260ارب ڈالر billion dollor کا کھیل …(2)

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

20 جولائی 2019

260 Arab Dollar ki Game

آسٹریلین کمپنی کے ساتھ اختلافات ہونے پر جب معاملات عدلیہ تک جا پہنچے یا یوں کہنا منا سب ہو گا کہ پہنچا دیے گئے تو اسی مالی معاملات بھی تشویش کن صورت اختیار کر گئے توکچھ عرصہ بعد بروکن ہلز پراپرٹیز( BHP) نے آسٹریلیاکی ہی ایک اور کمپنی ''MINCOR RESOURCES NL‘‘ کو اپنے ساتھ شامل کر لیا جس نے ریکو ڈک پراجیکٹ پر35 لاکھ ڈالر سرمایہ کاری کا وعدہ کیا اور اس کمپنی نے ایک تیسری کمپنی ''ٹیتھیان کاپر کمپنی‘‘کو اپنا سب پارٹنر بنا لیا اور اپریل2002ء میں ٹیتھیان کاپر کمپنی اوربی ایچ پی میں اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط ہو گئے۔دوسرے لفظوں میں اس طرح ریکو ڈک پراجیکٹ میںابتدائی آسٹریلین کمپنی بی ایچ پی کا عمل دخل ختم ہو گیااورٹیتھیان کاپر کمپنی چاغی ہلز ایکسپلوریشن جائنٹ وینچر اور ریکوڈک ایکسپلوریشن لائسنس کے75فیصدحصص کی مالک بن گئی ‘لیکن ٹیتھیان کاپر کمپنی نے بھی وہی خرگوش والی رفتار اختیار کی جوبی ایچ پی آسٹریلیا نے 1994ء سے اختیار کررکھی تھی جبکہ2002ء میںٹیتھیان کاپر کمپنی بلوچستان Balochistan منرل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن سے ہونے والے معاہدے کی رو سے2006ء تک ہر قسم کی فزیبلٹی سٹڈی سمیت سونے اور کاپر کی پیداوار دینے کی پابند تھی‘ لیکن وہ اس میں نا کام رہی ۔

2006ء میں جب ٹیتھیان کاپر کمپنی نے ریکو ڈک سے با قاعدہ پروڈکشن شروع کر نی تھی تو ایک تیسراکھیل اس طرح شروع ہوا کہ اندرون خانہ مائننگ کی دنیا کی سب سے مشہورو معروف کمپنیوں چلی کی Antofagasta اور کینیڈا کیBarrick Gold Corporation نے ٹیتھیان کاپر کمپنی کے تمام حقوق حاصل کر لیے اور یہ حقوق حاصل کرتے ہی ان کمپنیوں نے اعلان کر دیا کہ ٹیتھیان کاپر کمپنی کی تیار کردہ فیزیبلٹی رپورٹ اور اب تک اس نے جوکام مکمل کیا ہے اس کی بجائے ہم آزادانہ کام کرتے ہوئے 30 ملین ڈالر کی لاگت سے نئے سرے سے کام کریں گے اور ٹیتھیان کاپر کمپنی کی تیار کر دہ فزیبلٹی رپورٹ اور ان کے اب تک کے کئے گئے کام سے ہمارا کوئی تعلق اور سروکار نہ ہو گا۔اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ بروکن ہل پراپرٹیز ( BHP ) اورٹیتھیان کاپر کمپنی نے اب تک جو کام کیا ہے ‘معاہدے کے مطابق حکومت بلوچستان Balochistan اس کا25 فیصد ادا کرے اور وہی کام جو اب چلی اور کینیڈا کی یہ دو کمپنیاں کریں گی اس کا بھی پچیس فیصد وصول کیا جا ئے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹی سی سی نے ان کمپنیوں کو رپورٹ دے دی تھی کہ ریکو ڈک میں وسیع پیمانے پر کاپر اور سونے کے ذخائر کے علا وہ انتہائی قیمتی اور نایاب دھاتMolybdenum کے ذخائر موجود ہیں‘ لیکن ٹیتھیان کاپر کمپنی نے یہ رپورٹ کبھی بھی حکومت بلوچستان Balochistan کو فراہم نہیں کی۔ 2009 ء میں آصف علی زرداری کی حکومت تھی جب13000 کلو میٹر کے علا قے میں کھدائی کے منفرد اور بلا شرکت غیرے حقوق ٹیتھیان کاپر کمپنی کو الاٹ کر دیئے گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ کمپنی 14 برسوں سے اس علاقے کا سروے کر رہی تھی اور اسے معلوم ہو چکا تھا کہ بلوچستان Balochistan کے کن کن حصوں میں سونے اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں۔ حکومت بلوچستان Balochistan اگلے تین سال اپنی جگہ سوئی رہی جبکہ نئی داخل ہونے والی دونوں کمپنیوں نے نئی فزیبلٹی رپورٹ کے نام پر بھاری اخراجات پیش کر دیئے اور2008ء میں انہوں نے حکومت کو کہا کہ اس رپورٹ کی تیاری میں ہمارے220 ملین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔جب یہ بل پیش ہوا توحکومت بلوچستان Balochistan کو احساس ہوا کہ ہم نے1993ء میں یہ معاہدہ کیا تھا اور آج اسے17 سال ہو گئے ہیں‘ ہمیں صرف کروڑوں ڈالروں کے بل دکھائے جا رہے ہیں ‘لیکن پراجیکٹ وہیں پر ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کچھ طاقتیں چاہتی ہیں کہ گوادر Gawadar پورٹ کی طرح بلوچستان Balochistan سے سونا‘ تانبا اور دوسری بیش بہا معدنیات پر بھی دبیزپردہ پڑا رہے ۔

پاکستان Pakistan کے حساس اداروں نے ملک کی سلامتی اور معاشی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا کہ قدرت کی طرف سے عطا کئے گئے ان ذخائر پر بھر پور توجہ دی جائے ‘جس پر بلوچستان Balochistan کی کابینہ نے متفقہ طور پر 24 دسمبر 2009 ء کو فیصلہ کرتے ہوئے ریکوڈک پراجیکٹ پر سنجیدگی سے کام کرنے کے لیے ایک بورڈ آف گورنر تشکیل دیا جس کی سربراہی ملک کے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان اور ممبر پلاننگ کمیشن ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو سونپ دی گئی ۔اب تک ریکو ڈک میں بلوچستان Balochistan ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی طر ف سے جو دو بنیادی غلطیاں کی گئی ہیں ان میں ٹیتھیان کاپر کمپنی کو آسٹریلین سٹاک ایکسچینج میں رجسٹر ہونے کی اجازت اور ایکسپلوریشن لائسنس کی بار بار تجدید۔ بلوچستان Balochistan حکومت کو چاہئے تو یہ تھا کہ جب MINCOR RESOURCES NLٹیتھیان کاپر کمپنی کو ریکو ڈک معاہدے کے مکمل اختیارات منتقل کر رہی تھی تو بجائے آسٹریلین سٹاک ایکسچینج کے اسے پاکستان Pakistan کی سٹاک ایکسچینج میں رجسٹر ہو نے کا پابند کیا جاتا‘لیکن ٹی سی سی کی غیر ملکی سٹاک ایکسچینج کی رکنیت کی وجہ سے حکومت بلوچستان Balochistan اس پر کسی بھی قسم کا دبائو ڈالنے کے حق سے محروم ہو گئی۔ ٹی سی سی کا کہنا ہے کہ جب بروکن ہل پراپرٹیز( BHP) آسٹریلیا نے یہاں سے جانے کا فیصلہ کیا تو اس نے حکومتِ بلوچستان Balochistan کو کہا کہ معاہدے کے مطابق ان کے 75 فیصد حصص حکومت بلوچستان Balochistan حاصل کر لے‘ لیکن حکومت بلوچستان Balochistan نے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے معذوری ظاہر کر دی‘ جس پر یہ حقوق ٹی سی سی کو منتقل ہو گئے‘ جسے بلوچستان Balochistan ہائیکورٹ نے بھی کنفرم کر دیا۔ دوسری غلطی یہ ہوئی کہ2000ء میں جب اس معاہدے کی تجدید ہو رہی تھی تو حکومت کی طرف سے ایک شق رکھی گئی کہ اگر کمپنی اپنے مالی حقوق کسی دوسری کمپنی کو منتقل کرے گی تو حکومت بلوچستان Balochistan کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنے مالی حصے کو بھی بڑھا سکے گی‘ لیکن جب ٹیتھیان کاپر کمپنی نے اپنے حقوق چلی اور کینیڈا کی کمپنیوں کو منتقل کئے تو کسی نے بھی اس طرف دھیان دینے کی کوشش نہیں کی۔ دوسری طرف ٹیتھیان کاپر کمپنی کی بیلنس شیٹ دیکھیں تو ان کے مطابق مارچ2010ء تک وہ400ملین ڈالر اس پراجیکٹ پر خرچ کر چکی تھی‘ جس میں130ملین ڈالراس نے صرف اس علاقے کی بہتری اور دوسری سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کرنے کے علاوہ19ملین ڈالر حکومت بلوچستان Balochistan کو مختلف ٹیکسوں کی صورت میں ادا کئے ۔

2008ء میں ریکوڈک میں76بلین ڈالر billion dollor کے ذخائر تھے جو 2011 ء کی عالمی مارکیٹ کے حساب سے قیمتوں کے بڑھنے سے 130بلین ڈالر billion dollor ہو گئے۔ اس کے علا وہ ریکوڈک میں ایک انتہائی قیمتی اور نایاب دھات Molybdenumکے بیش بہا ذخائر کی موجودگی کی توثیق ہو چکی ہے۔ یہ وہ قیمتی دھات ہے جسے ہائی سپیڈ سٹیل‘ کاسٹ آئرن‘ اور سپر الائز بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ دھاتیں ائیر کرافٹ انڈسٹری‘ میزائل سسٹم اور سپیس انڈسٹری کے استعمال میں آتی ہیں۔ فروری2011 ء میں اس معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد پھر اس کی تجدید ہونی تھی کہ مولانا عبد الحق کے ہاتھ میں پٹیشن دیتے ہوئے بلوچستان Balochistan حکومت کے مقابل لا کھڑا کیا گیا‘جس پر افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا حکم جاری ہو ا کہ چاغی ہلز جائنٹ وینچر معاہدہ جو بلوچستان Balochistan ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور اور بروکن ہل پراپرٹیز(BHP) کے درمیان1993ء میں کیا گیا وہ void ab initioہے‘ یعنی شروع ہی سے کالعدم ہے۔(جاری)

 202