پاک افغان ٹاکرا ۔۔۔ بات کیوں بگڑی؟؟؟

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

01 جولائی 2019

پاک  افغان ٹاکرا ۔۔۔ بات کیوں بگڑی؟؟؟

پرسوں پاک افغان کے سنسنی خیز مقابلے کے بعد جیت کی خوشی میں فورا سے پیشتر پوسٹ کی۔۔اس پوسٹ میں افغانستان کا کھلاڑی گیند اٹھاے کھڑا تھا اور ایک شعر کو توڑ مڑوڑ کر فنی سا رخ دے کر لکھا ۔۔جو کہ کچھ یوں تھا .

. ہمیں بھی رنج ہوا میچ ہارنے پہ مگر

فخر یہ ہے کہ تمہیں ٹھیک ٹھاک خوار کیا ۔

۔اس پوسٹ کو میں نے ایک گروپ میں لگانے کی غلطی کردی۔۔ایک گھنٹے بعد جو دیکھا میں پریشان رہ گئی۔میری پوسٹ پر پاکستانی اور افغانی سپورٹرز دست و گریباں تھے ۔۔کوئی سو ڈیڑھ سو بندہ بیک وقت آپس میں لڑا پڑا تھا۔۔ کمنٹس میں میچ کے دوران ہونے والی بدمزگی کی فوٹیجز اور ویڈیوز دیکھ کر دل اداس ہوگیا۔۔

یہ لوگ ایک دوسرے پر انتہائی غلط الزامات لگا رہے تھے۔۔میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ ایک کھیل تھا اسکو جنگ نا بنائیں تو کچھ جذباتی لوگ مجھے بھی ساتھ میں رگید نے لگے کہ افغان پلئیرز کی تعریف کی تو کیوں کی ۔۔۔؟

کچھ نے افغانی ایجنٹ قرار دیا۔۔اور کچھ باقاعدہ گالم گلوچ پر اتر آے تو مجھے پوسٹ ڈیلیٹ کرنی پڑی ۔۔

لیکن یہ پوسٹ بہت سے سوالیہ نشان دماغ میں چھوڑ گئی۔۔آئے مل کر ان کے جواب ڈھونڈتے ہیں۔۔

۔سب سے پہلے بات کرتے ہیں پاک افغان کے اس نہج پر پہنچے تعلقات کی۔۔کیا وجہ کہ جب جنگ بھی تقریبا ختم ہوچکی۔۔افغانستاں میں اب شمالی اتحادیوں کی حکومت بھی قایم ہوچکی۔۔طالبان کی رزسٹنس بھی کافی کم ہوگئی اب کس چیز کی دشمنی ہے ان کو؟؟

جو قوتیں چاہتی تھی کہ پاکستان اور افغانستان کبھی ایک نا ہوں نا ان کے مفادات ایک ہوں تو ان کو اب سوشل میڈیا کی صورت ایک مضبوط جواز مل گیا ہے ہایپ کری ایٹ کرنے اور عوام کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کا۔۔

انڈیا وہ ملک ہے جس کا قول ہے ہمسایے سے کبھی بنا کر نا رکھو لیکن ہمساے کے ہمساے سے ہر صورت بنا کر رکھو ۔۔اسی لیے تو ایران اور افغانستان سے اس کے تعلقات اچھے رہتے ہیں کیونکہ وہ ہمساے کے خلاف استمعال کے کام آئیں گے۔۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ افغانیوں کا ایک گروہ بھاری فنڈنگ لے کر ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن گیا۔۔

اور ان کو جو کہا گیا انہوں نے وہی کیا۔۔

اب تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ۔۔پاکستان نے تو ان کو مظلوم سمجھ کر تقریباً ان کا ساتھ دیا ہے ان کو پناہ دی ۔۔اب ان کے دل سے ہمدردی کیسے ختم کی جاے تو اس کے لیے اب سوشل میڈیا سے بڑھ کر کچھ سازگار نا تھا۔۔۔پاکستانیوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی ۔۔اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔۔

۔ٹویٹر پر نمک حرام ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔۔سخت افسوس ہوا۔۔ اس درجہ جہالت کی امید نا تھی۔۔انکی تو اخلاقی تربیت میں کمی رہ گئی آپ کے بقول۔۔لیکن آپ کی تو اخلاقی تربیت اچھی ہونی چاہیے تھی نا۔۔۔!

نا وہ نمک حرام ہیں نا آپ حرام خور۔۔کچھ شر پسند عناصر کو سارا افغانستان نہیں کہا جاسکتا ۔۔اور اسی طرح ہمارے پچھلوں سے ہوئی چند غلطیوں کی سزا ہمیں دی جاے۔۔یہ بھی غیر مناسب ہے۔۔۔

اگر افغانی یہ نہیں بھلا رہے کہ پاکستان کی زمین ان پر حملے کے لیے استعمال ہوئی تو ان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہی پاکستان کی زمین تھی جہاں سے روس سے جنگ کے نتیجے میں کوئٹہ سے کھیپ کی کھیپ مجاہدین کی تیار ہو کر آپ کی مدد کو جاتی تھی ۔

آپ کو پاکستان نے کھل کر سپورٹ کیا تھا۔۔۔بے شک امریکہ سعودیہ وغیرہ بھی اس امداد میں شامل تھے اس وقت۔۔لیکن پاکستان نے آپ کو بھائیوں کی طرح سپورٹ کیا۔۔

افغانستان کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کو پناہ دی ان کا خیال رکھا ۔۔اگر امریکہ سے امداد لی تو ان کو بھی کھلائی بھوکا نا رکھا ۔۔مانگ تانگ کر ان کو تو کھلایا ۔۔پھر چند سو یا ہزار نا تھے تیس لاکھ تھے۔۔ہم بھی کوئی رئیس ملک نا تھے کہ ان سب کو ججوں کے عہدے دے دیتے ۔۔ظاہر ہے محنت مزدوری جب اپنی غریب عوام کر رہی تھی تو آپ نے بھی کرنی تھی نا۔۔!

۔۔جنگ آپ کی اور امریکہ کی تھی عذاب میں ہم کو ساتھ میں ڈالا گیا۔۔اڈے دیئے تب بھی پھنسے نا دیتے تب بھی پھنستے۔۔۔آپ پہلے روس کی وجہ سے کافی پریشانی دیکھ چکے تھے ۔۔اتنی ہی ہم وطنوں کی فکر تھی تو دے دیتے اسامہ اور جان چھڑوا لیتے اپنی ۔۔کوئی ریفرنڈم کرا لیتے کہ اسامہ دیں یا نا دیں ۔۔ مشورہ کے بعد امریکہ سے مذاکرات کا حل سوچتے۔۔لیکن سب جانتے بوجھتے آپ نے جنگ قبول کی تو نتایج سے بے خبر تو نا تھے ۔۔۔پھر ہوا کیا ۔۔انسانی جانوں کا جی بھر کر نقصان۔۔۔

اب آتے ہیں پاکستان کے پناہ۔گزینوں کی طرف۔۔تو ان کا پہلا شکوہ یہ تھا کہ ہمیں جبری طور پر مجاہدین میں بھرتی کرکے لڑنے بھیجا گیا۔۔۔یعنی واہ آپ کے ملک میں جنگ ہوئی اصولا تو خود جاتے لڑنے کے لیے ۔۔ناکہ آپ کو زبردستی بھیجا جاے۔۔ہمیں احساس ہے گھر بار چھوڑنا آسان کام نہیں۔۔آپ نے بہت مشکلات دیکھیں۔۔ لیکن ہمارا بھی اتنا قصور نہیں جتنی کئی سالوں سے سزا دے رہے ہو۔

۔۔پھر اتنی شکایات ہیں اگر ہم سے تو چلے جائیں واپس اپنا ملک دوبارہ آباد کریں۔۔اللہ اللہ خیر صلا ۔۔۔لیکن آپ رہنا بھی یہی چاہتے ہیں اور بنا کر بھی نہیں رکھ رہے بغض بھی رکھا ہوا ہے تو خدارا ہوش کے ناخن لیں۔۔پاکستان آپ کے ہاتھوں یرغمال نہیں بن سکتا یہ بھول چھوڑ دیں۔

ؓ۔یہ چھولے بیچ کر ایٹمی طاقت نہیں بنا۔۔یہ اپنی سالمیت پر کوئی کمپرومایز نا کرے گیں۔اگر پاکستان سے شکایتیں ہیں تو شکایتیں ہمیں بھی ہیں۔۔ہمیں بھی سکھ کا سانس نہیں لینے دیا آپ لوگوں نے۔۔

آج بھی افغان کا وہ طبقہ جو کسی لابی کا حصہ نہیں پاکستان کا خیر خواہ ہے اور کبھی بھی دشمن نا کہے گا ۔۔۔ہم بھی ان کے حمایتی رہیں گے مرتے دم تک۔۔لیکن یہ جو کردار شروع کیے ہوے ہیں نقصان ہی ہونا ہے۔۔کب تک دوسروں کی جنگیں لڑتے رہوگے؟ انڈیا سے دوستیاں بڑھاوگے ہمیں تکلیف تو ہوگی ۔

۔لیکن آپ کو نقصان پھر بھی نہیں پہنچایا۔۔یہی کہا کہ اپنے ملک واپس چلے جاو ۔۔اور ہم بارڈر کو مزید مضبوط کرنے کی سوچتے۔۔

لوگ آپ کے مرے تو ہمارے کتنے مرے یہ حساب کون دے گا؟ خودکش دھماکوں کی صورت ہزاروں لوگ قربان کیے۔۔اپنے بچوں کی لاشیں آپ نے اٹھائیں تو ہم سے بھی تو اٹھوا لیں۔۔سکون آپ کو نا رہا تو ہم نے کونسا سکھ کے دن دیکھے۔۔

غلطیوں کو بھلانا ہوگا۔۔ ۔۔عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنا ہوگا ۔ ۔۔ایک دوسرے کے مسایل کو سمجھ کر مل کر حل نکالتے۔۔شر کی طاقتیں یہی چاہتی ہیں کہ مسلمان کبھی اتحاد نا کریں۔۔کبھی ایک طاقت کے طور پر نا ابھریں اور آپ نے اب ثابت کیا کہ ہاں ہم کبھی امت نہیں بنیں گے۔۔

۔میرے ہم وطنوں کو بھی ہوش سے کام لینا ہوگا۔۔سوشل میڈیا وار کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے ہمیں بردباری کا ثبوت دینا ہوگا۔۔اور معاملہ فہمی سے کام لینا ہوگا۔ شر پسند عناصر میں سارا افغانستان نہیں ہے۔۔ٹارگٹ کرنا ہی ہے تو انہی کو مینشن کرکے کرو ۔پوری قوم کو ٹارگٹ نا کرو۔

۔۔اور آخر میں افغان کے اس ٹولے کے لیے ایک میسج جو کہ بھاری فنڈنگ لے کر کٹھ پتلی بنا ہوا ہے۔۔اس ٹولے کی شروع سے عادت رہی ہےپہلے روس سے مراعات لے کر استعمال ہوے۔۔پھر امریکہ سے لے کر اور اب انڈیا سے دوستانہ گانٹھ لیا۔ یہ جو کہیں ان کی مان بھی لیتے ہیں پھر ۔ نہیں مانیں گے تو ہماری ۔۔۔مانیں بھی کیوں۔؟

کیوں کہ ہم ان کو اس طرح نا نواز سکے نا ہمارے پاس اتنا پیسہ تھا ۔۔خدا کے لیے اپنا تشخص بنائیں۔۔پاکستان آپ کا دشمن نہیں۔۔اپنی ترجیحات میں اپنے ملک کا مفاد مد نظر رکھیں نا کے دوسروں کے اشاروں پر چلیں۔۔ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔۔

 217