایک بری خبر ہو گی۔ وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے دورہ واشنگٹن کی ایک انفرادیت یہ تھی کہ انھوں نے وہاں بھی جلسہ عام کر ڈالا ۔عمو می طور پر پاکستانی سربراہان حکومت ومملکت جب امر یکہ جا تے ہیں تو سفارتخانے یا ہوٹل میں گنے چنے پاکستانیوں کو بلا کر خطاب کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔بیرون ملک سفارتخانے یاہائی کمیشن اپنے منظور نظر افراد یا تنظیموں کے ذریعے اجتماع کرواکے ہو ٹلزوغیرہ کا کرایہ سرکاری ذرائع سے ادا کر دیتے ہیں۔ یہ پاکستان Pakistan کی تاریخ میں پہلی مر تبہ ہے کہ کسی وزیر اعظم Prime Minister نے غیر ملکی سرزمین بالخصوص امریکہ United States کے دارالحکومت واشنگٹن میں کیپٹل ون ارینا میں اتنے بڑ ے اجتماع سے خطاب کیا جسے جلسہ عام بھی کہا جا سکتا ہے۔قبل ازیں 2014ء میں بھا رتی وزیراعظم نریندرمودی بھی اسی قسم کا جلسہ اپنے دورہ امریکہ United States کے موقع پر نیویارک میں میڈی سن سکوائر گارڈن میں کر چکے ہیں۔ عمران خان Imran Khan کے کامیاب جلسے کا سہرا پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ کے سر جا تا ہے۔ماضی میں ڈاکٹر صاحب کا محترمہ بے نظیر بھٹو کیساتھ گہرا تعلق رہا ہے، ان کی ماضی کی سیاست بھی پیپلزپارٹی کی ہے اور وہ سینیٹ آف پا کستان میں بھی اس جماعت کی نمائندگی کرچکے ہیں لیکن بعدازاں آصف زرداری نے اپنے دور صدارت میں انھیں زیادہ گھاس نہیں ڈالی جس سے وہ دلبرداشتہ ہو کر پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ جو سابق وزیر داخلہ اعتزاز احسن کے حوالے سے میر ے اچھے دوست ہیں کے اندازے کے مطابق کھچا کھچ بھرے ہوئے کیپٹل ون ارینامیں پند رہ سے بیس ہزار افراد موجود تھے، اس کے علاوہ باہر بھی ہزاروں افراد وہاں لگی ہوئی سکرینز پر خطاب سن رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب جو مرنجاں مرنج شخصیت ہیں ان کی قائدانہ اور انتظامی صلاحیتوں جن سے میں پہلے واقف نہیں تھا، کھل کرسامنے آئی ہیں ۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان برائے جنوبی ایشیا ایس ویلز نے جلسے سے متاثر ہو کر کہا کیپٹل ون ارینا میں پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کا اجتماع دیکھ کر خوشی ہوئی،امید ہے یہ متحرک کمیونٹی پاک امریکہ United States تعلقات کومضبوط بنانے اورمشکلات کے حل کیلئے مددکرسکتی ہے۔ عمران خان Imran Khan کی تقریر تحریک انصاف کے سربراہ کی تقریر تھی حالانکہ بطور وزیراعظم پاکستان Pakistan غیر ملکی سرزمین پر اپوزیشن سے ہزار اختلاف کے باوجود انھیں اتنی سخت تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے اصولی طور پر پاکستان Pakistan کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز اور مسائل کے حل پر بات کرنی چاہیے تھی۔ خان صاحب نے کہا کہ یہ کتنی ستم ظریفی ہے جب سیاسی رہنماؤں سے حساب مانگا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔نواز شریف Nawaz Sharif کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا جب عدالتیں انہیں سزا دیتی ہیں تو کہتے ہیں ’مجھے کیوں نکالا‘۔ میں جو نیا پاکستان Pakistan بنا رہا ہوں اس میں وہ وہ سوال پوچھے جا رہے ہیں جن کاماضی میں کبھی جواب نہیں ملا ۔اصولی طور پر ان کی بات سے اختلاف نہیںکیا جا سکتا کہ میرٹ اور جواب دہی کے نظام کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی اور یقیناً یہ دونوں اوصاف ہماری ماضی کی لیڈر شپ میں کم ہی پا ئے گئے لیکن اس میں صرف سیاستدانوں کو مطعون کرنا بھی مبنی برانصاف نہیں ہوگا۔ پاکستان Pakistan کے قیام کی نصف مدت میں جن جن طالع آزماؤں نے اقتدار پر قبضہ کیا انہوں نے ہمیشہ کرپشن کے خاتمے اور میرٹ کی بالادستی کا نعرہ لگایا لیکن اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے ان اصولوں کی خوب دھجیاں اڑائیں اور انہی نام نہاد کرپٹ سیاستدانوں کو ساتھ ملایا جنہیں وہ کوستے ہوئے اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔ ایک سوچ یہ پائی جاتی ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان Pakistan ترقی کے حوالے سے بہت اچھا تھا، خان صاحب بھی یہی بات کہتے ہیںلیکن حقائق پرغور کیا جائے تو ایوب خان کے نام نہاد’عشرہ ترقی‘ میں پاکستان Pakistan سے زیادہ بائیس خاندانوں نے ترقی کی اور اسی دور میں اقتدار کے ذریعے دولت کے حصول کو عین جائز قرار دیا گیا اور حقیقی معنوں میں اس دور میں مشرقی پاکستان Pakistan کے ساتھ جو ناانصافیاںہوئیں وہ بالآخر ہماری ازلی دشمن بھارت India کی پاکستان Pakistan توڑنے کی مذموم کوششوں میں ممد ومعاون ثابت ہوئیں ۔ خان صاحب نے اصولی طورپر درست کہا کہ پاکستان Pakistan میں ایک طرح کی بادشاہت رہی ہے یہاں پر ہر حکمران خواہ وہ سیاسی تھا یاغیرسیاسی، خود کو مغل اعظم ہی سمجھتا رہا۔ عام انتخابات کو گورکھ دھندہ سمجھتے ہوئے پا رلیمنٹ میںاکثریت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ایک مرتبہ اکثریت کے ذریعے اقتدار حاصل ہو جائے تواس کے بعد عوام، پارلیمنٹ اور باقی اداروں کو بھی بہت کم وقعت دی جاتی ہے۔ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے دورمیں ان کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد جو نیب کے ہاتھوں پابند سلاسل ہیں عملی طور پر حکومت چلا رہے تھے۔ بڑے بڑے فیصلوں اور سودوں میں شفافیت کا یکسر فقدان تھا۔ مئی 2016ء میں میاں نواز شریف Nawaz Sharif دل کا بائی پاس آپریشن کرانے کے لیے لندن گئے تھے،اس وقت کو ئی قائم مقام وزیر اعظم Prime Minister نہیں تھا ۔ شہباز شریف Shehbaz Sharif کو تو وفاق کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا جاتا تھا صرف پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواداور میاں صاحب کے سمدھی اور وزیر خزانہ اسحق ڈار ہی سب کچھ تھے۔ خان صاحب بجا طور پر چھوٹے وفود کے ہمراہ جانے کا کریڈٹ لیتے ہیں لیکن واشنگٹن ائیرپورٹ کی بس میں سوار ہو کر جانا بطور وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan ان کے منصب کی بے توقیری تھی۔اگر دانستہ ایسا کیا گیا تو یہ افسوسناک اور اگر غیر دانستہ طور پر ہوا تب بھی ٹھیک نہیں۔ مقام شکر ہے کہ پاکستان Pakistan میں آزاد میڈیا کی بنا پر خان صاحب کے برسراقتدار آنے سے پہلے بھی میاں صاحب کے دور میں وفود سکڑنے شروع ہو گئے تھے۔ آ ہستہ آہستہ غیر ملکی دوروں میں وفود کو بھی لے جانے کا نظام بدلتا گیا لیکن پھر بھی قومی خزانے پر شا ہ خرچیاں برقرار رہیں۔ میڈیا کی آزادی ایک بہت بڑ ی نعمت ہے لیکن اب تحریک انصاف کی حکومت اس سے خائف رہتی ہے۔خان صاحب نے وائٹ ہاؤس میں سوال وجواب کی نشست کے دوران میڈیا پر قدغن لگانے کے حوالے سے سوال کو ایک لطیفہ کہہ کر رد کر دیالیکن یہ مذاق تو تواتر سے میڈیا کے ساتھ ہو رہا ہے۔ چاہئے تو یہ کہ خان صاحب اگر واقعی قانون کی عمل داری اور جوابدہی چاہتے ہیںتو میڈیا کا پیچھا چھو ڑ دیں۔ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو جب تک عدالتیں رہا نہیں کرتیں اپنی سزا کاٹنا پڑے گی۔ لیکن ’صفائی‘ کو اپوزیشن کاصفایا کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اگر نیا پاکستان Pakistan بننا ہے تو وہ خان صاحب جیسے مخلص لوگ ہی بنا سکتے ہیں کیونکہ ذاتی طور پر وہ کرپٹ نہیں ہیں لیکن نئے پاکستان Pakistan میں جمہوریت اور جمہور کی خوشبو آنی چا ہیے۔ جیسا کہ انھوں نے کہا کہ جب احتساب ہو تا ہے تو ’جمہو ریت خطر ے میں ہے‘ کا نعرہ لگا دیا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے یہ محض ایک خدشہ نہیں بلکہ اپوزیشن اور حکومت کی ما رکٹائی جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ خان صاحب نے اپنے جلسے میں عوام کی پرجوش تالیوں میں یہ اعلان بھی کردیا کہ وہ واپس جا کر نواز شریف Nawaz Sharif اور زرداری سے جیل میں لگے ائرکنڈیشنر اور ٹیلی ویژن واپس لیں گے اور یہ مذاق بھی اڑایا کہ وہ گھر کاکھانا ما نگتے ہیں ۔ امریکہ United States میںپاکستان Pakistan کو نواز شریف Nawaz Sharif کے علاوہ بھی بڑے بڑ ے مسا ئل کا سامنا ہے،خان صاحب کو اپنی بھرپور توجہ ان پر ہی مرکوز کرنا چاہئے تھی چہ جائیکہ ناقدین یہ کہیں کہ احتساب نہیں ذاتی انتقام لیا جا رہا ہے۔

 277