مفاہمت یا مزاحمت

قلم کمان - حامد میر

24 جون 2019

Mufahmat ya Muzahmat

سیاست میں تلخیاں مزید بڑھنے والی ہیں۔ مزید مقدمات اور مزید گرفتاریوں پر حکمران خوشیوں کے ڈھول پیٹتے نظر آئیں گے لیکن یہ ڈھول ایک نئی جنگ کا طبل بن جائیں گے۔ اس جنگ سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جو اپنے آپ کو بڑا بااختیار سمجھتے ہیں، وہ بے اختیار ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اختیار کا تعلق اقتدار سے نہیں بلکہ اخلاقی معیار سے ہوتا ہے۔ جو جتنا سچا اور باخبر ہوتا ہے، جو جتنا عوام کے قریب ہوتا ہے وہ اتنا زیادہ بااختیار ہوتا ہے۔ جو اپنے وعدے پورے نہ کرے، جس کے فیصلوں کی بنیاد غلط خبریں ہوں، وہ تیزی کے ساتھ بے اختیار ہوتا چلا جاتا ہے۔ بس دیکھتے جایئے۔ کچھ انتظار کیجئے۔ آج کل بہت سے بااختیار لوگ بے خبری کے سمندر میں غوطے لگا رہے ہیں۔ یہ ڈوبنے سے بچ گئے تو معجزہ ہو گا۔ ان بے خبروں کا تعلق صرف حکومت سے نہیں بلکہ اپوزیشن سے بھی ہے۔ یہ عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔ یہ عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفاد میں جب چاہے چیخنا شروع کر دیتے ہیں، جب چاہے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ خاموشی کی اصل وجہ بتاتے ہیں نہ چیخوں کی لیکن گھبرایئے نہیں۔ سب کی سچائیاں سامنے آئیں گی۔ سب کے نقاب اتریں گے۔ چراغ سب کے بجھیں گے لیکن اندھیرا نہیں ہو گا۔ مجھے نئی روشنیاں نظر آ رہی ہیں اور یہ روشنیاں بھی اسی پارلیمنٹ میں سے نمودار ہو رہی ہیں جس پارلیمنٹ میں آج کل بہت شور شرابہ اور ہاہاکار مچی نظر آتی ہے۔ پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا نے پچھلے ہفتے ایک ایسی قرار داد منظور کی ہے جس پر میرا سر فخر سے بلند ہو گیا۔ جی ہاں! سینیٹ آف پاکستان Pakistan میں حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق رائے سے ایک قرار داد منظور کر ڈالی۔ قرار داد کے محرک جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان تھے۔ مشتاق صاحب نے مجھے کہا کہ یہ قرار داد آپ کے پچھلے کالم ’’شیر کی موت‘‘ کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی لیکن مجھے کوئی غلط فہمی نہیں۔ یہ قرار داد اپوزیشن کی طرف سے آئی اور حکومت کے کسی ایک بھی سینیٹر نے اس کی مخالفت کی نہ اس میں ترمیم تجویز کی۔ اس قرار داد کا منظور ہونا موجودہ حالات میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور اس کا کریڈٹ اُن تمام سینیٹرز کو جاتا ہے جنہوں نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دے کر صرف پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی نہیں کی بلکہ دنیا بھر کے جمہوریت پسندوں کی طرف سے آمریت کے ایڈونچر کرنے والوں کو پیغام دیا کہ پاکستان Pakistan سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں جمہوریت کو ختم کیا گیا یا آئین پامال کیا گیا تو ہم سب مل کر آواز بھی اٹھائیں گے اور مزاحمت بھی کریں گے۔

اس تاریخی قرار داد کو میڈیا میں زیادہ اہمیت نہیں ملی۔ شاید اس لئے کہ سینیٹر مشتاق احمد خان نے یہ قرار داد انگریزی میں پیش کی اور اس میں بار بار سویلین بالادستی کا ذکر تھا۔ سینیٹ آف پاکستان Pakistan نے اس قرار داد کے ذریعہ مصر کے سب سے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی دورانِ قید المناک موت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے جمہوریت، آئین پسندی اور سویلین بالادستی کے لئے محمد مرسی کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ قرار داد میں کہا گیا کہ محمد مرسی کی جدوجہد اور ثابت قدمی ہمیں پاکستان Pakistan کے اُن لیڈروں کی یاد دلاتی ہے جنہوں نے جمہوریت اور سویلین بالادستی کے لئے ڈکٹیٹروں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ سینیٹ آف پاکستان Pakistan نے ہیومن رائٹس واچ کے اس مطالبے کی تائید کی کہ جن حالات اور وجوہات کے باعث محمد مرسی کی موت ہوئی ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ اس قرار داد میں حکومت پاکستان Pakistan سے مطالبہ کیا گیا کہ ایک لیگ آف ڈیموکریٹک اسٹیٹس (جمہوری ریاستوں کا اتحاد) بنایا جائے تاکہ ڈکٹیٹروں کے ایڈونچر ازم کے خلاف مزاحمت کی جائے۔ اس قرار داد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ حکومت پاکستان Pakistan کی طرف سے مصر میں سیاسی قیدیوں کے فیئر ٹرائل کو یقینی بنایا جائے اور اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس چارٹر کے علاوہ او آئی سی ہیومن رائٹس چارٹر (قاہرہ ڈیکلریشن 1990ء) کی خلاف ورزی کو روکا جائے۔ یہ بھی سُن لیجئے کہ قرار داد کے آغاز میں سینیٹر مشتاق احمد خان نے فرمایا کہ ’’میں یہ قرار داد لیڈر آف دی ہائوس اور لیڈر آف دی اپوزیشن کے ساتھ مل کر پیش کر رہا ہوں‘‘۔

کچھ سمجھ آئی آپ کو؟ پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں حکومت اور اپوزیشن نے مل کر مصر کے صدر جنرل عبدالفتح السیسی اور اُس کے تمام عالمی سر پرستوں کی مذمت کر دی۔ اس قرار داد کی منظوری سے اگلے دن امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی پاکستان Pakistan کے دورے پر تشریف لائے تو انہیں 21توپوں کی سلامی دی گئی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa اتفاق سے پاکستان Pakistan میں نہیں تھے وہ برطانیہ میں تھے لیکن پاکستان Pakistan کے صدر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے امیرِ قطر کی جو عزت افزائی کی وہ سینیٹ کی قرارداد کی طرح بہت غیر معمولی تھی کیونکہ امیرِ قطر دنیا کے اُن چند حکمرانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کی مذمت کی، انہوں نے محمد مرسی کے ساتھیوں کو قطر میں پناہ دی جس پر ایک عرب ملک نے اعتراض کیا۔ امیرِ قطر نے محمد مرسی کی موت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار بھی کیا۔ امیرِ قطر اور نواز شریف Nawaz Sharif کے خاندان میں دوستانہ تعلقات بھی ڈھکے چھپے نہیں۔ انہی دوستانہ تعلقات کی وجہ سے کچھ عرب ممالک نواز شریف Nawaz Sharif سے دور ہو گئے تھے کیونکہ قطر کو ایران Iran کا خاموش اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ امیرِ قطر کی پاکستان Pakistan میں عزت افزائی پر کئی عرب دارالحکومتوں میں پیشانیوں پر بل پڑ چکے ہیں اور خارجہ محاذ پر پاکستان Pakistan کے لئے کئی نئی پریشانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال میں وزیراعظم عمران خان Imran Khan کو داخلی استحکام کی ضرورت ہے لیکن وہ داخلی استحکام کے تقاضوں سے بے خبر نظر آتے ہیں۔ کوئی بھی ذی شعور اس امر کی تردید نہیں کر سکتا کہ حکومت اور اپوزیشن میں میثاق معیشت کا کسی ایک پارٹی یا افراد کو نہیں پورے ملک کو فائدہ ہے لیکن تحریک انصاف کی قیادت نے میثاق معیشت کی تجویز کو این آر او کی کوشش قرار دے کر ایک گالی بنا دیا ہے لہٰذا فی الحال میثاق معیشت کو بھول جایئے۔

پاکستان Pakistan کی سیاست میں ایک نئی جنگ کا میدان سج چکا ہے۔ نواز شریف Nawaz Sharif اور آصف زرداری ایک دفعہ پھر جیل میں ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں یہ لڑائی پارلیمنٹ سے باہر لڑنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں اور مولانا فضل الرحمٰن کو اپنا سپہ سالار مقرر کر چکی ہیں۔ اندر کی خبر یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے مولانا صاحب سے رابطہ کیا ہے تاکہ انہیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی سے علیحدہ کیا جائے لیکن مولانا صاحب جانتے ہیں کہ ان کی سیاسی بقا مفاہمت میں نہیں مزاحمت میں ہے۔ عمران خان Imran Khan نے مفاہمت کو گالی بنا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے کچھ اتحادی بھی اس گالی سے نجات چاہتے ہیں لیکن گھبرانا نہیں۔ اسی توڑ پھوڑ اور تخریب میں سے تعمیر جنم لے گی۔

 214