ریکوڈک اور برطانوی خبر۔۔۔۔

زیر بحث - عارف نظامی

17 جولائی 2019

Recodeck or Bartanvi Khabar

بلوچستان Balochistan کے ضلع چاغی میں ریکوڈک کے سونے اور تانبے کے ذخائر کی دریافت کیلئے کان کنی کاکام چلی کی فرم ٹیتھیان کو تفویض کیا گیا تھا۔ایک اندازے کے مطابق 12 ملین ٹن تانبے اور 21 ملین اونس سونے کے ذخائر ریکوڈک چاغی کے پہاڑوں میں دبے ہوئے ہیں۔ سونے کے ذخائر کی مالیت 100 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ٹیتھیان کو 1993ء میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کا لائسنس جاری کیا گیا تھالیکن جنوری 2013 ء میں اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ جس میں جسٹس گلزار اور جسٹس عظمت شیخ بھی شامل تھے نے یہ منصوبہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کمپنی کا لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔اس کے بعد کمپنی معاملہ ’انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹز‘ میں لے گئی جس نے معاہدہ ختم کرنے پر پاکستان Pakistan پر تقریباً چھ ارب ڈالر billion dollor کا جرمانہ کر دیا۔گویا کہ حال ہی میں پاکستان Pakistan کو آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر billion dollor کا پیکیج ملا ہے جو چار سال میں ملے گا،اتنا ہی جرمانہ یکمشت پاکستان Pakistan کو کمپنی کو ادا کرنا پڑے گا۔ اس معاملے کی تحقیقات کیلئے وزیر اعظم Prime Minister نے کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے جو 1993ء سے ناکامی کے ذمہ داروں اور سابق چیف جسٹس سے بھی پوچھ گچھ کرے گا۔ کمیشن بنانا اچھی بات ہے تاکہ آئندہ ایسی فاش غلطیاں سرزد نہ ہوں ۔بعض حلقوں کا دعویٰ تھا کہ بلوچستان Balochistan جیسے حساس صوبے میں غیر ملکیوں کو یہ ٹھیکہ دے دینا کہاں کی دانشمندی ہے، یہ کام تو ہم خود کر سکتے ہیں لیکن پہاڑوں سے کان کنی کوئی آسان کام نہیں،اس کیلئے جو خصوصی مہارت درکا ر ہوتی ہے وہ ہمارے معدنیات کی تلاش کرنے والے محکموں، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور نجی شعبے کے پاس بھی نہیں ہے۔کمیشن جس نتیجے پر بھی پہنچے بین الاقوامی قانون کے تحت خطیر رقم تو ہمیںادا کرنا ہی پڑے گی اور اس وقت جس طرح پاکستان Pakistan قریباً قلاش ہو چکا ہے شاید یہ ادائیگی ناممکنات میں سے ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں میڈیا سمیت سب کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے،ہرمعاملے کو قومی اور سکیورٹی مفادات کے خلاف قرار دیکر ایک ہذیانی کیفیت طاری کر دی جاتی ہے۔اس ضمن میں بھی میڈیا کا یہی رول تھا۔بعض ماہرین کے مطابق چلی کی یہ کمپنی اب بھی ٹھیکہ لینا چاہتی ہے،اس سے بہتر شرائط پر دوبارہ بات چیت کر کے معاہدہ کر لیا جائے کیونکہ گزشتہ چھ برسوں میں اس منصوبے پر کوئی پیش رفت بھی نہیں ہو سکی۔ ماضی میں فاضل جج صاحبان کے اس قسم کے فیصلوں سے پاکستان Pakistan کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔جسٹس افتخار چودھری نے جو خود کو ایک’’انقلابی جج‘‘سمجھتے تھے ریکوڈک کا معاہدہ منسوخ اور سٹیل ملز کی نجکاری روکنے سمیت کئی دیگر معاملات میں پاکستان Pakistan کے خزانے کو نقصان پہنچایا،بد قسمتی سے سستی شہرت حاصل کرنا عدلیہ کی آزادی کا نعم البدل نہیں ہے۔ اتوار کو ہی ایک اور بڑی خبر بم بن کر قارئین اور ناظرین پر گری ،وہ برطانوی اخبار ڈیلی میل کے رپورٹر کا یہ انکشاف تھا کہ شہباز شریف Shehbaz Sharif اور ان کے خاندان نے زلزلہ زدگان کی برطانوی امداد چرا کر اپنے اکاؤنٹ میں ڈلوائی۔ان کے مطابق 2003ء میں شہباز شریف Shehbaz Sharif خاندان کی دولت تین کروڑ تھی جو 2018ء تک 40 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ یہ انتہائی سنگین الزام ہے کہ زلزلہ زدگان کیلئے دی گئی رقم ہڑپ کر لی گئی۔شہباز شریف Shehbaz Sharif کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ان پر ایک پائی کی کرپشن ثابت ہوئی تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔برطانوی اخبار کے مطابق زیر حراست پاکستانی شہری مشتاق چینی شہباز خاندان کیلئے منی لانڈرنگ Money laundering کرتا رہا اور میاں صاحب کے داماد علی عمران جو قانون کی دسترس سے بچنے کیلئے بیرون ملک جا چکے ہیں نے امداد میں سے دس لاکھ پاؤنڈ وصول کئے جو شہباز شریف Shehbaz Sharif کے خاندان کے اکاؤنٹ میں منتقل کئے گئے۔شہباز شریف Shehbaz Sharif کے چھوٹے بیٹے سلمان شہباز نے جو اب برطانیہ میں مقیم ہیں اس رپورٹ کی سختی سے تردید کی ہے اور اسے سیاسی قرار دیا ہے۔مسلم لیگ ن کی ترجمان محترمہ مریم اورنگزیب نے بھی اس سٹوری کو ایک سازش قرار دیا ہے۔ن لیگ کے مطابق 2005ء میں شہباز شریف Shehbaz Sharif وزیر اعلیٰ تھے اور نہ ہی پنجاب میں زلزلے سے تباہی ہوئی تھی، شہزاد اکبر کو اس کا جواب دینا چاہئے تھا۔ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کا کہنا ہے کہ وہ ڈیلی میل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرینگے جس کیلئے انہوں نے سلمان بٹ کو وکیل مقرر کر دیا ہے جو قانونی کارروائی کیلئے لندن پہنچ گئے ہیں۔یقیناً پاکستان Pakistan کے برعکس برطانیہ میں ہتک عزت کے قوانین خاصے سخت ہیں اور انہیں وہاں جلد یا بدیر انصاف مل جائے گا۔خبر دینے والے رپورٹر ڈیوڈ روز نے بھی اصرار کیا ہے کہ اس کی خبر درست ہے اور اس کے پاس ثبوت موجود ہیں ۔ حکومتی ترجمان کیلئے یہ خبر تو من بھاتا کھاجہ ہے، معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا شہباز شریف Shehbaz Sharif اور ان کے خاندان کے کالے دھن اور منی لانڈرنگ Money laundering سے متعلق مزید حقائق سامنے آگئے، منی لانڈرنگ Money laundering کی واردات حدیبیہ پیپر مل سے شروع ہوئی اور زلزلہ متاثرین کے لیے برطانیہ کی طرف سے دی گئی امداد پر بھی اس خاندان نے ہاتھ صاف کیے۔ پاکستانی ٹیکس دہندگان کی ہڈیاں چوسنے کا اعزاز تو انہیں حاصل رہا ہے لیکن منی لانڈرنگ Money laundering اور کرپشن کا ماہر یہ خاندان برطانیہ کو بھی چونا لگانے سے باز نہیں آیا۔پیسے کی حرص اور ہوس کو سامنے رکھتے ہوئے اس خاندان نے پاکستان Pakistan کی عزت اور توقیر کو بھی دنیا بھر میں تار تار کردیا۔ شہباز گل، علی زیدی، شفقت محمود، معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور دیگر بھی اسی طرح کھل کر شہباز شریف Shehbaz Sharif خاندان پر تنقید کررہے ہیں۔واضح رہے کہ ڈی ایف آئی ڈی برطانوی محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی کا دنیا بھر میں سب سے بڑا پروگرام ہے۔اس کے مطابق یہ ادارہ تعلیم، صحت بالخصوص پرائمری ایجوکیشن پر اربوں روپے خرچ کرتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ برطانیہ نے ڈیلی میل کی خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔اس کے مطابق ایرا کو پراجیکٹس جن میں زیادہ تر سکولز شامل تھے مکمل ہونے کے بعد رقم دی گئی، ادائیگیاں باقاعدہ آڈٹ اور تصدیق پرکی گئیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ڈیلی میل نے سنسنی خیز سرخی کے علاوہ متن میں اپنے الزامات کی تصدیق نہیں کی۔دوسری طرف ڈیلی میل اپنی رپورٹس کے حوالے سے متنازعہ اخبار رہا ہے جس کے بارے میں وکی پیڈیا بھی قرار دے چکا ہے کہ ہم اسے قابل بھروسہ ذریعہ تصور نہیں کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ ڈیلی میل میںمتذکرہ خبر شہزاد اکبر کی کاوشوں کا نتیجہ ہے لیکن اگر الزام میں کوئی صداقت بھی ہو تو اب ہمیں سوچنا چاہئے کہ اگر ہم اپنے گھریلو جھگڑے کوبین الاقوامی اداروں کو متنازعہ بنا کرطے کریں گے تو اس کا فائدے کے بجائے نقصان ہی ہو گا۔ ایسے معاملات میں ہاہاکار مچانے اور ہذیانی کیفیت پیدا کرنے سے بہتر ہے کہ پہلے اس ضمن میں سرکاری اور عدالتی سطح پر تحقیقات تو کرلی جائے۔ ڈیلی میل کی رپورٹ میں برطانوی نژاد پاکستانی آفتاب محمود کو گواہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے لیکن ڈی ایف آئی ڈی جس کے مبینہ طور پر پیسے خورد برد ہوئے ہیں کا رپورٹ میں موقف ہی نہیں ہے۔

 237