ملک میں 157 کھرب روپے کا سونا ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے باہر

21 جون 2019

Mulk main Gola boht hai

ملک میں سینکڑوں ٹن سونا موجود ہے لیکن ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں اس کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی حالانکہ اس سے سرکاری خزانے میں بڑی رقم آسکتی تھی۔ ورلڈ گولڈ کونسل جو ایک مستند عالمی ادارہ ہے کے دس سالہ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان Pakistan میں سونے کی سالانہ کھپت 180 ٹن ہے جس کی عالمی منڈی میں مالیت تقریباً 12 ارب ڈالر billion dollor ہے یہ سونا ہم درآمد نہیں کرتے، کہا جاتا ہے کہ یہ سونا سمگلنگ کے ذریعے آتا ہے اور نقد ادائیگی کی شکل میں غیر دستاویزی خریدو فروخت ہوتی ہے، سارا معاملہ بالکل غیر دستاویزی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان Pakistan میں 7 سے 8 ارب ڈالر billion dollor سالانہ کے ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھر بھی ٹیکس نیٹ کے بغیر فروخت ہوتے ہیں، صرافہ بازار کے بیوپاریوں کے مطابق پاکستان Pakistan میں 22 ہزار جیولرز ہیں، مگر صرف 60 جیولرز سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں، 21 ہزار 940 جیولرز سالانہ 50 لاکھ روپے سے کم کاروبار کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ روزانہ 14 ہزار روپے سے کم کا بزنس کرتے ہیں، یہ آفیشل پوزیشن ہے لیکن اگر جیولرز کی دکانوں، جگمگاتے شو رومز، کاریگر اور کرائے دیکھیں تو آنکھیں کھلی رہ جائینگی، یہ ایک گھمبیر صورتحال ہے یہ صرف ایک سال کے ٹرن اوور کی بات ہے، اگر ملک میں گھروں اور دکانوں میں جو سونا موجود ہے اس کا اندازہ لگایا جائے تو یہ ایک ہزار ٹن بنتا ہے گویا کہ 100 ارب ڈالر billion dollor (157 کھرب روپے) سے زیادہ کا سونا موجود ہے اور اس تمام سونے کو اس ایمنسٹی سکیم سے باہر رکھا گیا ہے۔

حکومت کی قانونی پوزیشن یہ ہے کہ یہ سارا سونا جس کے پاس بھی ہے ڈکلیئر نہیں کرسکتے تو پھر کیا کرے ؟ حکام نے جواب دیا کہ سونا بیچ دیں اور روپے کو ڈکلیئر کر دیجئے گویا حکومت یہ چاہتی ہے کہ پاکستان Pakistan کا تمام سونا 30 جون سے پہلے فروخت ہو جائے، اس کا کیش آجائے اور اس پر ایمنسٹی ڈکلیئر کر دی جائے، یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اتنے بڑے حصے کو سکیم سے باہر رکھ دیا گیا ہے، اب ایمنسٹی سکیم کس طرح کایا پلٹ سکتی ہے جبکہ پاکستان Pakistan کے اندر موجود 100 ارب ڈالر billion dollor کے سونے، جیولری اور جواہرات کیلئے کوئی پلان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر منقولہ پراپرٹی کیلئے سکیم میں کوئی منصوبہ نہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان Pakistan میں سینکڑوں ایسی گاڑیاں موجود ہیں جو بے نامی ہیں۔ لوگوں کی اپنی جائیداد ہے مگر انہوں نے اپنے نام سے نہیں رکھی آج وہ ڈکلیئر کرنا چاہیں تو اس ایمنسٹی سکیم میں اس کیلئے گنجائش نہیں۔

ماہرین کے مطابق 50 سے 70 ہزار گاڑیاں ایسی ہیں جو لوگ ایمنسٹی سکیم کیلئے ڈکلیئر کرنا چاہتے ہیں، خیال کیا جاتا ہے اس سے اربوں روپے حاصل ہوسکتے ہیں، پچھلی ایمنسٹی سکیم میں 24 ہزار بے نامی گاڑیاں ڈکلیئر ہوئی تھیں اور حکومت کو 10 ارب روپے کی ٹیکس آمدن ہوئی تھی۔ آج سے پہلے پاکستان Pakistan میں نان فائلر کو یہ قانونی اختیار تھا کہ وہ سٹاک مارکیٹ میں شیئرز خرید سکتا ہے، اب اس سکیم میں ان نان فائلر شیئر ہولڈرز کیلئے بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک اور منافع بخش طریقہ کار پرائزبانڈ رہا ہے لیکن ایمنسٹی سکیم کا پرائز بانڈز پر بھی اطلاق نہیں ہوتا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2019 تک عوام نے 342 ارب روپے کے پرائز بانڈز خریدے تھے یہ ہیں وہ کلیدی معاملات جو اس ایمنسٹی سکیم میں شامل نہیں ہیں، اگر ان معاملات کیلئے سکیم میں کوریج موجود ہو تو یہ گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ایمنسٹی سکیم نہ لینے والا 30 جون کے بعد پچھتائے گا۔ انہوں نے کہا ایمنسٹی سکیم کی تاریخ میں 30 جون کے بعد توسیع نہیں ہوگی۔ شبر زیدی نے کہا سٹاک ان ٹریڈ سونا اور ہیرے جواہرات ایمنسٹی سکیم کے دائرے میں شامل ہیں، آج اس کی تحریری وضاحت کر دی جائے گی، تاہم جو سونا گھروں میں موجود ہے وہ اس قانون کے اندر شامل نہیں۔ انہوں نے کہا جو آدمی ایمنسٹی ڈکلیئر کرے گا اس کی کوئی انکوائری کسی جگہ نہیں ہوسکتی۔ سمگل شدہ گاڑیوں کیلئے ایمنسٹی نہیں ہے جو گاڑی رجسٹرڈ اور بے نامی ہے وہ ایمنسٹی لے سکتی ہے۔

 87