امریکا نہیں روس Russia جائیں

زیرو پوایٔنٹ - جاوید چوھدری

12 جولائی 2019

America nahin Ross jayen

”ہمیں 70 سال کی محبت کا کیا صلہ ملا؟ وقت آ گیا ہے ہم ساڑھے بارہ ہزارکلو میٹر دور محبت کی پینگیں بڑھانے کی بجائے اپنے ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنائیں“ مجھے آج بھی یاد ہے میرے دوست خواجہ آصف یہ کہتے ہوئے جذباتی ہوگئے تھے‘وہ ٹشو پیپر سے آنکھیں صاف کر رہے تھے اور بار بار روسی وزیر خارجہ سر گئی لیوروف کا ذکر کر رہے تھے۔یہ مارچ 2018ءکی سرد شام تھی‘ پرندے مارگلا کی پہاڑیوں کی طرف واپس لوٹ رہے تھے‘ سورج کے یرقان میں اضافہ ہو رہا تھا اور میں خواجہ آصف کے سادہ سے ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا۔

وہ ن لیگ کی رخصت ہوتی حکومت کے آخری وزیر خارجہ تھے‘ پاکستان Pakistan تازہ ترین امریکی حملے سے بچا تھا‘ فروری کے آخر میں

پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسٹک فورس کا اجلاس تھا‘ پاکستان Pakistan کے پرانے اتحادیوںاور سوکالڈ دوستوں نے ہمیں دہشت گرد ملک ڈکلیئر کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا‘ پاکستان Pakistan کے سر پر خطرے کی تلوار لٹک رہی تھی‘اگر ہمیں ایف اے ٹی ایف بلیک لسٹ میں لے جاتا تو ہماری ایکسپورٹس رک جاتیں ‘ امپورٹس کے تمام معاہدے بھی منسوخ ہو جاتے‘ سرمایہ کاری بھی بند ہو جاتی اور عالمی ڈونرز بھی اپنے ہاتھ کھینچ لیتے اور یوں پاکستان Pakistan دیوالیہ ہو جاتا لیکن پھر وزیر خارجہ خواجہ آصف سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کے ساتھ فوری طور پر ماسکو پہنچے اور عین 18 فروری کے اس دن جب پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جاری تھا وہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف سے ملے اور اپنے ماضی کے دشمن سے براہ راست مدد مانگ لی‘ روس Russia کا رویہ حیران کن تھا‘ سرگئی لیوروف نے موبائل فون نکالا اور پیرس میں موجود اپنی ٹیم کو ڈائریکٹ حکم دے دیا ”ہم پاکستان Pakistan کے ساتھ کھڑے ہیں“ خواجہ آصف اور تہمینہ جنجوعہ کو اس رویے کی توقع نہیں تھی‘ یہ وزارت خارجہ نہیں وزارت خزانہ کا ایشو تھا چناں چہ خواجہ آصف کا خیال تھا سرگئی لیوروف وزیر خزانہ سے کہیں گے اور یوںروس Russia آہستہ آہستہ پاکستان Pakistan کی مدد کرے گا لیکن روسی وزیر خارجہ نے اپنی سنیارٹی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزارت خزانہ کے اختیارات میں مداخلت کی اور پاکستان Pakistan کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس چل رہا تھا‘ روس Russia نے پاکستان Pakistan کے ساتھ کھڑے ہو کر اچانک پوری دنیا کو حیران کر یا‘ چین China اور ترکی شروع سے پاکستان Pakistan کے حامی تھے چناں چہ پاکستان Pakistan آخری لمحات میں ”بلیک لسٹ“ سے صاف بچ گیااور میں یہ کہانی سننے کے لیے خواجہ آصف کے پاس آیا تھا۔شام گہری ہو رہی تھی‘ خواجہ آصف کا کہنا تھا” میں تین حیثیتوں سے بار بار روس Russia گیا‘ وزیر دفاع کی حیثیت سے بھی گیا‘ توانائی کے وزیر کی حیثیت سے بھی اور میں آخر میں وزیر خارجہ کے پورٹ فولیو کے ساتھ بھی ماسکو گیا۔

میں نے ہر لحاظ سے روسی حکومت اور لوگوں میں جذبہ اور محبت دیکھی‘ یہ لوگ مزاجاً ”پاکستانی ہیں‘ دوستوں کے دوست‘ دھڑے باز‘ یہ آپ کے ساتھ ہیں تو یہ پھر آپ کے ساتھ ہیں اور یہ اگر آپ کے مخالف ہیں تو پھر یہ آپ کے کھلے مخالف ہیں‘یہ منافقت نہیں کرتے‘ روسی سرد جنگ کے دوران ہمارے مخالف تھے‘ یہ کھل کر مخالف رہے اور یہ اب ہمارے دوست بننا چاہتے ہیں تو یہ واقعی ہمارے دوست بن رہے ہیں‘ یہ اس کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں“ ۔

میں نے خواجہ آصف سے پوچھا ”پالیسی شفٹ کی وجہ کیا ہے“ خواجہ آصف نے چند لمحے سوچ کر جواب دیا ”روس Russia انڈیا کی وجہ سے ہمارا دشمن تھا اور یہ آج انڈیا ہی کی وجہ سے ہمارا دوست بن رہا ہے“ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ”انڈیا ماضی میں روس Russia کو اپنے ساتھ رکھ کر امریکا اورپاکستان Pakistan کو ڈراتا تھا اور یہ آج امریکا اور یورپ کو اپنے دائیں بائیں کھڑا کر کے روس Russia اور پاکستان Pakistan کو ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے‘ روسی بھارت India کی یہ نیت سمجھ گئے ہیں چناں چہ یہ بلیک میل ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں“ ۔

وہ رکے اور پھر بولے ”ہم نے2013ءاور 2014ءمیں روس Russia کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا‘ بھارت India نے روس Russia اور امریکا نے پاکستان Pakistan سے شدید احتجاج کیا لیکن روس Russia اپنے دیرینہ دوست بھارت India کے دباﺅ میں نہیں آیا‘ ہم نے بھی امریکا کا احتجاج مسترد کر دیایوں پاک رشیا فوجی مشقیں بھی ہوئیں‘ ائیر فورس کے دستے بھی ملے اور دونوں ملکوں کی نیوی نے بھی جوائنٹ ایکسرسائز کیں‘ روس Russia ہمیں اسلحے کی خریداری میں بھی کیٹگری چار سے کیٹگری دو پر لے آیا ۔

ہم اب اس سے ہر قسم کا اسلحہ درآمد کر سکتے ہیں‘ میں نے روس Russia میں وزیر دفاع سرگئی شیوکیو سے بھی ملاقات کی اور میں ڈپٹی وزیر دفاع الیگزینڈر فومن سے بھی ملا‘ یہ دونوں سروئنگ جنرلز ہیں‘ فومن ڈپٹی وزیر دفاع بننے سے پہلے ڈیفنس پروڈکشن کا وزیر تھا اور یہ وہ شخص ہے جس نے بھارت India کے دباﺅ کے باوجود ہماری کیٹگری فور سے ٹو کی‘ یہ مجھے اپنی ان حساس جگہوں پر بھی لے گیا جہاں یہ کسی کو نہیں لے کر جاتے‘ روس Russia نے میرے لیے اپنی سب سے بڑی کمپنی گیز پروم کے دروازے بھی کھول دیے۔

یہ 113 بلین ڈالر billion dollor کی کمپنی ہے‘ کمپنی میں ریاست سب سے بڑی شیئر ہو لڈر ہے‘ یہ روس Russia کی آدھی معیشت ہے‘ مجھے روسی وزیر دفاع اور ڈپٹی نے کہا ”آپ ہم سے جو کچھ لینا چاہتے ہیں آپ لیں لیکن ایک شرط ہے‘ آپ ہمارے ساتھ کھلے دل کے ساتھ چلیں“ خواجہ آصف کا کہنا تھا ”ہم 65 سال روس Russia سے دور رہے لیکن روس Russia نے ہمارے لیے ان تمام اداروں کے دروازے کھول دیے جن تک امریکا نے ہمیں 70 برس کی دوستی میں رسائی نہیں دی۔

آپ المیہ دیکھیے‘ ہمارے ستر برس کے دوست ہمیں گھسیٹ کر ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ تک لے گئے جبکہ ہم جسے دشمن سمجھتے تھے وہ ایف اے ٹی ایف کے ہر اجلاس میں ہمارے ساتھ کھڑا ہو گیا چناں چہ ہمیں 70 سال کی محبت کا کیا صلہ ملا؟ ہمیں اب ساڑھے بارہ ہزار کلو میٹر دور محبت کی پینگیں بڑھانے کی بجائے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہییں“ہماری میٹنگ ختم ہو گئی۔مجھے اس وقت خواجہ آصف کی بات سمجھ نہیں آئی تھی لیکن میں وقت گزرنے کے ساتھ ان کی بات کا قائل ہو گیا۔

ہمارے خطے میں دو سپر پاورز ہیں‘ روس Russia اور چین China اور ہمارے دائیں اور بائیں بھارت India اور ترکی دو ابھرتی ہوئی معاشی طاقتیں بھی ہیں چناں چہ ہمیںساڑھے بارہ ہزار کلو میٹر دور ایک ایسے ملک امریکا کے ساتھ لٹکنے کی کیا ضرورت ہے جس تک پہنچنے میں بھی ہمیں چوبیس گھنٹے لگ جاتے ہیں لہٰذا ہمیں دور دراز کے چچا کی بجائے اپنے ناراض بھائیوں کو راضی کرنا چاہیے‘ ہمیں اپنے خطے میں توجہ دینی چاہیے‘ہمارے تمام مسئلے بھی لوکل ہیں اور ان مسئلوں کے حل بھی مقامی ہیں‘ہماری پالیسی میں بھی شفٹنگ آ رہی ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa نے اسلام آبادمیں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے دو دل چسپ باتیں کیں‘ یہ دونوں باتیں ہماری تازہ ترین فارن پالیسی ہونی چاہییں‘ یہ بولے‘ ملک ترقی نہیں کرتے خطے کرتے ہیں‘ دوسراحکومت نے افغانستان Afghanistan کے صدر اشرف غنی کو یقین دلایا ہم افغانستان Afghanistan کو بھارت India تک راہ داری دے دیں گے‘ ملک نہیں خطہ اور راہ داری یہ دونوں بڑے اعلان ہیں‘ یہ راہ داری پاکستان Pakistan کو پورے خطے سے جوڑ دے گی یوںسارک ملک سی پیک CPEC کے ذریعے چین‘ سنٹرل ایشیا اور روس Russia سے جڑ جائیں گے اور یہ بہت بڑی ڈویلپمنٹ ہو گی۔

مجھے سرتاج عزیز نے ایک بار بتایا تھا ‘میں نے دو سال قبل راہ داری کی تجویز پیش کی تھی لیکن عسکری‘ سیاسی اور سویلین تینوں قائدین میرے گلے پڑ گئے تھے‘ مجھے کہا گیا تھا مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل تک ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے لیکن آج جنرل باجوہ کی طرف سے یہ اعلان ہماری پالیسی شفٹنگ کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بہت اچھا فیصلہ ہے‘ ہم نے چین China کے ساتھ ”سی پیک CPEC “ کر کے بھی اچھا قدم اٹھایا تھا‘ ترکی ہمارا دیرینہ دوست ہے‘ ہم لوگ نسلاً آدھے ترک ہیں‘ لفظ اردو تک ترکش ہے‘ بس روس Russia تھوڑا سا دور ہے۔

ہمیں اب اس پر کام کرنا چاہیے‘ روسی حکومت پاکستان Pakistan کو ہر سال دو اڑھائی سو سکالر شپ دیتی ہے لیکن یہ وظائف فائلوں میں پڑے پڑے ختم ہو جاتے ہیں‘ روس Russia نے 2018ءمیں میڈیکل اور انجینئرنگ کے دو سو سکالر شپ بھجوائے تھے‘ ہم نے صرف 16 طالب علم بھیجے‘ یہ زیادتی بھی ہے اور غیر سفارتی رویہ بھی‘ ہمیں یہ تمام وظائف استعمال کرنے چاہییں‘ یہ طالب علم دونوں ملکوں کے درمیان برف پگھلانے میں اہم کردار ادا کریں گے‘ روس Russia اور پاکستان Pakistan کے درمیان سرد جنگ کے زمانے میں بارٹل ٹریڈ ہوتی تھی۔

روس Russia کی طرف سے پانچ سو ملین ڈالر کا کلیم چلا آ رہا ہے‘ یہ تنازع ہماری تین کمپنیوں مرکری‘ الفتح اور تابانی گروپ اور روسی وزارت تجارت کے درمیان ہے‘ 290 ملین ڈالر سیٹل ہو چکے ہیں‘ صرف 200 ملین ڈالر باقی ہیں‘ حکومت کو یہ مسئلہ بھی فوری طور پر حل کر دینا چاہیے اور روس Russia کی خواہش ہے جس طرح پاکستان Pakistan میں سی پیک CPEC چین China اور موٹر وے جنوبی کوریا کی نشانی ہے بالکل اسی طرح پاکستان Pakistan میں روس Russia کا بھی کوئی بڑا پراجیکٹ نظر آنا چاہیے۔

ہمیں تعلقات استوار کرنے کے لیے روس Russia کو بھی کوئی بڑا منصوبہ آفر کرنا چاہیے‘ ہم اس سے پوشکن کے نام سے کوئی بڑا شہر بھی بنوا سکتے ہیں‘ کوئی بڑی انٹرنیشنل یونیورسٹی بھی اور پاکستان‘ افغان روس Russia شاہراہ بھی‘ پاکستان Pakistan کے اندر روس Russia ضرور دکھائی دینا چاہیے‘ ہمارا سب کچھ اس خطے میں ہے‘ امن بھی‘ ترقی بھی اور خوش حالی بھی اور فخر بھی‘ ہمیں اب ساڑھے بارہ ہزار کلو میٹر دور سے نظر ہٹا کر خطے میں واپس آنا چاہیے‘ ہمیں اپنی پالیسی شفٹ کرنی چاہیے۔

ہمیں اب جان لینا چاہیے ہم ہمسایوں کو ناراض کر کے دور کے دوستوں سے زیادہ دیر تک فائدہ نہیں اٹھاسکتے‘ عمران خان Imran Khan امریکا جا رہے ہیں جبکہ روسی صدر پیوٹن عمران خان Imran Khan کو ماسکو میں دیکھنا چاہتے ہیں‘ یہ صورت حال ہمیں ایک بار پھر 50ءکی دہائی میں لے جا رہی ہے‘ ہم نے خان لیاقت علی خان کے زمانے میں روس Russia کی جگہ امریکا کو اہمیت دے کر غلطی کی تھی‘ ہمیں اب یہ غلطی نہیں دہرانی چاہیے‘ ہمیں اب امریکا کی بجائے روس Russia کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہیے‘ مجھے یقین ہے روس Russia ہمارا اچھا دوست ثابت ہو گا۔

 101