عمران، ٹرمپ متوقع ملاقات اور زلمے خلیل زاد

برملا - نصرت جاوید

11 جولائی 2019

Imran Trump Mulaqat

کسی بھی متعلقہ یا ’’قابل اعتماد ذرائع‘‘ سے گفتگو کئے بغیر اپنے گھر تک محدود ہوئے اور عملی صحافت سے ریٹائرڈ مجھ ایسے شخص کو نہ جانے کیوں یقین کی حد تک گماں ہے کہ اس کالم کے چھپنے تک امریکی صدر کے دفتر سے باقاعدہ اطلاع آجائے گی کہ پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی ٹرمپ سے ملاقات جولائی 2019ہی کی کسی تاریخ کو ہوگی۔ اندھی نفرت میں مبتلا میرے چند دوستوں کوشاید اس ملاقات کی ’’کنفرمیشن‘‘ سے مایوسی ہوگی۔ حقائق مگر میری اور آپ کی خواہشات کے تابع نہیں ہوتے۔منگل کی رات میرے خاموش کئے فون پر ’’گھوں گھوں‘‘ ہوتی رہی۔ انگریزی زبان والے Sadistic Pleasureکے ساتھ جس کا اُردو متبادل سوچنے سے میں قاصر ہوں بہت سے افراد ایک کلپ بھیج رہے تھے۔امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان سے پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister کے متوقع دورئہ امریکہ United States کے بارے میں سوال ہوا۔ مجھے گماں ہے کہ سوال اٹھانے والا بھارتی Indian تھا یا کم از کم اس کا تعلق جنوبی ایشیاء کے کسی ملک سے تھا۔بہرحال خاتون ترجمان نے متوقع دورے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔وائٹ ہائوس سے رجوع کرنے کی بات کی اور آگے بڑھ گئی۔مجھے یہ کلپ بھیجنے والوں کی اکثریت نے امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان کی جانب سے ہوئے لاعلمی کے اظہار کو اس ’’خبر‘‘ کے ساتھ نتھی کیا جس کے ذریعے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی روسی صدر پیوٹن کے ساتھ اس سال کے ستمبر میں ملاقات کا دعویٰ ہوا تھا۔روسی وزارتِ خارجہ نے اس ’’خبر‘‘ کی تردید کر دی۔ کئی لوگوں نے اسے پاکستان Pakistan کی ’’بے عزتی‘‘ شمار کیا تھا۔ خارجہ امور میں ’’عزت ‘‘ اور ’’بے عزتی‘‘ فروعی باتیں ہوتی ہیں۔ سوال اٹھانا یہ ضروری تھا کہ ستمبر میں پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister کی روسی صدر سے ملاقات ’’طے‘‘ کرنے والا کون تھا۔یہ ’’خبر‘‘ کن صحافیوں تک کونسے ’’ذرائع‘‘ کے ذریعے پہنچائی گئی۔’’خبر‘‘ وصول کرنے کے بعد اسے اشتیاق سے چھاپنے یا نشر کرنے والوں میں سے کسی ایک کو بھی یاد کیوں نہیں رہا کہ اسلام آباد Islamabad میں روس Russia کا وسیع وعریض رقبے میں پھیلاایک سفارت خانہ بھی ہے۔وہاں کوئی پریس منسٹر یا اتاشی بھی تعینات ہوگا۔اپنے ’’قابل اعتماد ذرائع‘‘ سے ’’خبر‘‘ حاصل کرنے کے بعد مذکورہ افسر سے رجوع کرنا صحافتی اصولوں کی بنیاد پر بھی ضروری تھا۔ یہ تردد کرلیا جاتا تو روسی وزارتِ خارجہ کو ماسکو سے ستمبر میں ’’طے‘‘ ہوئی ملاقات کی تردید کرتے ہوئے ہماری مبینہ طورپر ’’بے عزتی‘‘ کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔پاکستان Pakistan ہی نہیں دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ پاتی نفرت وعقیدت کے سبب ’’خبر‘‘ نام کی شے کا دیہانت ہوچکا ہے۔لوگ وہ دیکھنا،سننا اور پڑھنا چاہتے ہیں جو فوری اور مسلسل انداز میں ان کے دلوں میں جاگزیں تعصبات وخواہشات کا اثبات کرے یا انہیں پورا ہوتا بتائے۔ عمران خان Imran Khan صاحب کے چاہنے والے یہ ثابت کرنے کو بضد ہیں کہ جب سے انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister کا منصب سنبھالا ہے دنیا بھر کے قدآور سربراہان مملکت یا حکومت ان سے ملاقات کو بے چین China ہیں۔ہمارے وزیر اعظم Prime Minister کا دل جیتنے کی بے چینی میں اپنے باہمی اختلافات بھی بھلادیتے ہیں۔ قطر کا سعودی عرب Saudi Arabia اور متحدہ عرب امارات united arab emirates نے کئی مہینوں سے مقاطعہ کررکھا ہے۔ان تینوں ممالک کے سربراہان مگر پاکستان Pakistan آئے اور ہماری معاشی مشکلات کو سنبھالنے میں اپنا حصہ ڈالا۔عرب اور عجم کا اختلاف تاریخی ہے۔ چند ماہ سے یہ تاثر بھی پھیل رہا ہے کہ شاید ایران Iran کے خلاف ’’آخری معرکے‘‘ کی تیاری ہورہی ہے۔ سعودی عرب Saudi Arabia اور متحدہ عرب امارات united arab emirates کے سربراہان سے گرم جوش تعلقات استوار کرنے کے باوجود مگر پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister ایران Iran بھی گئے۔چین China تو ویسے بھی اپنا یار ہے اور اس پہ جان بھی نثار ہے۔نئی صورت یہ بن رہی ہے کہ صدر پیوٹن بھی جس کے ملک کو افغانستان Afghanistan میں گھیر کر ہم نے سوویت یونین سے روس Russia بنادیا تھا ہمارے وزیر اعظم Prime Minister کی دلجوئی کو بے چین China ہے۔دنیا بھر کے قدآور سربراہان مملکت اور حکومت کی جانب سے ہمارے وزیر اعظم Prime Minister کا دل جیتنے کے تاثر کو قائم رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ ’’ستمبر میں ملاقات‘‘ والی ’’خبر‘‘ بھی چلائی جاتی۔ چال مگر اُلٹ گئی۔ٹرمپ کے ساتھ ملاقات والا قصہ مگر ٹھوس حقائق کی بنیاد پر اٹھا ہے۔ امریکی صدر بہت بے چین China ہے کہ اس سال کے ستمبر تک اس کا طالبان کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ ہوجائے جس کی بنیاد پر وہ آئندہ برس ہونے والی صدارتی مہم میں سینہ پھلا کر اپنے لوگوں کو یہ بتاسکے کہ اس نے 17سال تک جاری رہی جنگ کا خاتمہ کیا۔اپنی افواج کو افغانستان Afghanistan سے ’’باعزت‘‘ طورپر نکالا۔ ویسی ’’شکست‘‘ سے بچ گیا جو ویت نام میں امریکہ United States کا مقدر ہوئی تھی۔ٹرمپ کو جبلی طورپر علم ہے کہ پاکستان Pakistan کی مدد کے بغیر وہ اپنی خواہش والا معاہدہ حاصل نہیں کرسکتا۔ ہماری قیادت کی دلجوئی کو لہذا مجبور ہے۔ٹرمپ نے افغانستان Afghanistan کا اپنی مرضی کا حل ڈھونڈنے کی ذمہ داری زلمے خلیل زاد کے سپرد کررکھی ہے۔زلمے خلیل زاد کو یقین ہے کہ اگر اس نے ٹرمپ کی پسند کا معاہدہ کروادیا تو اسے دورِ حاضر کا ہنری کسنجرشمار کیا جائے گا۔اس کی ’’ذہانت‘‘ کو تسلیم کرتے ہوئے ٹرمپ آئندہ چار برسوں کے لئے منتخب ہونے کے بعد اسے جان بولٹن کی جگہ اپنا مشیر برائے قومی سلامتی لگاسکتا ہے۔وہ امریکہ United States کا وزیر خارجہ بھی بن سکتا ہے۔خود کو ملے Taskکی اہمیت کو سمجھتے ہوئے زلمے خلیل زاد امریکی وزارت ِ خارجہ کے افسروں کو کسی خاطر میں نہیں لاتا۔ گلی کی زبان میں بات کریں تو ٹرمپ کے ساتھ Directہے۔حال ہی میں لکھے ایک کالم میں آپ کو اطلاع دی تھی کہ ٹرمپ کے وائٹ ہائوس کی بہت خواہش تھی کہ افغانستان Afghanistan کے بارے میں ستمبر کے اوائل میں اس کی مرضی کے معاہدے کو یقینی بنانے کیلئے امریکی صدر کی وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan سے ملاقات ہو۔اس ملاقات کیلئے جون کے آخری دس دنوں میں سے کسی ایک کا ذکر ہوا تھا۔پاکستانی وزیر اعظم Prime Minister نے جون میں بجٹ سے جڑے معاملات کے سبب اپنی عدیم الفرصتی کا ذکر کیا۔جولائی کے مہینے میں ملاقات پر رضامندی کا اظہار کیا۔زلمے خلیل زاد اور ہم نواجون میں ملاقات طے نہ ہونے کے سبب بہت پریشان ہوئے۔ انہیں یقین تھا کہ ٹرمپ جولائی میں عمران خان Imran Khan صاحب سے ملاقات کا وقت نہیں نکال پائے گا۔ اب یہ ملاقات شاید ستمبر ہی میں ممکن ہوجب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوتا ہے۔

جولائی میں ٹرمپ-عمران خان Imran Khan ملاقات کا طے پاجانا،یقین مانیے زلمے خلیل زاد اور ہم نوائوں کیلئے بھی حیران کن بات تھی۔ یہ ملاقات کیوں طے ہوئی یہ جاننے کیلئے ضروری ہے کہ آپ ٹرمپ کے داماد Jared Kushnerکی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے مناسب ’’سکیورٹی کلیئرنس‘‘ کے بغیر ٹرمپ نے اسے Senior Advisorبنارکھا ہے۔مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے کشنر نے ’’اس صد ی کی سب سے بڑی ڈیل‘‘ کے نام سے ایک منصوبہ تیار کیا۔ سی آئی اے یا امریکی وزارتِ خارجہ کا اس منصوبے سے کوئی لینا دینا نہیں۔کشنر نے مگر اس کی پیروی کیلئے بحرین میں حال ہی میں ایک کانفرنس بھی کرڈالی ہے جہاں چند بڑے سرمایہ کاروں نے ’’پرامن فسطین‘‘ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی نوید سنائی۔

Kushner اب اپنے سسر کے لئے افغانستان Afghanistan کے حوالے سے بھی اس کی پسند کا معاہدہ حاصل کرنے کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنا شروع ہوگیاہے۔ پاکستان Pakistan کے حوالے سے اس کے Point Personکو تلاش کرنا ہو تو اس ’’صدیقی‘‘ کو یاد کریں جنہیں شاہد خاقان عباسی نے امریکہ United States میں پاکستان Pakistan کا سفیر لگایا اور ہمارے ہاں دہائی مچ گئی۔یہ صاحب غالباََ نیب کے راڈار پر بھی غلط یا صحیح وجوہات کی وجہ سے موجود ہیں۔ عمران حکومت نے مگر حال ہی میں انہیں ’’خصوصی سفیر‘‘تعینات کردیا ہے۔ان کی تعیناتی کے چند ہی دن بعد جولائی 2019میں ٹرمپ-عمران خان Imran Khan کی متوقع ملاقات کی خبر آگئی۔

پاک-امریکہ United States تعلقات کو سمجھنا ہے تو ٹرمپ کے اندازِ کار پر نگاہ رکھیں۔ کشنر کی اہمیت کو بخوبی جانیں۔ زلمے خلیل زاد کا تعاقب کریں اور ’’صدیقی‘‘ جیسے صاحبان سے دوستی بنانے کی کوشش کریں۔ واشنگٹن اور اسلام آباد Islamabad کی خارجہ امور کے بارے میں قائم وزارتوں کے ’’بابوئوں‘‘ کی اس ضمن میں کوئی حیثیت نہیں۔

 168