عمران خان Imran Khan کی زندگی کا مقصد

دیوار پہ دستک - منصور آفاق

14 جولائی 2019

Imran Khan ka Maqsad

کہتے ہیں کہ ایک بہت بڑے مولانا کی لوحِ مزارپر کسی شوخ نے لکھ دیا تھا’’یہ وہ شہید ہیں جنہوں نے وزیراعظم بننے کی جنگ آخری سانس تک جاری رکھی‘‘ ۔ مجھے یاد ہے وہ مولانا جب اتفاق ہال میں تقریر کرنے آئےتھے تو ان سے پہلے ملک کے ایک بڑے سرمایہ دارنے حبیب جالب کا کلام بھی گا کر سنایا تھا۔ مولانا سے یاد آیا ۔مولانا فضل الرحمان نے فرمایا ہے’’اگر نیب کا کوئی نوٹس مجھےملاتو اس کے ٹکڑے کردیئے جائیں گے۔‘‘کسی زمانے میں آصف علی زرداری نے بھی کہا تھا۔ ’’ہمیں تنگ کیا گیا تو اینٹ سے اینٹ بجادیں گے‘‘۔ نیب والوں پر اس قدر غصہ کیوں کیا جارہا ہے۔وہ تو صرف تیزی سے امیر ہونے والے لوگوں کے اثاثہ جات چیک کررہےہیں۔سیاست دانوں کے، بیوروکریٹس کے،صحافیوں کے ، مولویوں کے ، پیروں کے، ججوں کے ،جنرلوں کے۔ اگر نیب یہ تحقیق کررہی ہے کہ فوجی شہدا کی زمین مولانا فضل الرحمن کو کیسے الاٹ ہوگئی تو اس میں غلط کیا ہے ۔بے شک فوجی جنرلوں سے مولانا کےبہت مراسم رہے بھی ہیں اور اب بھی ہیں۔ جنرلوں کے ساتھ مراسم کا کیا ہے ۔وہ ایک مکان بنانے والی کمپنی بھی اپنے گاہکوں کو بتاتی رہتی ہے کہ ہمارے پاس بہت سےریٹائرڈ جنرل کام کرتے ہیں۔یہ انکوائری دو ہزار نو میں شروع ہوئی تھی کہ فوجی شہدا کے اہل خانہ کو جو زمین الاٹ ہونا تھی وہ مولانا فضل الرحمن کو کیسے الاٹ ہوگئی۔ پھر یہ انکوائری کہیں گم ہو گئی ۔دوہزار پندرہ میں دوبارہ شروع ہوئی تو اس میں سے مولانا کا نام نکال دیا گیا ۔سنا ہے پھر اس کیس میں مولانا کانام شامل کردیا گیا ہے۔

میرا خیال ہے اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کی سربراہی کے سبب مولانا کا لب و لہجہ زیادہ تلخ ہو گیا ہے۔ کسی نے مولانا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چیونٹی نے کہا تھاکہ جب میں اورہاتھی پل سے گزرتے ہیں تو پل لرزنےلگتا ہے۔ میں قطعاً ایسا نہیں سمجھتا ان پر کرپشن کے الزامات بھی نیب کو سوچ سمجھ کر لگانے چاہئیں ۔مولانا حرام حلال کا بڑا خیال رکھتے ہیں ۔حرام گوشت نہیں کھاتے ،حرام مال کیسے کھا سکتے ہیں ۔ویسے زمین تو ساری اللہ کی ہے اور سب انسانوں کے لئے برابر ہے۔ وہ کیسے حرام ہو سکتی ہے ۔پھر وہ کھائی تھوڑی جاسکتی ہے۔

اس وقت اپوزیشن کےلئے سب سے بڑا مسئلہ نیب کے مقدمات سے نجات کا ہے ۔چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی Sadiq Sanjrani سے کہا گیا کہ جس روزوہ قائم مقام صدر بنیں تو یہ تمام مقدمات ختم کردیں خاص طور پرنواز شریف Nawaz Sharif کی سزاختم کردیں ۔انہوں نے انکار کیا تو تحریک عدم اعتماد لائی گئی ۔میرے خیال میں اگر حاصل بزنجو چیئرمین سینٹ بن بھی گئے تو وہ بھی اپوزیشن کی یہ بات نہیں مانیں گے ۔ویسے ان کے چیئرمین سینٹ بننے کے امکانات بہت کم ہیں ۔میری نون لیگ کے کئی سینیٹرز سے گفتگو ہوئی ہے ۔ان کے خیال میں حاصل بزنجو کے نظریات مسلم لیگ کے نظریہ سے بالکل متضاد ہیں وہ کیسے انہیں ووٹ دے سکتے ہیں ۔یعنی اصل قصہ سینٹ کی چیئرمینی کا نہیں ،نیب کے مقدمات سے نجات کاہے ۔مجموعی طورپر اپوزیشن دبائو میں ہے ۔کرپشن کے معاملات میں زیادہ تر لیڈر شپ کا نام آ رہا ہے ۔بے شک اس وقت نواز شریف Nawaz Sharif کی رہائی کا امکان پیدا ہو چکا ہے مگر لگتا نہیں کہ کسی پلی بارگین کے بغیر وہ زیادہ دیر جیل سے باہر گزار سکیں ۔کچھ لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ بے چارہ جج ڈیل کی قربان گاہ پر ذبح کردیاگیا ہےمگر بیچارے نواز شریف Nawaz Sharif پر جو الزامات جج نے لگائے ہیں ۔ان کا مقدمہ بھی اُن پر درج ہونا ہے ۔وکلا کے خیال میں جج کی نوکری ختم ہوسکتی ہے مگر اس کے فیصلے ختم نہیں ہوسکتے۔

ان دنوں بلاول بھٹو Bilawal Bhutto بھی بیچارہ لگ رہا ہے اس کی بھی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ وہ اپنے باپ کو نیب کی قید سے کیسے چھڑائے ۔سنا ہے وہ اُس دن سے خاصا پریشان ہے جب اس کے ایک کزن نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ ماں کا نام لکھنا چھوڑدے۔ اسے ہماری معاشرت میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔میرا خیال ہے یہ کوئی بری بات نہیں ۔ہاں زمانہ ِ جاہلیت میں عرب جب کسی کوگالی دیتے تھےتو اسے ماں کے نام سے پکارتے تھے۔

بہر حال ان دنوں مسئلہ حرام حلال ہے ۔خاص طور پر سیاست دانوں کے پاس جو مال و زر موجود ہے اس پر بحث جاری ہے کہ کیا یہ حلال ہے ۔سیاست دان کہتے ہیں نیب کی مثال تواُس آدمی کی ہے۔جس نے لندن میں شراب پی رکھی تھی ۔ گوری بھی اُس کی بغل میں تھی اور دیر سے حلال کھانا تلاش کررہا تھا۔

عمران خان Imran Khan یہ موقع گنوانا نہیں چاہتے ۔بیچاری اپوزیشن چال چلنے سے پہلے اس کا احوال بیان کر چکی ہے۔ اگرچہ مولانا فضل الرحمن نے ملین مارچ کا اعلان کیا ہے ۔لگتا ہے انہیں معلوم نہیں کہ ایک ملین میں کتنے صفر ہوتے ہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں نیب والے اِس احتجاج سے پہلے ہی اپنی تحویل میں لے لیں کیونکہ نیب بھی تو جان چکی ہے کہ یہ تمام احتجاج صرف نیب سے محفوظ رہنے کےلئے کئے جارہے ہیں ۔یہ بات مولانا فضل الرحمن بھی جانتے ہیں کہ نواز شریف Nawaz Sharif اور آصف زرداری کے پاس اگر عوامی طاقت ہوتی تو اس وقت ڈی چوک لوگوں سے بھرا ہوتا۔ پرانی شطرنج کے بکس پر لکھا ہوا یہ جملہ کسی بادشاہ کو بھولنا نہیں چاہیے کہ ’’شطرنج کا ہر بادشاہ چاہے جیتے چاہے ہارے آخر میں اکیلا رہ جاتا ہے‘‘یہ بھی ایک سلگتا ہوا سوال ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے پاس قومی اسمبلی میںاتنی زیادہ سیٹیں موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی کے پاس صوبہ سندھ کی حکومت بھی ہے اس کے باوجود بھی اپنے مقصد کےلئے عوام کو باہر آنے کی کال کیوں نہیں دے رہے ۔صرف اِس لئے کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ ان کے کہنے پر لوگ حکومت کے خلاف احتجاج کےلئے باہر نکلیں گے ۔ابھی مریم نواز Maryam Nawaz نے منڈی بہائوالدین میں اور بلاول بھٹو Bilawal Bhutto نے ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسہ کرکے دیکھا ہے ۔دونوں کو اندازہ ہوا ہے کہ ابھی عوام حکومت کی مخالفت پر آمادہ نہیں ۔ابھی وہ عمران خان Imran Khan کو وقت دینا چاہتے ہیں انہیں توقع ہے کہ عمران خان Imran Khan ضرور ملک کے حالات بہتر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ کیونکہ عمران خان Imran Khan کا مسئلہ نہ دولت ہے ، نہ خاندان اور اولاد ہے ،نہ شہرت ہے۔اس کی زندگی کا صرف اورصرف ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح پاکستان Pakistan کو ایک ترقی یافتہ ملک میں بدل دیا جائے ۔

 408