فرشتے جنرل ضیاء اور کھگہ صاحب

Tipu Mansoor

17 جولائی 2019



مرحوم صدر ضیاء الحق Zia ul Haq کے زمانے میں اک کھگہ نام کے بزرگ سیاستدان ہوا کرتے تھے ۔ اب وہ بھی مرحوم ہوگئے ہیں بوجوہ نام نہیں لکھ رہا ۔ وہ بزرگ سیاستدان علاقائی سیاست اور خاندانی ووٹوں کے زور پہ اسمبلی میں پہنچ جایا کرتے تھے ۔ ویسے سیدھے سادھے بھلے مانس آدمی تھے ۔ غالباً باقاعدہ تعلیم یافتہ نہیں ۔ تقریر کبھی کی ہی نہیں ۔ نہ ہی کبھی تحریر و تقریر کی ضرورت پڑی ۔ ویسے بھی تقریر کا جوہرالیکشن کے دنوں میں آزمایا جاتا ہے جب کھوکھلے نعرے اور جھوٹے وعدے وعید کرکے لوگوں کا لہو گرما کے ووٹ مانگنے ہوتے ہیں ۔ گھگہ صاحب لوک دانش خوب سمجھتے تھے اپنے علاقے کے تقریباً ہر گھر ہر فرد سے واقف تھے ۔ ان کی خوشی غمی میں شریک ہوتے تھے اس لیے تقریر کے بغیر ہی ووٹ لے لیتے ۔

شومئی قسمت صدر ضیاء الحق Zia ul Haq صاحب اک دفعہ پاکپتن تشریف لے گئے ۔ یہی کھگہ صاحب کا حلقہ تھا ( حلقہ احباب حلقہ اثر ) ۔ سٹیج تیار اور حسب روایت سبھی ضیاء صاحب کی شان میں قصیدے پڑھتے ۔ محفل میں سول و ملٹری بیوروکریسی کی اک سے بڑھ کر ایک شخصیت حاضر تھی ۔ گورنر ، وزیر ، مشیر ، آئی جی ، سیکریٹری حضرات سبھی سٹیج پر آتے اور ضیاء الحق Zia ul Haq کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ۔ زبان حال سے ضیاء الحق Zia ul Haq صاحب کی شان میں وہ وہ باتیں کی گئیں جن کا خود ضیاء الحق Zia ul Haq صاحب کو بھی پہلی دفعہ علم ہوا ۔ مشہور زمانہ راگ درباری میں رنگ محفل عروج پر تھا ۔ وہ وہ تانیں وہ وہ گرہیں لگائی گئیں کے الحفیظ الامان ۔ کھگہ صاحب سے بھی رہا نہ گیا جذبہ شوق نے انگڑائی لی ان کا بھی دل کیا کے ضیاء الحق Zia ul Haq صاحب کے حضور گلہائے عقیدت نچھاور کریں ۔ مستند ہے میرا فرمایا ہوا ۔ وہ بھی اپنے حسن بیاں سے وہ شرارے نکالیں جن سے دلوں کے خرابے ہوں روشن ۔ سب نے بھرپور کوشش کی ہے مگر پھر بھی کچھ کمی کمی سی ہے ۔ احباب کو گھگہ صاحب کی زبان دانی اور عروج ذوق خیال کا خوب پتہ تھا سٹیج پر سراسیمگی پھیل گئی ۔

سٹیج سیکریٹری اور کچھ احباب نے کوشش کی کے گھگہ صاحب کی شعلہ نوائی پہ قدغن رہے ۔ یہ چنگاری کہیں بڑھ کے شعلہ جوالا نہ بن جائے ۔ ان کے حسن داد سے کوئی مشکل نہ بن جائے ۔ سب نے منع کیاکھگہ صاحب جانیں دیں آپ کیوں زحمت کرتے ہیں ساری عمر آپ نے یہ تکلیف نہیں اٹھائی پھر آج کیوں دامن دل مائل بہ کرم ہے ۔ آپ کی ضیاء الحق Zia ul Haq صاحب سے محبت و عقیدت روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ آپ کی ملک و قوم کے لیے خدمات کسی اظہار کی محتاج نہیں ۔ کھگہ صاحب نے کہا انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے صرف چند باتیں عرض کرنی ہیں ۔ سبھی لوگ سٹیج پر جاکر شاہ کی مدح سرائی کررہے ہیں ضیاء صاحب میرے حلقہ میں تشریف فرمایا ہیں ۔ مہمان نوازی کا تقاضا ہے کچھ ہم بھی کہیں کچھ ہم بھی سنیں ۔ اب اگر میں سٹیج پر نہ گیا تو میری عزت نہیں رہتی ۔ میری پگ کا سوال ہے کل میں کس منہ سے لوگوں کا سامنا کروں گا ۔ کل کو سب کی سٹیج پر کھڑے ہونے کی تصویر ہو اور میری تصویر نہ تو شرمندگی کی بات ہے ۔ سب لوگ سٹیج پہ آئے لیکن میں نہیں آیا شریکے میں میری ناک کٹ جائے گی ۔ گھگہ صاحب کا تکیہ کلام ہی دھی( بیٹی ) کی گالی تھا ۔ کھگہ صاحب پیار سے بھی بات کرتے تو سب کو اسی طرح مخاطب کرتے ۔کھگہ صاحب کا مقصد کسی کی تضحیک یا توہین ہرگز نہ ہوتا مگر اگلے وقتوں کے بڑی عمر کے لوگوں کی طرح یہ ان کی عادت ثانیہ تھا ۔ قصہ مختصر کھگہ صاحب سٹیج پر تشریف لائے اور کہنے لگے “ ضیاء صاحب کوئی بندے ہیں ۔ پوری محفل میں ایک دم سناٹا چھا گیا ۔ کھگہ صاحب نے دوبارہ ضیاء الحق Zia ul Haq صاحب کی سمع خراشی کی میں کہتا ہوں ضیاء صاحب کوئی بندے ہیں ۔ ساری محفل کو سانپ سونگھ گیا کاٹو تو لہو نہیں ۔ پتہ نہیں پیر صاحب کونسا سانپ نکال لیں ۔ کھگہ صاحب نے ہی سکوت توڑا اور دوبارہ گویا ہوئے ضیاء صاحب کوئی بندے ہیں دھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ن دے فرشتے ہیں فرشتے ۔کھگہ صاحب کی مدح سرائی سن کر سارا مجمع ہنسنے لگا ۔ راوی بتاتے ہیں ضیاء صاحب خود بھی منہ پہ رومال رکھ کر اس عزت افزائی اور مہمان نوازی پہ مسکراتے رہے یا منہ چھپاتے رہے ۔

جج ارشد ملک صاحب بھی فرشتے ہیں فرشتے ۔ بقول کھگہ صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ فرشتے ہیں فرشتے ۔

ازقلم محمد واحد

 134