شعبہ حادثات

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

15 جون 2019

Accidents

عید کا پہلا دن شام کے کوئی سات بجے کے قریب دروازے پر بیل بجی ۔۔بھائی نے جا کے کھولا جب واپس آیا اس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔۔ہمارا اس کے تاثرات دیکھ کر حیران ہونا بنتا تھا۔۔استفسار کرنے پر بتایا کہ عثمان( ہمسایا اور اس کا دوست) کا روڈ ایکسیڈینٹ ہوا ہے بہت بری طرح۔۔وہ آئی سی یو میں ہے .

کیااااااا۔

ہم سب کے منہ سے بیک وقت یہی جملہ نکلا۔۔۔صدمہ تھا یا شاک ۔۔ہم کچھ دیر کو خاموش ہوگئے۔۔ . یہ لڑکا ہمارے محلے کا نیک اور فرمابردار بچہ تھا۔۔۔ہر وقت مدد کرنے کو تیار۔۔۔ہنس مکھ۔۔اور خوش مزاج۔۔۔اس کی نا کبھی کسی سے لڑائی سنی تھی نا اس کی کبھی برائی سنی۔

۔کچھ دیر بعد ابو نے دریافت کیا۔۔" کیسے ہوا "؟؟ بھائی تفصیل بتانے لگے کہ گھر سے آیک آدھ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود پھوپھو کے گھر عید ملنے گیا تھا جب واپس آیا روڈ پر سوار ہی ہوا کہ ایک تیز رفتار ٹرالر کی زد میں اس کا موٹر سائیکل آگیا اس کے ساتھ اس کے دادا بھی موجود تھے۔۔دادا تو پیچھے گر گئے لیکن اسکو ٹرالر بہت دور تک پٹختا گیا جب تک کئی فٹ دور جا کر ٹرالر رکا ۔۔تب تک لڑکے کو شدید چوٹیں لگ چکی تھیں تب سے بے ہوش ہے۔لیکن۔امید کی بات یہ ہے کہ ابھی زندہ ہے ۔۔

۔چونکہ عثمان کے والد صاحب بہت نیک اور ہمدرد فطرت سب سے بنا کر رکھنے والے تو کم ہی عرصے میں ابو کے بہت اچھے دوست بن چکے۔۔ ابو لوگ فورا ہسپتال گئے ۔۔میں اور امی اس کے گھر چلے گئے۔۔جہاں سے عید کی خوشیاں دبے پاوں نکل چکی تھیں۔۔۔موت سی وحشت قبل از وقت طاری تھی۔۔۔

لڑکے کی ماں کی جو حالت تھی دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آگیا۔۔ مجھے وہ الفاظ ہی نہیں مل رہے جن میں اس ماں کا درد بیاں کرسکوں ۔۔جس کو بتایا گیا ہو کہ بچنےکے چانسز 30% ہیں۔۔ یہ غیر معمولی طور پر خاموش بیٹھی تھیں۔۔رونا نا چاہتی تھیں کہ میرا بیٹا بچ جاے گا ۔۔میں کیوں رووں۔۔ میں ہرگز نا رووں گی۔۔۔میں نے بمشکل ہمت جمع کرکے ان کو ایک ہی تسلی دی۔۔۔"دیکھ لینا آنٹی عثمان سہی سلامت گھر آے گا۔آپ مجھے بلانا لازمی جب گھر ْجاے گا صحت یاب ہو کر"آنٹی نے پر امید نظروں سے مجھے دیکھا اور بس اثبات میں سر ہلایا ۔۔ان سے بولا نا گیا۔۔یقیناً ان گلے میں غم کا گولہ پھسا ہوگا۔۔اس کے بعد ہم کچھ دیر بعد واپس آگئے۔۔۔ کیونکہ ایسے سخت ترین حالات میں جب ہقین اور بے یقینی کی کیفیت ہو ۔۔۔چاہے آپ کے پاس سینکڑوں خیر خواہ بیٹھیں ہوں۔۔آپ کا مسئلہ کوِئی نہیں حل کر سکتا۔۔

۔ابو اور بھائی لوگ آچکے تھے ۔ ابو بہت اداس تھے۔۔کیونکہ انکا دوست ان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا کہ یار میری عمر نہی ہے بیٹے کا جنازہ اٹھانے کی۔۔۔اسے تو مجھے کندھا دینا تھا۔۔۔۔معلوم ہوا لڑکے کے سر پر شدید چوٹیں آئیں تھی جس کی وجہ سے فورا کوما میں چلا گیا ۔۔اس کی دھڑکن تیس فیصد سے اوپر نہیں ہورہی تھی۔۔لہذا ڈاکٹرز زیادہ پر امید نا تھے۔۔۔ہم نے اس لڑکے کے لیے بے ساختہ دعا کی۔۔۔جو بھی ہو جوان بچوں کی موت بہت بڑا سانحہ ہوتی ہے۔۔۔

۔کوئی رات کے تین یا چار بجے کے قریب دروازہ پھر بجا۔۔۔ سنگیںن خدشے کی تصدیق ہوگئی کہ عثمان خالق حقیقی سے جا ملا ہے۔۔میت گھر لائی جا رہی ہے۔۔۔۔اور اس کے بعد کیا لکھوں؟؟؟۔۔۔پڑھنے والے بخوبی جانتے ہیں حادثاتی موت کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔کیونکہ ہم سب بھی اپنی زندگی میں کسی نا کسی صورت اس صورت حال سے دو چار ہوتے ہیں۔۔کبھی ہمارے بہت پیارے اس درد سے آشنا کرجاتے۔۔تو کبھی عزیزوں کا واسطہ پڑ جاتا۔۔کبھی جان سے پیارے دوست تو کبھی ہم خود ان حادثوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔۔۔

حادثات زندگی کا حصہ ہیں۔۔انسان ان سے نہیں بچ سکتا۔۔۔لیکن کیا یہ واقعی حادثات ہی ہوتے ہیں یا کچھ ہماری لاپروائی یا کوتاہی بھی شامل ہوتی ہے؟؟؟ جیسا کہ عثمان کے ماں باپ کو تڑپ تڑپ کر روتا دیکھ کر بار بار میرے ذہن میں خیال آتا رہا۔۔۔کاش یہ بچہ ہیلمٹ پہن لیتا ۔۔ تو شاید اس کے سر پر اتنی چوٹیں نا آتیں۔۔اور آج بچنے کے چانس تو ہوتے۔۔۔آپ ایک دن صرف ایک دن ایمرجنسی وارڈ چلے جائیں صبح سے شام تک چپ چاپ زندگیوں کو موت میں بدلتا دیکھیں۔

۔اعدادو شمار کا جایزہ لیں تو ہوش ربا ہونگیں ۔۔زیادہ تر حادثوں میں سرفہرست ایکسیڈنٹ اور کرنٹ لگنے سے موت کے واقعات ہونگیں کیونکہ موت کے علاوہ کوئی آپشن ہی نا بچے گا۔۔۔ ان کی ہسٹری چیک کریں تو ان میں لاپرواہی اور بد قسمتی کا عنصر زیادہ ہوگا۔

موٹر بائک والوں کہ ہیلمٹ نا ہوگی۔۔

کار والوں کے ائیر بیگز نا ہونگیں۔۔

بس ڈرائیورز یا تو نشئی ہونگیں یا ریس لگانے کے نتیجے میں اپنے ساتھ ساتھ کئی لوگوں کو مار بیٹھیں گے۔۔

کافی گھروں سرکٹ بریکر نا ہونگیں۔۔

ناقص وایرنگ

ایسی بہت سی وجوہات مل کر قیمتی جانوں کے زیاں کا سبب بن جاتی ہیں۔

پچھلے دنوں ایمرجنسی وارڈ میں ہی تھی ۔۔ایک انیس بیس سالہ لڑکے کو نیم بے ہوشی کی حالت میں لایا گیا۔ اسکو گھر. پانی والی موٹر سے شدید کرنٹ لگا تھا ۔ اسکے ماں باپ دوست احباب ابتر حالت میں انتظار کی سولی پر لٹکے گیلری میں کھڑے تھے۔۔میں پریشانی سے ان کو دیکھ رہی کہ پتہ نہیں کیا ہوگا۔۔کچھ ہی دیر گزری لڑکے کا اسٹریچر باہر نکال دیا گیا ۔۔اس کے منہ پر سفید چادر تھی ۔۔اگلے لمحے اس کی ماں کی چیخوں سے سارا وارڈ گونج رہا تھا۔۔۔ دل تاسف اور غم سے بھر گیا۔

میں چپ چاپ اندر اپنے مطلوبہ وارڈ میں داخل ہوگئی۔۔کچھ لمحے بعد ایک نرس اندر داخل ہوئی اور ایک طرف بیٹھ کر کام کرنے لگی۔۔۔میں اسکی طرف بڑھی۔۔سلام کرنے کے بعد پوچھا۔۔" یہاں روز کتنی اموات ہوتی ہیں۔۔۔؟"

اس نے مصروف سے انداز میں۔جواب دیا

" ہمم کوئی بیس سے پچیس کے قریب"

میں نے اگلا سوال کیا۔۔"

زیادہ تر اموات کس وجہ سے ہوتی ہیں۔؟"

۔اس نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا " ایکسیڈنٹ ،کرنٹ لگنا ' لڑائی اور خودکشی"

میں کچھ دیر اس کو دیکھتی رہی پھر سے سوال کیا "۔۔آپ لوگ روز یہاں زندگی کو موت میں بدلتا دیکھتے ہیں۔۔کیسا محسوس کرتے ہیں؟؟؟

اس نے حیرت سے مجھے دیکھا۔۔"بہن اتنے برے حالات یہاں دیکھنے کو ملے ہیں کہ سچ پوچھو تو اب کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا دیکھ دیکھ کر عادی ہوگئے ہیں"

میرا تجسس بڑھ چکا تھا۔۔میں نے عادت سے مجبور ہوکر اگلا سوال کیا۔۔"پھر بھی۔۔۔ کیا کچھ ایسے واقعات بھی ہوے جس کی وجہ سے آپ ڈسٹرب رہی ہوں بہت۔۔۔؟"

ان کا کام مکمل ہو چکا تھا اور اب شاید فارغ تھی لہذا اس نے توجہ سے میری بات سنی اور بولی" ہاں۔۔۔چند ایسے واقعات میں نے ضرور دیکھے ہیں یہ خودکشی کے کیس تھے اور ایسے وحشت ناک کہ میرے ذہن میں نقش ہوچکے ہیں اور یاد کرتے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔"

۔۔مجھے اس کی شکل پر خوف اور درد نظر آیا ۔۔میں مکمل یکسوئی کے ساتھ متوجہ ہوئی۔۔" کیا آپ مجھے سنانا پسند کریں گی؟؟؟ دیکھیں میں ایک رائٹر ہوں۔میں اس ٹاپک پر لکھنا چاہتی ہوں۔۔۔اگر آپ مجھے بتائیں گی۔۔اور میں لکھوں گی تو ہوسکتا ہے کل کو کوئی خودکشی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے ۔۔میری وضاحت پر اس نے آمادگی ظاہر کردی ۔۔میرے ساتھ موجود عزیزہ کو جو ڈرپ لگی تھی اس نے دو ڈھائی گھنٹے بعد ختم ہونا تھا ۔۔اور نرس کی تو تھی ہی نائٹ ڈیوٹی ۔۔اس نے پانی کا گلاس پیا اور ۔۔پہلے کیس سے بتانے کا آغاذ کیا ۔۔۔(جاری ہے)

 85