وزیر اعظم Prime Minister ’’اِن‘‘ وائٹ ہاؤس

جلسہ عام - مجیب الرحمان شامی

21 جولائی 2019

Prime Minister in White House

وزیراعظم عمران خان Imran Khan امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے امریکہ United States پہنچ چکے ہوں گے یا پہنچنے والے ہوں گے۔ شاہ محمود قریشی کے مطابق ان کی دو ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ظہرانہ بھی وہ وائٹ ہائوس ہی میں تناول کریں گے۔ دونوں رہنمائوں کی ساخت اور انداز کو مد نظر رکھ کر مبصرین اندازے لگا رہے ہیں کہ... خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے ''دیوانے‘‘ دو... دونوں غیر روایتی لیڈر ہیں، اپنے اپنے سیاست دانوں اور اپنے اپنے میڈیا ہائوسوں سے بیزار۔ دونوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے بھی ان میں مماثلتیں تلاش کی جا رہی تھیں، اور کامیڈی شوز کا بھی موضوع تھیں۔ کئی لوگ عمران خان Imran Khan کو چڑانے کے لیے ان پر ''ٹرمپی پھبتی‘‘ کستے تھے لیکن ان کے اکثر مداح اسے تعریف سمجھ کر کورنش بجا لاتے تھے۔ امریکہ United States اور پاکستان Pakistan کے سیاسی پنڈتوں کا خیال تھا کہ دونوںکو کبھی اقتدار نصیب نہیں ہو گا، یا یہ کہ دونوں اقتدار کو نصیب نہیں ہوں گے۔ امریکہ United States میں ہیلری کلنٹن کا ستارہ عروج پر تھا، اور توانائی اور دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کے بعد نواز شریف Nawaz Sharif سُکھ کا سانس لے رہے تھے۔ پنجاب ان کا مضبوط گڑھ تھا، یہاں ان کے چھوٹے شہباز شریف Shehbaz Sharif کا طوطی بول رہا تھا۔ پاکستان Pakistan کے چاروں صوبوں میں پنجاب اپنی مثال آپ تھا۔ کوئٹہ اور کراچی تو کیا پشاور سے بھی جو لاہور آتا دنگ رہ جاتا۔ یہاں کی تعمیر و ترقی اپنا آپ منوا رہی تھی، بجلی کی سی رفتار سے بجلی کے منصوبے لگ رہے تھے۔ صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں فراٹے بھرے جا رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا کہ پنجاب میں ''شریف خاندان‘‘ کا جھنڈا برسوںگڑا رہے گا۔ تنقید کی جا سکتی تھی، اور ہو بھی رہی تھی۔ بہت کچھ کرنے کے باوجود بہت کچھ کرنے کی ضرورت اپنی جگہ تھی۔ انتظامیہ پر خاندانی چھاپ کی شکایات تھیں۔ ادارہ جاتی تقسیمِ اختیارات کو نظر انداز کیا جا رہا تھا، بلدیاتی اداروںکے انتخابات کے باوجود وہ ہضم نہیں ہو پا رہے تھے، نچلی سطح تک اختیارات کی تقسیم کے فوائد نگاہ سے اوجھل تھے۔ نچلی کیا بالائی سطح پر بھی اقتدار بند مٹھیوں میں تھا۔ ان سب شکایات کے باوجود گھوڑا سر پٹ دوڑ رہا تھا، اور امیدوں سے دِل بھرے ہوئے تھے۔ نواز شریف Nawaz Sharif کو پانامہ کے نام پر ڈس لیا گیا تو سمجھا جانے لگا کہ شہباز شریف Shehbaz Sharif ان کی جگہ لیں گے، عمران خان Imran Khan کے نعروں اور دھرنوں کی طاقت ان کے چھکے نہیں چھڑا پائے گی۔ عمران نوجوانوں اور خواتین میں مقبول تھے۔ ان کی طلسماتی شخصیت ماحول کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ کرکٹ کے بعد سماجی شعبے میں خدمات نے سونے پر سہاگہ کر رکھا تھا، ان کی منفی مہم بلندیوں کو چھو رہی تھی، لیکن عام خیال تھا کہ یہ انتخابی فتح میں تبدیل نہ ہو پائے گی۔ پھر یہ ہوا کہ آسمانی قوتیںان پر قربان ہوتی گئیں۔ پرانی قیادت اور سیاست سے نجات کا جذبہ طاقت کے سرچشموں میں سرایت کر گیا۔ وہ حربے جو ہیلری کو پچھاڑ چکے تھے، پاکستان Pakistan میں بھی آزمائے گئے، اور یہاں بھی وہ تبدیلی آ گئی، جس کے خواب دن دہاڑے دیکھے اور دکھائے جا رہے تھے۔

ٹرمپ کا امریکہ United States اور عمران کا پاکستان Pakistan ایک دوسرے کی تصویر نہیں ہیں۔ ایک دُنیا کی سب سے بڑی طاقت اور دوسرا ستر سال کا ہو کر بھی گھٹنوں کے بل چل رہا ہے، اس کے باوجود ان دونوں کے درمیان بہت کچھ ایسا ہے جس کا تصور کرتے ہوئے پھول مہک اٹھتے ہیں، اور کچھ نہ کچھ وہ بھی ہے جو انگاروں کی طرح دہک اٹھتا ہے۔ گزشتہ کئی عشروں نے امریکہ United States اور پاکستان Pakistan کو خواہی، نخواہی ایک دوسرے کے ساتھ باندھے رکھا ہے۔ شکووں کے ساتھ ساتھ تعلق و رفاقت کے لمحات بھی تاریخ سے کھرچے نہیں جا سکتے۔ آزادی کے بعد امریکہ United States پاکستان Pakistan کی پہلی محبت تھا۔ دونوں کا ورلڈ ویو ایک تھا، دونوں دُنیا کو ایک دوسرے کی عینک سے دیکھنے لگ پڑے۔ پاکستان Pakistan کے لیے اس کے بڑے ہمسایے، بھارت India نے ابتدا ہی سے سکیورٹی کے مسائل پیدا کر دیئے تھے۔ تقسیم کے دوران میں فراخ دِلی کا مظاہرہ نہ کر پایا تھا، وہ شاید اس خیال میں مگن تھا کہ نوزائیدہ ملک پر دبائو بڑھا کر اسے مطیع و فرمانبردار بنایا جا سکتا ہے۔ اگر وہ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کو بانٹتے ہوئے دِل کھلا کر لیتا تو آج اس خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔ دونوں ملک (کم از کم) خارجی اور دفاعی امور میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے، یورپ سے کہیں پہلے جنوبی ایشیا کی سرحدیں نرم ہو جاتیں۔ بھارتی Indian دبائو کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان Pakistan امریکہ United States تک پہنچا، اور غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی کو زہر قاتل سمجھ کر دفاعی معاہدوں کا حصہ بن گیا۔ یہ معاہدے بھارت India کے خلاف نہیں تھے، لیکن پاکستان Pakistan کو دفاعی اور معاشی طور پر مستحکم کر سکتے تھے، اسے خود کفالت کی منزل تک لے جا سکتے تھے۔ گزشتہ سات عشروں میں جو کچھ ہوا، اس نے پاکستان Pakistan کو پورے قد سے کھڑا رکھا، اور جو کچھ نہیں ہوا، اس کی ذمہ داری سے ہم اپنے آپ کو بری الذمہ نہیں کر سکتے۔ بھارت India کے ساتھ مسلح تصادم سے بچتے ہوئے ہم اگر اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب ہو جاتے تو آج جنوبی کوریا اور ملائیشیا Malaysia کیا‘ شاید جاپان کے ہم پلّہ ہوتے... لیکن یہ الگ کہانی ہے۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے۔ کہتے ہیں سعودی ولی عہد Crown Prince محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman نے اِسے ممکن بنایا ہے۔ صدر ٹرمپ کے داماد سے ان کی گہری ذاتی دوستی نے امریکی بیوروکریسی کی کھڑی رکاوٹیں پھلانگتے ہوئے وائٹ ہائوس سے براہِ راست دعوت نامہ بھجوانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، اس امید کے ساتھ کہ دونوں قادر الکلام (بلکہ منہ پھٹ) رہنما نئے مستقبل کی طرف بڑھ سکیں گے۔

افغانستان Afghanistan میں قیام امن امریکہ United States کی اولین ترجیح ہے، پاکستان Pakistan کے لیے بھی اس کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ عمران خان Imran Khan کے ساتھ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa بھی امریکہ United States میں ہوں گے، گویا طاقت اور سیاست کے قدم ملے ہوئے ہوں گے۔ پاکستان Pakistan اور امریکہ United States دونوں کو ماضی سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی ضرورت سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے اس دورے کے دوران سادگی اور کفایت کی جو روایات قائم کی ہیں، اس سے پاکستان Pakistan کے پہلے وزیر اعظم Prime Minister لیاقت علی خان، اور پہلے فوجی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے دوروں کی یادیں تازہ ہوئی ہیں۔ توقع کی جانی چاہیے کہ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan جب واپس آئیں گے، تو ایک مدبر رہنما کے طور پر بھی ان کا تعارف ہو چکا ہو گا۔ انتظار کرنے والی تالیوں کو مایوسی نہیں ہو گی۔

ایک اور سابق وزیراعظم

عمران خان Imran Khan کے امریکہ United States پہنچنے سے پہلے پاکستان Pakistan میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور ان کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔ حافظ صاحب کی گرفتاری پر تو صدر ٹرمپ نے خوشی سے بغلیں بھی بجا ڈالی تھیں۔ لیکن سابق وزیر اعظم Prime Minister شاہد خاقان عباسی کو جس طرح نیب نے دبوچا، اس پر عمران خان Imran Khan صاحب کو بھی تاسف کا اظہار کرنا چاہیے۔ الجھے ہوئے سوالات کے کھرے اور سیدھے جوابات حاصل کرنے کے باوجود پاکستان Pakistan کے ایک دیانتدار اور پاکباز سیاست دان کی شہرت رکھنے والے شخص کو گرفتار کر کے مشکلات کھڑی کر لی گئی ہیں۔ ایل این جی کی درآمد اور ٹرمینل کی تعمیر میں حیران کن کامیابی پر پٹرولیم کے وزیر کے طور پر شاہد خاقان عباسی کو ایوارڈ ملنا چاہیے تھا، لیکن کم صلاحیت تفتیش کاروں نے اسے ایک مسئلہ بنا کر رکھ دیا۔ پاکستان Pakistan کے نظام عدل کے لیے بھی یہ گرفتاری ایک چیلنج ثابت ہو گی، اور پاکستانی سیاست کے لیے بھی۔ اُجلے سیاست دان قوم کی متاعِ عزیز ہوتے ہیں، ان کو داغ دار کرنے کی بے جا کوششیں قومی نفسیات اور وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہی سمجھی جائیں گی، اور تاریخ ان کو اسی حوالے سے یاد رکھے گی۔

 163