ایک بار پھر تبادلہ آبادی۔ ایک اور ریڈ کلف

حرف راز - اوریا مقبول جان

02 جولائی 2019

Ak bar phir tabadala abadi ak or red culf

کان پک گئے ہیں ان آوازوں کو سنتے اور آنکھیں دکھنے کو آچکی ہی ان تحریروں کو پڑھتے۔ وہ جو اس مملکتِ خداداد پاکستان Pakistan کے لیے اپنے پیاروں کی خاک و خون میں لتھڑی لاشیں چھوڑ کر آئے تھے، اپنے ہنستے بستے گھروں کو خیر آباد کہہ کر اور اپنے آباؤ اجداد کی قبروں کو آخری بار آنسوؤں سے سلام کہہ کر اس سرزمین کو ایک پناہ گاہ اور اپنے خوابوں کی تعبیر سمجھ کر آئے تھے، میرے ملک کا ایک دانشور طبقہ ان کے کانوں میں بھی اسی دن سے زہر گھولتا چلا آ رہا ہے۔ کسی ملک کی اس سے زیادہ بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اسکے قیام کے دن سے اسکے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کی بحثیں شروع کر دی جائیں۔ اس ملک کی تخلیق ایسے تمام "صاحبان علم" کے لئے ایک ڈراؤنا خواب تھی جو گزشتہ دو صدیوں سے سیاسیات، معاشیات، معاشریات اور بشریات کی کتابوں میں لکھتے اور کم ازکم تین نسلوں کو یہ پڑھاتے چلے آئے تھے کہ مذہب کسی قومیت کی تخلیق کا حصہ نہیں ہوتا۔ قومیں تو نسل، رنگ، زبان اور علاقے کے تعصب سے جنم لیتی ہیں۔لیکن برصغیر کے مسلمانوں نے ان کا یہ دعوی انکے سامنے ہی باطل کر کے رکھ دیا۔ مسلمان ،چیمہ، چٹھہ، وڑائچ، باجوہ، انٹر، گبول، چوہان، کوہلی، اور جاٹوں نے اپنے دادا ،پردادا کی ہندو اولادوں کو اپنا بھائی اور اپنا ہم قوم ماننے سے انکار کر دیا۔ تخلیق پاکستان Pakistan کے وقت یہ دانشور طبقہ کیمونسٹ اور ترقی پسندانقلاب کا علمبردار تھا۔ یہ کارل مارکس کے کمیونسٹ مینی فیسٹو کی آخری لائن میں دی گئی ایک عالمی قومیت کے قائل تھے یعنی "دنیا بھر کے مزدورو! ایک ہو جائو، تمہارے پاس کھونے کے لئے صرف زنجیریں ہیں اور جیتنے کو ایک دنیا پڑی ہے"۔ ان ترقی پسند دانشوروں کے نزدیک پاکستان Pakistan کا قیام اس عالمی مزدور قومیت کے تصور پر ایک شب خون تھا۔ اسی لئے انکا قلم جو شاعری لکھتا یا افسانے تحریر کرتا ہے ان میں تصور پاکستان Pakistan کا دکھ نمایاں ہوتا۔ انکی تحریریں اور تقریریں یہ ثابت کرنے پر مصر رہتیں ہیں کہ پاکستان Pakistan چونکہ مذہب کے نام پر بنا ہے، اس لیے یہ ایک غیر فطری ملک ہے اور ایک دن یہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گا، اسکے بعد ایک بار پھر نسل، رنگ، زبان اور علاقے کی بنیاد پر آباد سندھی، پنجابی، بلوچی اور پشتون قومیں اپنے وطن تراش لیں گی۔ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے انہوںنے ایک لفظ گھڑا، "مظلوم قومیتں"۔ 1971 تک مغربی پاکستان Pakistan میں بسنے والا غریب بلوچ، پشتون، سندھی اور پنجابی تمام ،ایک ظالم قوم کا حصہ تھے۔ جبکہ مشرقی پاکستان Pakistan میں بسنے والے بنگالی سرمایہ دار بھی ایک" مظلوم قومیت"۔ مشرقی پاکستان Pakistan میں بھارت India کی افواج اتریں جنکی پشت پر وہ عالمی طاقتیں تھیں جو اس نظریہ کی شکست چاہتی تھیں، انہوں نے کردار ادا کیا اور بنگالی علیحدہ ہوگئے۔ لیکن یہ کیا ہوا۔انہیں تو پھر مذہب کی بنیاد پرہی بنگالی کی بجائے بنگلہ دیشی بنا کر ایک علیحدہ ملک میں تقسیم کر دیا گیا۔ ایک بنگالی قوم، ایک بنگالی زبان و تہذیب کا نعرہ خلیج بنگال میں غرق ہو گیا اور اس نعرے کے طوفان سے جو بنگلہ دیش برآمد ہوا اس کے باسیوں میں سے ایک کروڑ آج بھی بھارت India میں رزق کی تلاش کرتے پھرتے ہیں اور اپنی شناخت کے لئے رجسٹریشن کے دفاتر میں دھکے کھاتے ہیں۔ چند دن پہلے آسام حکومت نے تین لاکھ بنگالیوں کو بھارتی Indian ماننے سے انکار کر دیا کہ یہ خواہ ہماری ہی نسل، رنگ اور زبان سے تعلق رکھتے ہیں مگر ہمارے شہری نہیں ہوسکتے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس قوم پرست بنگلہ دیش کی تخلیق کی بھٹی سے پندرہ لاکھ ایسی عورتوں کا قافلہ برآمد ہوا جنہیں دنیا کے بازاروں میں غربت و افلاس کے ہاتھوں بیچا گیا۔ لیکن میرے ملک کا یہ دانشور طبقہ گذشتہ اڑتالیس سال سے یہ راگ الاپ رہا ہے کہ کیونکہ اس ملک کی بنیاد ہی غلط تھی، کبھی مذہب لوگوں کو اکٹھا رکھ نہیں سکتا ، اسی لیے بنگالی جدا ہو گئے۔ انکے نزدیک اب باقی ماندہ پاکستان Pakistan میں غربت و افلاس کا مارا ہوا پنجابی بحیثیت مجموعی ایک "ظالم قوم "ہے اور باقی تین قومیتیں مظلوم۔لیکن یہ نعرہ بھی مدتوں سے اپنی افادیت اس لئے کھو چکا ہے کہ باجوڑ سے کراچی اور گوادر Gawadar تک کوئی شہر قصبہ یا راہگزر ایسی نہیں جہاں پشتونوں کے ہوٹل، ٹرکوں کے اڈے، دکانیں اور پلازے موجود نہ ہوں۔ سندھیوں کا کراچی اب بلوچوں، پشتونوں، پنجابیوں کا بھی اتنا ہی بڑا شہر ہے اور اردو بولنے والے تو اس کا بنیادی اکثریتی حصہ بن چکے ہیں۔ اب صرف بلوچوں کی پسماندگی کی کہانی سنا کر انہیں اس ملک سے متنفر کیا جاتا ہے۔ لیکن رباط سے لے کر جیونی تک سرحد کے پار ایران Iran میں اور رباط سے سر لٹھ کے پار افغانستان Afghanistan میں بسنے والے پاکستانی بلوچوں کی حالت زار قریب بسنے والے بلوچوں پر عیاں ہے۔ تقریبا نو سو کلومیٹر سرحد کے پار رہنے والے ایرانی بلوچ سر کاری ملازمت میں نظر آتے ہیں اور نہ ہی کسی سیاسی، انتظامی عہدے پر۔ انکا کوئی گورنر ہے اور نہ ڈپٹی کمشنر۔ یہی حال افغانستان Afghanistan کے صوبے ہلمند کے بلوچوں کا ہے۔ عطااللہ مینگل کا وہ فقرہ ان دانشوروں کے منہ پرایک طمانچہ ہے جو پاکستان Pakistan کے حصے بخرے چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، "آزادی حاصل کرنا آسان ہے لیکن اسے سنبھالنا مشکل ہے"۔ انہیں معلوم ہے کہ پاکستان Pakistan سے علیحدگی کے بعد کیسے کیسے عالمی گدھ بلوچوں کی سرزمین پر قبضے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ اس سب کے باوجود میرا یہ دانشور طبقہ اس ملک کو شروع دن سے ایک ناکام ریاست ثابت کرنے پر تلا رہتا ہے۔ ستر سال سے یہ بک بک جاری ہے۔ لیکن ان ستربرسوں میں دیکھئے کہ کیا کچھ بدل گیا۔تخلیق پاکستان Pakistan یعنی : 1947 میں سات لاکھ 28 ہزار افراد پر ایک ڈاکٹر میسر تھا، تیرہ سال بعد یعنی 1960 میں یہ تعداد دس ہزار چھ سو رہ گئی اور آج 1500 لوگوں کی صحت کے لیے ایک ڈاکٹر موجود ہے. جبکہ لاتعداد ڈاکٹر ملک سے باہر چلے گئے ہیں جن میں 45 ہزار تو صرف امریکہ United States میں ہیں۔ ہماری زرعی اجناس کی پیداوار میں چھ گنا اضافہ ہوا، چاول اور گندم کی فصل دو گنا اور کپاس تین گنا ہو گئی۔ اس ملک کی تخلیق کے وقت صرف چھ بڑے صنعتی یونٹ تھے جبکہ آج اس وقت پاکستان Pakistan میں چھ ہزار چار سو سترہ (6417) انڈسٹریل یونٹس ہیں جن میں ہر طرح کی صنعت شامل ہے۔ میرے ملک کا یہ دانشور طبقہ اور عالمی معاشی ادارے پاکستان Pakistan کی معیشت کے جائزے ان اعدادوشمار کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں جو بینکوں کے کھاتوں اور ٹیکس کی کتابوں میں موجود ہیں۔ انکے مطابق پاکستان Pakistan کی جی ڈی پی 285 ارب ڈالر billion dollor ہے، جبکہ تمام باضابطہ اور غیر رسمی معاشی سرگرمی کو ملایا جائے تو یہ 485 ارب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی قوت خرید سرکاری طور پر بتائے گئے فی کس آمدنی یعنی 1560 ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔ اسکا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ گذشتہ تین برسوں میں لوگوں نے پہلے سے ہر سال 20 فیصد پیٹرول زیادہ خرچ کیا، 18 فیصد ایئر کنڈیشنڈ، 17 فیصد کاریں اور 16 فیصد ریفریجریٹر زیادہ خریدے۔ لیکن مایوسی پھیلانے کے علمبردار دانشور آپکو کبھی بھی ہنستا بستا نہیں دیکھنا چاہتے۔ اسی لئے ہر روز اس ملک کے دیوالیہ ہو جانے، ٹوٹ جانے، بکھر جانے، تباہ و برباد ہو جانے کے تجزیے پیش کرتے رہے ہیں۔ ستر سال سے ہم انکے منہ سے ایک اور گفتگو سنتے آئے ہیں۔ یہ دیکھو ہمارے پڑوس میں بھارت، ہمارے ساتھ آزاد ہوا، وہاں جمہوریت کیسی پھل پھول رہی ہے، ہمیں تو بار بار فوج کی مداخلت نے تباہ کر دیا۔ انہیں دیکھو انہوں نے پہلے دن سے مذہب کو ریاست سے دور رکھا، سیکولرزم اور لبرل ازم پر سیاست کی بنیاد رکھی، آج دنیا بھر میں وہ سب سے بڑی جمہوریت کی وجہ سے نیک نام ہیں۔ ہمارے ہاں تو مولوی ہی ہماری جان نہیں چھوڑتا۔ ہماری تباہی مولوی کی وجہ سے ہوئی۔ بھارت India میں آئین سیکولر ہے، فوج بیرکوں میں ہے، ستر سال سے اسلام اور ملّا وہاں پابند ہیں۔ان دانشوروں کے نزدیک یہ آئیڈیل جمہوری سیکولر ریاست ہے۔بھارت India میں بھی تقریبا اتنے ہی مسلمان آباد ہیں جتنے پاکستان Pakistan میں۔ جی چاہتا ہے کہ آج دونوں ملکوں میں ایک معاہدہ طے پا جانا چاہیے، کہ جس نے سیکولرازم لبرل ازم اور جمہوریت کا مزہ چکھنا ہے وہ بھارت India چلا جائے اور جس نے ملائیت اسلام اور شریعت کے نعروں کی چھاؤں میں آنا ہے وہ پاکستان Pakistan آ جائے۔ ستر سال بعد ایک بار پھر تبادلہ آبادی، ایک اور ریڈ کلف ایوارڈ۔ لیکن میں شرط لگا کر کہتا ہوں ان دانشوروں میں سے کوئی ایک بھی بھارت India جانا پسند نہیں کرے گا۔ البتہ اس ملک کا کھا کر یہاں رہ کراسے گالی ضرور دیتا رہے گا۔

 199