پہلے پانچ منٹ اہم ہوں گے

زیرو پوایٔنٹ - جاوید چوھدری

09 جولائی 2019

Pehly five Minutes

ائیر کنڈیشنر سے پانی کی بوندیں گر رہی تھیں‘ دیوار کے بالکل نیچے شیشے کا مرتبان رکھا تھا‘ ائیر کنڈیشنر کی سفید باڈی پر پانی کا قطرہ بنتا تھا اور وہ چند سیکنڈ بعد ٹپ کی آواز کے ساتھ مرتبان میں جا گرتا تھا‘ صاحب یہ آواز سنتے تھے اور خوش ہوتے تھے‘ میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا‘ آپ اپنا اے سی ٹھیک کیوں نہیں کرا لیتے‘ مکینک آئے گا اور منٹوں میں یہ ٹپ ٹپ بند ہو جائے گی‘ وہ ہنس کر بولے ”تم چاہتے ہو میں ساون کی خوشی سے محروم ہو جاﺅں“ ۔

میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ”یہ ٹپ ٹپ صرف ٹپ ٹپ نہیں یہ ساون کی ای میل بھی ہے‘ میرا اے سی خشک گرمیوں میں

خاموش رہتا ہے لیکن فضا میں جوں ہی ساون کی نمی آتی ہے یہ ٹپ ٹپ کرنے لگتا ہے اور میں یہ آوازیں انجوائے کرتا ہوں‘ یہ آوازیں اور یہ نمی جولائی کے آخر اور اگست کے شروع میں دوگنی ہو جائیں گی اور میں یہ سن سن کر خوش ہوتا رہوں گا“ صاحب نے اس کے ساتھ ہی سگار سلگایا اور کمرے میں کیوبن تمباکو کی خوشبو پھیلنے لگی۔میں نے عرض کیا” وزیراعظم عمران خان Imran Khan 20 جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جا رہے ہیں‘ یہ میٹنگ کیسی رہے گی“ وہ ہنس کر بولے ”پاکستانی ٹرمپ امریکی ٹرمپ سے ملنے جا رہا ہے“ میں نے بے چین China ہو کر کروٹ بدلی اور عرض کیا ”سر یہ زیادتی ہے‘ یہ ہمارے وزیراعظم ہیں“ وہ مزید ہنسے اور بولے ”یہ میں نہیں کہہ رہا‘ یہ امریکی میڈیا کا خیال ہے“ وہ رکے اور چند لمحے سوچ کر بولے ”آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی صدر ٹرمپ دنیا کے واحد لیڈر ہیں جو پروٹوکول کا خیال نہیں رکھتے‘ یہ دنیا بھر کے لیڈروں سے ملتے ہیں‘ انہیں پانچ منٹ میں جو شخص کلک کر جاتا ہے یہ اس کے لیے دن بھر کی تمام مصروفیات منسوخ کر دیتے ہیں اور یہ پھر اسے لنچ یا ڈنر کے لیے بلیئر ہاﺅس لے جاتے ہیں‘ یہ اس کے ساتھ گالف کھیلتے ہیں‘ واک کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے لطیفے شیئر کرتے ہیں لیکن اگر وہ شخص انہیں کلک نہ کرے تو یہ پانچ منٹ میں بور ہو جاتے ہیں اور وہ شخص پوپ ہی کیوں نہ ہو یہ اٹھ کر اس کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں اور باہر نکل جاتے ہیں۔

آپ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ کو لے لیں‘ امریکا 70سال سے شمالی کوریا کا دشمن ہے لیکن کم جونگ کلک کر گئے اور صدر ٹرمپ ان سے ملنے کے لیے سنگا پور بھی گئے اور یہ 30جون کو پن مون جوم(ساﺅتھ کوریا) کی سرحد پر چلتے چلتے شمالی کوریا کی حدود میں بھی داخل ہو گئے یوں یہ شمالی کوریا کے صدر سے ملاقات اور شمالی کوریا کی زمین پر قدم رکھنے والے پہلے امریکی صدر بن گئے‘ آپ یہ بھی یاد رکھیں صدر ٹرمپ نے19 ستمبر 2017ءکو اقوام متحدہ کی اپنی پہلی تقریر میںشمالی کوریاکو دھمکی دی تھی ”امریکا کو خطرہ ہوا تو شمالی کوریا کو ختم کر دیں گے“۔

اور امریکی صدر نے11 نومبر 2017ءکو اپنے ایک ٹویٹ میں کم جونگ کو ”چھوٹا اور موٹا“ بھی کہا تھا لیکن آپ آج دیکھ لیں صدر ٹرمپ نے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان موجود دیوار چند سیکنڈ میں گرا دی‘ کیوں؟ کیوں کہ کم جونگ صدر ٹرمپ کو کلک کر گئے تھے“ صاحب رکے‘ چند لمبے لمبے سانس لیے اور بولے ”صدر ٹرمپ اور عمران خان Imran Khan کی میٹنگ کے ابتدائی پانچ منٹ بہت اہم ہوں گے‘ عمران خان Imran Khan اگر کلک کر گئے تو پاکستان Pakistan اور امریکا کے آئیڈیل تعلقات کا آغاز ہو جائے گا۔

مسئلہ کشمیر Kashmir Issue بھی حل ہو جائے گا‘ بھارت India اور پاکستان Pakistan کے بارڈرز بھی کھل جائیں گے اور پاکستان Pakistan کا معاشی بحران بھی ختم ہو جائے گا لیکن اگر عمران خان Imran Khan نے 1992ءکے ورلڈ کپ کی داستان شروع کر دی یا میں جب کرکٹ کھیلتا تھا یا میں نے جب شوکت خانم شروع کیا یا میں نے جب پارٹی بنائی تو پوری دنیا یہ کہتی تھی عمران خان Imran Khan تم کامیاب نہیں ہو سکتے مگر میں کامیاب بھی ہوا اور آج میں وزیراعظم بھی ہوں وغیرہ وغیرہ یا پھر عمران خان Imran Khan نے اگر ریاست مدینہ کا قصہ چھیڑ دیا اور یا پھر یہ صدر ٹرمپ کے سامنے آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے گندے کپڑے دھونے لگے تو یہ میٹنگ چند لمحوں میں ختم ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ عمران خان Imran Khan کو بائے بائے کر دیں گے اور یوں دونوں کی پہلی میٹنگ آخری ثابت ہو گی“ وہ رک گئے۔میں نے عرض کیا ”یہ آخر عمران خان Imran Khan کی باتوں سے کیوں چڑ جائیں گے“ وہ ہنس کر بولے ”یہ دونوں ایک جیسے ہیں‘ صدر ٹرمپ کے پاس بھی اپنے عروج و زوال کی بے شمار کہانیاں ہیں چناں چہ دوسروں کی کہانیاں انہیں بور کر دیتی ہیں‘ یہ سننے کی بجائے سنانے پربھی یقین رکھتے ہیں‘ یہ عمران خان Imran Khan کی طرح لمبی گفتگو بھی برداشت نہیں کر پاتے‘ یہ ڈیل میکر ہیں۔

یہ سیدھا پوائنٹ پر آتے ہیں اور آپ نے اگر ان کا پوائنٹ اٹھا لیا تو آپ کی ڈیل شروع ہو جائے گی ورنہ یہ دوسری پارٹی کی طرف چل پڑتے ہیں‘ عمران خان Imran Khan کو بھی سننے کی عادت نہیں‘ یہ بھی ہر وقت سنانا چاہتے ہیں لہٰذا دونوں کے درمیان ٹکراﺅ کا خطرہ موجود ہے“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے عرض کیا ”اور صدر ٹرمپ کے ذہن میں کیا پوائنٹس ہوں گے“ وہ دیر تک ہنستے رہے اور پھر بولے ”دو پوائنٹس‘ یہ پاکستان Pakistan کی بھارت India کے ساتھ صلح کرانا چاہتے ہیں‘ پاکستان Pakistan نے بالاکوٹ میں سٹرائیک کے بعد بھارت India کے دو طیارے گرا دیے تھے‘ یہ بھارت India کی منہ پر سیدھا سادا تھپڑ تھا۔

بھارت India نے 27 اور 28 فروری کی درمیانی رات اپنی سرحد پر 9 میزائل بھی لگا دیے تھے اور حملے کے لیے تیاری بھی کر لی تھی‘ پاکستان Pakistan جواب کے لیے اپنے جوہری اثاثے باہر لے آیا‘ امریکی سیٹلائیٹ نے وارننگ جاری کر دی‘ امریکا فوراً سامنے آیا اور اس نے دونوں ملکوں کو دھمکا کر جنگ کا خطرہ ٹال دیا‘ یہ خطرہ ٹل گیا لیکن بھارت India ابھی تک زخمی سانپ کی طرح لوٹ رہا ہے‘ بھارت India کے میزائل بھی لوڈڈ کھڑے ہیں‘ اس کی ائیر فورس بھی بدستور پٹرولنگ کر رہی ہے اور روایتی فوج بھی تیار کھڑی ہے چناں چہ بھارت India کی ائیر سپیس بند ہے۔

بھارت India پاکستان Pakistan کے دو سے تین طیارے گرائے بغیر نارمل نہیں ہو گا‘ مودی نے قسم کھا رکھی ہے یہ جب تک بدلا نہیں لے گا یہ عمران خان Imran Khan کی کال سنے گا اور نہ مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھائے گا‘ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں پاکستان Pakistan دو تین طیاروں کی قربانی دے کر جان چھڑا لے‘ حالات بہتر ہو جائیں گے‘ دوسرا پوائنٹ امریکا ایران Iran سے فائنل کھیلنا چاہ رہا ہے اور یہ پاکستان Pakistan کے بغیر ممکن نہیں‘ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں عمران خان Imran Khan امریکا کو 2001ءکی طرح اوپن آفر دے دیں‘ یہ جنرل مشرف بن جائیں۔

عمران خان Imran Khan نے اگر 1992ءکے ورلڈ کپ کی سٹوری سنانے کی بجائے یہ دونوں پوائنٹس چھیڑ دیے تو ٹرمپ انہیں کندھوں پر بٹھا کر واشنگٹن کی سڑکوں پر پھرنے لگیں گے‘ یہ دونوں ملک چار سال کی دوری کے بعد دوبارہ میز پر آ جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں روس Russia کا دورہ حاضر ہے‘ روس Russia نے بھی عمران خان Imran Khan کو ایسٹرن اکنامک فورم میں شرکت کی دعوت دے دی ہے لہٰذا ہم توقعات کی گٹھڑی باندھ کر ماسکو چلے جائیں گے“ وہ رک گئے۔میں نے عرض کیا ”سوال یہ ہے کیا عمران خان Imran Khan صدر ٹرمپ کو کلک کر جائیں گے“۔

صاحب نے قہقہہ لگایا‘ سگار کو چوم کر میز پر رکھا اور بولے ”ہاں اگر یہ بشکیک یا کنگ سلمان جیسی غلطی نہ کریں تو!آپ کو یاد ہوگا یہ یکم جون کو کنگ سلمان کے سامنے آئے‘ انگلی اٹھا کر زور زور سے گفتگو کی اور شاہ سلمان کا جواب سنے بغیر باہر نکل گئے‘سعودی حکومت نے اس رویے پر شدید احتجاج کیا‘ بشکیک میں بھی 8سربراہان مملکت کھڑے تھے اور یہ سیدھے جا کر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے تھے‘ یہ سفارتی آداب کی سیدھی سادی خلاف ورزی تھی۔

میں نے پروٹوکول اور وزیراعظم کے سٹاف سے پوچھا تھا‘ انہوں نے مایوس لہجے میں جواب دیا تھا یہ سنیں گے تو ہم انہیں بتائیں گے‘ ہم اگر انہیں بھارت India کے بارے میں بتانا شروع کریں تو یہ کہتے ہیں میں جب انڈیا میں میچ کھیلنے جاتا تھا تو سٹیڈیم میں لاکھ لاکھ تماشائی بیٹھے ہوتے تھے‘ یہ صبح میرے خلاف ہوٹنگ کرتے تھے لیکن شام کو پورا سٹیڈیم میرے لیے تالیاں بجا رہا ہوتا تھا‘ انڈیا کو مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے اور ہم اگر انہیں پروٹوکول کے بارے میں بتانے لگیں تو یہ برطانیہ کے شاہی خاندان‘ لیڈی ڈیانا اور اپنی سابق ساس کی مثالیں دینا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں‘ پروٹوکول کو مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے۔

یہ کیوں کہ سب کچھ جانتے ہیں لہٰذا ہم نے انہیں بتانا چھوڑ دیا ہے“صاحب نے کہا ” عمران خان Imran Khan نے اگر اس بار پروٹوکول اور سٹاف کی بات مان لی‘ یہ اگر ٹرمپ کے ساتھ آدھا ہاتھ ملا کر بیٹھ نہ گئے تو یہ کلک کر جائیں گے‘ بات چل نکلے گی‘ دوسرایہ اگر زبانی گل فشانی کی بجائے پیپر پڑھ لیں گے تو بھی پاکستان Pakistan اور امریکا کے تعلقات بچ جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں ان کی زبان لڑکھڑانے کی دیر ہے اور ہم گئے“ وہ رکے ‘ تھوڑی دیر سوچا اور پھر بولے ”میں وہ بے وقوف تلاش کررہا ہوں جس نے انہیں یہ بتا یا تھا آپ اگر براہ راست بولیں گے تو آپ مہاتیر محمد یا مینڈیلا بن جائیں گے۔

ریاست اگر اس بار انہیں رٹا لگوانے یا کاغذ پڑھانے میں کام یاب ہو گئی تو کام یابی کا سو فیصد چانس ہے ورنہ دوسری صورت میں“ صاحب رکے‘ سگار اٹھایا اور ہونٹوں کے قریب لا کر بولے ”ورنہ دوسری صورت میں ہم امریکا سے بھی بے عزتی کرا کر واپس آئیں گے اور ہمیں فردوس عاشق اعوان بتائیں گی یہ دورہ کتنا کام یاب رہا“ وہ رکے اور بولے ”عمران خان Imran Khan کے صدر ٹرمپ کے ساتھ پہلے پانچ منٹ اہم ہوں گے‘ امریکا اور پاکستان Pakistan کے مستقبل کے تعلقات ان پانچ منٹوں پر منحصر ہیں‘ہم نے یہ پانچ منٹ کیش کرا لیے تو واہ واہ ورنہ ہائے ہائے“۔

 351