سانپ اور بزرگ

Muhammad Wahid

16 جولائی 2019



یہ کالم اک لوک داستان سے ماخوذ ہے

بہت پرانا قصہ ہے ۔ بارہا کہا گیا بارہا سنا گیا ۔ ایک شخص جنگل میں سے گزر رہا تھا کہ اس نے خاردار جھاڑیوں میں اک سانپ پھنسا ہوا دیکھا ۔ سانپ زخموں سے چور ملتجیٰ نظروں سے اس آدمی کو دیکھنے لگا ۔ آدمی کو سانپ پہ ترس آگیا اور اس نے اک زیتون کی شاخ لے کر زخمی سانپ کو جھاڑیوں سے باہر نکالا ۔

باہر نکلے کے بعد بجائے اس کے سانپ اس آدمی کا مشکور ہوتا سانپ نے پھنکارنا شروع کردیا میں تمہے ڈسوں گا ، میں تمہے ڈسوں گا ۔ اب آدمی مشکل میں پھنس گیا اسے سمجھ نہ آئے کیا کرے ۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی مگر سانپ کے زہر کے ڈر سے بھاگ نہ سکا ۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن ۔ نیکی گلے پڑگئی ۔ اس آدمی نے سانپ سے کہا میں نے تمہارے ساتھ نیکی کی مگر تم بجائے ممنون ہونے کے الٹا مجھے ڈسنے پہ آمادہ ہو ۔ سانپ نے کہا ہاں نیکی کا بدلہ بدی ہے ۔ اس آدمی نے کہا چلو کسی معزز کسی منصف کے پاس چلتے ہیں فیصلہ کروا لیتے ہیں ۔ میں نے نیکی کی ہے اور میرے خیال میں نیکی کا بدلہ نیکی ہے اس لیے فیصلہ میرے حق میں ہی ہوگا ۔ سانپ نے کہا یہ رہا گھوڑا اور یہ گھوڑے کا میدان فیصلہ کروانا کونسا مشکل کام ہے ابھی چلتے ہیں ۔ لیکن یاد رکھنا آج نیکی کا بدلہ بدی ہے اس لیے فیصلہ میرے حق میں ہوگا ۔ سب سے پہلے وہ آدمی اور سانپ اک گائے کے پاس گئے اور اپنا مدعا بیان کیا ۔ اور ساتھ میں یہ بھی بتایا کے سانپ کہتا ہے کے نیکی کا بدلہ بدی ہے ۔ گائے نے ساری کہانی سنی اور ٹھنڈی آہ بھر کر بولی اے شخص شاید تمہے قبول نہ ہو مگر اب نیکی کا بدلہ بدی ہے ۔ مجھے دیکھو میں جوان تھی تو مالک کو دودھ دیتی تھی ۔ مالک کا بوجھ اٹھاتی تھی ۔ اس کے بچے میرا دودھ پی کر جوان ہوئے ہیں ۔ مالک بھی میرا خیال رکھتا تھا ۔ مجھے چارہ اور پانی دیتا تھا ۔ اب میں بیمار اور بوڑھی ہوگئی ہوں ۔ اب میں دودھ دینے کے قابل نہیں رہی ۔ تو مالک نے میرا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے ۔ اب میں بھوکی مروں یا پیاسی اس کی بلا سے ۔ یہ سن کر سانپ خوشی سے پھنکارنے لگا میں تمہے ڈسوں گا ، میں تمہے ڈسوں گا ۔ اب پریشان آدمی نے اس سے کہا یہ گائے بیمار ہے عربی کی کہاوت ہے بیمار کی رائے بھی بیمار ہوتی ہے چلو کسی اور سے پوچھتے ہیں ۔ سانپ مان گیا ۔ آگے ان کو اک گدھا ملا ۔ گدھے نے پوری بات سنی اور کہا میرے خیال میں بھی نیکی کا بدلہ بدی ہے ۔ جب میرے اندر دم تھا میرا مالک دن رات مجھ پہ سوار رہتا تھا ۔ میرے مالک نے میری سواری کرکے قریہ قریہ گھوما ہے ۔ مجھ پہ میری سکت سے دوگنا بوجھ لادتا رہا ۔ اب جب میں بوڑھا ہوگیا تو میرے مالک نے مار پیٹ کے مجھے گھر سے نکال دیا ہے ۔ اب میں جنگل میں درندوں سے بچتا پھرتا ہوں ۔ اس حالت میں میرا کوئی پرسان حال نہیں ۔ سانپ یہ بات سن کر آدمی کو ڈسنے ہی لگا تو آدمی نے منت سماجت کرکے سانپ سے کہا مجھے اک موقع اور دے دو ۔ گدھے میں کہاں کی عقل جو ہم اس سے فیصلہ کروانے چلے ۔ کسی دانا کے پاس چلتے ہیں ۔ سانپ طوعاً وکرہاً مان گیا ۔ دو فیصلے سانپ کے حق میں ہوچکے تھے سانپ کو امید تھی تیسرا فیصلہ بھی اسی کے حق میں ہوگا ۔

اب کی بار وہ اک بزرگ کے پاس پہنچے اور سارا واقعہ دہرایا ۔ ساتھ میں سابقہ فیصلوں کی تفصیل بھی لف کردی ۔ بزرگ نے ان کا قصہ سنا اور ان سے کہا مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو جہاں سے سانپ کو نکالا تھا ۔ پہلے سانپ کو جھاڑیوں میں پھینکو اور پھر میرے سامنے نکالو جیسا تم نے پہلے نکالا تھا ۔ تب میں فیصلہ کروں گا ۔ ایسا ہی کیا گیا ۔ تینوں جھاڑیوں کے پاس گئے اور سانپ کو دوبارہ خاردار جھاڑیوں میں پھینک دیا گیا ۔ اب آدمی سانپ کو دوبارہ نکالے ہی لگا تھا کے بزرگ نے منع کردیا ۔ اور کہا اس کی اس کی اوقات نہیں کے اس کے ساتھ نیکی کی جائے ۔ اس کا مقام یہی خاردار جھاڑیاں ہیں ۔ اس کے لیے یہی بہتر کے یہاں ہی پڑا رہے جو اسے نکالے گا وہی نقصان اٹھائے گا ۔

عشروں سے ہمارا واسطہ بھی گئی طرح کے سانپوں سے ہے ۔ کچھ آستین کے سانپ ۔ کئی مذہب کے نام پر لوٹ مار کرنے والے سانپ ۔ کچھ خون چوسنے والے سانپ ۔ کچھ رنگ باز سانپ ۔ کئی خاندانی سانپ ہیں جو نسل درنسل زہر پھونک رہے ہیں ۔ ہم نے ہی ان جھاڑیوں میں رہنے والوں کو مسند ارشاد عطا کی ہے ۔ ان سانپوں نے اپنے محسنوں کو ڈس ڈس کر جھاڑیوں میں پھینک دیا ہے اور خود محل پہ محل کھڑے کر لیے ہیں ۔ یہ سانپ کئی طریقہ سے ڈستے ہیں کبھی لیڈری کے نام پر ۔ کبھی سیاست کے نام پر ۔ کبھی جعلی تصوف کے نام پر ۔ کبھی رہبری کے نام پر ۔ ان سانپوں کا اصل مقام جیل نما خاردار جھاڑیاں ہیں ۔ اور کبھی گائے اور گدھے کو منصف نہ چنوں ۔ اپنے فیصلے ان لوگوں کے ہاتھ دیں جو دانا اور بزرگ ہوں ۔

ازقلم محمد واحد ( ابوظہبی )

Wahid95@

 168