غداروں کا قبرستان

قلم کمان - حامد میر

11 جولائی 2019

Ghadaron ka Qabarstan

وطنِ عزیز میں سیاستدانوں اور اہل ادب و صحافت کو وطن فروش قرار دینے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ اقتدار کے نشے میں بے ہوش ایک ڈکٹیٹر ایوب خان نے تو بڑے پُرجوش انداز میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح تک کو وطن فروش قرار دے ڈالا تھا۔ علانیہ اور غیر علانیہ آمریتوں کے باعث پاکستان Pakistan کی صحافت کو علانیہ اور غیر علانیہ سنسر شپ کا سامنا رہا ہے، اس لئے سیاستدانوں، شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں پر وطن فروشی کے الزامات عائد کرنے والوں کی اپنی وطن فروشی کی داستانیں سامنے نہیں آسکیں لیکن اب آہستہ آہستہ ایسی کتابیں شائع ہورہی ہیں جن میں آمروں کے ساتھ مل کر پاکستان Pakistan کے آئین و قانون کو تماشا بنانے والوں کے چہرے بےنقاب کئے جارہے ہیں۔ ایسی ہی ایک کتاب سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کنور انتظار محمد خان نے تحریر کی ہے جس کا نام ہے ’’ایمان فروش ججوں کی داستان‘‘۔ اس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جن ججوں نے غیر آئینی حکمرانوں اور غیر سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر عدلیہ کے ساکھ برباد کی ان میں سے اکثر ججوں کو استعمال کرکے ذلیل و خوار کیا گیا۔ مثال کے طور پر جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq نے جسٹس انوار الحق اور جسٹس مولوی مشتاق حسین کو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف استعمال کرنے کے بعد 1981میں ان دونوں کو عدلیہ سے فارغ کر دیا۔ کنور انتظار محمد خان نے اپنی اس کتاب میں انصاف کا قتل کرنے والے بہت سے ججوں کا ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے زیادہ تفصیل ماضی قریب کی اس تاریخ کے بارے میں بیان کی ہے جس پر ابھی زیادہ کتابیں نہیں لکھی گئیں۔ مصنف نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرنے والے ججوں کے متعلق لکھا ہے کہ جج کا حلف اس کا ایمان ہوتا ہے۔ کتاب میں قرآن Quran مجید کی سورہ النحل کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ’’اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کرو اور اپنی قسموں کو پختہ کرو‘‘۔ ان الفاظ کی روشنی میں ججوں سمیت جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر کسی بھی آئین و قانون کے تحت کوئی بھی حلف اٹھاتا ہے تو یہ حلف اس کے ایمان کا حصہ بن جاتا ہے اور جب کوئی اس حلف کو توڑ کر کسی پی سی او کے تحت حلف اٹھاتا ہے تو وہ اپنا ایمان بیچ دیتا ہے۔ کنور انتظار محمد خان نے لکھا ہے کہ جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq نے 24مارچ 1981کو جو پی سی او(عبوری ا ٓئینی حکم نامہ) جاری کیا یہ عدلیہ کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ جن ججوں نے 1973کے آئین کے تحت حلف اٹھا کر اس آئین کے تحفظ کی قسم کھائی تھی وہ اسی آئین کو توڑنے والے کے کاسہ لیس بن گئے۔ آگے چل کر ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ کے ان تمام ججوں کے نام تحریر کئے گئے ہیں جو بقول مصنف پی سی او کا حلف اٹھا کر ’’ایمان فروش‘‘ بن گئے تھے۔

کنور انتظار محمد خان کے قلم کی کاٹ سے صرف ڈکٹیٹر نہیں بلکہ وہ سیاسی حکمران بھی محفوظ نہ رہے جنہوں نے عدلیہ کو اپنے مذموم مقاصد کی خاطر استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ایک طرف انہوں نے جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq اور جنرل پرویز مشرف کا ساتھ دینے والے ججوں کی نشاندہی کی، دوسری طرف ان کو بھی نہیں بخشا جنہوں نے اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لئے عدلیہ پر دبائو ڈالا اور عدلیہ پر حملے کئے۔ اس کتاب میں نواز شریف Nawaz Sharif کے دوسرے دورِ حکومت میں چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کے ساتھ کئے گئے سلوک کی پوری تفصیل موجود ہے اور ان ججوں کا بھی ذکر ہے جو چیف جسٹس کے بجائے حکومت کے ساتھ مل گئے اور بعد میں نواز شریف Nawaz Sharif سے سیاسی فائدے حاصل کئے۔ اس کتاب میں حمود الرحمان کمیشن، ایبٹ آباد انکوائری کمیشن اور میمو گیٹ کمیشن سمیت کئی ایسی عدالتی انکوائریوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے جن میں اعلیٰ عدلیہ ججوں سے تحقیقات تو کروائی گئیں لیکن کسی انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد نہ کیا گیا۔ میمو گیٹ کمیشن کی انکوائری 2012میں بلوچستان Balochistan ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن نے کی اور کمیشن کی رپورٹ میں امریکہ United States میں پاکستان Pakistan کے سابق سفیر حسین حقانی کو قصور وار ثابت کیا گیا اور کہا گیا کہ انہوں نے واقعی امریکی فوج کے سربراہ مائیک مولن کو خط لکھ کر پاکستانی فوج کے سربراہ کو تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔ آج اسی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک ریفرنس کا سامنا ہے۔ اس کتاب میں ان ججوں پر بھی تنقید کی گئی ہے جو اپنے کوڈ آف کنڈکٹ(ضابطہ اخلاق) کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

کنور انتظار محمد خان نے پاکستان Pakistan اور بھارت India سمیت کئی اہم ممالک میں ججوں کے لئے نافذ ضابطہ اخلاق کو اپنی کتاب میں شامل کیا ہے۔ 1973کے آئین کی دفعہ 209کے تحت جج جس ضابطہ اخلاق کے پابند ہیں اس کے مطابق ان میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہونا چاہئے، زبان کا سچا، محتاط اور بےداغ کردار والا ہونا چاہئے، جج کو اپنے اور دوسروں کے ایماپر مقدمے بازی میں ملوث نہیں ہونا چاہئے، جج کو ایسے مقدمے کی سماعت سے پرہیز کرنا چاہئے جس میں اس کا یا اس کے کسی رشتہ دار کا مفاد ہو، اسے سرکاری سرگرمیوں میں حصہ لینے سے پرہیز کرنا چاہئے اور ایک بار اٹھائے ہوئے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نیا حلف نہیں اٹھانا چاہئے۔ پاکستانی ججوں کا ضابطہ اخلاق اس وقت اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججوں کو کسی بھی نئے حلف سے روکتا ہے اور خدانخواستہ 1973کا آئین معطل ہو جائے اور ایک نیا پی سی او آجائے تو موجودہ ججوں کی طرف سے نیا حلف اٹھانا ایمان فروشی قرار پائے گا۔ کنور انتظار محمد خان نے پاناما کیس کا بھی بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے اور اسے پاکستان Pakistan کی تاریخ کا طویل ترین عدالتی تماشا قرار دیا ہے حالانکہ بات صرف اتنی تھی کہ نواز شریف Nawaz Sharif نے اپنا اقامہ چھپایا اور مریم نواز Maryam Nawaz کو زیرِ کفالت بچوں میں شامل کیا حالانکہ وہ بھی ایک آف شور کمپنی کی مالک تھیں۔ مسلم لیگ(ن) کے حامی مصنف کی رائے سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس رائے سے انکار نہیں کر سکتے کہ جو حکمران عدلیہ پر ناجائز دبائو ڈالتے ہیں بعد ازاں ان کے خلاف عدلیہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ مریم نواز Maryam Nawaz نے احتساب عدالت کے ایک جج ارشد ملک کی آڈیو اور وڈیو ٹیپوں کو سامنے لاکر دعویٰ کیا ہے کہ ان کے والد نواز شریف Nawaz Sharif کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ یہ ویسی ہی ناانصافی ہے جیسی ناانصافی نواز شریف Nawaz Sharif نے جسٹس ملک قیوم کے ذریعہ محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے ساتھ کرائی تھی۔ ارشد ملک کی سعودی عرب Saudi Arabia میں شریف خاندان کے اہم افراد کے ساتھ ملاقاتوں کی دو ٹیپیں اور بھی ہیں جن میں خاندان سمیت پاکستان Pakistan سے فرار ہونے کے منصوبے بنارہے ہیں۔ ان ٹیپوں میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام آئیں گے اس لئے اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہئے تاکہ عدلیہ کی تضحیک نہ ہو۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان Pakistan کی تاریخ میں ایسے جج بھی گزرے ہیں جنہوں نے پی سی او پر حلف لینے سے انکار کیا اور ان میں موجودہ عدلیہ کے جج بھی شامل ہیں جن پر ہمیں فخر ہے۔ قوم یہ امید رکھتی ہے کہ موجودہ عدلیہ کے بااصول جج اپنے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی حاضر سروس Russia یا ریٹائرڈ ساتھی کے ساتھ رعایت نہیں کریں گے اور کنور انتظار محمد خان کی ایک زیرِ تکمیل کتاب کی اس فہرست میں شامل نہیں ہوں گے جسے آئین سے غداری کرنے والوں کا قبرستان قرار دیا گیا ہے۔

 284