“موت بھی برداشت کر سکتا ہوں”

زیرو پوایٔنٹ - جاوید چوھدری

07 جولائی 2019

Mout bhi Bardashat kar sakta hon

حاجی حبیب 80 سال کے متحرک بزرگ ہیں‘ یہ حبیب رفیق گروپ کے سربراہ بھی ہیں اور پاکستان Pakistan میں روس Russia کے اعزازی قونصلر بھی‘ حاجی صاحب نے پوری زندگی حیات کے مختلف شیڈز بھی دیکھے اور بااثر اور عالم لوگوں کی صحبت میں بھی رہے لہٰذا یہ معلومات اور تجربات کا بہت بڑا خزانہ ہیں‘ یہ چند روز قبل اسلام آباد تشریف لائے اور مجھے ان کے ساتھ چند گھڑیاں گزارنے کا موقع ملا‘ یہ بار بار عبدالحمید عدم کے شعر بھی سناتے رہے اور اپنی زندگی کے تجربات بھی شیئر کرتے رہے۔

حاجی صاحب نے گفتگو کے دوران امریکا کے سابق صدر باراک حسین اوباما کے بارے میں ایک دل چسپ واقعہ سنایا‘ واقعہ کچھ یوں تھا‘ اوباما جوانی میں گھر سے سوٹ کیس لے کر

اپنے ایک پاکستانی دوست صادق سے ملنے کے لیے نیویارک آئے‘ اوباما نے فون کیا‘ صادق نے بتایا میں جاب پر ہوں‘ آپ گھر کے سامنے بیٹھ جائیں‘ میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں‘ اوباما ساری رات سوٹ کیس فٹ پاتھ پر رکھ کر اس کے اوپر بیٹھے رہے‘ صادق صبح کے وقت آیا اور انہیں ناشتے کے لیے ریستوران لے گیا‘ یہ صدارتی الیکشن کا زمانہ تھا‘ اخبارات الیکشن کی خبروں سے بھرے ہوتے تھے‘ ریستوران کی میز پر اخبار پڑا تھا اور اخبار میں صدارتی امیدواروں کی تصویریں چھپی تھیں‘ اوباما نے اخبار اٹھا کر صادق سے کہا ”میں سوچ رہا ہوں میں صدارتی الیکشن لڑوں اور امریکا کا پہلا سیاہ فام صدر بنوں“ صادق نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ”تم پہلے ناشتہ کر لو‘ صدارتی الیکشن کا فیصلہ ہم بعد میں کریں گے“حاجی حبیب صاحب رکے اور پھر فرمایا ”یہ خواہش 90ء کی دہائی میں دیوانے کا خواب تھی‘ کیوں؟ کیوں کہ باراک حسین اوباما غریب اور بے آسرا بھی تھے‘ سیاہ فام بھی اور ان کی رگوں میں مسلمان پروفیسر کا خون بھی تھاچناں چہ کہا جاتا تھا امریکی مر جائیں گے لیکن یہ کسی سیاہ فام کو صدر نہیں بنائیں گے لیکن آپ اللہ کی کرنی دیکھیے‘ اس واقعے کے15برس بعد باراک حسین اوباما امریکا کے صدر بن چکے تھے‘‘ حاجی صاحب رکے اور فرمایا ”ہمیں ہر وقت اپنے بارے میں نیک اور اچھا سوچنا چاہیے‘ ہمیں کیا پتا اللہ تعالیٰ کس وقت ہماری کون سی خواہش سن لے اور ہماری کون سی مراد پوری ہو جائے“۔

میں نے حاجی صاحب کی بات سے اتفاق کیا‘ ہماری زندگی میں روزانہ دو فیصلہ کن گھڑیاں آتی ہیں‘ پہلی نیک خواہشات کی قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے اور دوسری بری خواہشات کی منظوری کا وقت‘ ہندوجوتشی پہلی گھڑی کو شبھ گھڑی اور دوسری کو منحوس گھڑی کہتے ہیں‘ ہندوجوتشی صدیوں سے لوگوں کی کنڈلیاں جوڑ کر شبھ اور منحوس گھڑیاں نکالتے آ رہے ہیں‘یہ لوگوں کو شبھ گھڑی میں اچھے اور نیک کاموں کا مشورہ دیتے ہیں اور منحوس گھڑی میں برے۔

ہندو آسٹرولوجسٹ صدیوں کی پریکٹس سے اس نتیجے پر بھی پہنچ گئے ہیں انسان کا سایہ جب سات فٹ لمبا ہو جاتا ہے تو وہ گھڑی اس کے لیے منحوس ہوتی ہے‘ یہ چند سیکنڈکا دور ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات صدیوں تک چلتے ہیں‘ انسان قبولیت کی گھڑیوں میں منہ سے جو بھی لفظ نکالتا ہے وہ پورا ہو جاتا ہے‘ ہندوستان کے پرانے بادشاہوں نے اپنے دربار میں جوتشیوں کا پورا سکواڈ رکھا ہوتا تھا‘ یہ سکواڈ روز ان کی شبھ اور منحوس گھڑیوں کا تعین کرتا تھا اور بادشاہ ان گھڑیوں میں بڑے فیصلے کرتے تھے۔

آسمانی مذاہب بھی اس فلاسفی کو مانتے ہیں‘ آپ بنی اسرائیل کی قدیم کتابیں پڑھ لیں‘ بائبل کا مطالعہ کر لیں یا پھر احادیث دیکھ لیں‘ آپ کو جگہ جگہ اچھے گمان کی تلقین ملے گی”اچھا سوچو اور اچھا کہو‘ تم کسی کے بارے میں برا نہ چاہو اور تم اگر کسی کے بارے میں برا کہو گے تو وہ پلٹ کر تمہاری طرف آئے گا“ وغیرہ وغیرہ‘ یہ کیا ہے؟ یہ منحوس اور شبھ گھڑیوں کی آسمانی تاویلیں ہیں‘ میرے استاد کہا کرتے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں سورج اور چاند کے اوقات کی طرح دعاؤں اوربددعاؤں کی ریکارڈنگ کا سسٹم بھی بنا رکھا ہے۔

یہ سسٹم وقت مقررہ پر چلتا ہے اور وقت مقررہ پر بند ہو جاتا ہے‘ ہم اس ریکارڈنگ سسٹم میں جو ریکارڈ کر دیتے ہیں وہ ریکارڈ ہو کر اللہ کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے اور قدرت کے کارندے اس پر کام شروع کر دیتے ہیں‘ نماز اور نماز کے دوران دعا‘ مسلسل تسبیحات اور ان تسبیحات کے درمیان مسلسل دعائیں‘ ہر اچھی یا بری خبر پر کلمہ خیر اور لوگوں کو دیکھ اور سن کر اور ان کے ذکر پر اچھے الفاظ کی ادائیگی یہ سب قدرت کے اس نظام کی موجودگی کا ثبوت ہیں۔

ہمارے بزرگوں نے تجربات سے سیکھا انسان کو قدرت کے ریکارڈنگ سسٹم میں اچھی باتیں ریکارڈ کرانی چاہییں‘انسان کو اچھے پھل ملیں گے اور ہم اگر برا سوچیں گے یا برا چاہیں گے تو ہمارے ساتھ برا ہو گا‘آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ کسی بھی کامیاب شخص سے مل لیں‘ وہ آپ کو بتائے گا میں نے فلاں دن آسمان کی طرف دیکھ کراللہ سے یہ کامیابی مانگی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے میرے لیے کامیابی کے راستے کھول دیے‘آپ تازہ ترین مثال ملاحظہ کیجیے‘ 29 جون کوپاکستان Pakistan افغانستان Afghanistan کے خلاف میچ ہار رہا تھا۔

گیندیں کم تھیں اور رنز زیادہ‘ افغانستان Afghanistan کے سپنرز میچ پر حاوی تھے‘ پاکستان Pakistan کے جس بیٹس مین نے بھی چھکا لگانے کی کوشش کی وہ اپنی وکٹ گنوا بیٹھا‘ وہاب ریاض نویں نمبرپر بیٹنگ کے لیے آئے‘ افغانستان Afghanistan کے بیسٹ بولر راشد خان باؤلنگ کر رہے تھے‘ وہاب ریاض نے راشد خان کو پہلے چوکا لگایا اور پھر اس کے اگلے اوور میں اسے چھکا جڑ دیا‘میچ پاکستان Pakistan کے ہاتھ میں آگیا‘میچ کے بعد وقار یونس نے وہاب ریاض سے پوچھا‘ آپ بیٹنگ کے لیے جا رہے تھے تو بڑی نازک صورت حال تھی‘آپ کی انگلی بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس وقت آپ کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔

یا اللہ میری عزت رکھنا اور اس نے میری عزت رکھ لی‘ سوال یہ ہے پاکستانی وہاب ریاض اور افغانی راشد خان دونوں مسلمان تھے‘ اللہ نے صرف وہاب ریاض کی عزت کیوں رکھی؟ کیوں کہ وہ قبولیت کی گھڑی تھی اور وہاب ریاض نے قبولیت کی اس گھڑی میں اللہ سے عزت مانگ لی تھی اور اللہ نے اسے عزت دے دی جبکہ راشد خان اس وقت گیند رگڑتا رہ گیا‘ آپ اسی طرح کسی دن ناکام‘ برباد اور ہزیمت کے شکار لوگوں کے بارے میں بھی ریسرچ کر لیں‘ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے یہ لوگ آج جس صورت حال کا شکار ہیں یہ صورت حال کسی دن ان کے منہ سے نکلی تھی۔

یہ کسی دن اپنے منہ سے بولے تھے ”جاؤ مجھے پکڑ لو‘ جاؤ مجھے پھانسی لگا دو‘ جاؤ مجھے جیل میں پھینک دو‘ جاؤ مجھے نکال دو یا پھر میں زمین پر بھی لیٹ لوں گا‘ میں فٹ پاتھ پر بھی بیٹھ جاؤں گا اور میں پھانسی بھی چڑھ جاؤں گا“وغیرہ وغیرہ‘ یہ لوگ جس وقت یہ کہہ رہے تھے وہ منحوس گھڑی تھی‘ ان کی خواہش قدرت کے ریکارڈنگ سسٹم میں ریکارڈ ہوئی اور قدرت نے انہیں وہ دے دیا جس کی انہوں نے خواہش کی‘ آپ کسی دن شریف فیملی کا مطالعہ بھی کر لیں۔

آپ ان کے پانچ برس کے پرانے بیانات نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو یہ لوگ اور ان کے ساتھی بار بار یہ کہتے ملیں گے ”یہ ہمیں پکڑ لیں‘ یہ ہمیں جیلوں میں ڈال دیں‘ یہ ہمارا حساب لے لیں‘ یہ ہمیں پھانسی چڑھا دیں اور یہ ہماری تلاشی لے لیں“وغیرہ وغیرہ اور آج کیا ہو رہا ہے‘ آج ان کی تلاشی بھی ہو رہی ہے‘ حساب بھی اور یہ جیلوں میں بھی ہیں‘ یہ کیا ہے؟ یہ منحوس گھڑیوں میں منحوس باتوں کا نتیجہ ہے‘ یہ قدرت کی پکڑ ہے‘ آپ کو آصف علی زرداری کے یہ الفاظ بھی یاد ہوں گے ”چیئرمین نیب کی کیا مجال ہے“ اور یہ آج اس مجال کا شکار بن چکے ہیں۔

آپ کو خواجہ سعد رفیق کے لوہے کے چنے بھی یاد ہوں گے‘ یہ چنے بھی اس وقت قدرت کے دانتوں میں ہیں اورمیں نے کل ٹیلی ویژن پر وزیراعظم عمران خان Imran Khan کو بھی یہ کہتے سنا ”میں تو موت بھی برداشت کر سکتا ہوں“ آپ یقین کیجیے میرے منہ سے توبہ توبہ نکل گئی اور میں نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے ان کی زندگی کی دعا کی‘ مجھے محسوس ہوا یہ لفظ ہمارے وزیراعظم کی جان لے لیں گے۔کاش ہم جان سکیں ہمارے لفظ گولی ہوتے ہیں‘ یہ بم ہوتے ہیں۔

دنیا میں جس طرح گولیاں اور بم چلنے کے بعدواپس نہیں آتے لفظ بھی واپس نہیں آتے چناں چہ ہمیں بولتے ہوئے‘ منہ سے برے الفاظ نکالتے ہوئے دس مرتبہ سوچنا چاہیے‘ ہم کس وقت اپنے کس لفظ کا نشانہ بن جائیں‘ ہم نہیں جانتے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ تاریخ دیکھ لیں‘ جان ایف کینیڈی کھلی گاڑی میں بیٹھ جاتا تھااورکہتا تھا ”کیا کوئی شخص دنیا کی سپر پاور کے صدر کو گولی مارے گا‘ یہ ہمت کون کرے گا؟“ اور پھر کیا ہوا‘ وہ کھلی گاڑی میں گولی کا نشانہ بن گیا‘ بھٹو صاحب اکثر اپنی تقریروں میں کہتے تھے”مجھے چوک میں لٹکا دینا“ ۔

اور پھر وہ پھانسی بھی لگے اور ان کا پھانسی گھاٹ چوک بھی بنا‘ حسنی مبارک کہتا تھا”پکڑ لو مجھے‘ ڈال دو مجھے جیل میں“ اور پھر وہ پکڑے بھی گئے اور جیل میں بھی ڈالے گئے‘ صدام حسین Saddam Hussain کہتا تھا”مجھے لٹکا دینا“ اور پھر وہ لٹکے اور کرنل قذافی کہتا تھا ”میں اگر اپنی قوم کو سپر نیشن نہ بنا سکا تو میری لاش پر پیشاب کر دینا“ اور پھر دنیا نے اس کی لاش بھی دیکھی اور لوگوں کو اس پر پیشاب کرتے بھی دیکھا اور آخری مثال‘ یہ واقعہ بے نظیر بھٹو کی دیرینہ ساتھی ناہید خان نے کسی محفل میں سنایا تھا۔

ان کا کہنا تھا آصف علی زرداری کے دوست انہیں اہم پوزیشن پر دیکھنا چاہتے تھے‘ یہ لوگ میرے پاس آئے‘ میں نے ان کا پیغام بے نظیر بھٹو کو دے دیا‘ وہ اس وقت کسی ذہنی خلجان کا شکار تھیں‘ وہ چونک کر بولیں ”اوور مائی ڈیڈ باڈی“ میں خاموش ہو گئی لیکن اللہ کی کرنی دیکھیے‘ بے نظیر بھٹو شہید ہو ئیں اور ان کی ڈیڈ باڈی پر زرداری صاحب پارٹی کے چیئرمین بھی بنے اور صدر بھی چناں چہ میری وزیراعظم اور وزیراعظم کے ساتھیوں سے درخواست ہے‘ آپ منہ سے بات نکالنے سے پہلے دس مرتبہ سوچ لیا کریں‘ ہم کس وقت قبولیت کی گھڑی میں بیٹھے ہیں ہم نہیں جانتے‘اللہ ہمیں کب پکڑ لے!ہم یہ بھی نہیں جانتے۔

دنیا میں اگر فرعون اپنے لفظوں کے ہاتھوں سے ذلیل ہو سکتا ہے تو پھر ہم اور ہماری سلطنتیں کیا حیثیت رکھتی ہیں‘ صرف اللہ ہے اور اللہ کے سوا کچھ نہیں‘ اللہ کی زمین پر اگر سکھ سے رہنا چاہتے ہیں تو پھر اللہ سے ڈر کر رہیں‘ اللہ سے توبہ کرتے رہیں‘ دنیا اور آخرت دونوں میں بچ جائیں گے ورنہ تاریخ عبرت اور عبرت ناک کہانیوں کا خوف ناک قبرستان بھی ہے اور انسان خواہ سپرمین بھی ہو وہ موت کو برداشت نہیں کر سکتا‘ غرور صرف خدا کو سوٹ کرتا ہے‘ غرور نہ کریں‘ مارے جائیں گے۔

 224