شمایلہ کا دلہا

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

28 جون 2019

Shumaila Ka dulha

شمائلہ کا گھر میرے پڑوس میں واقع ہے۔۔بہت پیاری اور فرینڈلی لڑکی ہے۔تین بھائیوں کی اکلوتی اور ظاہر ہے گھر بھر کی لاڈلی ۔۔پڑھائی میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی اسکو ۔۔لہذا ایف اے کے بعد اچھے سے رشتے کے انتظار میں تھے۔۔لڑکی شکل کی بھی اچھی سٹائلش تھی لہذا امید تھی کہ مناسب رشتہ آجاےگا۔

اس کا اکثر میرے گھر اپنی والدہ کے ساتھ آنا جانا رہتا تھا ۔اور جب بھی اسکی شادی کا ذکر چلتا ان ماں بیٹی کا ایک ہی بیان سننے میں آتا کہ کچھ اور ہو نا ہو لڑکا ہینڈسم ہو بس۔۔مجھے حیرت ہوتی کہ ان ماں بیٹی کی مزید کوئی بھی خصوصی ڈیمانڈ نا تھی۔

۔خیر دن گزرتے گئے دو مہینے پہلے اچانک لڑکی کی آمد ہوئی ہاتھ میں مٹھائی کی پلیٹ ۔۔اور چہرے پر اتنی خوشی تھی کہ واضح نظر آرہی تھی۔۔میں نے مٹھائی کی وجہ پوچھی۔۔شرماتے ہوے بولی" آپی میرا رشتہ طے ہوگیا ہے۔۔" میں نے مبارک باد دی پھر پوچھ بیٹھی " تو ہینڈسم لڑکا مل گیا محترمہ؟" مزید شرمانے لگی " ہاں آپی پورے سلمان خان ہیں میرے منگیتر" میں نے چونک کر دیکھا واہ بھئی واہ ۔۔چلو اللہ مبارک کرے۔۔پتہ چلا ایک مہینے کے اندر اندر شادی ہے کیونکہ لڑکا چھٹیوں پر آیا ہوا تھا اور شادی کے بعد بیوی کو لے کر دبئی چلا جاتا۔

۔لڑکی اپنی بے پناہ خوشی کے ساتھ چلی گئی ۔میں نے دل ہی دل میں اسکے اچھے نصیب کے لیے دعا کی۔۔ایک ہفتے بعد اس کی والدہ آگئیں اور مجھ سے ریکویسٹ کی کہ میری بیٹی کو مہندی اور شادی پر تم تیار کردو۔۔میں نے نا چاہتے ہوے بھی حامی بھر لی۔۔کیونکہ ایک تو ہمساے تھے دوسرا لڑکی بھی عزیز تھی مجھے۔

۔مہندی والا دن آن پہنچا لڑکی کو میرے گھر چھوڑ دیا گیا ۔میں نے اپنی بھابھی سے کہہ کر اس کو مہندی لگوانا شروع کی۔ اس کا نکاح بھی ساتھ میں تھا ۔۔تو اسکے رشتے دار وغیرہ بھی جمع تھے۔۔اب ایک تماشہ یوں شروع ہوا بار بار اس کی کزنز ،خالا پھپھو وغیرہ اس کا پتہ کرنے آتیں۔۔اور ایک ہی بات مختلف زاویوں سے کرتیں۔۔" ہاے شمایلہ کا دلہا بہت پیارا ہے" اب میں غیر ارادی طور پر میں متوجہ ہوئی ۔

دلہن سے کہا "کوئی تصویر ہو موبائل میں دکھا دو " یہ پہلے شرمائی پھر بولی "میرے پاس تو کوئی نہیں البتہ بھائیوں کے پاس ہے۔منگا دوں آپ کے نمبر پر ؟؟۔" میں ہڑبڑا کر بولی " نہیں رہنے دو کل تمہاری شادی پر دیکھ لونگی ۔"۔ ایک محترمہ جوش خطابت میں بولیں " دلہا تو شمایلہ کا ہے باقی سب بے کار ہیں۔" میں نے اس سٹیٹمنٹ کے بعد بدمزگی سے ان کو دیکھا اور دل میں سوچا " باقی سب اپنے شوہروں کو پھانسی پر لٹکا دیں پھر"۔

۔شام تک اس کی مختلف رشتے دار آتی رہیں اور "دلہا نامہ" اتنا سنا کہ مجھے دل میں یقین ہوگیا کہ ضرور کوئی "یونانی دیوتا " ہوگا ورنہ اتنی ساری عورتیں اکھٹی دیوانی نا ہوتیں ۔ اب اس دلہے کو دیکھنے کی خواہش فطری تھی۔شام کو بارات کے آنے سے پہلے اسکی ماں آگئی میں نے لڑکی کو ہلکا پھلکا تیار بھی کردیا تھا ۔۔جب جانے لگی گیٹ پر مڑ کر مجھے دیکھا اور بولیں۔۔" میری بیٹی بہت خوش قسمت ہے اس کا دلہا چاند ہے پورا ۔بیٹا آپ ضرور آنا شادی پر دیکھنا کتنے جچتے ہیں۔۔" یہ تو چلی گئی مجھے مزید تجسس میں ڈال گئیں۔۔

۔۔میں واپس آئی جہاں امی بھابھی اور مامی شمایلہ کے دلہے کا ہی ذکر رہیں تھیں کہ لڑکی کا سارا خاندان پاگل ہوا پڑا ہے پتہ نہیں کیسا ہے اس کا دلہا ۔۔؟ " میں بھی ہنسنے لگی اور بولی " ہاں یار اب تو دیکھنا بنتا ہے اس "یوسف ثانی " کو۔۔۔ اتنے میں گلی میں بینڈ باجوں کی آواز آئی۔۔ہمیں اندازہ ہوگیا کہ بارات آگئی ہے ۔۔

امی کی طبیعت ٹھیک نا تھی لہذا یہ نکاح پر نا گئیں تو بڑی کے بغیر ہم چھوٹے جاتے یہ مناسب نا لگ رہا تھا۔اور ان کی ناساز طبیعت سے لگ رہا تھا کہ شادی پر بھی نا جا پائیں گے۔۔شمایلہ کا دلہا دیکھنے کا بھی اشتیاق ہو رہا تھا۔۔میں نے بھابھی سے کہا "یار جب بارات واپس جانے لگے ہمیں دلہا دیکھنا چاہیے ۔۔" پتہ تو چلے موصوف ہے کیسا ؟؟ صبح سے تعریفیں سن سن کر عاجز آچکے تھے۔۔ بھابھی نے دریافت کیا " ہاں لیکن کیسے دیکھیں؟؟" مامی نے بھہی لقمہ دیا "ہاں یار دیکھیں تو سہی سارے محلے نے آج تمہارے گھر آکر اس دولہے کی شکل کو سراہا ہے"

امی نے طنز کیا " تینوں ایسا کرو ان کے گھر چلی جاو کہ ہم دلہا دیکھنے آئیں ہیں۔۔" میں نے انکا مشورہ رد کیا " نہیں یار گھر جانا ضروری نہیں ہم گلی سے دیکھ لے گیں۔۔"

بھابھی نے خدشہ ظاہر کیا " اگر اس نے سہرا باندھا ہوا تو ؟؟" میرا جواب" پھر ہماری قسمت " امی نے پھر سے مجھے چھیڑا ۔" اسکا سہرا اتروا لینا اور کہنا ہمیں شکل دکھا دو "ان کا یہ مشورہ بھی مجھے ایک آنکھ نا بھایا ۔

اب امی کا سوال" دیکھو گی کیسے ؟؟"۔

۔میں نے کہا "سیڑھی سے"

اگلا سوال " سیڑھی سے نا نظر آیا تو؟؟"

" تو گیٹ سے دیکھ لے گیں" میں نے اگلی وضاحت دی .

"اور اگر گیٹ سے بھی نظر نا آیا تو ،،؟"

میں نے بدمزگی سے امی کو دیکھا اور تنک کر جواب دیا " بھابھی سیڑھیوں میں ٹھہر جاے گی میں گیٹ پر اگر ان دونوں جگہ پر نظر نا آیا تو ۔۔۔بریک لگا کر مامی کو دیکھا اور سلسلہ کلام جوڑا " تو میں مامی کو گلی کی نکڑ پر وکیل کے گھر کے ساتھ ٹھہرا آتی ہوں یہ وہاں گاڑی رکوا دے گی میں جا کر دیکھ لونگی۔۔"

میں نے اتنی سنجیدگی سے یہ پلان بتایا کہ یہ دونوں خواتین ہڑبڑا کر مجھے دیکھنے لگیں۔۔

مامی بوکھلا کر بولیں " پاگل تو نہیں ہو ؟؟ میں نہیں جاونگی وکیل کے گھر کے ساتھ" میں نے اطمینان سے جواب دیا " چلو تھوڑی سائیڈ پر کھڑی ہوجانا "

امی نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا " کوئی ضرورت نہیں اسکی شادی کی تصویریں منگا کر دیکھ لینا۔۔میں ان کو مزید تنگ کرتی لیکن مامی کے بیٹے نے آکر اطلاع دی کہ بارات چلی گئی ۔میں نے مصنوعی خفگی سے دیکھا "اب راضی ہو"؟؟ بہرحال شمائلہ شادی کروا کر چلی گئی اور اس کا دلہا ابھی بھی میں نے نہیں دیکھا ۔۔تجسس ہنوز قائم ہے۔۔اب پتہ نہیں تصویریں آئیں تو پتہ

 157