جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں صدر سندھ بینک سمیت 3 اہم شخصیات گرفتار

11 جولائی 2019

Jali Bank Account Case main Sadar sind Girftar

کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں صدر سندھ بینک طارق احسن سمیت 3 اہم شخصیات کو گرفتار کرلیا۔

نیب اعلامیے کے مطابق جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں نیب راولپنڈی نے کراچی میں کارروائیاں کی ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب نے صدر سندھ بینک طارق احسن، ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ سید ندیم الطاف اور سندھ بینک کے سابق صدر بلال شیخ کو بھی گرفتار کیا جو اب سندھ بینک میں بطور ڈائریکٹر تعینات ہیں۔

نیب کے مطابق ملزمان کو راہدری ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت کراچی میں پیش کیا جائے گا جہاں سے ریمانڈ لینے کے بعد ملزمان کو قانون کے مطابق اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سابق صدر آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور اومنی گروپ کے عبدالغنی مجید سمیت کئی افراد جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار ہیں۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا پسِ منظر

منی لانڈنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اُس وقت اٹھایا گیا، جب مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔

ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔

معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تو اعلیٰ عدالت نے اس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) تشکیل دی جس نے گزشتہ برس 24 دسمبر کو عدالت عظمیٰ میں اپنی رپورٹ جمع کرائی جس میں 172 افراد کے نام سامنے آئے۔

جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی۔

اس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے بھی تفتیش کی گئی جب کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری نے بھی تحریری طور پر جے آئی ٹی کو اپنا جواب بھیجا جب کہ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی ایف آئی اے کی حراست میں ہیں۔

سپریم کورٹ نے 7 جنوری 2019 کو اپنے فیصلے میں نیب کو حکم دیا کہ وہ جعلی اکاؤنٹس کی از سر نو تفتیش کرے اور 2 ماہ میں مکمل رپورٹ پیش کرے جب کہ عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ بھی نیب کو بجھجوانے کا حکم دیا۔

اعلیٰ عدالت نے حکم دیا کہ تفتیش کے بعد اگر کوئی کیس بنتا ہے تو بنایا جائے۔

نیب نے 7 جنوری کو ہی جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کے لیے کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم (سی آئی ٹی) تشکیل دی جس کی سربراہی ڈی جی نیب راولپنڈی کو دی گئی۔

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری نے 20 مارچ کو نیب کی کمائنڈ انویسٹی گیشن کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرایا۔

نیب راولپنڈی نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں تین ریفرنسز تیار کر کے نیب ہیڈ کوارٹر بھجوائے اور چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ نے 2 اپریل کو جعلی اکاؤنٹس کیس میں پہلا ریفرنس اومنی گروپ کے چیف ایگزیکٹو عبدالغنی مجید اور دیگر کے خلاف دائر کرنے کی منظوری دی۔

 37