یہ منصف

جر گہ - سلیم صافی

10 جولائی 2019

Ye Musanaf

عدالتی معاملات کو سمجھتا ہوں اور نہ ان میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور ان کے خاندان کے مقدمات کے بارے میں اپنا طالب علمانہ موقف یہی رہا کہ شاید ان کو واضح طور پر مجرم ثابت نہ کیا جاسکا لیکن وہ بھی اپنے آپ کو معصوم ثابت نہ کر سکے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران ہم سیاستدانوں سے استدعا کرتے رہے کہ وہ سیاسی معاملات کو عدالتوں میں نہ لے جائیں لیکن افسوس کہ وہ اپنے گندے کپڑے عدلیہ کی لانڈری میں ہی دھونے کو ترجیح دیتے رہے۔ عدلیہ سے التجا کرتے رہے کہ وہ اپنے آپ کو سیاسی مقدمات میں ضرورت سے زیادہ ملوث نہ کرے لیکن افسوس کہ اس کے برعکس ہوتا رہا۔ گزارش کرتے رہے کہ صرف انصاف نہیں ہونا چاہئے بلکہ انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہئے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ شاید انصاف ہوا ہو لیکن انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔ چنانچہ وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ قومی احتساب بیورو اور اس کے چیئرمین کے امیج کا تو ایسا حال ہو گیا ہے وہ محتسب کم اور پی ٹی آئی PTI کے رہنما زیادہ نظر آتے ہیں لیکن افسوس کہ اب عدلیہ کے بارے میں بھی انگلیاں اٹھنے لگی ہیں اور اگر میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو سزا دینے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے معاملے پر بھی اسی طرح مٹی ڈالنے کی کوشش کی گئی جس طرح اس سے قبل چیئرمین نیب کے اقدامات، بیانات اور معاملات پر ڈالی گئی تو عدلیہ کی حیثیت نہایت مجروح ہو جائے گی۔

ذاتی طور پر میں مسلم لیگی ناصر بٹ کے اقدام کو نہایت گھٹیا فعل سمجھتا ہوں۔ مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، کسی انسان کو اعتماد میں نہ رکھ کر اس کی وڈیو بنانا یا گفتگو ریکارڈ کرنا نہایت گری ہوئی حرکت ہے۔ لیکن بہرحال انہوں نے یہ گری ہوئی حرکت کر ڈالی۔ مسلم لیگ(ن) کا ماضی میں عدلیہ سے متعلق کردار بھی کئی حوالوں سے قابلِ اعتراض ہے اور اس بات پر بھی دو رائے ہو سکتی ہیں کہ عدلیہ کے فورم پر لانے سے قبل کیا کسی جج کے بارے میں اسی طرح کی وڈیو میڈیا پر لانا مناسب تھا یا نہیں لیکن جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے اس سے ایک بات تو بہر حال ثابت ہوئی کہ ارشد ملک صاحب کا کنڈکٹ کسی صورت ایک جج والا نہیں۔ انہوں نے اپنی صفائی میں جو پریس ریلیز جاری کی ہے، وہ بذات خود نہ صرف مریم نواز Maryam Nawaz کے موقف کی بڑی حد تک تائید کررہا ہے بلکہ یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ ارشد ملک صاحب قطعاً بلند اخلاقی مقام پر فائز نہیں۔ وڈیو سے متعلق باقی دعوے درست ہیں یا غلط لیکن اس بات کی تو خود جج صاحب نے اپنی پریس ریلیز میں تصدیق کردی ہے کہ ان کی ناصر بٹ سے ملاقات ہوئی ہے اور یہ کہ یہ وڈیو اس ملاقات کی ہے۔ مثلاً اپنی پریس ریلیز میں وہ خود لکھتے ہیں کہ ”مریم صفدر صاحبہ کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی وڈیوز نہ صرف حقائق کے برعکس ہیں بلکہ ان میں مختلف مواقع اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے“۔

انہوں نے ملاقات کی تردید کی ہے اور نہ وڈیو کو مکمل جعلی قرار دیا ہے بلکہ صرف یہ فرما رہے ہیں کہ اُن کی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر وہ واقعی ایک اصول پرست جج ہیں تو پھر وہ اس موقع پر ایک ایسے شخص سے کیوں مل رہے ہیں جو میاں نواز شریف Nawaz Sharif سے قربت رکھتا ہے اور جو ان کا جانا پہچانا جیالا ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا دعویٰ ہے کہ ناصر بٹ کے خلاف درجنوں مقدمات درج ہیں اور اگر واقعی ایسا ہے تو پھر کیا درجنوں مقدمات میں مطلوب ملزم شخص سے اتنے اہم سیاسی کیسز کی سماعت کرنے والے جج کا ملنا اور اسے اپنے گھر پر بلانا مناسب ہے؟ جج صاحب نے مریم نواز Maryam Nawaz صاحبہ کے اس دعوے کی تردید نہیں کی کہ انہوں نے ناصر بٹ کو خود اپنے گھر بلایا تھا بلکہ وضاحتی بیان میں مزید تصدیق کرتے ہیں کہ ناصر بٹ اور اس کا بھائی عبداللہ بٹ ان سے بے شمار مرتبہ مل چکے ہیں۔ اسی طرح وضاحتی بیان میں وہ آگے لکھتے ہیں کہ ”نواز شریف Nawaz Sharif اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے بارہا نہ صرف رشوت کی پیشکش کی گئی بلکہ تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں“۔ اب ججز کے کنڈیکٹ کے مطابق کسی فریق کی طرف سے رشوت کی پیشکش ہونے یا دھمکیاں ملنے کی صورت میں جج کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے سے اوپر متعلقہ اتھارٹی کو آگاہ کرے۔ اب اگر واقعی رشوت کی پیشکش ہوئی تھی یا دھمکیاں ملی تھیں تو جج صاحب کسی کے نوٹس میں نہیں لائے اور یوں وہ ججز کوڈ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے اور اگر ایسا نہیں ہوا تھا تو پھر وہ غلط بیانی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اسی طرح اسی پریس ریلیز میں اوپر جج صاحب لکھتے ہیں کہ گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور پریس ریلیز کے اختتام پر لکھتے ہیں کہ وڈیوز جھوٹی، جعلی اور فرضی ہیں۔ گویا ایک ہی بیان میں ایک طرف وڈیوز کو مکمل جعلی قرار نہیں دے رہے ہیں بلکہ اس میں ہونے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی شکایت کر رہے ہیں اور دوسری طرف وڈیو کو جھوٹی، جعلی اور فرضی قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح جج صاحب نے یہ نہیں کہا کہ میں قانونی چارہ جوئی کروں گا بلکہ پریس ریلیز کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہونا چاہئے حالانکہ اخلاقیات کا تقاضا یہ تھا کہ مریم نواز Maryam Nawaz صاحبہ کی پریس کانفرنس کے بعد پریس ریلیز جاری کرنے کے بجائے اسلام آباد Islamabad ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھتے۔ اس میں ان سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے اور ساتھ ہی یہ گزارش کرتے کہ متنازع ہو جانے کے بعد اب مناسب نہیں کہ وہ مزید ان مقدمات کی سماعت کریں جن کے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں لیکن افسوس کہ صرف اس پریس ریلیز پر اکتفا کر کے وہ اگلے روز دوبارہ اُسی شان کے ساتھ عدالت میں بیٹھے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے کیسز کی سماعت کررہے تھے۔ آخر حد ہوتی ہے۔ محترم حسن نثار صاحب درست فرماتے ہیں کہ اس ملک کا مسئلہ معاشیات کا نہیں اخلاقیات کا ہے۔

 74