وزیراعظم کا دورۂ امریکہ United States اور قومی تقاضے

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

21 جولائی 2019

Prime Minister visit America

زیر نظر تحریر شائع ہونے تک وزیراعظم عمران خان‘ امریکہ United States کے اہم ترین دورے پر روانہ ہو چکے ہوں گے ۔ ان کے دورہ امریکہ United States کیلئے پاکستان Pakistan کے اندر سے اور باہر سے‘ ان کی ذات اور وطن عزیز کے مخالفین نے ان سے بھی زیا دہ تیاریاں اور رابطے کر رکھے ہیں‘ جس طرح پاکستانی میڈیا میں نون لیگ اور دیگرسیاسی جماعتوں کا اثر ورسوخ ہے‘ اسی طرح عالمی میڈیا میں اسرائیل ‘ بھارت India اور ان کے حلیفوں کا غلبہ ہے ۔ امریکہ United States ا ور برطانیہ کے نشریاتی اداروں سمیت متذکرہ بالا ممالک کے میڈیا کے درجنوں نمائدے وہاں ان کے استقبال کیلئے پہنچ چکے ہیں‘ جن کے پاکستان Pakistan کے انگریزی اخبارات اور کچھ ٹی وی چینلز کے ہم خیال نمائندوںسے قریبی رابطے ہیں ‘جو انہیں پاکستان Pakistan اور اس کے قومی اداروں کے متعلق خود تک کسی بھی طریقے سے پہنچنے والی معلومات کو شیئر کرتے رہتے ہیں اور سب سے اہم حسین حقانی گروہ اور ان کے دوستوں پر مشتمل بھارتی Indian تھنک ٹینکس کے کارکن اپنے ماتھوں پر بل ڈالے غضب ناک نظروں سے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی راہ تک رہے ہیں ۔یہ سب وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو کشمیر‘ سیا چن اور سرکریک کے بغیر بھارت India سے دوستی اور کھلی تجارت کے چیمپئن جیسے خطاب کے جال میں گھیرنے کی بھر پور کوششیں کریں گے ‘لہٰذا یہی وہ وقت ہو گا‘ جب وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو عالمی میڈیا کے ان نمائندوں کو پاکستان Pakistan کی معاشی و دیگر مثبت تفصیلات بتانا ہوں گی۔

وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو امریکہ United States کے سابق سیکرٹری آف سٹیٹ ہنری کسنجر کا کہا ہوا یہ مشہور فقرہ یاد رکھنا ہو گا کہ ''امریکہ United States سے دشمنی مول لینا خطرناک ہو سکتا ہے‘ لیکن امریکہ United States سے دوستی اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے‘‘۔ افغان جہاد کے دوران 1984ء میں جیسے ہی امریکی سی آئی اے نے اطلاع دی کہ پاکستان Pakistan ایٹم بم بنا چکا‘ تو وائٹ ہائوس سمیت سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آگ بگولہ ہو گیا اور پاکستان Pakistan کو اس گستاخی کی سزا دینے کیلئے بھارت India کو سیاچن پر جبری اور اچانک قبضہ کرنے کا اشارہ دے دیا گیا ۔ جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان Pakistan کرۂ ارض کے صرف تین ممالک روس‘ بھارت India اور شام کے سوا امریکہ United States ‘ برطانیہ‘ جاپان اور ان کے اتحادیوں پر مشتمل پوری دنیا کیلئے جنگ لڑ رہا ہے ‘تو اس دوران کوئی اس کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی بھی جرأت کر سکتا ہے‘ لیکن یہ اعتماد کسنجر کے اس فقرے کی نذر ہو گیا کہ امریکہ United States اپنے دوستوں کو سزا دینے میں ایک لمحے کی دیر بھی نہیں کرتا‘ اس لئے عمران خان Imran Khan کو یاد رکھنا ہو گاکہ وہ کسی دھرنے یا سیا سی جلسے سمیت اپوزیشن جیسی پریس کانفرنس میں نہیں ‘بلکہ اپنے ملک کی بقا اور مفاد کی جنگ لڑنے جا رہے ہیں‘ جہاں ایک ایک لفظ کی انہیں قیمت چکانا پڑے گی۔

سابق امریکی صدر اوبامہ نے اپنے دورہ بھارت India کے دوران کہا تھا:India should not only look easy but also engage East.۔وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو اوبامہ کے کہے ہوئے ان الفاظ کوSnub کرنا ہو گا‘ کیونکہ پاکستان Pakistan جیسا اسلامی ملک جو ایک مضبوط جوہری طاقت بھی ہے ‘کسی کو بھی خود پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجا زت نہیں دے سکتا۔اوبامہ کے یہ الفاظ امریکہ United States کی بھارت India نوازی کیلئے وہ کھلا پیغام تھا‘ جس سے اس خطے میں امریکہ United States کے نئے زاویوں کی نشاندہی ہوتی تھی۔ پاکستان Pakistan کے بارے میں امریکہ United States کا دوغلا پن تو اوبامہ کے ان الفاظ سے بھی پہلے صاف اور واضح طور پر اسی وقت نمایاں ہو گیا تھا‘ جب اوبامہ سے پہلے صدر بش ‘بھارت India کے ساتھ سویلین نیوکلیائی سمجھوتہ ‘ F-16اورHORNET F-18 فائٹر جہاز دینے کی غیر مشروط پیشکش کر رہے تھے‘ جس سے ظاہر ہو رہاتھا کہ امریکہ United States اب بھارت India کو فوجی لحاظ سے مضبوط کر کے چین China کے خلاف علاقے میں بطور ایک مضبوط ریاست کے تیار کرنا چاہتا ہے اور پھر اوبامہ انتظامیہ بھارت India کو High frequency Radar for monitoring cross border movementمہیا کرنے کے علاوہ وسیع پیمانے پر دور دراز کے علاقوں تک سریع الحرکت فوجی نقل و حمل کیلئے سات بلین ڈالر billion dollor کے ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ کے علاوہ گیارہ بلین ڈالر billion dollor کے 126 میڈیم ملٹی رول کمبیٹ ایئر کرافٹس اور بھارتی Indian ایئر فورس کیلئے علیحدہ سے 24 ہارپون میزائل دیئے جا رہے تھے۔ امریکی آڈٹ ٹیکس اینڈ ایڈوائزری فورم کے مطابق‘ 2016ء تک بھارت India امریکہ United States سے 112 بلین ڈالر billion dollor کا دفاعی سامان حاصل کر رہا تھا۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ امریکہ United States اب پاکستان Pakistan کو بھارت India کے مقابلے میں برابری کی سطح پر نہیں رکھنا چاہتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امریکہ United States نے پہلے بھارت India کواپنا سٹریٹجیک پارٹنر اور بعد ازاں نیوکلیئر ساتھی بنایا۔

تعجب ہے کہ امریکہ United States ‘ بھارت India جیسے ملک کو بڑی جمہوریت کا خطاب دیتاہے‘ جہاں حق و انصاف کا بول بالا نہیں‘ جہاں انفرادی اور صحافتی آزادی میسر نہیں ‘جہاں بھارتی Indian سپریم کورٹ کے چار سینئر جج کھلی پریس کانفرنس میں الزام لگاتے ہیں کہ نریندر مودی narendra modi ججزپر دبائو ڈالتا ہے‘ جومقبوضہ جموں و کشمیر Kashmir میں7 لاکھ سے زائد بھارتی Indian فوج کے ساتھ لوٹ مار قتل و غارت اور عصمت دری کا بازار گرم کئے ہوئے ہے‘ جہاں انسانی حقوق بھارتی Indian فوج اور انتہا پسند ہندوئوں کے ہاتھوں کچلے جا رہے ہیں ‘جہاںایک لاکھ کے قریب معصوم کشمیریوں کے خون کا دھبے کلنک کے ٹیکوں کی طرح بھارت India کی نام نہاد جمہوریت کے ماتھے پر چمکتے دکھائی دے رہے ہیں ‘ جہاں چھ سو سے زائد معصوم بچوں کی بھارتی Indian فوج کی پیلٹ گنوں سے بے نور آنکھیں ٹھوکریں کھاتی پھر رہی ہیں اور افسوس کہ پھر بھی امریکہ United States اور اس کے حواریوں کو بھارت India کو بہترین جمہوریت کہتے ہوئے کوئی ندامت محسوس نہیں ہوتی۔ وہ بھارت India ‘جس کی ہر ریاست میں عیسائیوں کو زبردستی ہندو بنا یا جائے‘ جہاں ساٹھ سال سے زائد عمر کی ننوں کی آبروریزی کی جائے‘ ان کے گھر اور چرچ جلائے جائیں‘ دلیت (شودروں) کو زندہ جلایا جائے‘ مسلمانوں کو سر بازار گائے کا گوبر کھلایا جائے ‘کیاایسی ہوتی ہے‘ سب سے بڑی جمہوریت ؟ شاید اب امریکی سکولوں کے نصاب میں جمہوریت کی ترجیحات یہ رکھ دی گئی ہیں کہ جو بھی انسانی حقوق کی پامالی کی بد ترین مثال قائم کرے گا‘ ایسے ملک کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا خطاب دیا جائے گا ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی پالیسی سازوں کے کہنے پر اگر ہندوستان کو نیو کلیئر فیلڈ میں یورینیم کی فراہمی کریں گے‘ بھارت India کے عسکری استعمال میں آنے والے Fast Breederآئی اے ای اے سے مستثنیٰ قرار دیتے رہیں گے اور سب سے بڑھ کر انتہائی خطرناک حد تکHigh frequency Radar جیسے عسکری استعمال میں آنے والے جیساسامان ِحرب پابندیوں کے بغیر فراہم کریں گے‘ تو ان حالات میں خطے میں ہی نہیں‘ بلکہ عالمی سطح پر بھی طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ یوں جنوبی ایشیاء کے ممالک میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے اسلحے کی دوڑ شروع ہو جائے گی‘ اورNPTکی دھجیاں بکھیرنے کے بعد کوئی ملک بھی دوسرے ملک کو نیوکلیئر ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرنے سے نہیں روک سکے گا‘کیونکہ اب امریکہ United States نے تمام پابندیوں کے بر عکس بھارت India کیلئے Flood Gateکھول دیا ہے۔

اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے امریکہ United States کے دورے پر گئی ہوئی پاکستان Pakistan کی سیاسی قیا دت کو اگریہ کہا جائے کہ تمہاری خارجہ پالیسی India Criticنہیں ہونی چاہیے‘ تو یہ حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہو گا‘ کیونکہ بھارت India کے ساتھ عسکری اور غیر عسکری دونوں میدانوں میں تقابلی مقابلہ کرنے میں ہی پاکستان Pakistan کی بقا ہے۔

 273