کس کس نے جج ارشد ملک پر مبینہ طور پر دباؤ ڈالا

کس سے منصفی چاہیں - انصار عبا سی

18 جولائی 2019

Kis Kis ne Judge Arshad Malik par Dabao dala

وڈیو اسکینڈل سپریم کورٹ پہنچ چکا اور چیف جسٹس آف پاکستان Pakistan کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے اس کیس کو گزشتہ روز سننا بھی شروع کر دیا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وڈیو اسکینڈل غیر معمولی واقعہ ہے، وڈیوز درست ہیں یا نہیں اس بات کا تعین ہونا چاہئے، سپریم کورٹ نے (اس معاملہ) میں فیصلہ دے دیا تو اسلام آباد Islamabad ہائیکورٹ میں چلنے والے کیس کا کیا ہوگا؟ اب ذمہ داری ڈالی گئی ہے تو فیصلہ دیں گے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس میں پہلا سوال عدلیہ کی ساکھ، دوسرا سوال فیصلہ (جس کے تحت نواز شریف Nawaz Sharif کو سزا دی گئی) کے درست ہونے یا نہ ہونے اور تیسرا سوال جج کے کنڈکٹ کا ہے۔ اس موقع پر عدالت نے یہ بھی کہا کہ آڈیو اور وڈیو کے قابلِ قبول شواہد ہونے پر عدالتی فیصلے موجود ہیں، پہلے تعین ہونا چاہئے کہ وڈیو قابلِ قبول ہیں یا نہیں، وڈیو تصدیق کے بعد ہی بطور شواہد لائی جا سکتی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف Nawaz Sharif کا کیس اسلام آباد Islamabad ہائیکورٹ میں بھی زیر سماعت ہے، اب کیس سماعت کے لیے مقرر ہوا ہے تو کچھ نہ کچھ فیصلہ تو دیں گے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کا اس معاملہ میں موقف سننے کے لیے سماعت 23 جولائی تک ملتوی کر دی۔ یعنی وڈیو اسکینڈل اب اُس اعلیٰ ترین عدالتی فورم پر پہنچ چکا جس کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور جہاں اُس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ العزیزیہ کیس میں میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو دی جانے والی سزا مشکوک ہو چکی لیکن اس کے باوجود وہ اب بھی جیل میں پڑے ہیں۔ اسلام ہائیکورٹ نواز شریف Nawaz Sharif کے کیس کو سالانہ چھٹیوں کے بعد ستمبر کے وسط میں سنے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ اس معاملہ میں کچھ نہیں کرتی تو نواز شریف Nawaz Sharif فیصلہ کے مشکوک ہونے کے باوجود ابھی جیل ہی میں رہیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وڈیو اسکینڈل کیس کی آئندہ سماعتوں میں سپریم کورٹ اس بارے میں کوئی ہدایت یا حکم نامہ جاری کرے لیکن اب جبکہ عدالت عظمیٰ کی طرف یہ کہہ دیا گیا ہے کہ وہ وڈیو اسکینڈل کے معاملہ پر کچھ نہ کچھ فیصلہ ضرور دے گی تو ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالت نون لیگ اور مریم نواز Maryam Nawaz صاحبہ کو طلب کرکے تمام وڈیوز کو اس کیس کا حصہ بنائے۔ یہ کام اس لیے ضروری ہے کیونکہ مریم نواز Maryam Nawaz کے مطابق اُن وڈیوز جن کو ابھی پبلک نہیں کیا گیا، میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کچھ ایسے افراد کے نام لیے ہیں جو مبینہ طور پر اُن پر دبائو ڈال رہے تھے کہ نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف فیصلہ دو۔ جج ارشد ملک نے مِس کنڈکٹ کیا یا نہیں، یہ معاملہ میری نظر میں اُس الزام سے بہت چھوٹا ہے جس کے مطابق چند اہم ترین افراد نے نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف فیصلہ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ سپریم کورٹ کی صوابدید ہے کہ ابھی تک پبلک نہ ہونے والی وڈیوز کی رازداری کو قائم رکھا جائے یا اُنہیں اوپن عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے لیکن میرے ذرائع کے مطابق جو نام ان وڈیوز میں لیے گئے ہیں اور جس نوعیت کے اُن پر الزامات لگائے گئے ہیں، وہ انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں، جسے عدالت عظمیٰ کو ہر حال میں دیکھنا چاہئے۔ اگر جج ارشد ملک سے متعلق یہ ثابت ہوتا ہے کہ اُنہوں نے دبائو میں آ کر نواز شریف Nawaz Sharif کو سزا دی تو پھر اصل سچ تو یہ سامنے آنا چاہئے کہ وہ کون کون افراد تھے اور اُن کا کن کن اداروں سے تعلق تھا جنہوں نے اپنی مرضی کا فیصلہ کروانے کے لیے یہ سارا کھیل کھیلا۔ جو نام مبینہ طور پر ابھی تک پبلک نہ ہونے والی وڈیوز میں لیے گئے وہ میری معلومات کے مطابق بہت اہم ہیں اور اُن کا تعلق ایک قومی آئینی ادارہ سے ہے۔ اگر دبائو کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو اصل چیلنج اُن افراد کو سزا دینا ہوگا جنہوں نے مبینہ طور پر جج ارشد ملک پر دبائو ڈال کر اپنی مرضی کا فیصلہ کروایا۔

 229