تتلیاں‘ جگنو اور تین بچے

کٹہرا - خالد مسعود خان

11 جولائی 2019

Titlyan Jugno or 3 Bachy

ضوریز باہر صحن سے دوڑتا ہوا اندر آیا۔ اس کا سانس پھولا ہوا تھا اور خوشی چہرے سے امڈی پڑ رہی تھی۔ اس نے مجھے بازو سے ہلایا اور کہنے لگا۔ بڑے بابا! فائر فلائی۔ مجھے پہلے تو سمجھ ہی نہ آئی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے‘ پھر اس نے دوبارہ کہا کہ '' فائر فلائی آئوٹ سائڈ اِن دی بیک یارڈ‘‘۔ اس کی بات سمجھنے میں تھوڑی سی دقت ہوتی ہے‘ کیونکہ ایک تو وہ توتلا ہے اور دوسرا اس کا لہجہ بالکل گوروں والا ہے۔ مجھے بعض اوقات اس کی بات سمجھنے کے لیے اس کی ماں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے‘ جو اس کا ترجمہ کر کے بتاتی ہے۔ مجھے صرف اتنی بات سمجھ آئی کہ پچھلے صحن میں کوئی خاص بات ہے۔ سو‘ میں اس کے ساتھ باہر چل پڑا۔ شام کا وقت تھا اور سورج بس غروب ہی ہوا تھا‘ تاہم سڑک پر لگی بتیاں روشن ہو چکی تھیں۔ باہر صحن میں اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔ وہاں جگنو اڑ رہے تھے؛ ایک دو نہیں‘ درجن بھر نہیں‘ بیسیوں ‘بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ۔ ہر لمحہ صحن کے کسی نہ کسی حصے پر روشنی کا چھوٹا سا شرارہ لپکتا نظر آتا ۔ ایسا حیران کن منظر تھا کہ میں بالکل ٹھٹک کر ہی رہ گیا۔ اتنے جگنو! سیفان اور ضوریز ہوا میں اڑتے ان شراروں کو حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ کومل اور میں بھی ان جگنوئوں کو دیکھ کر اتنے ہی خوش اور حیران تھے ؛جتنے سیفان اور ضوریز۔

کومل اس گھر میں دو ہفتے پہلے شفٹ ہوئی ہے۔ پہلے والے گھر سے تقریباً پندرہ بیس میل دور‘ دوسرے شہر میں۔ یہ گھر پہلے والے گھر کی نسبت بڑا ہے اور پیچھے بہت بڑا صحن ہے‘ جس میں ایک چھتنار درخت ہے اور ارد گرد بہت سبزہ ہے۔ موسم کھلا کھلا تھا اور شام کو اس گھر کے صحن میں پہلی بار بیٹھے تھے‘ تبھی بچوں کی نظر ہوا میں اڑتے جگنوئوں پر پڑی۔ انہوں نے جگنوئوں کو پہلی بار اس طرح اتنے قریب سے دیکھا تھا۔ ان کی حیرانی قابل ِدید بھی تھی اور قابل ِفہم بھی۔ میں نے بڑی احتیاط سے ہوا میں مزے مزے سے اڑتے ہوئے تین جگنو پکڑے اور انہیں گھر کے اندر لے آیا۔ باورچی خانے سے شیشے کی ایک خالی بوتل لے کر جگنوئوں کو اس میں ڈالا اور بچوں کو لے کر گیراج کے ساتھ متصل لانڈری میں آیا اور دونوں طرف کے دروازے بند کر دیئے۔ اب گھپ اندھیرا تھا اور شیشے کے جار میں تینوں جگنو باری باری جل بجھ رہے تھے۔ گھپ اندھیرے میں ان کا لمحے بھر کے لیے چمکنا ایسا تھا ‘جیسے کوئی نہایت ہی روشن ستارہ سا ٹمٹا جائے۔ برسوں بعد‘ بلکہ عشروں بعد میںبھی ان دونوں کے ساتھ بچہ سا بن گیا۔ اس لمحے میں حاجی بٹے کے باغ میں پہنچ گیا۔

میں نے پہلی بار جگنو کب دیکھا مجھے یاد نہیں‘ بلکہ پہلی بار کیا موقوف‘ مجھے تو اب یہ بھی ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ میں نے آخری بار جگنو کب دیکھا تھا؟ کم از کم پچیس سال پہلے ملتان سے خانیوال جاتے ہوئے قادر پور راواں کے قریب گاڑی پنکچر ہو گئی تھی۔ میں ٹائر تبدیل کرنے کے لیے باہر نکلا تو سامنے جھاڑیوں پر چار چھ جگنو ٹمٹما رہے تھے۔ میں نے کومل اور سارہ کو آواز دے کر گاڑی سے باہر بلایا۔ شہر میں پانچ چھ سال رہنے کے باعث ‘انہوں نے جگنو دیکھا ہی نہیں تھا۔ تب ان کی حیرانی بھی سیفان اور ضوریز جیسی تھی۔ میں بھی حاجی بٹے کے باغ میں ‘اسی طرح حیران ہوا تھا۔ یہ کم از کم چون پچپن سال پرانی بات ہوگی‘ جب ایک شام میں نے ابا جی کے ساتھ چچا عابد شاہ کے گھر سے آتے ہوئے راستے میں حاجی بٹے کے باغ میں اسی طرح بیسیوں جگنوئوں کو ہوا میں شرارے اڑاتے دیکھا اور مبہوت سا ہو کر رہ گیا تھا۔ جگنوئوں کو پہلی بار دیکھنے کا جو منظر میرے ذہن کے دریچوں میں ثبت ہے ‘وہ اسی دن کا ہے۔ اس سے پہلے ان کو دیکھنے کا واقعہ کم از کم میرے یادداشت کے کسی خانے میں محفوظ نہیں ہے۔

رات کو جگنو اور دن کو تتلیاں۔ میں یہ دونوں پتنگے اپنے لڑکپن تک دیکھتا رہا۔ حاجی بٹے کے باغ میں‘ عام خاص باغ میں‘ باغ لانگے خان میں اور تتلیاں تو میرے سکول کے باغیچے میں ہوتی تھیں اور سکول کے بالکل سامنے سڑک کے پار ایمرسن کالج کے لان میں۔ تب میں گورنمنٹ ہائی سکول گلگشت کالونی میں پڑھتا تھا اور سامنے سڑک کے پار ایمرسن کالج کا آرٹس بلاک ہوتا تھا۔ یہ سڑک بھی کیا تھی؟ تارکول کی بنی ہوئی اس سڑک پر ٹریفک تو ہوتی ہی نہیں تھی۔ اس سڑک پر صرف میرے سکول اور کمپری ہنسو سکول کے ٹیچر اور طالب علم سائیکلوں پر آتے تھے۔ تب میرے سکول کے شوکت ربانی صاحب کے پاس بھی سائیکل ہوتی تھی۔ سیکنڈ ہیڈ ماسٹر عبداللہ صاحب کی سائیکل بڑی نئی نکور تھی اور خوش پوشاک ماسٹر عبداللہ صاحب بے داغ شیروانی پہنے جب اس سائیکل پر سکول آتے تو ہم سب ان کو بڑے اشتیاق سے دیکھا کرتے تھے۔ بعد میں ایمرسن کالج کا یہ آرٹس بلاک پہلے کالج آف ایجوکیشن میں بدل گیا اور پھر کالج آف ایجوکیشن یونیورسٹی کا ملتان کیمپس بن گیا۔ ایمرسن کالج کا آرٹس بلاک بھی ادھر سے شفٹ ہو گیا اور مختصر سا سائنس بلاک توسیع کے بعد بہت بڑا ہو گیا۔جب میں ایمرسن کالج پہنچا ‘تب تک کالج نئی صورت اختیار کر چکا تھا۔

تب سکول کے مین گیٹ کے بالکل سامنے ایمرسن کالج کے آرٹس بلاک کا لان تھا۔ درمیان میں گھاس اور چاروں طرف پھولوں کی کیاریاں تھیں اور ایک مالی پائپ سے پانی لگاتا اور بڑی سی قینچی سے انہیں کانٹا چھانٹتا۔ جب میں کالج پہنچا تب مجھے اس کا نام معلوم ہوا۔ یہ بشیر مالی تھا۔ جب میں بہائو الدین زکریا یونیورسٹی پہنچا تو وہاں گرلز کامن روم کے باہر آنٹی شمیم بیٹھی ہوتی تھی۔ یہ بشیر مالی کی بیوی تھی۔ بہائو الدین زکریا یونیورسٹی تب عارضی طور پر گورنمنٹ ہائی سکول گلگشت کالونی کی عمارت میں قائم کی گئی تھی‘ یعنی میرے سابقہ سکول میں۔ گلگشت ہائی سکول کو کمپری ہنسو ہائی سکول کے اس خالی ہونے والے بلاک میں شفٹ کر دیا گیا۔ جہاں ایمرسن کالج کی ایم اے اردو‘ سیاسیات اور اقتصادیات کی کلاسیں لگا کرتی تھیں۔ یہ ایک علیحدہ کہانی ہے۔ بات ہو رہی تھی؛ ایمرسن کالج کے لان کی!

اس لان میں ہمہ وقت سینکڑوں تتلیاں اڑتی رہتی تھیں۔ زیادہ تر تتلیاں کتھئی رنگ کی ہوتی تھیں‘ جن کے پروں کے آخری سرے پر سیاہ چتکے ہوتے تھے (ان کو کامن ٹائیگر کہتے ہیں)‘ لیکن ان کے علاوہ سفید ‘ پیلی‘ نیلی اور سیاہ رنگ کی تتلیاں بھی ہوتی تھیں۔ ایک تتلی کبھی کبھار نظر آتی تھی یہ بڑے سائز کی سنہری رنگ والی تتلی تھی‘ جسے پکڑتے تھے تو اس کا سارا سنہری برادہ سا ہاتھوں کو لگ جاتا تھا۔ پھر یہ تتلیاں اور سارے جگنو پیسٹی سائیڈز کی نذر ہو گئے۔ عشروں بعد میں ایک دن مانچسٹر کے نواحی قصبے ہولنگ ورتھ سے ڈاکٹر عاصم واسطی کے پاس شیفیلڈ براستہ سنیک پاس جا رہا تھا تو راستے میں جگہ جگہ تتلیوں کے پرے کے پرے سڑک کے کنارے اڑ رہے تھے۔ درجنوں تتلیاں ہماری گاڑی کی ونڈ سکرین پر لگ کر مر گئیں اور کئی ایک تو سفر کے اختتام تک وائپر میں پھنسی رہیں۔ ظاہر ہے ہر روز وہاں سے گزرنے والی دیگر سینکڑوں گاڑیاں بھی یہی کچھ کرتی ہوں گی ‘لیکن روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مرنے کے باوجود اس سڑک کنارے تیس چالیس کلو میٹر کے راستے میں بلا مبالغہ لاکھوں تتلیاں اڑ رہی تھیں۔ اب ملتان میں کبھی کبھار کوئی تتلی نظر آ جائے تو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ بے تحاشا زرعی ادویات کے سپرے نے تتلیوں کا ''نشٹ‘‘ مار کے رکھ دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے میں میکسیکو میں تھا۔ چیچن انٹرا میں کوکلکان ٹیمپل (Kukulcon Temple) کے وسیع و عریض میدان میں آثار ِقدیمہ کی کھدائی کے دوران ایک زیر زمین راستہ دریافت ہوا تھا۔ اس راستے والے گڑھے کے کنارے سینکڑوں تتلیاں اڑ رہی تھیں۔ یہی حال واپسی کا تھا۔ جب ہم چیچن اٹزا (Chichen Itza) سے واپسی کی فلائٹ لینے کے لیے کین کون (Cancun) آ رہے تھے تو سارا راستہ بے شمار تتلیاں اڑ رہی تھیں۔ ادھر اپنا یہ حال ہے کہ تتلیوں سے اپنا بچپن کا تعلق قائم رکھنے کی غرض سے چھ سات ماہ قبل کمبوڈیا سے حنوط شدہ تتلیوں کے دو عدد بکس نما شیشے کے فریم ہیں جو میرے بیڈ روم کے دروازے کے باہر لائونج میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک فریم میں ایک بہت بڑی تتلی ہے اور دوسرے فریم میں تین تتلیاں ہیں۔ یہ تتلیاں نہیں ‘میرا بچپن اور لڑکپن ہے۔

گزشتہ شام پیریز برگ میں ویسٹ بائونڈری سٹریٹ کے ایک گھر کے صحن میں تین بچے جگنوئوں کو حیرت اور مسرت سے دیکھ رہے تھے۔ ان میں سے ایک بچہ پہلے والے دو بچوں کا سفید بالوں والا ''بڑا بابا‘‘ تھا۔

 138