متعصب امریکی رپورٹ

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

02 جولائی 2019

American Report

ڈونلڈ ٹرمپ اور اس سے پہلے کی امریکی حکومتیں مذہبی تعصب کا شکار نہیں ؟ امریکہ United States ‘ برطانیہ سمیت یورپی یونین مذہبی تعصب کی بنیاد پر مسلم ممالک کے خلاف اسرائیل کے ہم قدم نہیں؟فلسطین پر اسرائیل کا جبری قبضہ یہود و نصاریٰ کا اسلام کے خلاف تعصب کا اظہار نہیں؟ٹرمپ کے سعودی عرب Saudi Arabia اور دوسرے عرب ممالک کے خلاف تضحیک آمیز ریمارکس اور رویے تعصب سے دور کسی مہذب انسان کے شایان شان کہے جا سکتے ہیں؟ مذہبی رواداری اور تعصب کے نام سے قائم امریکی ادارے نے پاکستان Pakistan کے متعلق منفی رپورٹ جاری کرتے ہوئے اپنا ریکارڈدیکھتے ہوئے کبھی گریبان میں جھانکنے کی کوشش کی ہے؟پاکستان Pakistan میں ہندوئوں کے پرانے مندروں کو جس طرح بحال کیا جا رہا ہے وہ امریکیوں کی نظروں سے اوجھل ہے؟ سکھوں کیلئے کرتار پور اور لاہور کے شاہی قلعہ میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کی تنصیب امریکیوں کو دکھائی نہیں دے رہی؟

پاکستان Pakistan بھر میں بسنے والی وہ تمام قومیں جنہیں اقلیت کا نام دیا جاتا ہے( ذاتی طور پر کسی کیلئے بھی اقلیت کے لفظ کا حامی نہیں ہوں کیونکہ سب کو برا برکاپاکستانی شہری سمجھتا ہوں) انہیں مذہب یا ان کے عقیدے کی بنا پر وہی احترام مل رہا ہے جو ایک شہری کیلئے پاکستان Pakistan کے آئین میں موجود ہے۔ رہی بات مذہبی انتہا پسندی کی تو دنیا کا وہ کون سا خطہ ہے جہاں ایسے اکا دکا واقعات نہیں ہو رہے؟ اگر کسی جگہ مذہبی انتہا پسندی ہے تو کہیں نسلی انتہا پسندی دیکھنے کو مل رہی ہے اور پاکستان Pakistan کو مکمل طور پر اس سے مبرا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہاں اس قسم کے واقعات دیکھنے کو ملتے رہے ہیں لیکن گذشتہ ایک برس سے اقلیتوں کے معاملے میں پاکستان Pakistan کی صورت حال اس ضمن میں اطمینان بخش ہے۔ نہ جانے امریکہ United States کو کس نے سرگوشیوں میں بتا دیا کہ پاکستان Pakistan میں اقلیتوں سے برا سلوک ہو رہاہے؟ ابھی پانچ روز قبل لندن کی ایک ایسی مسجد جہاں افغان نژاد شخص امام تھا‘ وہاں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے جانے والے پاکستانیوں کو مسجد کے اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا اور یہ ویڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے لیکن اس کے با وجود لندن میں مقیم چند لوگوں کے اس فعل کو برطانوی حکومت سے تو منسوب نہیں کیاجا سکتا کہ وہ جان بوجھ کر ایسا کرا رہی ہے۔

بھارتی Indian ریاست گجرات میں گزشتہ ماہ ایک دلت لڑکے کو صرف اس جرم میں آر ایس ایس RSS کے غنڈوں نے ڈنڈوں سے مار مار کر ہڈیاں پسلیاں توڑ کر رکھ دیں کہ ایم ایل اے جب کھڑا ہوا تھا تو اسے چمکتی دمکتی گاڑی میں بیٹھنے کی ہمت کیسے ہوئی؟ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطا بق بھارت India میں اس وقت صورت حال اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ بھارت India کے ہر قسم کے سرکاری اداروں کے ایک تہائی اہلکار وہاں بسنے والی اقلیتوں کو زبردستی ہندو بنانے میں بڑھ چڑھ کا حصہ لے رہے ہیں اور خاص طور پر گوشت اور چمڑے کا کاروبار کرنے والے مسلمان اور دلت‘ انتہا پسند ہندوئوں کے ظلم و جبر کا شدت سے شکار ہو رہے ہیں۔ اتر پردیش‘ آندھرا پردیش‘بہار‘چھتیس گڑھ‘گجرات‘ اڑیسہ‘ کرناٹک‘ مدھیہ پردیش‘ مہاراشٹر اور راجستھان وہاں بسنے والی اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سے بھارت India کی مذہبی تخریب کاری کا گڑھ بن چکے ہیں‘ جس پر بھارتی Indian سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑ گئی۔

مغربی بنگال کولکتہ کے ایک چرچ پر ہندو بلوائیوں کی جانب سے کئے جانے والے حملے کے دوران یہ بلوائی جب وہاں رکھی ہوئی انجیل مقدس کی بے حرمتی کر رہے تھے تو وہاں موجود 62سالہ نن نے آگے بڑھ کر انہیں روکنے کی کوشش کی تو ان انتہا پسند ہندو بلوائیوں نے اس بوڑھی نن کے ساتھ شرمناک سلوک کیا۔ بوڑھی نن کے ساتھ ہندو انتہا پسندوںکے گروہ کی اجتماعی زیا دتی پر جہاں دنیا بھر کا مہذب معاشرہ چیخ اٹھا وہاں کیتھولک بشپ کانفرنس کے صدر کارڈینل بیسلیوز کلیمزنے نریندر مودی narendra modi سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:گائے کی حفاظت کے ساتھ انسانوں کی حفاظت کوبھی اپنے دھرم کا حصہ بنائو ۔ یہ خبر اس قدر شرمناک تھی کہ بھارت India سمیت خواتین کی تمام عالمی تنظیمیں 62 سالہ بوڑھی نن کی بے حرمتی کے خلاف سراپا احتجاج بن اٹھیں اور دوران احتجاج عالمی رائے عامہ اس شرمناک واقعہ پر بھارت India کے مکروہ چہرے سے پردہ اٹھا تے ہوئے اس کے جعلی سیکولر نعروںکے پرخچے اڑا تا رہا۔

ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا ‘دیکھئے کہ بھارت India میں انتہا پسند تنظیموں کو کام کرنے کی پہلے ہی چھٹی تھی لیکن جیسے ہی نریندر مودی narendra modi نے اقتدار سنبھالا تو راشٹریہ سیوک سنگھ سے قریبی رشتہ ہونے کی وجہ سے یہ چھٹی اب کھلی چھٹی میں تبدیل ہو کر رہ گئی ہے اور کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب خاکی نیکروں والے نیم فوجی راشٹریہ سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشد کے دستے مسلمانوں اور عیسائیوں کی تذلیل نہ کرتے ہوں بلکہ مودی کے پہلے اقتدار سے بھارت India میں بسنے والی تمام اقلیتیں بھارت India کی مذہبی انتہا پسند تنظیموں کی شدید نفرت کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں اور اس انتہا پسندی پر کسی بھی قسم کی شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے اس پر ہندوتا کے نعروں سے فخر کیا جا رہا ہے۔ بوڑھی نن کے ساتھ کی جانے والے شرمناک دہشت گردی پر عالمی رائے عامہ اور مذہبی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں پکار اٹھیں کہ یہ دنیا کی کونسی بڑی جمہوریت ہے اور سیکولر کے راگ الاپنے والایہ کونسا ملک ہے اور یہ کیسا روشن ہندوستان ہے جہاں کانوینٹ میں کام کرنے والی ایک 62 سا لہ نن کے ساتھ مذہبی انتہا پسنداجتماعی زیا دتی کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں ۔ کولکتہ کے اس شرمناک سانحے کے خلاف 19 مارچ کو دہلی کے جنتر منتر کے ارد گرد بڑے بڑے بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے احتجاج کرتے رہے۔ سول سوسائٹی اور بھارت India کی شہری آزادیوں سے متعلق تنظیموںکی جانب سے نریندر مودی narendra modi کے اقتدار سنبھالنے سے اب تک اقلیتوں سے نفرت‘ انتہا پسندی اور متشددانہ کارروائیوں کی ایک ڈاکومنٹری رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ اب تک اقلیتوں اور نچلی ذات کے ہندوئوں کے خلاف تشدد کے600 واقعات میں432 افراد کو ٹارگٹ کرتے ہوئے قتل کیا گیا‘ جن میں آسام کے چائے کے با غات میں کام کرنے والے مسلمان مرد وںاور عورتوں کے ساتھ ان کی گود میں اٹھائے ہوئے بچے بھی شامل ہیں۔

نریندرمودی کے اقتدار کے پہلے تین سو دنوں کی جاری کی جانے والی عالمی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ راشٹریہ سیوک سنگھ اور بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی کے لوگ تو ایک طرف اب تو نہ صرف مودی سرکار کے مرکزی اور صوبائی وزرا بلکہ بھارت India کی ریاستی اسمبلیوں کے اراکین کے علا وہ انتہا پسند سرکاری اہلکار بھی Saffronٹوپیاں پہننے بے خوفی سے مذہبی نفرت کو ہوا دیتے ہوئے دلت‘ مسلمانوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنا نا شروع ہو گئے ہیں اور انہوں نے کھلے عام یہ اعلانات کرنے شروع کر دیئے ہیں کہ بھارت India میں رہنے والے کو صرف ہندو بن کر ہی رہنا ہو گا۔چرچ کو آگ لگانا‘پادریوں پر حملے ‘ مسلمانوں کو نماز سے روکنا‘ انہیں گائے کے نام پر درختوں سے باندھ کر پیٹنے اور راہ چلتے ہوئے ان کی تضحیک کرنا اور بعد میں پولیس سے مل کر ان کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کرانا اب عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے ‘بلکہ اب بھارت India میں اقلیتوں کیلئے تم اور ہندوئوںنے اپنے لئے ہم کی ایک نئی لغت شروع کر دی ہے۔امریکیوں کی بصارت اور سماعت اس قدر تو خراب نہیں ہوئی کہ انہیں یہ نظر ہی نہ آتا ہو؟تو کیا وہ کسی مذہبی تعصب کی بنا پر اپنا تمام نزلہ پاکستان Pakistan پر گرا رہے ہیں؟

راشٹریہ سیوک سنگھ کی نیم فوجی تنظیم وشوا ہند و پریشد کے سربراہ موہن بھگوت نے اپنی انتہا پسند تنظیم کے پچاس سال مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب میںکرتے ہوئے کہا تھا: بھارت India کی پہچان ہی ہندوتا ہے اور اس میں اتنی طاقت ہے کہ بھارت India کی ہر اقلیت کو اپنے اندر نگل سکتی ہے۔اس لیے ہندوستان میں رہنے کیلئے سب کو ہندو کہلوانا ہو گا‘‘ ۔

 165