شعبہ حادثات

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

16 جون 2019

Emergency

نرس نے بتانا شروع کیا۔۔۔جب ایمرجنسی وارڈ میرا تبادلہ ہوا مجھے شروع شروع میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔۔کیونکہ زیادہ تر مریض بہت خراب حالت میں ہوتے۔لہو میں لت پت، جھلسے ہوے، ہڈیاں ٹوٹی ہوتی۔کچھ تو ہسپتال پہنچتے ہی مر جاتے کچھ شدید تکلیف میں آتے۔۔اور کچھ دو تین دن پڑے رہتے تکلیف دیکھ دیکھ کر آخر کار مر جاتے۔ یہ دیکھ کر یہ اب نہیں بچنے والے تو ان مرتے ہوے لوگوں کو انجکشن لگاتے میرے ہاتھ کانپنے لگ جاتے ۔

باہر ان کے لواحقین کا سامنا کرنے کی جرات نا رہتی ۔روز اتنے سارے لوگوں کو مرتا دیکھنا اور پھر لواحقین کی چیخ وپکار دل دہلانے کو کافی ہوتی۔۔لیکن انسان بہت سخت جان واقع ہوا ہے لہذا مجھے بھی عادت پڑ گئی اس ماحول کی اور پھر میں آرام سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دینے لگی۔۔لیکن کوئی نا کوئی کیس ایسا ضرور آجاتا جو جسم میں جھر جھری پیدا کر دیتا تھا جس سے راتوں کی نیند اڑ جاتی۔

۔ایسا ہی ایک دن باہر گیلری میں عورتوں کے رونے کا شور بلند ہوا ۔۔گوکہ یہ کوئی نئی بات نا تھی لیکن ان عورتوں کی آواز بہت درد ناک تھی ۔۔سیدھی دل کو لگ رہی تھی۔۔میں بے قرار ہوکر باہر آئی تو کیا دیکھتی ہوں یہ دو تین عورتیں تھیں۔ان کے ساتھ سٹریچر پر ایک مریضہ شاید بے ہوش پڑی تھی۔۔مریضہ کو میں نے ایک نظر دیکھا پھر اسکی فایل دیکھی جس کے مطابق یہ تین چار ماہ سے پریگنینٹ تھی۔۔میں نے یہی سوچا کہ زچہ بچہ کا کیس ہوگا لہذا ان کی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔" کیا ہوا ہے لڑکی کو؟؟"

ایک خاتون نے روتے روتے جواب دیا۔۔" کالا پتھر پی لیا بچی نے "

" واٹ کالا پتھر ۔۔۔۔۔؟ میں نے چکرا کر دوبارہ لڑکی کی طرف دیکھا ۔ اس کو یہ زہر پیے ہوے دو سے تین گھنٹے ہو چکے تھے ۔ بتاتے بتاتے نرس مجھ سے مخاطب ہوئی۔ کیا آپ جانتی ہیں کالا پتھر کتنا خطرناک زہر ہے؟؟؟

میں چپ چاپ اسکو دیکھتی رہی۔۔اس نے دوبارہ بات شروع کی۔"یہ" پیرفینالین ڈایامین نامی" زہریلا مادہ ہے ۔۔یہ اتنا خطرناک برا زہر ہے کہ اس کا محلول پینے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر کام شروع کردیتا ہے۔ اگر پندرہ سے بیس منٹ میں ہسپتال نا لایا جاے تو مریض کا بچنا ناممکن ہوتا ہے۔۔سب سے پہلے سانس اور گلے کی نالی بند ہونا شروع ہوتی ہے جسکی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔۔پٹھے ٹوٹنے لگتے ہیں گردے فیل ہوجاتے ہیں۔۔منہ سوجنا شروع ہوجاتا ہے آنکھیں ابل آتی ہیں لیکن بندہ مرتا پھر بھی نہیں کافی دیر بعد تڑپ تڑپ کر جان دیتا ہے ۔۔جتنا سستا یہ زہر ہے اتنی مہنگی موت دیتا ہے۔۔بندہ جتنی تکلیف اور ازیت دیکھتا ہے الفاظ میں بیان کرنا نا ممکن ہے۔۔"

خیر زہر اپنا کام شروع کر چکا تھا اور میں اچھی طرح جانتی تھی کہ اس لڑکی کے پاس تڑپ تڑپ کر مرنے کے علاوہ اب کوِئی چارہ نا تھا۔۔اس کی ماں بے تحاشہ رو رہی تھی۔۔جسکو باقی عورتیں چپ کرا رہیں تھیں۔۔مجھے ہدایت ملی کہ اس مریضہ کو ڈرپ لگا دوں اور درد کش انجکشن اور یہ صرف اس کے لواحقین کی تسلی کے لیے خانہ پوری ہورہی تھی ۔لڑکی کے منہ پر سوجن آنا شروع ہوگئی تھی اس کا گلا بند ہورہا تھا لہذا اب صرف کبھی کبھار ماں کا ہاتھ دباتی جب ماں متوجہ ہوتی اسکی بند ہوئی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے اور ماں رونے لگ جاتی۔۔

سارے وارڈ میں سب سے ازیت ناک حالت اسی مریضہ کی تھی ۔اس کو ہسپتال آے ایک گھنٹہ مزید ہوا ۔۔اب اس کے چہرے کی سوجن میں اضافہ ہوگیا ۔۔۔نقوش چھپ چکے تھے۔۔مجھے وحشت ہونے لگی۔۔۔کیونکہ اس نے اب بہت ازیت دیکھنی تھی۔۔مجھ سے اس کی ماں نے پوچھا ۔۔چہرہ کیوں سوج رہا ہے۔۔۔میں نے رٹا رٹایا جملہ دہرایا۔۔دعا کریں۔۔ٹھیک ہو جاے گی۔۔۔کیوں کہ میں اس کو یہ بتا کر مزید دکھ نا دیناچاہتی تھی کہ اب جو اس کا حال ہونا ہے آپ کی بیٹی موت مانگ رہی ہوگی جو اپنے وقت پر آے گی۔۔

ساتھ اس کی ساس بھی تھی۔۔میں نے اس کی ماں اور ساس دونوں کی۔طرف باری باری دیکھا ۔ اور پوچھا کہ ایسا کیا ہوا کہ اس نے اتنا انتہائی قدم۔اٹھایا؟؟ دونوں نے سر جھکا لیے۔۔مجھے اس لمحے ان پر ترس آیا۔۔ساس نےجھجھکتے ہوے بتایا کہ لڑائی ہوی ہے میاں بیوی کی۔۔۔۔میں نے حیرت سے دیکھا ۔۔کیا پہلی بار ہوئی؟

اور ایسی بھی کیا لڑائی کہ اس عورت کو اس ننھی جان کی پروا بھی نا رہی جو اس کی کوکھ میں پل رہی تھی۔۔۔ اس بچے کا کیا قصور تھا جس کو یہ سزا دی؟؟ اس بات پر میری آواز تھوڑی کانپی ۔۔میں نے تاسف سے اس عورت کو دیکھا اس کی آنکھوں کے کونوں سے پانی بہہ رہا تھا ۔۔یعنی رو رہی تھی بتا نا سکتی تھی۔۔

۔ساس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور بے بسی سے بہو کو دیکھنے لگیں۔۔۔ پتہ چلا ساس اور ماں آپس میں بہنیں تھیں اور دونوں نے خوشی سے رشتہ کرایا تھا اپنے بچوں کا۔۔لیکن یہ خیال رکھنا بھول گئیں کہ بچوں کی خوشی بھی جان لیں۔۔نتیجتاً آج یہ دن دیکھا۔۔۔ساتھ ایک اور عورت تھی اس نے بتایا کہ میاں بیوی میں اول دن سے نا بنی تھی۔گھر والے زبردستی نبھوا رہے تھے شادی کو سال دو سال ہو چکے تھے لیکن لڑائی جھگڑے بڑھتے گئے۔۔۔میں یہ ساری کہانی سن کر خاموش ہوگئی۔۔یہ سب کردار بیک وقت ظالم بھی لگے مظلوم بھی۔۔سزا بھی سب کو اب مل رہی تھی ۔نا زہر کھانے والی کو سکون تھا نا دیکھنے والوں کو۔۔

مجھے دوسرے وارڈ بلایا گیا وہاں سب مریضوں کی اپڈیٹ لیتے لیتے مزید گھنٹہ ہوگیا۔۔میرے دماغ میں اسی لڑکی کا خیال تھا بس۔۔جوں ہی میں فارغ ہوئی فوراً اس کے وارڈ کی طرف بڑھی۔۔ وہاں جاکر مزید اپ سیٹ ہوئی کیونکہ اب اس کا سانس پھس پھس کر آرہا تھا ہر دس منٹ بعد یہ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگتی۔۔ یہ اس چیز کی نشانی تھی کہ اندر سارے سسٹم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہے تھے ۔۔اس کی ماں اور ساس دونوں غمزدہ تھیں ۔کیونکہ سمجھ ان کو بھی آرہی تھی کہ طبیعت نہیں سنبھل رہی۔

ؓ۔۔میں ڈاکٹر کو بلا لائی ساتھ ہی دھڑکن چیک کرنے والی مشین لے آئی ۔۔ڈاکٹر صاحب نے پہلے اسکی دھڑکن چیک کی پھر آلہ اس کے پیٹ کو لگا کر اس معصوم کی دھڑکن چیک کرنا چاہی قوی امکان تھا یقیناً ماں سے پہلے ختم ہوچکا تھا۔۔۔ڈاکٹر صاحبہ نے مایوسی سے مشین ہٹا لی ۔۔مجھے ہدایت دی اسکو درد دور کرنے والی دوائی لگا دو۔۔۔ماں کو صرف یہی تسلی ہوئی کہ کوئی دوائی لگ رہی ہے یعنی بچنے کے چانس ہیں۔۔لیکن مجھے پتہ تھا ۔۔اس درد کش دوائی کا اثر اب کہاں ہونا ہے۔۔یہ درد ازیت دے کر اور جان لے کر جائے گا۔۔۔

میں اس کو انجکشن لگا کر اس کی شکل دیکھنے لگی۔۔چہرہ اتنا زیادہ سوج گیا تھا اب شناخت کرنا مشکل تھا۔۔اس کی آنکھیں البتہ رونے پر قادر تھیں لہذا یہ بے آواز رو رہی تھی۔۔۔اب اس نے ماں کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ۔۔یہ التجائیہ انداز تھا کہ یا جان نکل جاے یا اس تکلیف سے بچایا جاے۔۔ماں نے مجھے دیکھا اور ملتجیانہ انداز سے پوچھا ۔۔کیا کہا ڈاکٹر نے؟؟ میری بچی بچ تو جاے گی؟؟ میں نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا زیادہ سے زیادہ۔چند گھنٹوں کا اور کھیل تھا اس کے بعد یہ میت میں تبدیل ہوجاتی۔۔دل چاہا اس سے کہوں رشتے داروں میں اطلاع کردو ۔۔کہ تعزیت کے لیے گھر جمع ہوں۔

۔لیکن میں نے ایسا کچھ نا کہا ۔۔اور ساس سے مخاطب ہوئی۔۔" شوہر کہاں ہے اس کا؟؟؟ " ساس نے شرمندگی سے بتایا کہ باہر ہے۔۔

۔اب تو خوش ہوگا آپ کا بیٹا ؟؟؟

اب تو جان چھوٹ جاے گی۔؟؟

۔۔مجھ سے رہا نا گیا تو یہ طعنہ مار بیٹھی ۔ساس بلک اٹھی۔۔میں نے مزید کہا۔۔آپ بھی خود غرض ہیں اور آپ کی اولادیں بھی۔۔۔نا آپ لوگوں نے اپنی خوشی کے آگے کسی کی خوشی دیکھی ۔۔نا اولاد نے آپ لوگوں کی خاطر نبھا کیا۔۔۔اولاد کی مرضی سے شادیاں کر لیتے یہ دن تو نا دیکھتے۔

۔میں نے انگلی سے اس لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔یہ ۔۔یہ گھاٹے میں رہی ۔۔۔آپ کو اور بہو مل جاے گی۔۔ماں کی طرف اشارہ کیا ۔۔آپ کی بھی باقی بیٹیاں موجود ہیں۔۔۔لیکن یہ بدقسمت حرام موت لے کر دنیا و آخرت دونوں تباہ کرگئی۔ لڑکی سن رہی تھی پھر سے تڑپنے لگی۔۔

ساس نےپکارا نرس ڈاکٹر کو بلایں پلیز۔۔۔۔ میں نے دکھ سے جواب دیا ڈاکٹر نہیں آے گی اب۔۔۔۔اس نے پوچھا کیوں ؟؟ میں نے آہستہ سے کہا آپ کی بہو کی زندگی ختم ہونے کو ہے۔۔ساس اور ماں روتے پیٹتے ایک دوسرے کے گلے سے لگ گئیں ۔

میں بوجھل قدموں سے باہر آگئی۔سیدھی ڈاکٹر کی طرف گئی ان سے دریافت کیا کہ کیا کوئی ایسا طریقہ نہیں کہ یہ تکلیف کے بغیر مر جاے؟؟ ڈاکٹر صاحبہ نے مصروف انداز سے مجھے دیکھا۔۔۔کیا آپ نے اس زہر کے بارے میں نہیں پڑھا؟؟میں نے سر جھکا لیا۔۔وہ پھر بولیں۔۔لڑکی زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ زندہ رہے گی۔۔کیوں کہ پیٹ کے اندر بچہ ختم ہوچکا ہے اسی وجہ سے زہر زیادہ تیزی سے اثر کر رہا ہے۔۔۔انہوں نے گویا یہ بے رحم سی تسلی دے کر مجھے مطمئن کرنا چاہا۔۔میں نے تڑپ کر انکو دیکھا۔۔

انہوں نے آگے بڑھ کر میرا کندھا تھپکا۔۔۔بی بریو۔۔۔جو لوگ اپنے ساتھ خود ہی مخلص نا ہوں ۔۔باقی کون ان کو بچا سکتا ہے بھلا۔۔۔یہ کہہ کر ڈاکٹر چلی گئیں۔۔میں کافی دیر غایب دماغی سے بیٹھی رہی۔۔مجھ میں ہمت نا ہو رہی تھی کہ جا کر لڑکی کو دیکھوں۔لیکن۔اس کی ماں اور خالہ کی چیخیں سن کر پھر سے ان کے وارڈ کی طرف بڑھی۔۔لڑکی اب بری طرح تڑپ رہی تھی ۔۔ہاتھ پیر اکڑچکے تھے اور سر کو جھٹکے دے رہی تھی۔۔سانس تقریبا بند ہوچکی تھی اور باوجود کوشش کے یہ سانس نا لے پا رہی تھی۔۔۔ماں کا ہاتھ پکڑنا چاہ رہی تھی لیکن اب اس کا ہاتھ اکڑ چکا تھا بند نا ہو رہا تھا ۔۔اس کا یہحال دیکھ کر میری حالت غیر ہونے لگی ۔۔میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔پندرہ منٹ بعد ۔۔۔۔لڑکی نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔۔۔۔۔۔۔نرس کا گلا رندھ گیا تھا۔۔ساتھ بھی میری آنکھیں بھی بھر چکی تھیں۔۔۔کچھ دیر ہمارے درمیان خاموشی رہی ۔۔نرس نے کچھ دیر . بعد پوچھا ۔۔۔اور سنوگی؟؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد سلسلہ کلام۔جوڑا ۔۔۔۔(جاری ہے)

 122