میرے پنجابی ہونے کی شناخت

برملا - نصرت جاوید

02 جولائی 2019

Mery Punjabi hony ki Shanakat

صحافت میں ساری عمر صرف کرتے ہوئے ذاتی تجربات سے سیکھا یہی ہے کہ کسی موضوع پر لکھتے ہوئے اسے ایک ہی کالم میں سمیٹ دینا چاہیے۔ کئی اقساط تک پھیلے کالم مؤثر پیغام دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ کالم ویسے بھی تحقیقی مضمون نہیں ہوتا۔ ہلکے پھلکے انداز میں کسی موضوع کو چھیڑتے ہوئے اس کے ذریعے محض ’’ڈنگ ٹپایا‘‘ جاتا ہے۔

ہفتے کی شب پاکستان Pakistan اور افغانستان Afghanistan کے مابین ہوا کرکٹ مقابلہ دیکھا تو ٹویٹر پر چھائے ’’پاکستان Pakistan بمقابلہ نمک حرام‘‘ والے ٹرینڈ کی وجہ سے افغانستان Afghanistan کے حوالے سے کچھ ذاتی تجربات پیر کی صبح چھپے کالم میں بیان کردئیے۔ انہیں بیان کرنے کا مقصد نفرت کی آگ بھڑکانا ہرگز نہیں تھا۔ خواہش محض یہ تھی کہ ہفتے کے روز ہوئے واقعات کو ایک وسیع تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے۔’’افغان جہاد‘‘ کے ایام سے 2011ء تک پیشہ وارانہ فرائض کی وجہ سے افغانوں سے بہت واسطہ رہا۔ کئی بار اس ملک بھی گیاہوں اور ا یسے قصبات اور علاقوں میں قیام کا موقعہ بھی نصیب ہوا جہاں پاکستانی تو کیا افغان صحافی بھی جانے سے گریز کرتے ہیں۔پاکستان Pakistan ہی کے نہیںکسی غیر ملک کے شہروں میں جائوں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ وہاں کے حالات جاننے کے لئے روایتی ’’ذرائع‘‘ پر انحصار نہ کیا جائے۔ عام لوگوں سے گھل مل کر کئی ایسے پہلو نگاہ میں آتے ہیں جو نام نہاد ’’ماہرین‘‘ کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتے حالانکہ وہ ٹھوس حقائق کی نمائندگی کرتے ہیں۔برطانیہ کا ایک معروف صحافی ہے۔ رابرٹ فسک۔ مشرقِ وسطیٰ کے حقائق کو حیران کن انداز میں سمجھتا ہے۔ اس نے ایک اصطلاح متعارف کروائی تھی "Monkey Journalism"۔ اس کے ذریعے اس نے CNNجیسے اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی کوتاہ بینی کو بے نقاب کیا جو کسی ملک میں خانہ جنگی یا اس پر مسلط ہوئی جنگ کو ’’رپورٹ‘‘ کرنے کے لئے وہاں جاتے ہیں تو فائیو سٹار ہوٹلوں میں مقیم ہوئے Stingersکی مدد سے مقامی افراد یا ’’ماہرین‘‘ کی باتیں سن کر اپنی دانست میں کمال کر دیتے ہیں۔ ایسے صحافیوں کو اس نے بندروں کی طرح درختوں پر چڑھ کر زمینی حقائق سمجھنے کا عادی ٹھہرایا۔ میں ایسی ’’صحافت‘‘ سے ہر ممکن گریز کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک امریکی صحافی بھی ہے۔ وہ فسک کی طرح بہت مشہور نہیں۔ Judith Matloffاس کا نام ہے۔ 2017ء میں اس نے ایک کتاب لکھی۔اس کا عنوان ہے"The war is in the Mountains"۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں اس کا ترجمہ ’’جنگ (صرف) پہاڑوں ہی میں ہوتی ہے‘‘ کروں گا۔ اس خاتون نے لاطینی امریکہ United States ، یورپ اور ایشیاء کے کئی ایسے ممالک میں کئی ماہ صرف کئے جہاں خانہ جنگی ہورہی ہے یا غیر ملکی قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد جاری ہے۔ لاطینی امریکہ United States میں اس نے ان پہاڑی علاقوں پر توجہ دی جو منشیات پیدا کرنے کے مراکز شمار ہوتے ہیں۔ امریکہ United States منشیات کی پیداوار کو بے تحاشہ ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ختم کرنے میں ناکام رہا۔ اس کی جانب سے مقامی حکومتوں کو فراہم کردہ جدید ترین اسلحہ اور آلاتِ جاسوسی بھی کسی کام نہ آئے۔ لاطینی امریکہ United States کے علاوہ وہ روس Russia کے زیر نگین چیچنیا بھی گئی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی کئی ماہ گزارے اور افغانستان Afghanistan کے دور دراز علاقوں کے کئی دورے کئے۔ دور دراز پہاڑی علاقوں کے سفرکرنے کو وہ یہ حقیقت د ریافت کرنے کے بعد مجبور ہوئی کہ دنیا کی مجموعی آبادی کا صرف دس فی صد پہاڑوں میں رہتا ہے جبکہ پہاڑ ہماری زمین کے ایک چوتھائی حصے پر مشتمل ہیں۔

25فی صد زمین پر بسنے والے محض دس فی صد افراد مگر اس وقت پوری دنیا میں جاری مسلسل جنگوں کی وجہ سے تباہ ہوئے 27ممالک میں سے 23 ’’پہاڑی ممالک‘‘ میں رہتے ہیں۔ اسی باعث وہ یہ طے کرنے کو مجبور ہوئی کہ جنگیں ’’صرف پہاڑوں‘‘ ہی میں برپا ہوتی ہیں۔ اپنی جاں گسل تحقیق کی بدولت Judith Matloffنے البانیہ، افغانستان Afghanistan اور چیچنیا کے پہاڑوں میں بسے افراد کی اجتماعی نفسیات میں حیران کن حد تک ’’یکساں‘‘ رویوں اور سوچ کو بھی دریافت کیا۔ میری کوشش ہوگی کہ جب کبھی موقعہ ملے اس کی تحقیق کے طفیل نصیب ہوئی آگہی کے چند نکات آپ کو بیان کرسکوں۔افغان نفسیات کو سمجھنا ہو تو پاکستانی ہوتے ہوئے ہمیں ’’مردِ کوہستانی‘‘ کی ترکیب کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ ’’مردِ کوہستانی‘‘ کی مخصوص نفسیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اقبالؔ نے خوش حال خان خٹک کی شاعری کو گہری نگاہ سے دیکھا تھا۔ افغانوں کی اجتماعی نفسیات میں جھوٹی یا سچی بنیادوں پر پاکستان Pakistan کے بارے میں برسوں سے کچھ شکوے شکایات موجود ہیں۔ 2004ء میں مجھے کابل میں افغان صحافیوں کے بیس سے زائد افراد پر مشتمل ایک گروپ سے گفتگو کا موقعہ ملا۔ ان کی اکثریت مجھے یہ بتانے کو بضد تھی کہ پاکستان Pakistan نے ’’افغان جنگ‘‘ کی بدولت آئی امریکی امداد سے اپنی ٹی وی نشریات کو ’’رنگین‘‘ بنایا۔ میں ذاتی تجربے سے انہیں بتاتا رہا کہ 1975ء سے پاکستان Pakistan ٹیلی وژن کے لئے ڈرامے لکھنا شروع کئے تھے۔ ہمارا ٹی وی 1977ء کے انتخابات سے قبل ذوالفقار علی بھٹو نے ’’رنگین‘‘ بنادیا تھا۔میرے ذاتی تجربے پر مبنی حقیقت کا بیان بھی انہیں قائل نہ کرپایا۔ ہمارے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بھی وہ ایسا ہی سوچتے پائے گئے۔

پیر کے روز چھپے کالم میں بیان کرچکا ہوں کہ 2004ء ہی میں قندھار بھی گیا تھا۔ وہاں قیام کے دوران میں حامد کرزئی کے بھائی سے بھی ملا۔ جو ان دنوں اپنے گھر میں بادشاہوں کی طرح بیٹھا تمام دن مختلف افراد پر مشتمل وفود سے ملاقاتیں کرتے ہوئے ان کی ’’مشکلات‘‘ کا ازالہ کرنے کا دعوے دار تھا۔ میں اس کے ہاں گیا تو دروازے کے باہر ملاقاتیوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ ہر شحض کو سکیورٹی چیک کے لئے لگائے واک تھرو دروازے سے گزرنا ضروری تھا۔ اس دروازے سے گزرنے کے باوجود بہت ہی بے ہودہ نوعیت کی جامہ تلاشی بھی ہو رہی تھی۔ لمبی قطار کو دیکھ کر میں کرزئی سے ملاقات کی خواہش کو بھولنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا تو اس کا ایک محافظ میرے پاس آیا۔ شاید اسے میرے آنے کا بتایا گیا تھا وہ مگر میرا نام بھول گیا تھا۔ اس نے مجھے کہا ’’تم پنجابی ہو‘‘۔ میں نے ہاں میں جواب دیا تو وہ مجھے اپنے ہمراہ واک تھرودروازے سے گزارنے اور جامہ تلاشی کے بغیر گھر کے اندر لے گیا۔ وہاں ایک کمرے میں بٹھا کر انتظار کرنے کو کہا۔ میرے لئے وہ قہوہ اور پستہ وغیرہ لایا تو میں نے صحافیانہ تجسس سے استفسار کیا کہ اسے میرے ’’پنجابی‘‘ ہونے کا پتہ کیسے چلا۔ میرا چہرہ کئی افغانیوں جیسا ہے اور میں نے شلوار کُرتا بھی پہن رکھا ہے۔ میرا سوال سن کر اس نے طنزیہ قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا کہ ’’تم پنجابی کاتون (کاٹن) کا شلوار کُرتا پہنتے ہو۔ وہ اکڑا ہوتا ہے‘‘مختصراََ کہہ لیجئے کہ میرے کلف زدہ شلوار کُرتے نے اسے بطور ’’پنجابی‘‘ میری شناخت میں مدد دی۔ یاد رہے کہ کلف زدہ کپڑے اس کی نظر میں ’’خوش حالی‘‘ کی علامت تھے اور ایسی ’’خوش حالی‘‘ جنگ سے تباہ حال ماحول میں ناگوار محسوس ہوتی ہے۔

 93