مریم نواز Maryam Nawaz کے الزامات کے بعد جج ارشد ملک کا بیان سامنے آگیا

07 جولائی 2019

Arshad Malik ka jawab

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف Nawaz Sharif کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا دینے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے مریم نواز Maryam Nawaz کی جانب سے بذریعہ ویڈیو الزامات پر پریس ریلیز کے ذریعے جواب دے دیا۔

جج محمد ارشد ملک نے رجسٹرار احتساب عدالت کے دستخط سے وضاحتی بیان جاری کیا جس میں فاضل جج نے مریم نواز Maryam Nawaz کی پریس کانفرنس اور اس میں دکھائی جانے والی ویڈیو پر ردعمل دیا۔

جج ارشد ملک نے کہا کہ نواز شریف Nawaz Sharif کے خلاف مقدمات کی سماعت کے دوران مجھے بارہا رشوت کی پیشکش کی گئی، تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

جج ارشد ملک نے کہا کہ میں نے دھمکیوں کو سختی سے رد کرتے ہوئے سچ پر قائم رہنے کا عزم کیا ہے، میں نے اپنی جان اور مال کو اللہ کے سپرد کیا ہے۔

جج ارشد ملک کا کہنا تھا کہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مجھ پر بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی دباؤ نہیں تھا، مریم نواز Maryam Nawaz کی پریس کانفرنس میں دکھائی گئی ویڈیو جعلی، مفروضی اور جھوٹی ہے، اس وڈیو میں ملوث افراد کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کی جائے۔

جج ارشد ملک نے کہا کہ میں نے گزشتہ روز مریم صفدر کی پریس کانفرنس اور مجھ سے منسوب ویڈیو دیکھی، اس پریس کانفرنس میں مجھ پر سنگین الزامات لگائے گئے، میری ذات اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی۔

جج ارشد ملک نے اعتراف کیا کہ میری ناصر بٹ سے پرانی شناسائی ہے۔

 1272