آپریشن بن لادن اور سٹیو کول کی گواہی

زنگار - عامر خاکوانی

12 جولائی 2019

Operation Bin Laden and Steve Kool

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لئے کیا گیا امریکی آپریشن پاکستانی تاریخ میں ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ امریکیوں نے جس طرح پاکستانی سکیورٹی کو مفلوج کر کے یہ آپریشن کیا، اسامہ کو قتل کیا اور اس کی لاش اٹھا کر ساتھ لے گئے، اس سے پوری قوم ششدر رہ گئی۔ کسی کوایسی غیر متوقع جارحیت کا اندازہ نہیں تھا۔ اس پر عوامی ردعمل بڑا شدید تھا ۔ امریکی صحافی ،ریسرچر اور ادیب سٹیو کول نے اپنی کتاب ڈائریکٹوریٹ ایس میں اس واقعے کے حوالے سے دلچسپ تفصیلات رقم کی ہیں۔ سٹیو کول نے لمبی چوڑی تفصیل اس آپریشن کی بتائی جس میں اسامہ بن لادن کے ساتھ رہنے والے الکویتی کو ٹریس کیا گیا اور پھر مختلف طریقوں سے اسامہ اور ان کے خاندان کی وہاں موجودگی یقینی بنائی گئی۔یہ سب کچھ بہت بار اخبارات میں چھپ چکا ہے، اسے دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں، اسامہ بن لادن کے قتل کے لئے امریکی سیل ٹیم کے کئے گئے آپریشن کی روداد بھی کئی بار آ چکی ہے۔ سٹیو کول نے اس میں کچھ زیادہ اضافہ نہیں کیا۔ اس نے یہ بات البتہ کئی بار لکھی کہ صدر اوباما اور ان کی ٹاپ ٹیم نے اس آپریشن کو کئی بار بڑی احتیاط سے کیلکولیٹ کیا ۔ اس کے تمام تر پہلوئوں، آفٹر شاکس کا اچھی طرح اندازہ لگانے کے بعد یہ بڑا فیصلہ کیا گیا۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اور قید کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ سی آئی اے کو خدشہ تھا کہ اگر ریمنڈ ڈیوس کی اسیری کے دوران یہ آپریشن ہوا تو ردعمل میں ڈیوس کو مار دیا جائے گا۔ اس لئے پہلے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی یقینی بنائی گئی۔ پہلے بھی یہ بات لکھ چکا ہوں کہ ڈائریکٹوریٹ ایس خاصی ضخیم کتاب ہے، پونے آٹھ سو کے قریب صفحات پر مشتمل اس کتاب میں بے شمار واقعات اور معاملات تفصیل سے بیان کئے گئے۔ ایک دو کالموں میں ان کا خلاصہ آنا ممکن نہیں۔ اس لئے اختصار کے ساتھ صرف چند جھلکیوں پر اکتفا کرر ہا ہوں۔ اسامہ بن لادن کے آپریشن کے حوالے سے دوتین باتیں دلچسپ لگیں۔ایک تو امریکی گواہی کہ پاکستانی اداروں کا اسامہ بن لادن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔امریکی ٹیم اسامہ کی لاش کے ساتھ اس کے کمپیوٹرز، یوایس بیز اور تقریبا سب ڈیٹا ساتھ لے گئے۔ سی آئی اے کے ماہرین نے مہینوں ان سب کا بڑی باریک بینی کے ساتھ معائنہ کیا۔ اسامہ بن لادن کے بے شمار خطوط جن کا ریکارڈ کمپیوٹرز میں موجود تھا، وہ سب لفظ بہ لفظ پڑھے ۔سٹیوکول کے مطابق کوئی دستاویز، خط یاایسا شواہد ایسے نہیں ملاجس سے آئی ایس آئی اور اسامہ بن لادن کے درمیان کسی قسم کا تعلق ثابت ہوتا ہو۔ سی آئی اے کا خیا ل تھا کہ کسی پیچیدہ رابطہ در رابطہ کی صورت میںاِن ڈائریکٹ کنکشن شائد نکل آئے۔ایسا کچھ نہ ملا۔ اسامہ نے اپنے اکثر خطوط میں القاعدہ کی لیڈرشپ کو پولیس اور پاکستانی اداروں سے خبردار رہنے کی ہدایت کی۔ القاعدہ چیف خوفزدہ تھا کہ پاکستان Pakistan نے شٰیخ خالد محمد، ابوزبیدہ اور دیگر اہم القاعدہ رہنمائوں کو پکڑ کر امریکہ United States کے حوالے کیا ہے، اس لئے ان سے ہوشیار اور دور رہا جائے۔ امریکی ماہرین تاہم یہ سوال اٹھاتے رہے کہ آخر کاکول ملٹری اکیڈمی جیسی ہائی پروفائل جگہ سے ڈیڑھ دو کلومیٹر دور اسامہ بن لادن کیسے اتنے سال پوشیدہ رہ سکتا ہے؟ سٹیو کول کے مطابق جنرل کیانی اور جنرل پاشا نے اس کا مدلل جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اپنے اردگر د کے علاقوں میں لوگوں کو تنگ نہیں کرتی۔، خاص کر جہاں خطرہ موجود نہ ہو، وہاں تو سرچ آپریشن نہیں کئے جاتے۔ ایبٹ آباد بھی ایسی ہی جگہ تھی، جہاں کسی قسم کا خطرہ نہیں تھا، اسامہ بن لادن کا گھر کاکول اکیڈمی سے نظر بھی نہیں آتا تھا۔جنرل پاشانے امریکیوں کو بتایا کہ دہشت گردوں کے ایک گروہ نے جی ایچ کیو پر حملہ کیا تھا، جس سے خاصا جانی نقصان ہوا۔ وہ پنڈی ہی میں گھر لے کر رہ رہے تھے ۔ اسی طرح پریڈ لین مسجد پر جن دہشت گردوں نے حملہ کر کے کئی فوجی افسر اور نوجوان شہید کر دئیے، وہ بھی پنڈی ہی میں کرایہ کا گھر لے کر مقیم تھے۔یہ دہشت گرد بھی سرچ آپریشنز سے محفوظ رہے ، گنجان شہری علاقوں میں ایسا ممکن ہوجاتا ہے۔ سٹیوکول کے بقول پاکستانی عسکری قیادت نے اس زمانے میں کھل کر امریکیوں سے اعتراف کیا کہ ٹھیک ہے افغان طالبان کے ساتھ تعلق کے بارے میں ہم نے غلط کہا، مگر ایسا کرنا ہمارے قومی مفاد میںتھا، القاعدہ کے حوالے سے ہم نے پہلے بھی درست کہا، آج بھی سچ کہہ رہے ہیں ، کیونکہ وہ ہمارے (پاکستان Pakistan کے)بھی دشمن ہیں۔سٹیوکول کی کتاب سے یہ گواہی بار بار ملتی ہے کہ پاکستانی اداروں نے اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے افغان طالبان کی سپورٹ جاری رکھی اوراس حوالے سے تمام تر امریکی دبائو کو کسی نہ کسی طرح ہینڈل کئے رکھا۔ جنرل مشرف سے جنرل کیانی اور ان کے بعد والوں سب نے ایسا ہی کیا۔ سٹیوکول نے ہنٹ اسامہ آپریشن کے بعد پاکستانی عسکری قیادت کے شدید ردعمل کے بارے میں لکھا۔ کتاب کے مطابق امریکی اداروں نے کیانی اور پاشا کی باہمی گفتگوئوں تک خفیہ رسائی حاصل کی اور انہیں اندازہ ہوا کہ پاکستانی ادارے امریکہ United States کے ساتھ ہر قسم کا تعلق توڑنے کی آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔پاکستانی اس پر باقاعدہ کام کرتے رہے کہ چین China یا کسی اور سورس سے مالی مدد لی جائے اور امریکہ United States پر انحصار مکمل طور پرختم کر دیا جائے۔ ایسا ہونامگر ممکن نہیں تھا، چینی معیشت اس وقت اس قسم کی مدد دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی، اس لئے اس انتہائی آپشن پر عمل نہ کیا جا سکا۔ سٹیو کول نے اس پر امریکیوں کا یہ تبصرہ لکھا ہے کہ پاکستان Pakistan کی کمزور معاشی صورتحال کا حل معیشت کو بہتر کرنا اور مقامی سطح پر ٹیکس جمع کرنا ہے تاکہ مدد کے لئے باہر نہ دیکھنا پڑے۔ایک اور جگہ صدر اوبامہ اور ان کی ٹاپ ٹیم کی میٹنگ میں پاکستانی ممکنہ ردعمل پر غور کیا گیا تو یہ بات نوٹ کی گئی کہ پاکستان Pakistan اپنے کمزور ٹیکس سسٹم، کرپٹ حکمرانوں اور بیڈ گورننس کی وجہ سے اتنا مضبوط نہیں کہ مقابلے میں کھڑا ہوسکے ۔ ( یہ دونوں تبصرے پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ آج پاکستان Pakistan میں جس روڈ میپ پر عمل ہو رہا ہے اور عمران خان Imran Khan کے ساتھ عسکری قیادت متحد ہو کرسٹرکچرل ریفارم اور ٹیکس ریکوری سسٹم ٹھیک کرنا چاہ رہی ہے، کہیں اس کے پیچھے اس ناگوار واقعے کی منفی یاداشت تو کارفرما نہیں۔) اسامہ بن لادن نے ایبٹ آباد میں اپنے دن نہایت سادگی سے گزارے ۔ سی آئی اے کی فائنڈنگز کے مطابق وہ ایبٹ آباد اپنے ساتھ کپڑوں کے صرف نو جوڑے لے کر آیا، ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر خبریں دیکھتا ۔امریکی ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ فوٹوز کی وجہ سے اسامہ بن لادن بہت محتاط تھا، وہ باہر سے دیکھے جانے سے گریز کرتا، کبھی واک کرنی پڑتی تو کائوبوائے ہیٹ پہن کر چلتا۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسامہ بن لادن کا زیادہ تر وقت طویل خطوط لکھنے میں صرف ہوتا۔ القاعدہ رہنمائوں کو مختلف ایشوز پر وہ نہایت تفصیلی خط لکھتا۔کوئٹہ میں مقیم القاعدہ کے اہم رہنما عطیہ عبدالرحمن کو زیادہ تر خطوط لکھے گئے۔ وہ القاعدہ رہنمائوں کو ہدایت کرتا کہ افغانستان Afghanistan سے اغوا برائے تاوان کی مد میں آنے والی رقم کو سونے، یورو، کویتی دینا ر اور چینی کرنسی کی شکل میں محفوظ رکھا جائے۔ صومالیہ اور شمالی افریقہ Africa میں القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کو اسامہ نے مشورہ دیا کہ ڈرون حملوں اور سیٹلائٹ کیمروں سے بچنے کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت اگائیں۔ اسامہ بن لادن ایران Iran کو مشتبہ سمجھتا تھا۔اس بارے میں وہ انتہائی وہمی تھا۔ اس کی بیویوں اور بچوں نے ایران Iran میںکچھ عرصہ پناہ لی ، مگر اسامہ کو ہمیشہ خدشہ تھا کہ ایرانی ڈاکٹر طبی امداد دینے کے بہانے ٹریکنگ چپ نہ جسم میں ڈال دیں۔ ایک خط میں اسامہ نے اس کی تفصیل بتائی کہ وہ سرنج عام سرنجوں سے کچھ طویل ہوگی اور چِپ گندم کے دانے کے برابر ہوسکتی ہے۔ سی آئی اے کو اسامہ کی دستاویزات سے اندازہ ہوا کہ طالبان رہنما طیب آغا 2010ء میں اسامہ بن لادن کے پاس ملا عمر کا پیغام لے کر آیا کہ اگر ہم افغانستان Afghanistan میں دوبارہ برسراقتدار ہوئے تو القاعدہ کے راستے ہم سے جدا ہوں گے اور اگر آپ ساتھ رہنا چاہتے ہو تو نہایت لو پروفائل رہنا پڑے گا۔ اس سے امریکیوں کو بعد میں حوصلہ ملا کہ افغانستان Afghanistan میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئیں کہ ان کے مستقبل کے پلان میں القاعدہ شامل نہیں۔ سٹیوکول کے مطابق القاعدہ کے عطیہ عبدالرحمن نے کئی بار پاکستانی اداروں کو مختلف ذرائع سے پیش کش کی کہ آپ ہمیں کچھ نہ کہیں، ہم آپ کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔ تاہم کول کے مطابق یہ ڈیل نہ ہوسکی۔ سٹیو کول کی بات اس لئے بھی درست ہے کہ بعد میں خود موصوف عطیہ عبدالرحمن بھی پکڑے گئے تھے۔ پاکستان Pakistan ، امریکہ United States تعلقات کے حوالے سے سٹیو کول نے جنرل پاشا کا ایک دلچسپ مکالمہ نقل کیا، اس وقت امریکہ United States میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کے پوچھنے پر پاشا نے کہا، ہمار ا ملک چھوٹا ہے، امریکہ United States بڑی قوت ہے،مگرہمیں اپنا اپنا اعتماد، تفاخر (Pride)برقرار رکھنا چاہیے۔ہمیں انہیں ہوشیاری سے مات دینا (Outmaneuver them)ہوگی۔ اس کے لئے سمارٹ ہونے کی ضرورت ہے۔

 364