ڈیوڈ فراگ کی دھمکیاں

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

11 جولائی 2019

David Frog ki Dhamki

بھارت India نے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ اندرونی طور پر مشرقی پاکستان Pakistan کے بنگالی مسلمانوں اور وہاں موجود ایک کروڑ کے قریب ہندوئوں کی مدد سے لیا اور پاکستانی فورسز کو ان کے اپنوں ہی کے ہاتھوں شکست دینے کے بعد اب‘ براہمن نے دو قومی نظریے کو بحیرہ عرب میں غرق کرنے کی فتح کا جشن ڈھاکہ کی سر زمین پر منا نے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔

48 برس گزرنے کے با وجود ہر سال '' عظیم الشان فتح ‘‘ کے چسکے لینے کیلئے کئی ارب روپے خرچ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی آزادی کے نام پر بین الاقوامی تقریبات منعقد کرواتا چلا آ رہا ہے ۔گزشتہ دنوںاسی سلسلے کی ایک تقریب میں بھارت India اور حسینہ واجد نے اپنے ایسے دوستوں ‘ہمدرد دانشوروں اور قلم کاروں کو اعزازات سے نواز ا‘جنہوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں بھارت India کی جارحیت کو درست اور پاکستانی فورسز کو غاصب اور جارح ثابت کرنے کیلئے مضامین اور تجزیئے لکھے ۔ بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد اور بھارتی Indian حکومت کے زیر انتظام وزارت برائے جنگ ِآزادی نے150 کے قریب اپنے ایسے تمام غیر ملکی ہمدردوں اور دوستوں کو بنگلہ دیش مدعو کیا‘ جنہوں نے پاکستان Pakistan کے دو ٹکڑے کرنے میں ان کی مدد کی ۔ بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں منعقد کی جانے والی اس خصوصی تقریب کے مہمان ِ خصوصی سابق بھارتی Indian صدر پرناب مکر جی تھے۔

25 جولائی 2011ء کو حسینہ واجد اور''را‘‘کی ہدایات پر بنگلہ دیش کی آزادی کی جو پہلی خصوصی تقریب منعقد کروائی گئی‘ اس میں اندرا گاندھی کو بنگلہ دیش کی تخلیق میں اہم کردار ادا کرنے پر بعد از مرگ آزادی کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ دوسری تقریب27 مارچ2012ء کو منعقد کروائی گئی ‘جس میں83 کے قریب بین الاقوامی تنظیموں اور شخصیات کو مدعو کیا گیا ۔تیسری تقریب20 اکتوبر2012ء کو منعقدکروائی گئی‘ جس میں61 بین الاقوامی اداروں اور شخصیات کو مدعو کیا گیا‘ جن میں پاکستان Pakistan سے تعلق رکھنے والے 15 کے قریب ایسے لکھاریوں‘ اینکروں اور ہیومن رائٹس سے متعلق خواتین کو مدعو کیا گیا‘ جنہوں نے پاکستانی اداروں کے خلاف پروگرام کئے اور آرٹیکل لکھتے ہوئے بھارت India کی مشرقی پاکستان Pakistan کو بنگلہ دیش بنانے کی سازش میں اپنی خدمات کو پیش کیا۔جن نام نہاد پاکستانیوں نے بنگلہ دیش جا کر بھارت India کی بنگلہ دیش کو عطا کی ہوئی آزادی کے نام پر ایوارڈ وصول کئے ‘وہ گمنام نہیں‘ بلکہ ان میں سے کچھ ملک کے بڑے بڑے ٹی وی چینلز اور اخبارات کے کرتا دھرتا اور کچھ انسانی حقوق کے نام پر پاکستان Pakistan کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کے ٹھیکیدار اور کارندے ہیں ۔

دنیا بھر سے پاکستان Pakistan اور مسلم دشمن عنا صر‘ میڈیا اور دوسری تنظیموں کو بنگلہ دیش بلا کر دو قومی نظریے کو دفن کرنے کے جشن میں کی جانے والی تقاریر اور وہاں پڑھے جانے والے مقالوں کی بات کریں‘ تو یہ مضمون طویل ہو جائے گا‘کیونکہ پاکستان Pakistan کے لوگوں اور اداروں کے بارے میں جو گھٹیا زبان استعمال ہوئی‘ اسے لکھنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی‘ تاہم پاکستان Pakistan اور اس کے قومی اداروںکیخلاف استعمال ہونے والی گھٹیا زبان پر اس لئے بھی افسوس نہیں کیا جا سکتا‘کیونکہ بھارت India جیسے دشمن اور اس کے نمک خواروں سے اس سے زیا دہ اور امید ہی کیا کی جا سکتی ہے۔ افسوس ہے تو صرف ان بے ضمیر پاکستانیوں پر ہے ‘جنہوں نے چند ڈالرز کے عوض اپنے ملک کے خلاف من گھڑت الزامات پر مبنی مضامین لکھے اور پھر اپنے ہی وطن کو بیچ کر بھارتی Indian لیڈروں کے ہاتھوں ایوارڈز وصول کئے۔ مشرقی پاکستان Pakistan کے محب وطن بنگالیوں کو بہیمانہ طریقوں سے قتل کرنے والوں اور پاکستانی فورسز کے گھیرے میں آئے ہوئے افسروں اور جوانوں کے جسموں کو ٹکڑے کرنے والے بھارتی Indian فوج کے افسروں کے سینوں پر سابق بھارتی Indian صدر نے اس تقریب میں ویر چکر جیسے اعزاز سجائے اور ماں جیسی دھرتی کو بیچنے والوں چند قلم فروشوں نے اس کے ہاتھوں اپنے گلے میں یہ بدنامی کے میڈلز سجائے ‘ اسے پاکستانیوں کیخلاف لڑنے والی بھارت India کی سفارتی اور غیر سفارتی جنگ کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔

چند ضمیر اورقلم فروش شخصیات کواب‘ بھی پاکستان Pakistan میں دن رات ایک ہی کام سونپا دیاگیا ہے کہ وہ پاکستان Pakistan کے قومی اداروں کو برا بھلا کہتے رہیں اور ان کے خلاف من گھڑت قصے سناتے رہیں‘ تاکہ '' رائ‘‘کو خوش کیا جا سکے ۔ بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں وزارت ِبرائے آزادی کی ترتیب دی جانے والی ان تقریبات میں صرف اس بات کی سب سے زیا دہ تکرار کی جاتی رہی کہ '' پاکستان Pakistan کا وجود کیوں‘ یہ ملک کیوں بنایا گیا؟ اور اس کی اب خطے میں کیا ضرورت ہے؟ ‘‘یعنی پاکستانی قوم کو ایک بار پھر اپنے قومی داروں کے مقابل کھڑا کرنے‘ ان کے خلاف جمہوریت کے نام سے چند مخصوص افراد کے ذریعے میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہوئے دلکش کہانیاں اور افسانے پھیلائے جا رہے ہیں۔ یہ وہی زخم ہیں‘ جو 48 سال قبل دشمن نے اپنے جھوٹ اور پراپیگنڈہ کے ذریعے تیز دھار آلے کی صورت میں ہمارے دلوں میں لگائے تھے ۔

بد قسمتی کہہ لیجئے کہ ان افراد کی چکنی چپڑی باتوں اور آج کے سوشل میڈیا کے ذریعے پرانے لگے ہوئے زخموں کوبھول کر پاکستانی قوم دشمن اور اس کے ایسے ہی زر خرید افرادکے ہاتھوں کل کو ہونے والی اپنی بے حرمتی بھول کر پھر سے اسی دشمن کے نئے جال میں پھنستی جا رہی ہے ۔ پاکستانی قوم کونہ جانے کب ہوش آئے گا کہ ان کے خلاف ایک بار پھر سقوط ِڈھاکہ طرز کی ایک بہت بڑی سازش کے تانے بانے بنے جا رہے ہیں۔ ہماری سیا سی قیا دت جلسے کرتی ہے‘ جن میں عوام کو کوئی پروگرام دینے کی بجائے اپنے قومی اداروں کو ہی برا بھلا کہا جاتا ہے‘ تاکہ ان کے دلوں میں ان اداروں کی عزت و احترام ختم ہو جائے۔ اب ‘پاکستانی عوام کی حفاظت سے متعلق ان ہی اداروں کو سوچنا پڑے گا۔ انہیں قوم کو غفلت کی نیند سے جگانا ہو گا اور اپنے عوام کو بتانا ہو گا کہ آخر گزشتہ دس بارہ برس سے بھارت India کی باسی کڑی میں اُبال کیوں آیاہوا ہے؟

ادھر پاکستان Pakistan گزشتہ تیرہ برس سے امریکہ United States سمیت دنیا بھر سے بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی اپیلیں کرتا رہا‘ لیکن کسی نے اس کی ایک نہ سنی ۔آج امریکہ United States نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر پاکستان Pakistan سے اپنی دوستی کا ثبوت نہیں دیا‘ بلکہ برا ہو اُس بھارتی Indian پلان کا ‘جس نے بی ایل اے کو کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کیلئے تیار کیا ‘ورنہ امریکہ United States تو بلوچستان Balochistan میں کی جانے والی دہشت گردی کے ایک ایک لمحے اور سازش کوجانتا تھا۔ یہ تو بھارت India میں بیٹھے ہوئے اسلم عر ف ا چھو گروپ کی چینی قونصل خانے پر حملہ کرنے کی وہ فاش غلطی تھی ‘جس سے بھارت India کو لینے کے دینے پڑ گئے اور چین China کے بھر پوردبائو کی وجہ سے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا ممکن ہوا ۔ورنہ تو جس دن بنگلہ دیش میں بھارتی Indian حکومت دنیا بھر سے اپنے ہمدردوں اور بنگلہ دیش کو آزاد کرنے میں مدد دینے والوں کو اعزازات دینے کا ڈرامہ رچا رہی تھی ‘تو اسی دن واشنگٹن میں امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ اوروزیر دفاع لیون پنیٹا خود کو نام نہاد بلوچ سوسائٹی آف نارتھ امریکہ United States کا صدر کہلوانے والے سے ملاقات کر رہا تھااور اس ملاقات کا اہتمام'' سینٹر آف نیو امریکن سکیورٹی آف ڈیفنس ‘‘کی طرف سے کیا گیا‘ جس کا وائٹ ہائوس سے مطالبہ تھا کہ بلوچستان Balochistan میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے کی جانے والی مداخلت بند کرنے کے ساتھ ساتھ ایران Iran کی جانب سے پاکستان Pakistan کے خلاف حملہ آور ہونے والے ہمارے ایجنٹوں کے خلاف سیستان بارڈر پر کی جانے والی کارروائیوں کو روکا جائے ۔

گزشتہ چند برسوں کے حالات و واقعات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بہت سے لوگ اور تنظیمیں‘ پاکستان Pakistan میں رہ کر اس کے خلاف سر گرمیوں میں مصروف ہیں۔ ایسے ''ڈیوڈ فراگ‘‘ جیسے افراد کو جلد از جلد فلٹر آؤٹ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

 155