حکومت،اپوزیشن اور میڈیا پر پابندیاں!!!!!

Hamza Meer

02 جولائی 2019



حکومت،اپوزیشن اور میڈیا پر پابندیاں!!!!!

کالم نگار:حمزہ میر!!!!!!!!!!!!

خدا خدا کر کے کفر ٹوٹا اور اپوزیشن کی بجٹ نا منظور ہونے دینے کی دھمکیاں کسی کام نا آئیں حکومت نے آئی-ایم-اف کا بجٹ منظور کروا لیا پہلی بار آئی-ایم-اف کا بجٹ منظور نہیں ہوا بلکہ یہ تقریبا آئی-ایم-اف کا 12 واں بجٹ تھا مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ مشرف کے دو سال بھی بجٹ آئی-ایم-اف کا منظور نظر ہوتا تھا اس سال بھی ان کا ہی بجٹ پیش کیا گیا غریب ہمیشہ کی طرح بجٹ کا شکار ہوا ٹیکس اصلاحات لائیں گئیں حکومت نے اپنے اتحادیوں کو خوش کیا جو ناراض تھے اور بجٹ پاس کروایا اپوزیشن دیکھتی رہ گئی- ایک ایم وزیر اور وزیراعظم کے قریب ترین سمجھے جانے والے شخص نے کہا تھا بجٹ گزر لینے دیں پھر اپوزیشن کو بتائیں گے جس کی واضح مثال کل کا واقع ہے اپوزیشن کے مرکزی رہنما رانا ثنا کو اینٹی نارکوٹکس فورس نے گرفتار کر لیا جب وہ اسلام آباد سے فیصل آباد آ رہے تھے رانا ثنا کی گرفتاری کا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں رانا ثنا کے خلاف نیب کو کوئی کیس نہین ملا تو نارکوٹکس ہی سہی ایک قابل فہم بندہ یہ کیسے سوچ سکتا کہ ایک شخص جس کو معلوم ہو کہ حکومت اس کے پیچھے پڑی ہے وہ اپنی گاڑی میں منشیات لے کر سفر کرے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر اس شخص کی آواز خاموش کروائی جا رہی ہے جس کا تعلق اپوزیشن سے ہے یا وہ حکومت کے خلاف بولتا ہے چاہے وہ اپزیشن رہنما ہو یا میڈیا کا صحافی ہو- حکومتی لوگوں پر کیسز ہیں لیکن آگے نہیں بڑھ رہے جن میں فیصل واوڈا کی بےنامی جائیدد کا کیس ہے جس کو زور زبردستی کے تحت بند کر دیا ہے زبیدہ جلال کا کیس بھی آگے نہیں بڑھ رہا زبیدہ جلال پر 7 ارب کا سکینڈل ہے وزیر خسرہ بختیار پر بھی کیس ہے جس کی تفتیش شروع ہوئی لیکن اب بند ہو گئی ہے احتساب تو سب کا ہونا چاہیے- اب اگلی باری شاہد خاقان کی تو ہے لیکن اس سے پہلے سندھ سے لوگ گرفتار ہوں گے جن میں آصف زرداری کے قریبی سمجھے جانے والے سہیل انور سیال اور ضام مہتاب علی ہیں جو ان دنوں ضمانت پر ہیں اپوزیشن کے برے دن شروع ہو چکے ہیں موجودہ وزیرداخلہ وہی شخص ہیں جنہوں نے 1999 میں مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کو توڑا تھا اور برگیڈیر راشد قریشی کے ساتھ مل کر اوزیشن کے لوگوں کو جیلوں میں ڈالا تھا برگیڈیر اعجاز شاہ اس حوالے سے مشہور ہیں اب بھی ایسا ہی ہو گیا ہے میڈیا پر بھی غیر اعلان کیے پابندی لگا دی گئی ہے کل ایک عجیب واقع ہوا حامد میر صاحب سینیر صحافی اور نڈر بےباک ہیں ان کا چلتا شو بند کر دیا گیا زرداری کا انٹرویو صرف 3 منٹ چلا اور بند کر دیا گیا یہ کہ کر ملزم اور ریمانڈ پر ہونے والے شخص کا انٹرویو نہیں شو ہو سکتا لیکن جب عمران خان Imran Khan 2007 لانگ مارچ میں اشتہاری تھے تو اسی حامد میر نے عمران کا انٹرویو کیا تھا تب نہیں تھا یاد ان کو کسی ملزم کا انٹرویو نہیں کرتے اس کے علاوہ 2014 کے دھرنے مین جب پاکستان Pakistan ٹیلی ویژن پر حملے کا کیس تھا تب بھی میڈیا نے مکمل کوریج فراہم کی اس کے علاوہ جب عمران خان Imran Khan پر ریاست ست بغاوت کرنے کا الزام تھا تب بھی ان کے انٹرویو نشر ہوئے- پہلے نجم سیٹھی پر پابندی عائد کی گئی پھر ڈاکٹر شاہد مسعود پر اب حامد میر کا شو بند کر دیا گیا ہے اس سے پہلے میڈیا ورکران کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے میڈیا چینلز کو کنٹرول کیا جا رہا ہے وزرا گائیڈ کر رہے ہیں کیا میڈیا آزاد ہے؟؟؟؟؟

 88