حادثہ ایکدم نہیں ہوتا

نغمئہ بےصدا - زیمشا سید

12 جولائی 2019

Hadsa ik dam nahin hota

پاکستان Pakistan کی سیاست بھی عجیب رخ اختیار کر گئی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ٹرین حادثے کے بعد شیخ رشید سے استعفی کا مطالبہ کیا جارہا ہے گو کہ یہ مطالبہ ایسا کچھ غلط بھی نہیں۔۔۔ مہذب دنیا میں ایسے حادثے کے بعد وزیر اخلاقی جواز پر مستعفی ہوجایا کرتے ہیں لیکن وہ "مہذب" دنیا کا دستور ہے۔۔۔ یہاں اگر ایسے دستور نافذ کردیئے جائیں تو پھر کسی قیدی کو ایئرکنڈیشنڈ فل فرنشڈ جیل گھر کے کھانوں کے ساتھ میسر نہ ہو۔۔۔

مہذب دنیا میں سزا یافتہ سیاسی شخصیات کو ہیرو بنا کر نہیں پیش کیا جاتا بلکہ انکا سیاسی کیرئیر ہی ختم ہوجاتا ہے۔۔۔ وہاں کوئی قیدی پروڈکشن آرڈر پر آکر قائمہ کمیٹیوں کا ممبر نہیں بن جاتا۔۔۔

اخلاقیات کی بات اگر چھیڑ دی گئی تو پھر بات نکلے گی بھی اور دور تلک بھی جائے گی!!

پھر یہی اپوزیشن رہنما گریبان پھاڑ کے

ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا

کرتے نظر آئیں گے!!

شیخ رشید کم خرچ بالا نشین کے تحت ٹرینوں پر ٹرینیں چلا تو رہے ہیں لیکن وہ یہ بھول گئے کہ اسکے لیئے پہلے انفراسٹکچر کو مکمل طور پر اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے!!

دنیا کمپیوٹرائزڈ سسٹم پر چل رہی ہے اور ہمارے ہاں وہی سو سال قبل کا ریلوے نظام اپنی تمام تر بوسیدگی و فرسودگی کے ساتھ رواں دواں ہے۔۔۔بقول شاعر

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

آزادی کے وقت پاکستان Pakistan ریلوے کے ٹریک کی مجموعی لمبائی تقریبا ً10ہزار کلومیٹر تھی جس میں 72سال کے دوران اضافے کی بجائے تقریباً 20سے 25 فیصد کمی واقع ہوئی۔۔۔۔

اس وقت ہمارا ریلوے ٹریک مجموعی طور پر 8 ہزار کلو میٹر سے بھی کم رہ گیا ہے، جس میں سے تقریبا ً70 فیصد ریلوے ٹریک نے اپنی طبعی عمر پوری کرلی ہے اور صرف 30 فیصد ریلوے ٹریک ایسا ہے جو فنی طور پر قابل استعمال ہے۔۔۔اسی طرح سگنل کا نظام بھی 1947ءکے مقابلے میں آج بدترین تباہی کا شکار ہے۔۔۔۔

ان دو وجوہ کی بنا پر ایک اندازے کے مطابق پورے ملک میں ہر روزکوئی چھوٹا یا بڑا حادثہ پیش آتا ہے اور ان حادثات کے نتیجے میں روزانہ اوسطاً ایک بوگی تباہ ہوتی ہے، جبکہ تقریباً ہر 15 دن میں ایک انجن تباہی کا شکار ہوجاتا ہے۔۔۔ریلوے حکام کے مطابق پاکستان Pakistan ریلوے کے پاس کم و بیش 520 انجن ہیں، جن میں سے 318 خراب ہیں، جبکہ تقریباً 5 ہزار بوگیوں میں سے تقریباً 3 ہزارخراب یا قابل مرمت ہیں۔۔۔۔

اس وقت پوری دنیا، بالخصوص غیرترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں سفر کے لیے سب سے سستا ذریعہ ٹرین سروس Russia کوہی سمجھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھرمیں اس پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔لیکن پاکستان Pakistan میں ریلوے کو مختلف حکومتوں کی غفلت اور ریلوے کے اعلیٰ افسران کی نا اہلی اور بد عنوانی نے تباہ کرکے رکھ دیا

ذرائع کے مطابق ناقص منصوبہ بندی اورغلط ٹائم ٹیبل ریلوے افسران کی ٹرانسپورٹ مافیا سے ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔۔۔ ریلوے میں موجود کرپٹ عناصر فنی طریقے سے منافع بخش ٹرینوں کو خسارے میں ڈالتے آئے ہیں، اس کے بعد انہیں بند کردیا جاتا۔ ٹرینوں کو خسارے میں ڈالنے کے لیے پہلے ان کی حالت خراب کی جاتی، پھر ان کی بوگیاں کم کی جاتی اور اسی دوران کرایوں میں اضافہ کیا جاتا جس کی وجہ سے مسافروں کی تعداد میں کمی ہوتی اور پھر خسارہ یقینی۔۔۔۔۔

پاکستان Pakistan ریلوے ہر دور میں تنزلی کا شکار رہی چاہے وہ جمہوریت ہو یا آمریت۔۔۔

گھٹیا کوالٹی کے خراب انجن خریدنے سے لے کر ٹرانسپورٹ مافیا کو فائدہ پہنچانے تک

پھر مال گاڑیاں بند کر کے مال گاڑیوں کے انجن ٹرینوں کو لگا کر نئے نام سے چلانے تک۔۔۔ کونسا ایسا کھلواڑ ہے جو ریلوے کے ساتھ نہیں کیا گیا

مرے پر سو درے کے مصادق نااہل سیاسی بھرتیوں نے محکمے کی تباہی پر گویا مہر ثبت کر رکھی ہے

اگست 2018 سے جولائی 2019 تک تقریبا" 79 چھوٹے بڑے حادثات رونما ہوچکے ہیں جن میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ۔۔۔۔ تحقیقات کے نتیجے میں جو انکشافات ہوئے وہ افسوسناک ہی نہیں شرمناک بھی ہیں۔۔۔

کچھ سینئر افسران بشمول جونئیر ملازمین مجرمانہ غفلت کے مرتکب پائے گئے ہیں

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر کیا ایکشن لیا جاتا ہے!!

شیخ رشید کو عہدے سے برطرف کرنا عمران خان Imran Khan کو مہنگا پڑسکتا ہے اسلیئے ایسا رسک وہ نہیں لیں گے البتہ بیوروکریسی میں کچھ ہلکی پھلکی سی اکھاڑ پچھاڑ متوقع ہے!!

 336