کسان مر رہا ہے کسی کو فکر نہیں (گندم)!!!!!

Hamza Meer

21 جون 2019



کسان مر رہا ہے کسی کو فکر نہیں (گندم)!!!!!

تحریر:حمزہ میر!!!

پاکستان Pakistan دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ملکی مجموعی آبادی کا نصف حصہ زراعت کے کاروبار سے منسلک ہے چاہے کسان ہو، آڑھیتی ہو، کمیشن ایجنٹ ہو ،فلور مل مالکان ہوں، دودھ بیچنے والا ہو رائس مل مالکان ہوں سب زراعت سے منسلک ہیں پچھلے 8 سالوں سے کسان کا بہت برا حال ہے کسان پستا جا رہا ہےکسانوں پر سختی کی جا رہی ہے نت نئے ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں جس سے کسان کے لیے پیسے کمانا مشکل ہو رہا ہے کھاد پر ٹیکسز عائد کیے جاتے ہیں فصل کا ریٹ صیحیح نہیں دیا جاتا سب سے پہلے گندم پر آتے ہیں پچھلے کچھ سالوں سے کسان کو گندم کی فصل کا ریٹ فصل کے آغاز میں 1150سے لے کر 1200 کے درمیان ملتا ہے اور اسی دوران سرکار اپنا ریٹ نکالتی ہے وہ ریٹ 1300 ہوتا ہے اور اس ریٹ پر دینے کے لیے کسان کو بہت مشکل ہوتی ہے پہلے لمبی لائن میں لگ کر سرکاری افسران کو پیسے دے کر باردانہ حاصل کیا جاتا ہے اور یہ باردانہ بڑھے کسان لے جاتے ہیں اور چھوٹا اور غریب کسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے اور اس کو آڑھیتی کے پاس جانا پڑھتا ہے اور آڑھیتی اس کو 15 دنوں کے ادھار پر 1150 سے 1200 کے درمیان ریٹ دیتا ہے جس سے کسان کو کوئی بچت نہیں ہوتی کسان کو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ گندم کی فصل کے فورا بعد اس نے منجی یعنی چاول کی فصل کاشت کرنی ہوتی ہے اس لیے وہ مجبوری کے تحت اپنی فصل سستے داموں فروخت کر دیتا ہے کیونکہ اس نے کھاد کے پیسے دینے ہوتے ہیں، زرعی ادویات جو اس نے ادھار پر لی ہوتی ہیں ان کے پیسے دینے ہوتے ہیں اسی طرح بہت سی مختلف چیزیں ہیں جو کسان ادھار پر لیتا ہے اس نے اس کے پیسے دینے ہوتے ہیں کچھ کسان زمین ٹھیکے پر لے کر اس پر کاشتکاری کرتے ہیں اور 6 ماہ بعد انہوں نے زمین کا ٹھیکہ دینا ہوتا افر حساب لگایا جائے تو فصل بیچنے اور ادھار واپس کرنے کے بعد کسان کے پاس کچھ نہیں بچتا کسان صرف اپنے کپڑے صاف کرتا اور گھر چلا جاتا ہے- لیکن اس سال ایک عجیب واقع ہوا رمضان کا پورا مہنیہ حکومت نے لوگوں کے گوداموں کو سیل کر دیا تا کہ کوئی بندہ گندم آڑھیتیوں کو گندم نہیں سیل کر سکے کیونکہ حکومت نے اپنا گندم کا کوٹا پورا کرنا ہوتا ہے سرکار کا کوٹا تو پورا ہو چکا تھا لیکن پھر بھی ایسا کیوں کیا گیا حکومت کو جواب دینا ہو گا صرف گندم کو روکنے کی وجہ سے گندم کا ریٹ ریکارڈ 1400 روپے عبور کر گیا ہے جو کہ ریکارڈ ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آٹا اب غریب سے دور ہونے جا رہا ہے گندم کا ریٹ اس وقت بڑھا ہے جب کسان اپنی گندم سیل کر چکا تھا جس کا فائدہ آڑھیتی اٹھا رہے ہیں لیکن یہ فائدہ ایک خاص قسم کے آڑھیتی فائدہ اٹھا رہے ہیں جو امیر ہیں نقصان تو ان آڑھیتیوں کا ہوا ہے جو لوگوں کے پیسے سے کام کرتے ہیں کسان نے جب 1250 روپے فی من کے حساب سیل کی ہوتی ہے تو اس کو تو اپنے پیسے وقت پر چاہیے جس سے آڑھیتوں کا پورا مہینہ تکلیف میں گزرا یہاں پر ایک اہم بات لوگ آڑھیتیوں کو برا سمجھتے ہیں کہ آڑھیتی کسان کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ارے بھائی آڑھیتی فلور مل کو گندم سیل کرتا ہے اور اس کو فلور مل سے 15 دنوں کے بعد پیسے ملتے ہیں جیسے جیسے اس کو پیسے ملتے ہیں وہ کسانوں کے حوالے کر دیتے ہیں فلور مل آڑھیتیوں کو صرف 15 سے 20 روپے زیادہ دیتے ہیں کیونکہ انہوں نے بھی کمانا ہوتا ہے اور وہ بھی آٹا، چوکر، معیدہ سیل کر کے پیسے دیتے ہیں فلور مل پر بھی مختلگ قسم کے نئے ٹیکس عائد کیے ہیں کبھی ان کو ٹیکس کے ادارے تنگ کرتے ہیں کبھی ماحولیات والے ان کو تنگ کرتے ہیں جس سے فلور مل مالکان پریشان ہیں اور اب تو فلور مل مالکان پر بھی ٹیکس عائد ہو گیا جس سے آٹا مہنگا ہو گا-

 72