1992 اور رواں ورلڈکپ میں پاکستان Pakistan کی کارکردگی میں حیران کن مماثلت

25 جون 2019

1992 World Cup and 2019 cup situation same pakistan

لندن : کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں پاکستان Pakistan کرکٹ ٹیم کا سفر اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، کبھی خوشی اور کبھی غم کا سلسلہ جاری ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ورلڈ کپ 1992 میں ہوا تھا، ہوبہو ویسا ہی۔

پاکستان Pakistan کرکٹ ٹیم کا ورلڈ کپ 2019 کیلئے نعرہ ہے 'وی ہیو ۔ وی ول' یعنی ہم نے پہلے بھی کر دکھایا تھا اور اب بھی کر دکھائیں گے۔

پاکستان Pakistan کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس اس نعرے کی عکاسی یوں کررہی ہے کہ جس انداز میں پہلے کیا تھا اس بار بھی اسی انداز میں کریں گے۔

ورلڈ کپ 2019 میں پاکستان Pakistan کی کارکردگی اور اگر مگر کی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو یہ 1992 سے بالکل بھی مختلف نہیں۔

27 سال قبل بھی پاکستان Pakistan نے ویسٹ انڈیز کیخلاف شکست کے ساتھ ٹورنامنٹ شروع کیا، اس بار بھی، پھر دوسرا میچ جیتا اور تیسرا میچ بارش کی نظر ہوا، یہ اس سال بھی ہوا اور 27 سال پہلے بھی۔

چوتھے اور پانچویں میچ میں پہلے بھی پاکستان Pakistan کو شکست ہوئی تھی اور اس بار بھی پاکستان Pakistan کو شکست ہوئی۔ 1992 میں پاکستان Pakistan ٹیم جب اپنا چھٹا میچ جیتی تو مین آف دی میچ لیفٹ آرم بیٹسمین عامر سہیل تھے، اس بار جب ٹیم چھٹا میچ جیتی تو مین آف دی میچ لیفٹ آرم بیٹسمین حارث سہیل بن گئے اور تو اور پہلے بھی پاکستان Pakistan کی امیدیں آسٹریلیا سے وابستہ تھیں، آج بھی آسٹریلیا سے ہی امید ہے۔

1992 میں پاکستانی ویسٹ انڈیز کیخلاف آسٹریلیا کی فتح کیلئے دعاگو تھے اور اب کی بار انگلینڈ کیخلاف آسٹریلیا کی فتح کی دعائیں کرنی ہوں گی۔

یہ بھی یاد رہے کہ 92 میں بھی پاکستان Pakistan کا سامنا کرنے سے قبل نیوزی لینڈ کوئی میچ نہیں ہارا تھا اور اس بار بھی کیویز ناقابل شکست اور بدھ کو پاکستان Pakistan سے میچ کیلئے تیار ہیں۔

شائقین کرکٹ 1992 اور 2019 میں اس قدر یکسانیت دیکھنے کے بعد پر امید ہیں کہ پاکستان Pakistan ٹیم کیلئے ورلڈ کپ کا نتیجہ بھی ویسا ہی ہو، جیسا 1992 میں ہوا تھا۔

 153