شعبہ حادثات

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

17 جون 2019

Accident

اگلا واقعہ کچھ یوں سنایا کہ یہ اگست کا پہلا ہفتہ تھا ایک مریض کو لایا گیا ۔۔گیلری سے اس کو لایا جا رہا تھا مجھے وارڈ سے باہر جانا تھا تو میں بھی اسی گیلری سے گزر رہی تھی۔۔لاشعوری طور پر اس کے قریب سے گزرتے ہوے میری اس پر نظر پڑی اور پھر ہٹانا مشکل ہوگئی۔ یہ ایک خوش شکل نوجوان تھا۔۔ اس کا جسم بری طرح جھلسا ہوا تھا اس کو یقیناً آگ لگی تھی تکلیف کی شدت سے کراہ رہا تھا ۔

۔کس طرح لگی یہ تو بعد میں پتہ چلنا تھا ۔اس کا باپ دھاڑیں مار مار کر روتا ہوا ساتھ ساتھ جا رہا تھا ۔۔ کچھ اور مرد تھے جو سٹریچر کو گھسیٹے جا رہے ۔۔میرے نزدیک سے جب یہ لوگ گزرے جلے ہوے گوشت کی بو میرے نتھنوں سے ٹکرائی۔۔میرے دل کو بے ساختہ کچھ ہوا ۔۔اپنے کام کے دوران مسلسل اس لڑکے کا خیال میرے زہن سے محو نا ہوا۔تجسس بھی تھا کہ یہ کیسے جلا آخر ۔۔اور پتہ نہیں اس نے بچنا بھی تھا کہ نہیں۔

۔خیر مجھے پھر سے ایمرجنسی جانا تھا۔۔تو میں کام سمیٹ کر مطلوبہ وارڈ داخل ہوئی۔۔ریسپشن پر موجود دوسری نرس سے اس جھلسے ہوے لڑکے کے بارے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ہاں فلاں وارڈ میں پڑا ہے ۔پولیس کیس ہے کیونکہ لڑکے نے خود کشی کی کوشش کی ہے ۔۔اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے جسم کا 60%حصہ بری طرح جھلس چکا ہے۔۔لہذا بچنے کے چانس کم ہیں۔۔۔یہ سن کر سخت افسوس ہوا ۔۔

میں باہر نکل کر اسی وارڈ کی طرف چل پڑی۔ دو تین بیڈ کے بعد یہ مجھے نظر آیا اس کی آنکھیں بند تھیں لیکن سویا یا بے ہوش نہیں ہوا تھا ۔۔کیونکہ اتنے زیادہ جلے زخموں کی تکلیف ہی اتنی ہوتی ہے کہ بندہ سو نہیں سکتا ۔۔یہ بہت معصوم سا خوش شکل لڑکا تھا اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔۔جو اس کو کراہنے پر مجبور کر رہے تھے ۔۔

۔اس کا باپ موجود نا تھا شاید باہر کہیں تھا۔۔ اس کے ساتھ کھڑے لڑکے سے اس کے بارے میں دریافت کیا کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ لڑکے نے دلگرفتگی سے بتایا کہ پڑھائی میں اچھے نمبر نا آے تھے باپ ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا ۔۔یہ دوسری فیلڈ میں جانا چاہتا تھا ۔۔باپ نا مانا اس سے میڈیکل کی تعلیم پڑھی نا جا رہی تھی تنگ آکر اس نے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔۔۔میں نے افسوس کے ساتھ ایک بار پھر سے لڑکے کو دیکھا ۔

۔یہ انتقام کی شدید قسم ہوتی ہے جب بندہ خود کو انتہائی ازیت ناک طریقے سے موت کے حوالے کرتا ہے۔۔یہ بدلا ہوتا ہے ان لوگوں سے جو اس صدمے کا سبب ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بندہ ذہنی ٹارچر کا شکار ہوکر اس قدر خوفناک موت چنتا ہے۔۔دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف دہ موت جل کر مرنے سے ہوتی ہے۔۔اور ان لوگوں کی اس دلیری یا پاگل پن پر حیرت سے گنگ رہ جاتی ہوں جو خود پر پٹرول ڈال کر آگ لگا لیتے ہیں۔۔۔

اسکا نچلا دھڑ کافی متاثر ہوا تھا ۔۔اور سب سے خطرناک گلے سے نیچے کا حصہ تھا۔۔کیونکہ اگر وہ زیادہ جھلس گیا تھا تو بچنا مشکل ہوتا۔۔خیر میری ڈیوٹی ختم ہوچکی تھی مجھے گھر جانا تھا ۔سارا راستہ یہی سوچتی رہی کہ احتجاج کرنے کا یہ کونسا طریقہ ہے کہ آپ زندگی ہی ختم کرلیں ؟۔لوگ کیوں اتنے انتہا پسند ہوجاتے۔یہ سمجھنا مشکل تھا۔۔

اگلے دن مقررہ وقت پر میں ڈیوٹی پر موجود تھی۔اس وارڈ میں جب جانا ہوا لڑکا موجود تھا ۔۔۔آج اس کے ماں باپ اور ایک دو رشتے دار بھی موجود تھے اس کی ماں بار بار اپنے آنسو پوچھتی۔۔لڑکا چپ چاپ چھت کو دیکھ رہا تھا اس کا رنگ زرد ہو رہا تھا اور چہرہ مرجھا چکا تھا ظاہر ہے اس کا جلا ہوا جسم اس کو سخت تکلیف دے رہا تھا ۔۔ اس کا باپ بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا۔۔دل چاہا جا کے کہہ دوں کہ بس بنا لیا ڈاکٹر؟؟

ہمارے ہاں والدین کسی اور فیلڈ کے لیے اولاد کو سپورٹ ہی نہیں کرتے ۔۔بس ڈاکٹر یا انجنیئر چاہیے۔۔یا تو والدین کا ایکسپوژر وسیع ہونا چاہیے اگر نہیں پتہ ہوتا تو ان کو سمجھایا بھی جا سکتا کہ جو فیلڈ ہم پڑھنا چاہتے اس میں بھی یہ یہ مفاد یے ۔پہلے باپ کا قصور لگا آخر میں مجھے اس بیٹے پر غصہ آیا کہ تمہیں اتنا پڑھانے کا فایدہ کیا ہوا جو کسی کو قائل نہیں کرسکے اور یہ حال کردیا۔۔۔

ڈاکٹرز کی ٹیم اندر داخل ہوِئی ۔۔اس لڑکے کے جسم سے کپڑا ہٹا کر دیکھا گیا کہ ریکوری کے کتنے چانسز ہیں۔۔ویسے تو انسانی جسم اگر تیس فیصد سے زیادہ جل جاے تو مریض کے حق میں مشکل ثابت ہوتا ہے اور یہ تو ساٹھ فیصد سے زاید جلا ہوا تھا۔۔مایوسی ڈاکٹرز کے چہروں پر واضح نظر آئی جو اگلے ہی لمحے کمال مہارت سے انہوں نے چھپائی ۔۔ماں باپ کو تسلی دی لڑکے سے حال پوچھا کہ کس جگہ درد زیادہ ہے۔۔؟

لڑکے نے بے تاثر نظروں سے ان کو دیکھا اور منہ پھیر کر آنکھیں بند کرلیں۔۔یعنی اس کو زندہ رہنے میں دلچسپی نا تھی۔دوایئاں لکھ کر نسخہ باپ کو تھمایا کہ یہ یہ دوائیاں لے آئیں۔۔میں ڈاکٹرز کی تقلید میں ان کے پیچھے پیچھے باہر نکل آئی ۔۔مختلف وارڈز میں گھومتے مجھے شام ہوگئی۔۔چھٹی سے پہلے میں ایک بار پھر اس کے وارڈ میں داخل ہوئی ۔۔لڑکے کے کراہنے میں اضافہ ہوچکا تھا ۔۔ اور اسکو بخار بھی ہورہا تھا۔۔ظاہر ہے درد جسم کی برداشت سے باہر تھا۔۔۔اس کو درد کش دوا اور انجکشن لگاے جارہے تھے۔۔

۔مجھے پتہ تھا اگر اس کی زندگی اللہ نے مزید لکھی تب تو ضرور ملنی ورنہ اس نے بچنا نہیں تھا ۔۔کیونکہ جسم جتنا جل چکا تھا اس کو ریکور کرنا انتہائی مشکل تھا۔۔ اگر میڈیکل پڑھ رہا تھا تو قوی امکان تھا یہ اس نے بھی پڑھ رکھا ہوگا ۔۔تبھی اس کے چہرے پر مایوسی اور بے بسی تھی۔۔میں اس تکلیف کو محسوس کرتے واپس آگئی۔۔ اگلے دن میں اس وارڈ میں پہنچی تو پتہ چلا مریض برن یونٹ منتقل ہوچکا۔۔کیونکہ یہ بہت لمبا پراسس تھا زخم مندمل ہونا پھر زخموں پر نئی کھال چڑھنا ۔مہینوں پر مشتمل کام تھا۔۔

میں جوں ہی فارغ ہوئی میرے قدم برن یونٹ کی طرف بڑھنے لگے ۔۔۔اس کو لائے ہوے تین دن سے زاید ہوچکے تھے۔۔اس کی حالت بہت خراب تھی ۔

۔جسم میں پانی تیزی سے ختم ہو رہا تھا ۔۔زخموں میں پیپ پڑ چکی تھی۔۔جلا ہو گوشت گلنے لگا تھا

۔۔اس کے کراہنے میں اضافہ ہوچکا تھا ۔۔اور رنگ انتہائی حد تک زرد ہوچکا تھا ۔

۔آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ چکے تھے

۔۔اس کی آنکھیں بار بار پانیوں سے بھر جاتی تھیں

۔۔مجھ سے زیادہ دیر رکا نا گیا میں اس کی تکلیف نا دیکھ پائی پتہ نہیں ماں باپ کس دل سے سہہ رہے تھے۔۔اس دن دوبارہ اس کو دیکھنے میری جرات نا ہوئی۔۔شام کو بوجھل قدموں سے گھر آگئی۔

اگلے یعنی پانچویں دن میں پھر سے اسکی وارڈ میں موجود تھی۔۔آج یہ بچوں کی طرح رو رہا تھا ۔۔بار بار باپ کو کہتا ابو بہت درد ہورہا ہے۔۔مجھے ٹھیک کروائیں۔۔۔اور اس کا بدقسمت ابو ساتھ میں رونے لگتا۔

۔اس کا جسم ریکوری میں ساتھ نا دے رہا تھا اوپر سے گرمیوں کی وجہ سے پانی کی مسلسل کمی ہورہی تھی۔۔ایک محلول زخموں پر لگانا تھا جب باپ نے کپڑا اس پر سے ہٹایا ۔۔باپ کی سسکاری بلند ہوئی کیوں نا ہوتی ۔

اولاد کو اس قدر تکلیف میں دیکھنا بذات خود بہت بڑی اذیت ہے۔

۔۔اس کا ایک ہاتھ بھی بری طرح جلا تھا میں نے ایک ہی نظر ڈالی پھر دیکھنے کی جرات نا ہوئی۔ کیوں کہ ہاتھ کے اوپر موجود جلد کی ساری تہہ جل کر اتر چکی تھی ۔۔

میں مایوسی کے ساتھ پلٹ گئی۔۔

چھٹا دن اس کی زندگی کا آخری دن تھا ۔۔

میں اسکی عیادت کو گئی آج کراہوں کے ساتھ ساتھ آہیں بھی شامل ہوچکی تھیں۔۔یہ درد سے تڑپ رہا تھا ۔۔اس کو سانس لینے میں مشکل ہورہی تھی۔۔یہ بار بار باپ سے معافی مانگتا اور کہتا

"مجھے بچا لیں آیندہ ایسا نہیں کرونگا ۔"

باپ بے بسی سے مزید رونے لگتا اس کا ماتھا چومتا ۔۔اسکے چہرے کی زردی میں اضافہ ہوچکا تھا آنکھوں کے حلقے اب کھڈوں میں تبدیل ہوچکے تھے۔۔مسلسل درد اور بے خوابی کے سبب۔

۔۔میں اس لڑکے کے سامنے گئی اس کی فایل اٹھائی۔۔جس پر کوئی مثبت صورت حال درج نا تھی۔۔تمام تر ٹریٹمنٹ کے باوجود ریکوری ناممکن لگ رہی تھی۔۔۔لڑکے کے باپ نے مجھے مخاطب کیا۔۔۔میرا بیٹا ٹھیک ہوجاے گا نا؟؟میرا دل۔اس باپ کی بے بسی پر کڑھ کر رہ گیا ۔

۔میں نے اس نوجوان کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں میں درد کے ساتھ ساتھ خوف نظر آرہا تھا ۔۔۔میں نے بمشکل اثبات میں سر ہلایا اب میرا رکنا محال تھا ۔۔میں اپنے وارڈ چلی آئی۔۔لیکن لڑکے کی شکل میرے زہن سے محو نا ہوئی۔۔۔میری شفٹ چینج ہوئی تھی۔۔اور اوور ڈیوٹی دینی پڑی۔

لہذا میں جب تھوڑی فارغ ہوئی تو اس لڑکے کا حال پوچھنے کو چل دی۔۔اور وہاں جا کر بے ساختہ پچھتائی۔۔لڑکے کا آخری وقت قریب تھا ۔۔اس کی آواز بند ہوچکی تھی۔۔۔ہلکی سی خرخراہٹ تھی بس جو اس کے حلق سے نکل رہی تھی۔۔ڈاکٹر مسلسل اس کی طبیعت چیک کر رہے اور ڈرپ میں انجکشن لگا رہے۔۔ لیکن اس کی حالت ایک ہی تھی۔۔۔آنکھیں ایک جگہ رک چکی تھی۔۔۔ماں باپ اس حالت پر رونےبلکنے کے علاوہ کیا کرسکتے تھے۔۔کوئی آدھا گھنٹہ اس کا یہی حال رہا اس کے بعد اس کے جسم میں جھٹکا سا لگا ۔۔اور گردن ایک طرف کو ڈھلک گئی۔۔۔۔۔۔۔۔

چھے تکلیف دہ ازیت ناک دن دیکھنے کے بعد اختتام ایک قیمتی زندگی لے کر ہوا ۔۔۔نرس کی آواز آنا بند ہوچکی تھی۔۔میں نے اپنی بہتی آنکھوں کو صاف کیا ۔۔اس کی آواز شدت جذبات سے رندھ چکی تھی۔۔میں نے انکو پھر سے پانی کا گلاس تھمایا جو اس نے ایک ہی سانس میں پی لیا۔۔اس کے بعد میری جرات نا رہی کہ مزید احوال سنوں اور میں نے اس کی رنجیدہ حالت کے پیش نظر ان سے معذرت کرلی کہ بس مجھے اور نا سنائیں۔ نرس نے تشکر سے مجھے دیکھا اور اپنا پرس اٹھا کر چلی گئیں۔۔

 205