بلیک میلنگ

طلوع - ارشاد احمد عارف

09 جولائی 2019

Black Mailing

مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif نے جوا کھیلا اور اپنے ساتھیوں کے علاوہ قومی میڈیا کو مشکل میں ڈال دیا۔ یہ فیصلہ فرانزک ماہرین کر سکتے ہیں کہ میڈیا کے سامنے پیش کردہ ویڈیو اور آڈیو کی اصلیت کیا ہے؟ آواز جج کی ہے یا ایجادبندہ؟ آواز جج صاحب کی ہے تو اس میں قطع و برید ہوئی؟ مرضی کے ٹوٹے جوڑ کر من پسند گفتگو سامنے لائی گئی یا من و عن پیش کر دی گئی؟ عام آدمی اور حقیقت کے متلاشی میڈیا کے لئے ایک مشکل یہ بھی ہے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے روبرو جعلی دستاویزات پیش کر کے جعلسازی کے الزام میں سزا یافتہ خاتون کی کہانی پر یقین کرے یا احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی پریس ریلیز کو سچ جانے؟ جج کی شخصیت ‘ کردار اور فیصلے کے بارے میں درست رائے شفاف تحقیقات کے بعد قائم کی جا سکتی ہے ۔ تاحال ان کی شہرت بے داغ ہے لیکن مریم نواز Maryam Nawaz صاحبہ کو عدالت جعلی دستاویزات پیش کرنے کے الزام میں سزا سنا چکی ہے اور جب تک انہیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ بری نہیں کرتی ان کی کسی بات پر اعتبار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو پاکستان Pakistan کے عدالتی نظام کو مانتا ہے نہ اخلاقیات سے سروکار رکھتا ہے لیکن زیر بحث اس وقت مریم نواز Maryam Nawaz کی ذات نہیں‘ وہ الزام ہے جو مسلم لیگی قیادت نے میاں نواز شریف Nawaz Sharif کومالی کرپشن‘ بے ضابطگی اور اختیارات سے تجاوز کا مرتکب قرار دے کر سزا سنانے والے جج ارشد ملک پر لگایا۔ جج مذکور کی آڈیو ویڈیو ریکارڈ کرنے والا شخص ناصر بٹ پاکستان Pakistan اور برطانیہ میں مشکوک شہرت کا حامل ہے اور اسلامی و پاکستانی قانون شہادت کے مطابق مشکوک شہرت کے حامل شخص کے پیش کردہ شواہد کو وہ لوگ تو آنکھیں بند کر کے قبول کر سکتے ہیں جن کے دل میں خوف خدا ہے نہ آنکھ میں شرم و حیا مگر کوئی معقول شہری نہیں۔ قتل کے الزام میں مفرور نے موجودہ برطانوی وزیر اعظم Prime Minister ٹریسامے سے جب وہ وزیر داخلہ تھیں ‘ملاقات کی تو برطانوی اخبار نے سرخی جمائی ’’''Killer'' in the home officeناصر بٹ کا موقف اگرچہ یہی ہے کہ راولپنڈی میں دو افراد کے قتل کا الزام غلط ہے اور مخالفین کی کارستانی مگر جب تک کورٹ آف لا میں وہ اپنی بے گناہی ثابت نہ کریں ان کی شخصیت ناقابل اعتبار رہے گی اور ہر فعل مشکوک۔ مریم نواز Maryam Nawaz نے اس آڈیو ویڈیو کا جو پس منظر بیان کیا اس کی تائید گفتگو سے نہیں ہوتی اور جج صاحب نے جس ویڈیو ٹیپ کا ذکر کر کے اپنے بلیک میل ہونے کا تاثر دیا‘ اس کے مندرجات سامنے لائے بغیر یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ مذکورہ ویڈیو ٹیپ مرضی کا فیصلہ لینے کے لئے دکھائی گئی یا جج کو مسلم لیگ(ن) اور شریف خاندان کی بلیک میلنگ‘ دبائو اور کروڑوں روپے کی ترغیب سے بچانے کا اہتمام ہوا۔جج صاحب نے مشکوک ناصر بٹ سے مل کر بہرحال غلطی کی جس کا خمیازہ اب بھگتیں‘ مخبر صادق نے تہمت کی جگہوں سے بچنے کی اسی لئے تاکید کی ہے۔ ویڈیو کے ذریعے بلیک میلنگ کا تذکرہ کرکے بظاہر مریم نواز Maryam Nawaz نے یہ تاثر دیا کہ جج مذکور کا فیصلہ اس کا نتیجہ تھا وگرنہ وہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو باعزت بری کرتے اور ممکن ہے کہ ریاست کو انہیں اچھی خاصی رقم بطور ہرجانہ ادا کرنے کا پابند بھی کیا جاتا۔ مریم نواز Maryam Nawaz نے یہ تک کہا کہ اس ویڈیو ٹیپ کا مواد اس قابل نہیں کہ کوئی شریف آدمی کھلے عام بیان کر سکے لیکن اگر یہ سچ ہے اور جج مذکور کو واقعی کہیںبلا کر یہ ویڈیو دکھائی گئی تو جہاں یہ امکان موجود ہے کہ اس میں جج صاحب کی ذاتی زندگی کا کوئی خفیہ پہلو دکھایا گیا ہو‘ وہاں یہ بھی تو ممکن ہے کہ انہیں ناصر بٹ یا کسی دوسرے مشکوک شخص سے ملاقات‘ رشوت کی پیشکش اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کے حوالے سے ریکارڈڈ ثبوت دکھا کر آگاہ کیا گیا ہو کہ آپ کسی ترغیب اور دبائو کا شکارنہ ہوں ‘ بے خوف و خطرمیرٹ پر فیصلہ کریں اور ماضی میں ریاست‘ قانون اورعدلیہ کو یرغمال بنا کر مرضی کے فیصلے اور نتائج حاصل کرنے والے گروہ سے گھبرائیںنہ اپنے ضمیر‘ قانون اور دستیاب شواہد سے روگردانی کریں ۔پانامہ کیس کئی ماہ تک سپریم کورٹ میں چلا‘ عدالت عظمیٰ کے حکم پر جے آئی ٹی نے میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف‘ مریم نواز Maryam Nawaz ‘ حسین نواز‘ حسن نواز سمیت شریف خاندان کے کئی افراد خانہ کو طلب کر کے بیرون ملک جائیدادوں کی منی ٹریل مانگی‘ مگر ایک مشکوک قطری خط کے سوا شریف خاندان کی زنبیل سے کچھ نہ نکلا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے سامنے بھی شریف خاندان کوئی ثبوت پیش کر سکا نہ ڈھنگ کا گواہ۔ یہی حال جج ارشد ملک کے روبرو ‘زیر مقدمے کا رہا اس کے برعکس نیب نے احتساب عدالتوں اور جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں دستاویزات کے ڈھیر لگا دیے۔ درجنوں گواہ پیش ہوئے اور وزارت اعلیٰ و عظمیٰ کے دوران اختیارات سے تجاوز‘بے ضابطگی‘ سرمائے کی بیرون ملک غیر قانونی منتقلی اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات کو مدلل انداز میں ثابت کیا گیا۔ ایسی صورت میں استغاثہ کو جج پر دبائو ڈالنے اور بلیک میل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ جبکہ رشوت‘ دبائو اور بلیک میل کا حربہ ہمیشہ وہ فریق آزماتا ہے جس کے پاس کوئی ثبوت ہو نہ دلیل۔ شریف خاندان کواپریٹو کیس میں جج سے مرضی کا فیصلہ لے کر اسے سینٹ کا رکن بنا چکا ہے۔ سجاد علی شاہ سے مرضی کا فیصلہ نہ ملنے پر برادر ججوں کو ترغیب اور دبائو کے حربوں سے متاثر کرنے عدالت عظمیٰ پر حملے کی کہانی سب کو معلوم ہے۔ جسٹس ملک محمد قیوم اور میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif و سیف الرحمن کی آڈیو ٹیپ سے کون واقف نہیں‘ جبکہ دیگر اداروں کی طرح عدلیہ میں بھی شریف خاندان کی سرمایہ کاری نصف صدی کا قصہ ہے‘ دو چار برس کی بات نہیں۔ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف پہلا فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار نے دیا‘ دوسرا جسٹس اعجاز افضل‘ جسٹس اعجاز الا حسن اور جسٹس عظمت سعید نے‘ ان سب ججوں کی شہرت وہ نہیں جو شریف خاندان کی ہے‘ تیسرا فیصلہ جسٹس بشیر اور چوتھا جسٹس ارشد ملک نے دیا۔ شریف خاندان تیس سال سے اقتدار میں ہے اور عدلیہ میں کام کرنے والے ججوں کی شخصیت و کردار سے واقف ‘اگر ان میں سے کسی ایک جج کی شہرت جسٹس قیوم جیسی ہوتی تو دوران سماعت یا بعداز فیصلہ شریف خاندان ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا راگ الاپنے کے بجائے خود ‘اپنے میڈیا سیل اور صحافتی کارندوںکے ذریعے وہ گند اچھالتا کہ خدا کی پناہ۔ سوفیصد حقیقت تو شفاف تحقیقات اور فرانزک آڈٹ کے ذریعے سامنے آ سکتی ہے لیکن ماضی کے تجربات‘ واقعاتی شہادتوں اور شریف خاندان کے خلاف مقدمات کی نوعیت سے مریم نواز Maryam Nawaz کی کہانی ہی جھوٹی اور جج ارشد ملک کی پریس ریلیز درست نظر آتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب مریم نواز Maryam Nawaz نے جوا کھلا‘ عسکری اداروں‘ عدلیہ اور حکومت کوبیک فٹ پر لانے کی سعی کی اور میڈیا میں موجود اپنے خیر خواہوں‘ مداحوں اور فوج و عدلیہ سے خدا واسطے کا بیر رکھنے والے تجزیہ کاروں کی مدد سے عدالتی فیصلہ پامال کرنا چاہا مگر یہ تدبیر الٹی پڑتی نظر آ رہی ہے ریاست کا کوئی ادارہ بلیک میل تو خیر کیا ہوتا’ احتساب کے عمل میں مزید تیزی آنے اور سیاستدانوں کے ساتھ میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں کو بھی’’ ایں ہم شتر بچہ است‘‘ کہہ کر بے لاگ احتساب کے دائرے میں لانے کا امکان بڑھ گیا ہے ریاستی اداروں میں روز بروز یہ احساس شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ کرپشن کے خاتمے اور ٹیکسوں کی ہر سطح پر وصولی کے عمل میں صرف سیاستدان ‘ تاجر‘ صنعت کار اور بیورو کریٹس ہی رکاوٹ نہیں ڈال رہے بلکہ مفاد یافتہ قلمی کارندے بھی پیش پیش ہیں لٹیرے‘ کرپٹ‘ منشیات فروش‘ ٹیکس چور‘ قرض خور اور ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے مافیا کو جمہوریت کا علمبردار اور سقراط وحسین حلاج کا ہم پلّہ قرار دے کر ریاست و ریاستی اداروں سے مجرمانہ سلوک کا مقصد آخر کیا ہے؟ یہ مشکل فیصلہ تھا لیکن مریم نواز Maryam Nawaz نے آسان کر دیا ‘آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

 244