امید اور نا امیدی کے درمیان

کٹہرا - خالد مسعود خان

10 جولائی 2019

Umeer or NA Umeedi kay Darmyan

اگر معاملات نارمل ہوتے تو میں کہتا کہ ''ممکن ہے میری بات کچھ لوگوں کو پسند نہ آئے‘‘ مگر حالات نارمل نہیں ہیں۔ باہمی سیاسی چپقلش اور مخالفت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ بات اب ''ممکن ہے‘‘ سے آگے جا کر ''یقینا‘‘ تک پہنچ چکی ہے اور وہ یہ کہ میری بات یقینا کئی لوگوں کو پسند نہیں آئے گی۔ اور وہ یہ کہ کم از کم امریکہ United States کی حد تک پی ٹی آئی PTI کی بلکہ دوسرے لفظوں میں عمران خان Imran Khan کی مقبولیت کا گراف نیچے آ چکا ہے۔ کتنا؟ اب اس کے بارے میں تو میں بالکل نہیں بتا سکتا کہ کس قدر؟ لیکن یہ بات طے ہے کہ مقبولیت کم ہوئی ہے۔امریکہ United States میں میرے کئی ملنے والے عمران خان Imran Khan کی حمایت سے تائب ہو چکے ہیں ۔بہت سے دوست ایک پنجابی لفظ کے مطابق ''گھوچ گھوچ‘‘ کر باتیں پوچھتے ہیں اور آپ سے امید کرتے ہیں کہ آپ ان کو کوئی اچھی خبر سنائیں۔ ان کا چہرہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی نا امیدی کے باوجود ایک بار پھر آپ سے کوئی پر امید بات‘ کوئی خوش کن خبر اور کوئی حوصلہ افزا گفتگو سن کر اپنی ٹوٹتی ہوئی امیدوں کو نئے سرے سے سہارا دینا چاہتے ہیں۔ بیرونِ پاکستان Pakistan رہنے والے پاکستانیوں سے ہزار اختلافات کے باوجود ان کی پاکستان Pakistan بارے فکر سے بہر حال انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اب بھلا ایسے لوگوں کے اخلاص اور فکر مندی بارے کیا شک و شبہ ہو سکتا ہے جو ملکی حالات کی بہتری کی خاطر‘ پرانے لٹیروں سے ملک کی جان چھڑوانے کی خواہش میں ‘مسلسل دو پارٹیوں کے درمیان پھنسی ہوئی قوم کو نکالنے کے لیے ہزاروں میل دور سے ووٹ ڈالنے کی خاطر پاکستان Pakistan آئے تھے۔ ایسے لوگوں کی ملک کے بارے میں فکر مندی میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔

خلوص اپنی جگہ‘ لیکن صرف میرے خلوص سے کیا بنتا ہے؟ سو خلوص اپنی جگہ اور حقائق اپنی جگہ۔ مہنگائی‘ انتظامی خرابیاں‘ وہی رشوت اور کرپشن‘ سفارش کا وہی پرانا چلن‘ اداروں کی وہی بربادی‘ ریلو کٹوں کی وزارتوں پر تعیناتی‘ غیر منتخب لوگوں کی سلیکشن‘ حکومتی رٹ کی ناکامی‘ معیشت میں مسلسل گراوٹ‘ روپے کی نا قدری‘ بے روزگاری میں اضافہ اور سب سے بڑھ کر اپنے کیے گئے تمام تر وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی نے بیرون ملک پاکستانیوں کا ذہن تبدیل کرنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ عمران خان Imran Khan کی اٹھان اور مقبولیت بالکل ویسی تھی جیسی ذوالفقار علی بھٹو کی اور ان کے کارکنان اور حامی بھی بالکل ویسے ہیں۔ لیکن بہر حال دونوں میں ایک فرق بڑا واضح ہے اور وہ یہ کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے غریب‘ ان پڑھ اور نچلے طبقے کو متاثر کیا جبکہ عمران خان Imran Khan نے اس کے برعکس ملک اور بیرون ملک پڑھے لکھے طبقے کو متاثر کیا۔ ایسے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر کے سیاسی دھارے میں لانے میں کامیابی حاصل کی جو سارا دن ملک کی سیاسی خرابیوں پر کڑھتے تھے‘ برا بھلا کہتے تھے اور نقائص نکالتے تھے مگر خود عملی طور پر ایک پنجابی محاورے کے مطابق ''ککھ بھن کے دوہرا نئیں کردے سن‘‘ یعنی خود تنکا توڑ کر دوہرا نہیں کرتے تھے۔ ان پڑھے لکھے لوگوں کو ‘جو ''کاغذی شیر‘‘ تھے ‘سوشل میڈیا پر لا بٹھایا۔ فیس بک‘ ٹویٹر‘ واٹس ایپ اور اسی قبیل کی دوسری عوامی رابطے کی چیزوں کے ذریعے وہ کام کر دکھایا جو بظاہر ممکنات میں سے نہیں تھا۔ لیکن اس تمام تر جذباتی وابستگی‘ بے لوث محبت اور انتہا پسندی تک پہنچی ہوئی سیاسی وابستگی کے باوجود پی ٹی آئی PTI کے کھلاڑی اور پیپلز پارٹی کے جیالے میں بنیادی فرق تعلیم اورسوچ کا تھا جس نے پی ٹی آئی PTI کے کھلاڑی کو اس اندھی تقلید سے کسی حد تک محفوظ رکھا ہے جو جیالے کا خاصا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی زرداری کو بھٹو سمجھتا ہے اور گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے اپنے نئے لیڈروں کی جانب سے مسلسل وعدہ خلافیوں‘ دل شکنیوں اور پارٹی کا تمام تر نظریاتی حلیہ بگاڑنے کے باوجود ابھی تک اسی جوش و جذبے کے ساتھ پارٹی سے جڑا ہوا ہے اور پر امید ہے کہ ایک دن اس کی لیڈر شپ اس کے اکائونٹ میں بھی اسی طرح اربوں نہ سہی کچھ نہ کچھ ضرور ڈالے گی جس طرح اس نے فالودے والے ‘ قلفی والے اور ریڑھی والے کے اکائونٹ میں ڈالے تھے۔ پی ٹی آئی PTI کا کارکن بہر حال پڑھا لکھا ہے‘ تعلیم یافتہ ہے‘ برے بھلے کا تجربہ کرتا ہے۔ وعدوں اور ان کے انجام پر غور کرتا ہے‘ آئی ایم ایف کے ایجنٹوں کی تقرریوں پر فکر کرتا ہے‘ سو دونوں میں کافی فرق ہے۔

ڈاکٹر انیس کے جذباتی پن میں کافی کمی آ چکی ہے۔ عمران خان Imran Khan سے محبت کا لیول نیچے آ چکا ہے‘توقعات کا گراف گر چکا ہے‘نا امیدی کی سطح بلند ہو چکی ہے اور بات میں زور بھی کافی کم ہو چکا ہے۔ اب مجھے کچھ سمجھانے کے بجائے خود سمجھنے کی کوشش میں لگ چکا ہے۔ یہ حال صرف ڈاکٹر انیس کا ہی نہیں‘ عمران خان Imran Khan کے بہت سے چاہنے والوں کا ہے۔ پہلے وہ ہمیں بتاتے تھے کہ صورتحال بدلنے والی ہے‘ پاکستان Pakistan تبدیل ہو رہا ہے‘کرپشن ختم ہونے والی ہے‘ معیشت اپنے پائوں پر کھڑی ہونے والی ہے‘ قرضوں سے جان چھوٹنے جا رہی ہے‘سوئس بینکوں میں پڑے دو سو ارب ڈالر billion dollor دنوں میں پاکستان Pakistan کو ملنے والے ہیں‘ پیپلز پارٹی تو پچاس سال میں روٹی‘ کپڑا اور مکان نہیں دے سکی مگر عمران خان Imran Khan پچاس لاکھ گھر ضرور بنا کر دیں گے اور نوکریوں کی تو پوچھو ہی نہ‘ باہر نوکریاں کرنے والے اپنی نوکریاں چھوڑ کر واپس پاکستان Pakistan آئیں گے۔ بہر حال اس آخری بات میں تھوڑی بہت ضرور سچائی تھی۔ آئی ایم ایف کا مصر میں متعین نائب صدر اپنی غیر ملکی نوکری چھوڑ کر پاکستان Pakistan واپس آیا ہے اور اب سٹیٹ بینک آف پاکستان Pakistan کا گورنر ہے۔

اب اس بار امریکہ United States میں انہی دوستوں کے پاس بیٹھا ہوں تو وہ اپنی سنانے کے بجائے اب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ حالات کیسے ہیں؟ معیشت کا کیا حال ہے؟ آپ کا خیال ہے اگلے دو چار ماہ میں درست ہو جائیں گے؟ مہنگائی واقعی زیادہ ہوئی ہے یا مخالفین خواہ مخواہ شور مچا رہے ہیں؟ پنجاب کے ایک ادارے کا چیئر مین مقرر ہونے والا بی کام پاس خاتونِ اول کا قریبی رشتہ دارہے یا یہ محض افواہ ہے؟ کیا پوری پی ٹی آئی PTI کے پاس معیشت چلانے کے لیے واقعتاً کوئی بندہ نہیں جو انہوں نے پیپلز پارٹی کے سابقہ وزیر خزانہ کو اپنا مشیر خزانہ مقرر کر لیا ہے؟ منتخب وزیروں سے غیر منتخب مشیر زیادہ پاور فل کیوں ہیں؟ سابق وزیر صحت نے واقعی پیسے بنائے تھے یا صرف ان پر الزام ہے؟ حکومت سے دوائیوں کی قیمتیں کم کیوں نہیں پا ہو رہیں؟ پاکستان Pakistan میں بھی پی ٹی آئی PTI کی مقبولیت کم ہو رہی ہے یا نہیں؟ چینی کی قیمت میں اضافہ کس نے کیا؟ شریف برادران اور زرداری اینڈ کمپنی تو رخصت ہو گئی ہے کیا اب ملک میں کرپشن ہو رہی ہے یا ختم ہو گئی ہے؟ سوالات کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے جس سے واسطہ پڑا ہوا ہے۔

جو لوگ پہلے پلک جھپکتے نظام بدلتا ہوا دیکھنے کا دعویٰ کرتے تھے اب نوبت یہ آ گئی ہے کہ کہتے ہیں‘ گند ہی بہت ہے‘ اکیلا خان کیا کر سکتا ہے؟ ساری کی ساری بیورو کریسی سابقہ حکمرانوں کی وفادار ہے‘ حکومت کس طرح چلائی جا سکتی ہے؟ ساری کی ساری ٹیم ہی نا اہلوںپر مشتمل ہے ‘ اچھے نتائج کس طرح حاصل کیے جا سکتے ہیں؟ غرض ایک مایوسی کی صورتحال ہے۔ مایوسی کوئی حیران کن چیز نہیں ہے‘ بعض اوقات اس کا ایک Phase آتا ہے‘ لیکن اس قدر جلد اور اس قدر زیادہ۔ امریکہ United States میں عمران خان Imran Khan کے حامیوں کی تعداد تو نہیں گنی جا سکتی تھی لیکن یہ کسی صورت وہاں مقیم پاکستانیوں کے80/85 فیصد سے کم نہیں تھی۔ اب بھی یہ تعداد مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی وغیرہ کے حامیوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے‘ لیکن اب یہ حمایت 80/85 فیصد بہر حال نہیں۔ اس میں کافی کمی ہوئی ہے۔ عمران خان Imran Khan سے مایوس لوگ دوسری پارٹیوں میں نہیں جا رہے۔ وہ کسی اور پارٹی میں جانے کے بجائے شاید دوبارہ غیر فعال ہو جائیں گے۔ اگلے الیکشن میں پاکستان Pakistan آ کر ووٹ ڈالنے کے بجائے پہلے کی طرح امریکہ United States اپنے گھر بیٹھیں گے اور زیادہ سے زیادہ کوئی پاکستانی چینل لگا کر نتائج سننے کی زحمت گواراکریں گے۔

بہت سے لوگ اب بھی ایسے ہیں جو اگلے چھ ماہ میں کسی تبدیلی کے منتظر ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو شاید وہ دوبارہ کبھی پاکستان Pakistan کی سیاست میں بطور پاکستانی اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے۔ ایک دوست کہنے لگا :اگر ایسا ہوا تو میں عمران خان Imran Khan کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ ابھی یہ لوگ امید اور نا امیدی کے درمیان ہیں۔ اگر وہ نا امید ہوئے تو سچی بات ہے مجھے بھی دکھ ہوگا۔

 224