ریاستی اداروں اور پاکستانی سیاست!!!!

Hamza Meer

07 جولائی 2019



ریاستی اداروں اور پاکستانی سیاست!!!!

پاکستانی سیاست ہو اور ریاستی اداروں پر الزامات نا لگیں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، ریاستی اداروں پر الزامات کی سایست نئی نہیں ہے 1968 سے یہ کام شروع ہو گیا تھا جب ذولفقار علی بھٹو نے افواج پاکستان Pakistan پر سیاست کرنے اور لوگوں کو خریدنے کا الزام لگایا اور اس وقت کے صدر اور مارشل لا ایڈمنیسٹیٹر ایوب خان کے خلاف عوام کو اکسایا اور سڑکوں پر لائے حالانکہ خود ذولفقارعلی بھٹو ایوب خان کی ہی پیداوار تھے ایوب خان ہی ان کو بطور وزیر خارجہ اپنی کابینہ میں لائے تھے لیکن بھٹو نے بغاوت کر دی تھی اور ایوب خان کے خلاف میدان میں نکل آئے ایوب خان نے صرف ٖفوج کی ساکھ اور عزت بچانے کے لیے اقتدار کی قربانی دی اور یحیی خان کو نیا آرمی چیف بنا دیا پھر جب 1970 کے انتخابات ہوئے تو تب عوامی لیگ ک شیخ مجیب نے اقتدار نا ملنے کا الزام فوج پر لگایا حالانکہ اقتدار کی ہوس بھٹو کو تھی اگر الیکشن نتائج دیکھے جائیں تو 56٪ سیٹیں شیخ مجیب نے جیتیں تھیں لیکن بھٹو نے ہٹ دھرمی دیکھائی اور جنرل یحیی خان کو ساتھ ملایا اور اقتدار کی کرسی حاصل کر لی- پھر جب بھٹو کوپھانسی ہوئی تو براہ راست الزام افواج اور عدلیہ پاکستان Pakistan پرلگ گیا حالانکہ سب کچھ کیا تو جنرل ضیا اور اسد درانینے تھا پھر اس کے بعد خوفناک سیاست شروع ہوئی بےنظیر کی کردار کشی کی گئی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بےنظیرکے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد بنایا گیا اور سیاستدانوں کوپیسے دیے گئے اوراس کے سرخیل موجودہ پاکستانی نیلسن مینڈیلا(نوازشریف) تھے بعد میں ان کو ہی وزیراعظم کی کرسی ملی- مختلف ریاستی اداروں کو مخالف سیاستدانوں کی کردارکشی کے لیے استعمال کیا گیا جیسے انٹیلی جنس بیوریو کال ٹریس کی گئیں بلیک میلینگ کے لیے پولیس کو مکمل طور پر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا مخالفوں پر جھوٹے مقدمات درج کرونے کے لیے استعمال کیا گیا احتسابی اداروں کو مفلوج کر دیا گی صرف سیاسی مقاصد کی وجہ سے ان سب میں فوج مفت میں الزامات لگواتی رہی لیکن یہ تو ایک حقیقت ہے کہ گوج اور پاکستانی سیاست کا گہرہ تعلق ہے جنل اسلم بیگ،جنرل حمید گل،برگیڈیر راشد قریشی،میجر جنرل احسان، جنرل پاشا،برگیڈیر اعجاز شاہ ان جیسے بہت سے اور افسران تھے جو سیاست کو ہینڈل کرتے تھے جس سے ہمارے سیاستدانوں کی نالائقی واضح ہوتی ہے- عدلیہ کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور ہے اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جاتے تھے کبھی جسٹس قیوم کو فون پر آڈر دیے جاتے تھے کبھی جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے ذریعے سیاسی مخالفوں کو سزا دلوائی جاتی تھی اب بھی میریم صفدر ایک ویڈیو سامنے لائی ہیں اس پر بات کرنے سے پہلے پریم صفدر کو یاد کروانا چاہتا ہوں کہ محترمہ ام کے چچا شہبازشریف بھی ایسے ہر کرتے رہے ہیں جسٹس قیوم کی آیڈیو لیک سب کے سامنے ہے کیسے سزا بڑھائی جا رہی ہے حکم دے کر مکافات عمل ہوتا ہے ہر چیز کا بےنظیر کی کردارکشی کی گئی تھئ جعلی سزائیں دلوائی گئیں تھی اب مکافات عمل بگھتیںکل کی ویڈیو کا ابھی آڈٹ ہونا باقی ہے کہ اس میں سچائی کا عنصر موجود ہے یا نہیں پھر کہیں جا کر فیصلہ ہو گا کیانکہ ریاستی اداروں کی سیاست میں مداخلت نہیں بات نہیں-----

 127