ٹرمپ یا پیوٹن

حرف راز - اوریا مقبول جان

10 جولائی 2019

Trump ya Putin

آج سے ستائیس سال پہلے پوری مسلم امہ یورپ کے ایک خطے بوسنیا میں مسلمانوں کے قتل عام کا ماتم کر رہی تھی۔ بلقان کے اس ملک کے خوبصورت لوگ آرتھوڈوکس چرچ کے ماننے والے سرب باشندوں کے ہاتھوں بدترین دہشت گردی کا شکار ہورہے تھے۔ یہ جنگ تقریبا چار سال تک جاری رہی اور اس میں پانچ لاکھ کے قریب مسلمان لقمہ اجل بنا دیے گئے تھے۔ یہ میڈیا اور سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا، مگر اسکے باوجود بھی جو تصویریں، خبریں اور فلمیں حکومتی ذرائع ابلاغ تک پہنچتی تھیں وہی اسقدر خوفناک اور دل دہلا دینے والی تھیں کہ راتوں کی نیند حرام کر دیتی تھیں۔ یہ وہی جنگ تھی جسکے بارے میں سربیا یعنی سابقہ یوگوسلاویہ کے سربراہ ملا سووچ نے یورپی یونین کے سامنے یہ سوال رکھا تھا کہ "اب یہ تمہیں فیصلہ کرنا ہے کہ تم عین یورپ کے وسط میں ایک مسلمان ملک چاہتے ہو یا نہیں"۔ اس سوال کے بعد پورا یورپ مسلمانوں کے قتل عام پر ایک خاموش تماشائی بن گیا تھا۔ جیسے ہی بوسنیا کے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کرنے لگی اور دوسرے ملکوں کے مسلمان جو جذبہ جہاد سے سرشار تھے، انہوں نے بوسنیا کا رخ کرنا شروع کیا تو پھر دنیا بھر کی طاقتوں پر ایک خوف سوار ہوا کہ کہیں یہ ملک عالمی جہاد کا مرکز نہ بن جائے۔ اس لیے کہ سب طاقتیں چاہتی ہیں کہ جنگ کا میدان امریکہ United States اور یورپ سے باہر کسی اور جگہ سجتا رہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یہ ایک مشترکہ حکمت عملی ہے کہ جنگ جنوبی امریکہ United States ، افریقہ Africa ، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیاء یا مشرقِ بعید میں کہیں بھی ہوتی رہے اور ہمارا اسلحہ بکتا رہے، لیکن جنگ کو یورپ اور امریکہ United States کی سرحدیں عبور نہیں کرنا چاہئیں۔ اسی لیے فوراً اقوام متحدہ کے دستے بوسنیا بھیج کر وہاں امن زون بنائے گئے۔ فورابعد نیٹو نے وارننگ دی،جنگ بند کرو اور پھر کروشیا اور سربیا کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی اس بمباری میں امریکی فضائیہ بھی شامل ہو گئی اور اسکے بعد بوسنیا کے مسلمانوں اور کروشیایوں اور سریوں کو ملا کر ایک ایسی سیکولر جمہوری حکومت قائم کی گئی جسکے خدوخال میں کہیں بھی اسلام شامل نہ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب روس Russia مکمل طور پر اپنی تباہی اور زوال کے راستے پر گامزن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سربیا کے وہ روس Russia نواز حکمران جنہوں نے امریکہ United States اور نیٹو کی بات نہیں مانی تھی اور بوسنیا سے جنگ جاری رکھی تھی انہیں عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں لاکر سزائیں سنائی گئیں۔ اس چار سالہ جنگ سے دو مقاصد حاصل کیے گئے، ایک یہ کہ اب آزادی صرف اس شرط پر مل سکتی ہے اگر آپ سیکولر جمہوری طرز زندگی اختیار کریں گے اور دوسرا یہ کہ روس Russia کو یہ باور کرا دیا گیا تھا کہ سوویت یونین کے زوال کے بعد وہ اپنی حدود تک محدود رہے اور علاقائی بالادستی کے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ لیکن بیس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد روس Russia نے اتنی انگڑائیاں لے لی ہیں کہ دنیا کو ہر لمحے یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کسی بھی وقت جنگ کا بگل بج سکتا ہے اور اگر ایسا ہوگیا تو پھر یہ جنگ صرف اس خطے تک محدود نہیں رہے گی جہاں سے شروع ہوئی تھی، بالکل ویسے ہی دنیا میں پھیل جائے گی جیسے پہلی جنگ عظیم بھی اسی بوسنیا کے شہزادے کے قتل ہونے سے شروع ہوئی تھی اور اس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بلقان کی دو جنگوں نے خلافت عثمانیہ کی بالا دستی کو یورپ سے نکال باہر کیا اور بلغاریہ، یونان، مونٹی نیگرو، سربیا جیسے علاقے ترکوں کے ہاتھوں سے نکل گئے تھے۔آج روس Russia جس حیثیت میں ہے، یوں لگتا ہے وہ اپنے ارد گرد کے تمام ممالک سے امریکہ United States اور نیٹو کے سائے کو بھی دور کردینا چاہتا ہے۔ یوکرین کا معاملہ روس Russia کی جانب سے ایک جارحانہ قدم تھا۔ شام میں اپنے مفادات کے حوالے سے وہ جنگ میں کودا اور پھر مشرقِ وسطیٰ میں شام پہلا ملک تھا جہاں امریکہ United States اپنی مرضی سے اپنی حکمت عملی پوری نہ کر سکا۔ بس دانت پیستا ہوا بشار الاسد کے خلاف زہر اگلتا رہا۔ بوسنیا وہ ملک ہے جسکی علاقائی اہمیت کی وجہ سے امریکا اور یورپ کی رال اس پرشروع ہی سے ٹپکتی رہتی ہے۔ بوسنیا کو 2010ء میں دعوت دی گئی کہ وہ نیٹو اتحاد میں شامل ہو جائے۔ چونکہ بوسنیا کو ایک اسلامی مملکت بننے سے روکنے کے لیے دیگر قومیتوں کے لوگوں کو بھی اسکا حصہ بنایا گیا تھا، اس لیے وہاں ایک کثیر تعداد میں سرب آبادی بھی موجود ہے جو روس Russia کے زیر سایہ ہے۔ اس آبادی کے لیڈر می لورڈ ڈوؤک نے اسکی مخالفت کی اور گزشتہ ماہ اعلان کیا کہ اگر بوسنیا نیٹو میں شامل ہوا تو یہ اس ملک کے خاتمے کا اعلان ہوگا۔نو ماہ بعد بوسنیا کے انتخابات ہو گئے لیکن اسی وجہ سے حکومت نہیں بن سکی۔ گزشتہ ایک سال سے روس Russia سے فوجی قافلے خاص طور پر اس خطے خصوصاً بوسنیا سے مسلسل گزارے جاتے رہے ہیں تاکہ اس بات کا احساس رہے کہ یہ روس Russia کا پرانا اتحادی علاقہ ہے اور اسی کے زیر اثر رہے گا۔ روس Russia بوسنیا کو ایک بار پھر غیر مستحکم اور جنگ کا شکار کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں اس نے وہاں کی نسل پرست تنظیموں کی سرپرستی بھی شروع کردی ہے۔ کیونکہ اگر بوسنیا میں ایک دفعہ پھر خانہ جنگی شروع ہوگئی تو پھر یہ نیٹو کا حصہ نہیں بن سکے گا۔ اس طرح ایک تباہ حال ملک روس Russia اور مغربی طاقتوں کے درمیان ایک بفر زون بنا رہے گا۔ لیکن ایسی صورتحال شاید اب قائم نہ رکھی جا سکے۔ امریکی مفادات پر گزشتہ چندبر سوں سے جس طرح روس Russia حملہ آور ہو رہا ہے اس نے جنگ کو ہوا دے دی ہے اور اس کے نقاروں کی صدا بلند ہو رہی ہے۔ ترکی نے روس Russia کے ساتھ جو 5.400 میزائل خرید کر اپنے ڈیفنس سسٹم میں ڈالنے کا معاہدہ کیا ہے اس نے نیٹو کی ساری حکمت عملی کو چیلنج کردیا ہے۔ یوں وہ یورپ جو گزشتہ ستر سال سے جنگ کے شعلوں سے بچتا چلا آ رہا تھا، ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہ جنگ صرف یورپ میں نہیں لڑی جائے گی۔ اس کے شعلے بحیرہ روم عبور کرتے ہوئے شام، مصر، عراق، اسرائیل اور دیگر عرب ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیں گے اور دونوں طاقتیں بلکہ دونوں گروہ یعنی ایک طرف یورپ اور امریکہ United States دوسری جانب روس، چین China جب جنگ میں کودیں گے تو پھر وہ پاکستان، بھارت India تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا Malaysia تک اس جنگ کے جنون کو پھیلا سکتے ہیں۔ان تمام ممالک میں جنگوں کی چنگاریاں پہلے سے موجود ہیں۔ اس ضمن میں دونوں جانب سے تجزیے ہو رہے ہیں اورحیران کن طور پر انکا مرکز و محور پاکستان Pakistan ہے۔ہر کوئی دم بخود ہے کہ پاکستان Pakistan کس گروہ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ کیونکہ پاکستان Pakistan دونوں کے لئے اہم ہو گیا ہے۔ عمران خان Imran Khan کو ڈونلڈ ٹرمپ سے ملایا جا رہا ہے کہ دونوں کے عادت و اطوار ایک جیسے ہیں، جب کہ اسرائیل کے یروشلم پوسٹ نے ایک اور حیران کن مماثلت ڈھونڈی ہے۔ اسکے نزدیک پیوٹن اور عمران خان Imran Khan بھی دونوں ایک جیسے ہیں۔ دونوں 5 اور 7 اکتوبر 1952 کو پیدا ہوئے، دونوں ایتھلیٹ اور مضبوط جسم رکھتے ہیں، دونوں امریکہ United States مخالف ہیں، دونوں کرپشن کے خلاف ہیں، دونوں قوم پرست اور محب وطن ہیں۔ صرف ایک فرق ہے کہ عمران خان Imran Khan ریاستی کاروبار میں نیا نیا ہے اور پیوٹن خفیہ ایجنسی کے جی بی سے آیا ہے۔ لیکن اخبار کے مضمون میں اسرائیل کا خوف نظر آتا ہے۔ اسکے نزدیک اگر کسی بھی وقت یورپ میں آگ کی چنگاری سلگی تو وہ بوسنیا سے ہو سکتی ہے ، مگر اسکے شعلے چاروں جانب پھیلیں گے اور ایک بلند شعلہ پاک بھارت India جنگ کا بھی ہوگا۔ایسے میں پاکستان Pakistan جس طرف بھی ہوا ، جنگ پر اثر ڈالے گا۔ دیکھیں عمران خان Imran Khan کی ٹرمپ سے مماثلت کام آتی ہے یا پیوٹن سے۔

 755