پس تم سوچا کرو … (2)

کٹہرا - خالد مسعود خان

14 جون 2019

Pas tum socha karo

دین اسلام نے حقوق العباد پر جتنا زور دیا ہے دنیا کے کسی اور مذہب میں اس بارے میں اس کاعشر عشیر بھی نہیں پایا جاتا۔ ہمسائے کے اتنے حقوق بیان کئے کہ صحابہؓ نے فرمایا کہ ہمیں ڈر پیدا ہو گیا کہ کہیں اسے ہماری جائیداد میںحصے دار نہ قرار دے دیا جائے۔ جائیداد میں حصہ، ماں باپ، اولاد، بیوی، بہن بھائی اور عزیز و اقارب کے حقوق، ہمسایوں، غریبوں، محتاجوں، یتیموں اور مسکینوں سے سلوک اور معاشرے میں فرد کے حقوق و فرائض۔ انصاف سے لے کر وسائل کی منصفانہ تقسیم تک۔ لیکن کیا کسی نے ان موضوعات پر کبھی زور دیا ہے؟ عبادات کے علاوہ والے فرائض سے کسی نے ہمیں آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے؟ صدقہ و خیرات دینے کے لیے ترجیحی فہرست کے بارے میں کتنے لوگوں کو علم ہے؟ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے علاوہ کن دیگر فرائض بارے سوال ہوگا ہمیں علم ہے؟ قرآن Quran مجید میں جو احکامات ہیں کیا ان پر عمل کرنا فرض نہیں؟ سو ایسے احکامات کی باقی والی فہرست درج ذیل ہے۔

30:۔ جاسوسی نہ کرو۔

31:۔ خیرات کیا کرو۔

32:۔ غرباء کو کھانا کھلایا کرو۔

33:۔ ضرورت مندوں کو تلاش کرکے ان کی مدد کیا کرو۔

34:۔ فضول خرچی نہ کرو۔

35:۔ خیرات کرکے جتلایا نہ کرو۔

36:۔ مہمانوں کی عزت کرو۔

37:۔ نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو۔

38:۔ زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو۔

39:۔ لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو۔

40:۔ صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں۔

-41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو۔

-42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ۔

-43 مذہب میں کوئی سختی نہیں۔

-44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ۔

-45 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ۔

-46 بیوی کے ماہانہ ایام کے دوران اس کے ساتھ شب بسری نہ کرو۔

-47 جنسی بدکاری سے بچو۔

-48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو۔

-49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ لادو۔

-50 نفاق سے بچو۔

-51 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔

-52 منتخب خونی رشتوں میں شادی نہ کرو۔

-53 مرد کو خاندان کا سربراہ ہونا چاہیے۔

-54 بخیل نہ بنو۔

-55 حسد نہ کرو۔

-56 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔

-57 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو۔

-58 گناہ اور شدت میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو۔

-59 نیکی میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔

-60 اکثریت حق کی کسوٹی نہیں ہوتی۔

-61 صحیح راستے پر رہو۔

-62 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو۔

-63 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو۔

-64 مردہ جانور، خون اور سور کا گوشت حرام ہے۔

-65 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیزکرو۔

-66 جوا نہ کھیلو۔

-67 ہیرا پھیری نہ کرو۔

-68 چغلی نہ کھاؤ۔

-69 کھاؤ اور پیو، لیکن اسراف نہ کرو۔

-70 نماز وقت اچھے کپڑے پہنو۔

-71 جو لوگ آپ سے مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو اور انہیں مدد دو۔

-72 طہارت قائم کرو۔

-73 اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو۔

-74 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے۔

-75 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

-76 غربت کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔

-77 جس کے بارے میں علم نہ ہو اس کا پیچھا نہ کرو۔

-78 پوشیدہ چیزوں سے دور رہا کرو (کھوج نہ لگاؤ)۔

-79 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو۔

-80 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی مدد کرتا ہے۔

-81 زمین پر عاجزی سے چلو۔

-82 دنیا سے اپنے حصے کا کام مکمل کر کے جاؤ۔

-83 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو۔

-84 صحیح (سچ) کا ساتھ دو، غلط سے پرہیزکرو۔

85 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو۔

-86 اللہ شرک کے علاوہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔

-87 عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں۔

-88 برائی کو اچھائی سے ختم کرو۔

-89 کسی بے گناہ انسان کا قتل پوری خدائی کے قتل کے مترادف ہے۔

-90 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو۔

-91 دین میں رہبانیت نہیں ہے۔

-92 تم میں زیادہ معزز وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔

-93 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق سے پیش آؤ۔

-94 خود کو لالچ سے بچاؤ۔

-95 اللہ سے معافی مانگو، وہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

-96 جو شخص دست سوال دراز کرے، اسے انکار نہ کرو۔

-97 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔

-98 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے۔

-99 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ۔

-100 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میںگہرائی سے غور کرو۔

یہ سب سوچنے کی باتیں ہیں اور سوچنا عمل کا پہلا زینہ ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا :علم بغیر عمل بیکار ہے اور عمل بغیر خلوص آزار ہے۔

میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلّم ایک روز مکے کی گلیوں میں چلتے چلتے رکے اور مکے والوں کو مخاطب کر کے گویا ہوئے: اے مکے والو! میری بات سنو۔ بدقسمت لوگوں نے اس دعوت پر غور ہی نہ کیا۔ انہوں نے دل میں سوچا کہ یہ تو ہر روز ایسی باتیں کرتے ہیں۔ فخر کائنات صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: آج میں جو بات آپ لوگوں سے کہنے والا ہوں یہ وہ نہیں جو میں پہلے آپ لوگوں کو کہہ چکا ہوں۔ اب لوگ کچھ متوجہ ہوئے۔ پھر رحمت للعالمینؐ نے فرمایا۔ یہ بات میرے نہیں، آپ کے فائدے کی ہے۔ اب راہ چلتے کفارِ مکہ کے کان کھڑے ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: لوگو! یہ بات سننے کے لیے تمہیں رکنے کی ضرورت بھی نہیں۔ تم یہ بات چلتے چلتے سن سکتے ہو۔ انسانی فطرت کے عین مطابق اردگرد چلتے ہوئے سب لوگ رک گئے۔ انہیں اندازہ ہوا کہ بات بہت ہی مختصر ہوگی، تبھی ان کو چلتے چلتے یہ بات سننے کی دعوت دی گئی ہے۔ آپ ؐنے ایک لمحہ توقف کیا، گلی میں رکے ہوئے کفار مکہ پر نظر ڈالی اور فرمایا: ''ثم تتفکرو‘‘ (پس تم سوچا کرو) اور یہ کہہ کر آپؐ وہاں سے تشریف لے گئے۔ کیا ہم (آپؐ کے امتی) سوچتے ہیں؟

 177