قانون کو سب کیلئے برابر بنانے کی لگن

برملا - نصرت جاوید

04 جولائی 2019

Qanoon sub kay liye Brabar

مجھے خبر نہیں کہ قومی اسمبلی کا اجلاس اب کب ہونا ہے۔ قیافہ ہے کہ طویل بجٹ اجلاس کے بعد حکومت کم از کم ایک ماہ کا وقفہ ضرور چاہے گی۔ اس دوران پاکستان Pakistan مسلم لیگ (نون) کے شاہد خاقان عباسی جیسے تین سے چار سرکردہ رہ نما احتساب بیورو کے ہاتھوں باقاعدہ گرفتار بھی ہوسکتے ہیں۔شنید تو یہ بھی ہے کہ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری کے وارنٹ گرفتاری بھی تیار ہیں۔ یہ مگر کوئی بتا نہیں رہا کہ چیئرمین نیب ان پر دستخط کرنے میں دیر کیوں لگارہے ہیں۔ پاکستان Pakistan مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کی قیادت احتساب بیورو کے ہاتھوں گرفتاری سے زیادہ پریشان اس لئے نہیں ہوتی کیونکہ قومی اسمبلی کے ضوابط کار کے مطابق اس ایوان کے زیر تفتیش یا جیل بھیجے گئے کسی رکن کو سپیکر پروڈکشن آرڈر کے ذریعے اسمبلی سیشن کے دوران طلب کرسکتا ہے۔ ایسا ہی حکم ایوان کی کسی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے بھی جاری ہونے کی روایت موجود ہے۔

شہباز شریف Shehbaz Sharif صاحب قائدِ حزب اختلاف منتخب ہونے کے بعد اسی سہولت کی بدولت قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرتے رہے۔ بعدازاں وہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین بھی منتخب ہوگئے۔ بطور قائدِ حزب اختلاف انہیں اسلام آباد Islamabad کے ’’وزیر آباد‘‘ میں ایک گھر بھی رہائش کے لئے الاٹ ہوا۔ وہ نیب کے ’’زیرحراست‘‘ ہوتے ہوئے بھی وہاں بیٹھے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس تواتر سے بلاتے رہے۔ ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کی دل وجان سے دشمن تحریک انصاف کے سرگرم کارکنوں اور پُرجوش حمایتوں کو شہباز شریف Shehbaz Sharif کو میسر سہولتوں سے بہت دُکھ پہنچا۔ فواد چودھری بطور وزیر اطلاعات اور سابق وزیر صحت عامر کیانی ٹی وی سکرینوں پر ان کے خلاف دہائی مچاتے رہے۔ مجھ ایسے سادہ لوح نے فرض کرلیا کہ تحریک انصاف کے پُرجوش حمایتوں کے دلوں میں اُبلتے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے یہ وزراء Bad Copکا کردار ادا کررہے ہیں۔ سپیکر اسد قیصر Asad Qaiser ،پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی ’’ایوان کا وقار‘‘ بحال رکھنے کی خاطر Good Copنظر آتے رہے۔یہ سمجھنے میں بہت دیر لگی کہ ’’فواد کے پردے میں‘‘ عمران خان Imran Khan بول رہے تھے۔

اپنی حکومت کا پہلا بجٹ منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم Prime Minister نے جو تقریرکی اس میں دُکھی دل کے ساتھ سپیکر سے گلہ کیا کہ منی لانڈرنگ Money laundering جیسے ’’سنگین جرائم‘‘ میں گرفتار آصف علی زرداری اور شہباز شریف Shehbaz Sharif جیسے سیاست دان کا روپ دھارے عادی مجرم ایک منتخب شدہ معزز ایوان میں پروڈکشن آرڈر کی بدولت رونما ہوجاتے ہیں۔اپنی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قوم کو دردبھری آواز میں بھاشن دیتے ہوئے انہیں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ بجٹ منظوری کے فوری بعد ہوئی تقریر سے وزیر اعظم Prime Minister نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ نیب کی حراست یا جیل سے سپیکر کے جاری کردہ پروڈکشن آرڈر کی بدولت قومی اسمبلی کے رکن کو میسر سہولت سے خوش نہیں۔اس روایت کو ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔ میری دانست میں ان کی مذکورہ خواہش پر عملد رآمد اب ضروری ہوگیا ہے۔آصف علی زرداری اور خواجہ سعد رفیق شاید اس کی وجہ سے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاسوں میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔بجٹ اجلاس میں شمالی اور جنوبی وزیرستان سے منتخب ہوئے اراکین کے پروڈکشن آرڈرجاری نہیں ہوئے تھے۔نصابی اعتبار سے سوچیں تو ان دو اراکین کی بجٹ اجلاس سے عدم موجودگی نے ایک Precedent یا نظیر طے کردی ہے۔ اس نظیر کی روشنی میں قانون کو ’’سب کے لئے برابر‘‘ دکھانے کے لئے آصف علی زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے لئے بھی پروڈکشن جاری نہ کرنے میں اسد قیصر Asad Qaiser کو آسانی ہوگی۔بجٹ اجلاس شروع ہوتے ہی مسلسل تین دنوں تک تحریک انصاف کے اراکین نے ’’چورچور‘‘ کا شور مچاتے ہوئے شہباز شریف Shehbaz Sharif کو بطور قائدِ حزب اختلاف پارلیمانی روایت کے مطابق ایک تقریر کے ذریعے بجٹ پر عمومی بحث کا آغاز کرنے کی مہلت نہیں دی تھی۔ان تین دنوں کے شور شرابے کی بدولت تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی یہ دریافت کر چکے ہیں کہ پاکستان Pakistan مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کو اجتماعی طورپر تقریباََ 130اراکین کی موجودگی کے باوجود ’’آنے والی تھاں‘‘ پر کیسے رکھنا ہے۔فرض کیا بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری،شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف اور احسن اقبال بھی قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس سے قبل نیب کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے تو اپوزیشن اراکین یقینی طورپر خود کو شکست خوردہ محسوس کریں گے۔ سپیکر اسد قیصر Asad Qaiser پرگرفتار شدہ اراکین قومی اسمبلی کی ایوان کے اجلاس میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے قابل ذکر دبائو ڈال نہیں پائیں گے۔سرجھکائے ایوان میں آئیں گے۔ اپنی حاضری لگاکر DAوصول کریں گے اور شام ڈھلتے ہی کسی نہ کسی ٹی وی ٹاک شو میں مدعو کئے جانے کا انتظار کریں گے۔ ٹی وی اینکروں کے پاس اپوزیشن اراکین کا ’’مکوٹھپنے‘‘ کے لئے اب عثمان ڈار اور علی اعوان

جیسے ’’نئے چہرے‘‘ بھی ہمہ وقت میسر ہیں۔فیاض الحسن چوہان صاحب بھی چند ماہ کی خاموش گوشہ نشینی کے بعد اپنی گرجدار آواز میں اپوزیشن کے نمائندوں سے حساب برابرکرنے کے لئے دستیاب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ سے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت والی سہولت ایمان داری کی بات ہے ہماری مڈل کلاس کی اکثریت کو بھی پسند نہیں ا ٓتی۔ وہ قانون کو سب کے لئے برابر دیکھنا چاہتے ہیں۔ سوال تواب یہ بھی اُٹھ کھڑا ہوا ہے کہ اربوں روپے بدعنوانی کے ذریعے جمع کرکے اسے لانڈر کرکے بیرون ملک جائیدادیں خریدنے والوں کو عدالتوں سے سزا یافتہ ہونے کے بعد جیل میں VVIPسہولتیں کیوں دی جارہی ہیں۔جیل میں موجود اے ،بی اور سی والی تقسیم بھی ہضم نہیں ہو پارہی۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan صاحب کو بھی یہ تقسیم اپنے ’’دو نہیں ایک پاکستان‘‘ والے نعرے کی نفی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ’’عادی مجرموں‘‘ کو عبرت کے نشان‘‘ بنانے کے خواہاں افراد مسلسل دہائی مچارے ہیں کہ نواز شریف Nawaz Sharif جیسے سپریم کورٹ اور احتساب عدالتوں سے سزا یافتہ ’’مجرم‘‘ کے ساتھ VIPسلوک کیوں ہورہا ہے۔اصولی طور پر انہیں سزا یافتہ قیدیوں والے کپڑے پہناکر عام قیدیوں والی بیرک میں رکھنا چاہیے۔ انصاف کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ انہیں وہی کھانا دیا جائے جو عام مجرموں کو نصیب ہوتا ہے۔آج سے تین صدی قبل فرانس میں ایک ’’انقلاب‘‘ آیا تھا۔ اس دور کے شاہی خاندان اور اشرافیہ کو چن چن کر چوکوں میں پارسائی اور مساوی حقوق کے طلب گار ہجوم کے روبرو گلوٹین کے چُھرے کے نیچے سررکھنے کو مجبور کیا گیا تھا۔ فرانس میں اس کے بعد ’’جمہوریت اور برابری‘‘ کا بول بالا ہوگیا۔ یہ بات مگر کوئی آپ کو بتائے گا نہیں کہ اس ’’انقلاب‘‘ کے باوجود ایک نہیں دو نپولین بدترین آمروں کی طرح فرانس پر کئی دہائیوں تک مسلط رہے۔فرانس کے صدر کے پاس ان دنوں بھی ’’شاہی اختیارات‘‘ ہیں۔اشرافیہ ان دنوں بھی وہاں راج کررہی ہے اور گزشتہ کئی ہفتوں سے وہاں پیلی جیکٹوں والے مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ان پر قابو پانے کے لئے فرانس کی پولیس نے اب بندوقوں میں ویسے ہی چھرے استعمال کرنا شروع کردئیے ہیں جو بھارتی Indian فوج نے مقبوضہ کشمیر میں استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کو بینائی سے محروم کرنے کے لئے استعمال کئے تھے۔فرانس جیسے ’’تہذیب کی علامت‘‘ مانے ملک میں جاری اس واردات کا مگر مقامی یا عالمی میڈیا میں ذکر ہی نہیں ہورہا۔ہم خوش نصیب ہیں کہ انقلاب فرانس کے خونی مناظر دیکھے بغیر ہی وطنِ عزیز میں قانون کو سب کے لئے برابر بنانے کے قابل ہوگئے ۔

 192