شرمندہ ماضی کے بوجھ کو کم کرنے کا موقع!

کس سے منصفی چاہیں - انصار عبا سی

11 جولائی 2019

Sharminda Mazi ka Bojh

پاکستان Pakistan کی عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے محترم چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کے لیے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ وڈیو نے ایک مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اس مبینہ وڈیو نے عدلیہ کے ادارے اور ججوں کے کنڈکٹ پر بہت سے سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ ان سوالوں کے جواب کے لیے ماسوائے عدلیہ کے، کوئی دوسرا ادارہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اسی لیے سب کی نظریں چیف جسٹس اور سپریم کورٹ پر جمی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پہلے ہی اس معاملہ پر سوموٹو لینے کا مطالبہ سامنا آ چکا ہے جبکہ حکومت اور وزیراعظم نے بھی اس مسئلے پر انکوائری کے لیے معاملہ عدلیہ کے ہی سپرد کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ حکومت اس معاملہ میں نہیں پڑے گی۔ مبینہ طور پر یہ معاملہ ایک ناانصافی کا ہے جس کا اعتراف احتساب عدالت کا جج خود کر رہا ہے اور اس اعتراف میں وہ کچھ ایسے افراد کا نام بھی لے رہا ہے جو اگرچہ ابھی تک میڈیا کے سامنے نہیں آئے لیکن ذرائع کے مطابق اُن میں سے ایک فرد بہت اہم عہدہ پر فائز رہا اور اب ریٹائر ہو چکا جبکہ دوسرا ابھی بھی ایک اہم عہدہ پر براجمان ہے۔ نون لیگ کے پاس ایک نہیں بلکہ کئی وڈیوز ہیں جس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک نے وہ باتیں کی ہیں جو اگر سچ ثابت ہوتی ہیں تو عدلیہ کے ادارے کے لیے بہت بدنامی کا باعث ہو سکتی ہیں۔ مبینہ طور پر جج ارشد ملک کی ملاقات دوسرے افراد کے علاوہ نواز شریف Nawaz Sharif کے ایک قریبی عزیز سے مدینہ کے ایک ہوٹل میں گزشتہ رمضان کے آخری عشرہ میں بھی ہوئی، جس کی‘ ذرائع کے مطابق‘ وڈیو ریکاڑنگ شریف فیملی کے پاس موجود ہے۔ ان وڈیوز کی سچائی یا ان کے جھوٹا ثابت ہونے کے لیے ابھی فرانزک آڈٹ ہونا باقی ہے لیکن نون لیگ اور شریف خاندان کے ذرائع مطمئن ہیں کہ اُن کے پاس یہ ٹھوس ثبوت ہیں۔

خبروں کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس معاملہ پر قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد Islamabad ہائیکورٹ سے گزشتہ روز بات کی ہے۔ اب ہوگا کیا؟ عدلیہ کیا کارروائی کرے گی؟ اس کا سب کو انتظار ہے۔ اگر ایک طرف جج ارشد ملک کے تبادلہ اور کارروائی کے متعلق سوچا جا رہا ہے تو یہ بھی لازم ہے کہ اُس مبینہ گفتگو کی حیثیت کو بھی جانچا جائے جو احتساب عدالت کے جج نے ان وڈیوز میں کی۔ کس نے جج کو بلیک میل کیا، کون جج کو لگاتار دبائو میں رکھتا رہا اور یہ مطالبہ کرتا رہا کہ نواز شریف Nawaz Sharif کو ہر حال میں سزا دی جائے۔ یہ امید چیف جسٹس آف پاکستان Pakistan سے ہی وابستہ کی جا سکتی ہے کہ وہ ایسے کرداروں کے خلاف کارروائی کرکے عدلیہ کے ادارہ کو داغدار ہونے سے ضرور بچائیں گے۔ پاکستان Pakistan کی عدلیہ کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز چیف جسٹس کھوسہ ہی نے اس بات کو یقینی بنانا ہے بالخصوص ایسے حالات میں جب یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ نواز شریف Nawaz Sharif کا ٹرائل شفاف تھا یا مشکوک ؟اور اگر ٹرائل شفاف نہیں ہے تو پھر نواز شریف Nawaz Sharif کی سزا کا کیا ہوگا؟

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ نہ صرف احتساب عدالت کے جج کو فوری تبدیل کر دیا جائے تاکہ مزید ملزمان کو مشکوک سزائوں سے بچایا جا سکے بلکہ مبینہ وڈیو کے سامنے آنے کے بعد نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف دیئے گئے فیصلے کو اسلام آباد Islamabad ہائیکورٹ میں درخواست کے ذریعے ختم کروایا جا سکتا ہے۔ ایک مشکوک ٹرائل کے نتیجے میں دیئے گئے فیصلہ کو قائم رکھنا نہ صرف بڑی ناانصافی کی بات ہوگی بلکہ اس کو تاریخ میں بھی ایک سیاہ باب کے طور پر لکھا جائے گا۔

ویسے ہی ہماری عدلیہ کا ماضی داغدار ہے، اس کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں ججوں نے دبائو میں آکر ایسے ایسے فیصلے کیے جو ہمیشہ کے لیے دوسروں کے علاوہ خود عدلیہ کے لیے بھی پچھتاوے کا باعث بن گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل، مارشل لائوں کو اس ملک میں بار بار عدالت کی جانب سے جواز فراہم کرنا وہ چند مثالیں ہیں جو عدلیہ کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں۔ ایسی شرمندگیوں کے بوجھ کو بڑھانے کے بجائے کم کرنے کی سب سے اہم ذمہ داری عدلیہ کے اپنے کندھوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔

 185