بال خان صاحب کے کو رٹ میں

زیر بحث - عارف نظامی

24 جون 2019

Bowl Khan Sahib kay Court main

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر Asad Qaiser حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت کنند ہ کا کردار ادا کر رہے ہیں ، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں حکومت بھی میثاق معیشت پر بات چیت کے لیے تیار ہے ۔اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اپنی بجٹ تقریر اور اس سے پہلے بھی میثاق معیشت پر بات چیت کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں ۔ آصف علی زرداری جو پروڈکشن آرڈرز کے ذریعے بدھ کو قومی اسمبلی میں آئے تھے ،غیر معمولی مصالحانہ موڈ میں تھے،انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی بھی میثاق معیشت پر ایسے اتفاق رائے کو تیار ہے جس کے بعد حکومتیں بدلنے سے بھی معاشی پالیسیوں پر کوئی منفی اثر نہ پڑ ے۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے چیف وہپ عامر ڈوگر کے ذریعے پیشکش کی ہے کہ اگر وزیر اعظم Prime Minister شرف قبولیت بخشتے ہیں تو ہم بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں ۔ ایسے لگتا ہے کہ میثاق معیشت ہو یا نہ ہو لیکن اس گھڑمس میں بجٹ ضرور پاس ہو جائے گا ۔ ویسے بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان 2006ء میں ہونے والے میثاق جمہوریت کو عمران خان Imran Khan سمیت تحریک انصاف والے’ میثاق لوٹ مار‘ قرار دیتے رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق اس میثاق مک مکاکے ذریعے دونوں پارٹیوں نے باریاں لیں اور قوم کی دولت لوٹ کر لے گئے۔اب مریم نواز Maryam Nawaz نے اپنے چچا جان کی تضحیک کرتے ہوئے اسے ’مذاق معیشت ‘ کہہ کر رد کر دیا ہے بقول ان کے یہ اُن کی ذاتی رائے ہے جبکہ میری اپنی رائے ہے ۔ظاہر ہے میاں شہبازشریف سیاسی جانشین کے سامنے بے بس ہیںوگرنہ اپنی نائب صدر کو بطور صدر ڈسپلن کی خلاف ورزی کر نے پر شوکاز نوٹس دینا چاہیے ۔ گھر کا بھید ی لنکا ڈھا ئے، وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چودھری نے نیب سے متعلق یہ بیان دے کرکہ ’’ہم احتساب کر رہے ہیں نیب نہیں ‘‘چیئرمین نیب کوناراض کر لیا ہے۔نیب نے اس پر ناراضی کااظہار کرتے ہوئے فواد چودھری کے بیان کو حقا ئق کے منافی قرار دیا ہے اور کہا ہے کرپشن کے حوالے سے حکومت نے آج تک کوئی ریفرنس نیب کو نہیں بھیجا ۔ حکومت کا استدلال اس کے بالکل برعکس ہے کہ ہمارا احتساب سے کوئی تعلق نہیں ۔ میثاق معیشت اصولی طور پر ایک انتہائی درست تجویز ہے، اس قسم کے میثاق پر اتفاق رائے پیدا کرنا اس وقت مشکل تھا جب سیاسی جماعتوں کے اقتصادیات کے بارے میں نظریات مختلف ہوتے تھے۔ پیپلز پارٹی ایک زمانے میں اسلامی سوشلزم کی علمبردار تھی اور اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے 1972ء میںوزیراعظم بنتے ہی صنعتیں قومیالی تھیں لیکن اب تحریک انصاف ، مسلم لیگ (ن) ،پیپلز پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اورایم کیو ایم حتیٰ کہ مذہبی جماعتوں سمیت تمام سیاسی جماعتیں سرمایہ دارانہ نظام کی داعی ہیں۔ سب متفق ہیں کہ نجی شعبے کو مستحکم ہونا چاہیے ،بجٹ خسارہ کم کرنا چاہیے، صنعتی، تجارتی اور زرعی شعبے کے کام میں حکومت کو مداخلت کر نے کے بجائے بلکہ ان کے لیے سہولت کار بننا چاہیے لیکن اس میںدیگر کئی مشکلا ت ہیں ۔ ایک تو حکومتی جماعت اور اپوزیشن میں اعتماد کا شدید فقدان ہے ۔حکمران جماعت تمام بیماریوں کی جڑ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کرپشن اور بدانتظامی کو قرار دیتی ہے جبکہ اپوزیشن عمران خان Imran Khan کو نالائق وزیراعظم کہتے نہیں تھکتی اور ریکارڈ کم وقت میں معیشت کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ حکومت کی طرف سے اقتصادی محاذ پر بھی اپوزیشن کے خلاف الزام تراشی اوربقول اپوزیشن انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں لیے گئے قرضوں کی چھان بین کے لیے خان صاحب کی ہد ایت پر بارہ رکنی کمیشن قائم کر دیا گیا ہے جس کے سربراہ ڈپٹی چیئرمین نیب ،پولیس آ فیسرحسین اصغر ہیں ۔ اس میں ملٹری انٹیلی جنس ،آ ئی ایس آ ئی،آ ئی بی،ایف آ ئی اے،نیب،ایس ای سی پی، سٹیٹ بینک ،وزارت خزانہ کے سپیشل سیکرٹر ی اور اے جی پی آر کے نمائندے شامل ہوں گے ۔سپیشل سیکرٹری فنانس ڈویژن ممبر اور سیکرٹری کے فرائض انجام دیں گے۔کمیشن 6ما ہ میں حکومت کو رپورٹ دے گا، ہائی پاور انکوائر ی کمیشن کوسرکاری اور نجی شعبہ سے کسی بھی شخصیت سے بطور ممبر یا مشیر معاونت لینے کا اختیادے دیا گیا ہے ۔ گویا یہ کمیشن اقتصادی معاملات نہیں بلکہ فوجد اری مقدمات بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اسی لیے اپوزیشن کی نظر میں اس کمیشن کا واحد مقصد ان کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے ۔ اسی طرح وزیر اعظم Prime Minister کی سربراہی میںایک اورادارہ، قومی ترقیاتی کو نسل تشکیل دیاگیا ہے حالانکہ نیشنل سکیورٹی کونسل اوراقتصادی رابطہ کمیٹی جیسے ادارے پہلے ہی موجود ہیں اس میں چیف آف آرمی سٹاف کو بھی شامل کیا گیا ہے جس پر بعض ناقدین کا ماتھا ٹھنکا ہے کہ قومی سکیورٹی پالیسی، خارجہ پالیسی اور دیگر معاملات پر فوج اور سویلین لیڈر شپ نیشنل سکیورٹی کونسل میں پہلے ہی اکٹھے بیٹھتے ہیں۔ جب اسحق ڈار وزیر خزانہ تھے تو اسی کونسل کی میٹنگ جس میں آرمی چیف بھی شریک تھے، اقتصادی معاملا ت پر بات چیت ہوئی تواس زمانے میںپاک فوج Pakistan Army کو غالبا ًٹینک خریدنے کے لیے رقم کی ضرورت تھی لیکن اسحق ڈار نے کورا سا جواب دیا کہ ’پاناما گیٹ‘ کے بعد جوغیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے اقتصادی صو رتحال خراب ہو چکی ہے اور خزانہ خالی ہے ۔ اس پر آرمی چیف نے برجستہ جواب دیا کہ اگر ایسا ہی ہے تو اٹلی جہاں سینکڑوں سیاسی حکومتیں تبدیل ہوئی ہیں اس کا حال تو بہت پتلا ہونا چاہیے تھا ۔یقیناً فو جی قیادت سمیت سب کی فطری خواہش ہے کہ حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں لیکن اقتصادیا ت کو آگے لے جانے کے لیے پالیسیوں پر کوئی اختلاف رائے نہیں ہونا چاہیے ۔ پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ Khursheed Shah نے میثاق معیشت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف میثاق معیشت کی باتیں ہو رہی ہیں دوسری طرف یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ ہم این آ ر او مانگ رہے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے خو اجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں کہا کہ ہم صلح کی بات کریںتو کہا جاتاہے این آر او مانگ رہے ہیں۔ آصف علی زرداری نے بھی کہا ہے کہ اگر این آر او لینا ہوتا تو تین سال پہلے لے چکا ہوتا۔ تاہم شیخ رشید اور تحریک انصاف کے بعض ترجمان دن رات یہ الزام عائد کرتے رہتے ہیں کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے حتیٰ کہ زرداری صاحب کی پیشکش کو بھی ملفوف این آر او مانگنے سے تعبیر کیا گیا۔ویسے شیخ رشید حیدر آباد ریلوے حادثہ میں تین افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو نے کا بڑی ڈھٹا ئی کے ساتھ ساراملبہ جاں بحق ہونے والے ڈرائیور پر ڈال کر بڑی خوبصورتی سے سرخرو ہو گئے ہیں۔ دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مصداق دوسروں کا احتساب کرنے کی رٹ لگانے کے باوجود ان اصولوں کو خو د پر منطبق نہیں کرنا چاہتے ۔ اپوزیشن کا یہ بیانیہ کہ ہم تحریک چلائیں گے اور بجٹ پا س نہیں ہونے دیں گے کچھ کمزور پڑتا جا رہا ہے ۔ آصف زرداری نے بر خوردار بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کے اپنی والدہ بے نظیر بھٹو کی سالگر ہ پر نواب شا ہ میں تقریب سے خطاب کوان کی زند گی کی بہترین تقریر قرار دیا ۔اس تقریر میں بلاول نے عمران خان Imran Khan کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اتنا ہی ظلم کرو جتنا برداشت کر سکتے ہو ،ایک ایک آنسو کا حساب لیں گے ۔ انھوں نے کہا تم 70سال کے بوڑھے ہو میں30 سال کا جوان ہوں۔دوسر ی طرف محترمہ مریم نواز Maryam Nawaz بھی آ گ برسا رہی ہیں لیکن پارلیمنٹ میں بزرگوں کا بیانیہ یکسر مختلف ہے ۔وہاں تو مصالحت کی بات ہو رہی ہے ۔ اس تناظر میں مولانا فضل الرحمن کی بدھ کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کوئی ایسا متفقہ لائحہ عمل طے کر سکے گی جو لوگوں کو مہنگائی،بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر لے آئے، مشکل نظر آتاہے ۔ گویا کہ حکومتی جماعت اور اپوزیشن کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اگر مصالحت کی سیا ست کرنی ہے تو اعتماد سازی کا ماحول پیداکیا جا ئے ۔ اس ضمن میں بال خان صاحب کے کورٹ میں ہے لیکن وہ فی الحال نچلے بیٹھتے نظر نہیں آرہے ۔ اس غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے مزید نقصان کا باعث بنے گا۔

 148