پاک امریکہ United States تعلقات میں اتار اور چڑھاؤ

Hamza Meer

14 جولائی 2019



پاک امریکہ United States تعلقات میں اتار اور چڑھاؤ

تحریر حمزہ میر

پاکستان Pakistan اور امریکہ United States دونوں ممالک کے تعلقات بہت پرانے ہیں،تعلقات کی ابتدا اس وقت ہوی جب پاکستان Pakistan آزاد ہوا تھا یعنی سن 1947 میں جب برصغیر دو حصّے ہوا تھا بھارت India روس Russia کے ساتھ چلا گیا اور دوستی کر لی، دوسری طرف پاکستان Pakistan امریکہ United States کی طرف گیا اور دوستی کا نیا باب شروع ہوا لیكن سن 50 سے سن 60 کی دہاہی تک تو تعلقات برابری کی بنیاد پر ہوے جب بھارت India کے ساتھ دوسری جنگ ہوی تو امریکہ United States نے پاکستان Pakistan کا ساتھ دیا اور بعد میں مسلحت کا کردار بھی ادا کیا لیكن اس دوران اندرون خانہ بھارت India نے امریکہ United States کے ساتھ تعلقات بہتری کی ڈگر پر ڈالنے شروع کیۓ اور یہ ہی وجہہ ہے جب پاکستان Pakistan دو لخت ہوا اور بنگلادیش دنیا کے نقشے پر سامنے آیا اس جنگ میں بظاہر تو امریکہ United States پاکستان Pakistan کی حمایت کر رہا تھا اور روس Russia بھارت India کی لیكن اندرون خانہ امریکہ United States بھارت India کے ساتھ تھا اور یوں پہلی بار امریکہ United States نے پاکستان Pakistan کو دھوکہ دیا اور یوں امریکہ United States نے پاکستان Pakistan کے ساتھ ڈبل گیم کی شروات کی۔ اس کے بعد 1974 میں جب بھارت India نے ایٹمی دھماکے کرنے کا علان کیا تو وہ پاکستان Pakistan کو دھمكی دینے لگا تو پھر پاکستان Pakistan کے لیۓ بھی ایٹمی دھماکے کرنا ضروری نہیں بلکے ناگزیر ہو گیا تھا لیكن جب پاکستان Pakistan امریکہ United States کے پاس مدد کے لیے گیا لیكن امریکہ United States نے سبز جنڈی دیکھائ اور مدد کرنے کی بجھاے پاکستان Pakistan پر پابندی لگا دی لیكن بھٹو نے امریکن صدر جمی کارٹر کی پابندی کی پروا کیے بغیر دھماکے کرنے کا اعلان کر دیے تو فرانس اور جرمنی نے پاکستان Pakistan کی حمایت کا اعلان کر دیا اور مختلف قسم کی چیزیں فراہم کیں جن کی ضرورت تھی اور شاید یہ ہی وجہہ ہے میں اور دیگر تاریخ دان سمجھتے ہیں کہ امریکن استبلشمنٹ بھٹو کی پھانسی کے پیچھے تھے اور پھر 1979 میں جب روس Russia کو توڑنے کی جنگ امریکہ United States نے شروع کی تھی تو پھر پاکستان Pakistan نے امریکہ United States کا ساتھ دیا اتنی بڑھی چوٹ ملنے کہ با وجود جنرل ضیاء نہیں سمجھے اور افغانستان Afghanistan میں جب روس Russia میں داخل ہوے تو امریکہ United States نے پاکستان Pakistan کی مدد بحال کر دی اور ہمارے کمزور اور بدنیت سیاستدان پیسے دیکھ کر امریکہ United States کے آگے لیٹ گۓ اور افغانی لوگوں کو اپنے ملک میں رہنے کی جگہ دی اور ان کو لڑنے کی ٹریننگ بھی دی اور اس کا نتیجہ یہ لوگ ہمے ہی انگلی دیکھاتے ہیں اور بدزبانی بھی کرتے ہیں اور آگے چلتے ہیں 1980 میں 658 ملین دیے اور خریدے اور پھر جب جنرل ضیاء نے امریکا کو آنکھF-16 دیکھای تو پھر ان کو بھی سائیڈ کر دیا پھر جب 1990میں امریکہ United States نے ایڈ روک دی جس پر ہمارے حکمران امریکہ United States جا کر مدد مانگنی شروع کر دیتے ہیں لیكن ایوب دور کی یاد تازہ هوئ جب 1998 میں جب پاکستان Pakistan نے امریکن دباؤ قبول نہیں کیا اور دھمکاے کر دیے اور پاکستان Pakistan کے دفاه کو ناقابل تسخیر بنایا لیكن جب امریکہ United States پر طالبان نے حملہ کیا تو پھر امریکا پاکستان Pakistan آیا اور مدد کی اپیل کر دی اور اس کی مد میں پیسے دیے لیكن پھر 2008 میں پر امن انتقال اقتدار ہوا اور اس پانچ سال میں امریکہ United States نے حد کر دی اور ڈرون اٹیک شروع کر دیے اور اگلے پانچ سال کے آخر میں 2017 میں خواجہ آصف وزیر بنے اور ٹرمپ کے ٹویٹ پر اس کو قررار جواب دیا اور کہا اپنی امداد اپنے پاس رکھو نہیں چاہیے اور ماجوده دور میں بھی امریکہ United States سے برابری کی بنیاد پر تعلّقات ہونے چاہیے اور اب بھی وزیراعظم عمران خان Imran Khan دورامریکہ United States پر روانہ ہونے والے ہیں توامیند ہے اپنابیانیہ قائم رکھیں گی----

 68