دو تہذیبوں کی ملاقات

ماجرا - بلال الرشید

04 جولائی 2019

Do Tehzebon ki Mulaqat

کبھی کبھی انسا ن سوچتا ہے کہ اگر میں آج اس ترقی یافتہ زمانے میں پیدا ہونے کی بجائے ہزاروں برس پہلے کے کسی دور میں جی رہا ہوتا تو زندگی کیسی ہوتی ؟ بے پناہ تجسس کی وجہ سے انسان ہمیشہ سے ٹائم مشین بنانے کا خواب دیکھتا رہا ہے ۔ اس ٹائم مشین میں بیٹھ کر وہ ڈائنا سار سے لے کر قدیم جنگلی قبائل تک جا ئزہ لینا چاہتا ہے ۔ اسی تجسس نے پرانی گلی سڑی چیزوں کو انتہائی زیادہ قیمت عطا کی ہے ۔برف پگھلنے کے نتیجے میں آج ‘اگر زمین کے کسی بھی بر اعظم میں ایک پچاس ہزار سال پرانا انسانی ڈھانچہ برآمد ہوتاہے تو اس کی قیمت اربوں روپے میں لگ سکتی ہے ۔ اصل میں پرانی چیزوں کو اربوں روپے کی یہ قیمت دلوانے والا بنیادی عنصر تجسس ہی ہے ‘ نامعلوم کو جاننے کی خواہش ۔اسی طرح آج برقی ایجادات کے جلو میں زندگی گزارنے والا ‘ موبائل فون پر بات کرنے ‘ جہاز پہ اڑنے اور اے سی میں سونے والا ہر انسان کبھی نہ کبھی یہ سوچتا ضرور ہے کہ زمانہ ٔ قدیم کے وہ لوگ جو گرم غاروں میں زمین پر سویاکرتے ‘وہ کس قدر قابلِ رحم تھے ۔ ہم کتنے خوش نصیب ہیں !کیا واقعی وہ بدقسمت تھے اور کیا واقعی ہم خوش نصیب ہیں ؟

زمین پہ بسنے و الاانسان آج جن سہولتوں کے جلو میں زندگی گزا ررہا ہے‘ اس نے زندگی کو بالکل تبدیل کر کے رکھ دیاہے ۔ گندم اور چاول سمیت اناج کے بڑے بڑے گودام ذخیرہ ہو چکے ہیں ۔ سوائے مزدوروں کے ‘آج زیادہ تر کام مشینی قوت سے کیے جا رہے ہیں ۔ سفر‘ انجن کی مدد سے طے ہو رہے ہیں ۔ زیر زمین پانی مشین نکال رہی ہے ۔ کاشتکاری سے لے کر شکار تک ‘ ہر چیز میں یہ مشینیں استعمال ہو رہی ہیں۔ جانوروں میں تو ایسا کہیں نہیں ہوتا‘ لیکن انسانوںمیں سے کچھ دردِ دل رکھنے والے بھوکوں کے لیے لنگر بنا دیتے ہیں ۔ یہ وہ صورتِ حال ہے ‘ جس میں زیادہ تر لوگ روزانہ پیٹ بھر کے کھانا کھا رہے ہیں۔جو لوگ ڈرائیور اور خانساماں جیسی کم تنخواہ والی ملازمتیں بھی کر رہے ہیں ‘ وہ بھی موٹاپے کا شکار ہور ہے ہیں ۔ موٹاپے کا یہ مسئلہ کس قدر شدید ہے ؟پاکستان Pakistan میں تو ہمیں اس کا ایک دھندلا سا اندازہ ہی ہو سکتاہے ۔ اس لیے کہ ہم نے ابھی اس طرف قدم اٹھا نا شروع کیا ہے ‘ جہاں یورپ پہنچ چکا ہے ۔ اگر‘ آپ برطانیہ اور امریکہ United States جیسے ممالک میں موٹاپے کے اعدادو شمار کا مطالعہ کریں تو پائوں کے نیچے سے زمین نکل جاتی ہے ۔

فروری2016ء میںبرطانوی ہیلتھ سیکرٹری جیریمی ہنٹ نے یہ کہا تھا کہ بچوں میں بڑھتا ہوا شدید موٹاپا اب ایک نیشنل ایمرجنسی ہے ۔ 2014ء کے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں بالغوں (Adults)میں سے 84فیصد افراد زیادہ وزن یا شدید موٹاپے کا شکار تھے ۔ باقی جو 16فیصد رہ گئے ‘ظاہر ہے کہ ان میں سے اکثر میں وزن بڑھنے کا رجحان ہی نہیں تھا یا وہ کم کھانے کے عادی تھے۔ آپ یہ سمجھ لیں کہ تقریباً پورا ملک موٹا ہو گیا ‘بلکہ پورے کے پورے ممالک موٹے ہو گئے ۔ یہ بڑھا ہوا وزن ذیابیطس ‘ ہارٹ اٹیک اور سٹروک ‘ ہائی بلڈ پریشر اور فالج جیسی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایسی ہلاکتوں کے لیے جو موٹاپے کی وجہ سے ہوتی ہیں ‘ ''قبل از وقت اموات ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے ۔

اب ایک لمحے کے لیے ذرا پانچ ہزار سال پیچھے چلے جائیں ۔ فرض کریں کہ ایک طرف سے پانچ ہزار سال پہلے کے انسانوں کا ایک قبیلہ پیدل چلتا ہوا آتا ہے اور دوسری طرف سے اپنی اپنی لینڈ کروزر‘ پجارو اور مرسڈیز سے نیویارک سٹی کے لوگ نکل کر ان سے ہاتھ ملاتے ہیں ۔ پرانی اور نئی تہذیبوں کی ملاقات کے اس scenario پر ہالی ووڈ کی ایک سپر ہٹ فلم بن سکتی ہے ۔ اکثر‘ بڑی بڑی فلموں کا مرکزی آئیڈیا اتنا ہی ہوتاہے ۔ خیر جب فی کس چالیس پچاس کلو اضافی وزن اٹھائے ہو ئے یہ ترقی یافتہ لوگ ائیر کنڈیشنڈ گاڑیوں سے نکل کر گرمی میں کھڑے ہوں گے اور ‘اگر انہیں چند قدم آگے بڑھ کر غیر ترقی یافتہ قبیلے سے ہاتھ ملانا پڑا تو آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ دونوں میں سے کون دوسرے کو زیادہ ترس بھری نظروں سے دیکھے گا ۔ یہ بہت بڑی مصیبت ہے کہ ایک بندہ دن رات اضافی وزن اٹھائے رکھنے پر مجبور ہے ۔

اب آجائیں‘ قبل از وقت اموات پر ۔ قبل از وقت کبھی کوئی نہیں مرتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جاندار اپنے حصے کا رزق جب مکمل طور پر کھا لیتا ہے تو پھر وہ مر جاتا ہے ۔ جو لوگ زیادہ موٹے ہوتے ہیں ‘ وہ بہت زیادہ کھاتے ہیں ۔ جلدی اپنا رزق کھا کر (موٹاپے سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے )جلدی فوت ہو جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے کبھی کسی غیر معمولی وزن والے آدمی کو لمبی عمر پاتے نہیں دیکھا ہوگا ۔ سو سال سے زیادہ زندگی پانے والے سب لوگ دبلے پتلے ہی ہوتے ہیں ۔

خیر‘ پانچ دس سال میں انتہائی طویل ریسرچ کے بعد ایجاد ہونے والی ایک دوا مارکیٹ میں آنے والی ہے ‘ جو کہ موٹاپے اور ذیابیطس کو reverseکر دے گی۔ اس کے باوجود ‘جن حالا ت میں آج ہم زندگی گزار رہے ہیں‘ پرانی تہذیبوں کی نظر میں وہ قابلِ رحم ہی ہیں ۔ اس میں سب سے زیادہ حصہ ہے ‘ کیمیکلز سے اگنے والی غذا کا ۔ آبادی اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ کیمیکلز کے بغیر خوراک کی ضروریات پوری ہی نہیں ہو سکتیں ۔

موٹاپا ایک بیماری نہیں ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ انسان زیادہ کھاتا ہے ‘ اس کا جسم استعمال کم کرتا ہے تو نہ استعمال ہونے والی خوراک چربی میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ کبھی یہ سوال بھی ذہن میں اٹھتا ہے کہ جس خدا نے جسم میں خون کی گردش اورگردوں سے اس کی صفائی جیسے نظام بنائے‘ وہ یہ انتظام نہیں کر سکتا تھا کہ ضرور ت سے زیادہ جتنی بھی غذا انسان استعمال کرے‘ گردے اسے بھی فلٹر کر کے جسم سے نکال دیں ۔ ہو سکتا تھا۔ یہ عین ممکن تھا ‘لیکن شروع شروع میں جب انسان نے اس زمین پر زندگی شروع کی تو اس وقت اس کے پاس فریج تھا اور نہ ٹھنڈے گودام۔ ہر روز شکار ہاتھ آتانہیں تھا ؛لہٰذا سروائیو کرنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ جب جتنی خوراک میسر آئے‘ اسے کھا لو اور جب کچھ نہ ملے تو اپنے جسم میں موجود چربی استعمال کرو ۔ سرد ممالک میں آج بھی ریچھ جیسے جاندار اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے گرمی میں زیادہ سے زیادہ کھاتے ہیں اور سردی میں بھوک برداشت کرتے ہیں ‘ بلکہ؛ اگر آپ غو رکریں تو جسم میں اضافی خوراک ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا کر کے خدا نے جانداروں پر ایک بہت بڑی مہربانی کی ہے ۔ یہ صلاحیت تخلیق کے عجائبات میں سے ایک ہے ۔

خیر ‘موٹاپے کا cureتو جب آئے گا سو آئے گا؛ اگر‘ زیادہ وزن کی وجہ سے آدمی ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہو جائے تو پھر اس کا کوئی بھی عضو کسی بھی وقت ناکارہ ہو سکتاہے ۔ وہ کسی بھی وقت فالج اور کومہ کا شکار ہو سکتاہے ۔ جسم کو اس سے کہیں کم خوراک چاہیے‘ جتنی اسے کھلائی جارہی ہے ۔ جسم بیچارہ پیدل چلنا چاہتا ہے ۔ دیر تک پیدل چلنے سے جسم جب گرم ہو جاتا ہے اور جب بھاگنے کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے تو یہ جسم کے لیے ایک ایسی نعمت ہے ‘ جس کا ہم کبھی اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ۔

الغرض خوشحالی کے باوجود ‘یہ ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا دور ہے ۔ذہن نشین رہے کہ ان بیماریوںسے کسی صورت بھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

 131