کیا بجٹ، کیا بجٹ تقریریں!

اعمال نامہ - ارشاد احمو بھٹی

13 جون 2019

Kiya Budget kiya speech

28فروری 1948سے 11جون 2019تک، غلام محمد سے حماد اظہر تک، 9ہزار الفاظ والی پہلی بجٹ تقریر سے 48صفحات کی 71ویں بجٹ تقریر تک، 10کروڑ 11لاکھ خسارے والے پہلے بجٹ سے 3151ارب خسارے والے 71ویں بجٹ تک، چند بجٹ نکال دیں، باقی سب جھوٹ، دو نمبری، اعداد و شمار کا گورکھ دھندا، سامنے کچھ، پیچھے کچھ، پہلے پھر بھی یہ محنت ہوتی کہ جھوٹ سچ لگے، اب تو یہ تکلف بھی نہیں کیا جاتا، خاص طور پر 1988کے بعد جب میاں، بی بی کی باریاں لگیں، ملک نااہلوں، نکموں کے ہتھے چڑھا، قرضوں، کمیشنوں، کرپشن، لوٹ مار کا دور آیا تو بجٹ، بجٹ تقریریں جھوٹ کا پلندہ ہوئیں، وعدے، خواب، امیدیں سب کاغذوں میں، عملی طور پر مہنگائی، ٹیکسوں کی بھرمار، نتیجہ 2فیصد طبقے کی موجیں ہی موجیں، 98فیصد کی زندگیاں مشکل سے مشکل ۔

باقی چھوڑیں، موجودہ بجٹ پر آجائیں، ہزاروں باتیں کی جا سکتی ہیں، بلکہ پُر مغز گفتگو کے دریا بہائے جا سکتے ہیں مگر فائدہ، جو کچھ بجٹ تقریر میں وہ کچھ اور، جو ہونا، وہ کچھ اور، وہ ملک جس پر 97ارب ڈالر billion dollor کا قرضہ ہو، جس کا ہر سرکاری ادارہ خسارے میں ہو، جہاں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر ہو، زرمبادلہ 10ارب ڈالر billion dollor تک سمٹ چکا ہو، جہاں پچھلے پانچ سال میں ایکسپورٹ میں اضافہ صفر ہو، جہاں منی لانڈرنگ Money laundering ، بجلی، گیس چوری، کرپشن، کمیشن 24 ارب ڈالر billion dollor سالانہ تک پہنچی ہوئی ہو، جہاں پاناما، دبئی لیکس بتائیں کہ ہر بڑے، بااختیار، صاحب حیثیت کا پیسہ باہر پڑا، جہاں کا تاجر ڈاکے مارے، ایکسپورٹر ٹیکس چوری کرے، جہاں کا نظام ایسا، 15کروڑ عوام 42قسم کے ان ڈائریکٹ ٹیکس دیں مگر اس ٹیکس کا 50فیصد پہلی سطح پر، 25 فیصد دوسری سطح پر ہڑپ کر لیا جائے اور حکومت تک پہنچے صرف 10فیصد، مطلب 100روپے میں سے 10روپے، جہاں ٹیکس چوری ایسی کہ 3سو کمپنیاں ملک کے مجموعی ٹیکس کا 85فیصد دے رہیں، جہاں 22کروڑ آبادی والے ملک میں صرف 20لاکھ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والے، چلو 22کروڑ میں سے غربت کی لکیر کے نیچے والے 12کروڑ نکال دیں، باقی رہ گئے، 10کروڑ، اس میں سے مزید 5کروڑ ٹیکس دینے کی استطاعت نہ رکھنے والے نکال دیں، باقی 5کروڑ میں سے ایک کروڑ اور نکال دیں، پھر بھی جہاں 4کروڑ میں سے ٹیکس ریٹرن فائل کریں 20لاکھ، ٹیکس دیں 12سے 14لاکھ، جہاں بجلی کے کمرشل کنکشن رکھنے والے 31لاکھ تاجروں میں سے 90فیصد ٹیکس سسٹم سے باہر ہوں، جہاں صنعتی کنکشن ہوں 3لاکھ 41ہزار مگر سیلز ٹیکس دینے والے ہوں صرف 40ہزار، جہاں ایک لاکھ رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے 50فیصد کمپنیوں کے انکم ٹیکس گوشوارے ہی نہ ہوں، قصہ مختصر جہاں ایک فیصد لوگ پوری ریاست کا بوجھ اُٹھائے بیٹھے ہوں، وہاں گنجی نہائے گی کیا، نچوڑے گی کیا، وہاں کیا بجٹ، کیا بجٹ تقریریں۔

اندازہ کریں، اس سال 30مئی تک، مطلب صرف 5مہینوں میں 15لاکھ 90ہزار 731پاکستانی عمرہ کرنے گئے جبکہ سالانہ ٹیکس دینے والے 12سے 14لاکھ، پھر بھوکے ننگوں کے کیا بجٹ، کشکول والوں کی کیا منصوبہ بندیاں، فقیروں کی کیا معیشت، جو ملک آئی ایم ایف کی ہدایات پر چل رہا ہو، جہاں حتمی بات آئی ایم ایف کی ہو، جہاں ہر دورمیں رضا باقروں، حفیظ شیخوں کے پاس خزانے کی کنجیاں ہوں، جہاں اٹھارہویں ترمیم کی بر کت سے وفاقی حکومت سال کا آغاز 7سو ارب خسارے سے کرے، جہاں صوبے وسائل کا 53فیصد لے رہے ہوں مگر ملکی قرضوں سے ان کا کوئی سروکار نہ ہو، جہاں صوبے وسائل میں حصہ دار مگر مسائل حل کرے مرکز، وہاں کیا بجٹ، کیا بجٹ تقریریں، یہ بھی سنتے جائیے، 70سالوں میں جن 11 سو خاندانوں کی لاٹری نکلی، مطلب جنہوں نے پاکستان Pakistan پر حکمرانیاں کیں، ان میں سے 90فیصد کے بجٹ ہر خسارے سے پاک، ان کے کاروبار مسلسل ترقی کررہے، ان کی نسلیں پاکستان Pakistan سے زیادہ امیر، خوشحال، ہے نا مزے کی بات، ملک چلانے والے امیر سے امیر تر، ملک غریب سے غریب تر، بلاشبہ کرپشن، کمیشن امریکہ United States ، برطانیہ، یورپ میں بھی، قرضے ان ممالک پر بھی، بجٹ خسارے وہاں بھی، مگر ایسی لوٹ مار نہیں، نظام اتنا کرپٹ، یوں پانامے، اقامے، منی لانڈرنگ Money laundering ، جعلی اکاؤنٹس کہانیاں نہیں، وہاں جزا، سزا کا نظام ایسا جو پکڑا گیا وہ انجام تک پہنچا، جس پر الزام لگا اس نے فوراً عہدہ چھوڑ دیا، یہاں جزا، سزا نہ اخلاقیات، رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والوں کی بھی لیڈریاں قائم، ذرا اپنا نظام تو دیکھیں ایک سیدھے سادے کیس میں زرداری صاحب کو گرفتاری تک پہنچتے پہنچتے ساڑھے 4سال لگ گئے، اگر سپریم کورٹ از خود نوٹس نہ لیتی تو عین ممکن 10سال مزید گزر جاتے مگر بات زرداری صاحب تک نہ پہنچتی۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی، ذکر ہو رہا تھا بجٹ کا، ویسے تو آئے روز بجٹ بھگت بھگت کر اب آپ کو بجٹ کہانیوں کی حقیقت حال معلوم پڑھی چکی ہو گی لیکن بات سمجھانے کیلئے عرض ہے کہ ایک گھر، جس کے برتن تک گروی رکھے جاچکے ہوں، جس کے ہر مکین کا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہو، جس کا خرچہ چلانے کیلئے روزانہ ادھار مانگے جاتے ہوں، جس کی چھتیں ٹپک رہیں، دیواریں گر رہیں مگر مرمت کیلئے ایک پیسہ نہ ہو، اس گھر کا کیا بجٹ ہو گا اور کیا بجٹ تقریریں، یہی حال پاکستان Pakistan کا، مگر مایوسی نہیں، یہ سب کچھ بدل سکتا ہے، کیسے؟ ایسے، جزا، سزا کا نظام، امیر غریب کیلئے ایک ہو، قانون بڑے پیٹوں سے بھی مال نکلوانے کے قابل ہوجائے، کرپشن، کمیشن، منی لانڈرنگ Money laundering ، مالی، اخلاقی ہر قسم کی دونمبری ریلوں کے آگے بند باندھ لئے جائیں، ہر ایک ایمانداری سے ٹیکس دے، حکومتیں عوامی پیسہ ایمانداری سے خرچ کریں، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف سمیت ہر قسم کے کشکول سے جان چھوٹ جائے، کام مشکل مگر ناممکن نہیں، اگر یہ ہو جائے تو پھر بجٹ، بجٹ تقریریں سب کچھ بامعنی، ورنہ یہی ہوتا رہے گا کہ سال میں ایک بجٹ ظاہری، سو بجٹ خفیہ، اب تو یہ حال ہو چکا کہ جس دن منی بجٹ کی کوئی قسط نہ آئے، اُس روز سب ایک دوسرے سے پوچھتے پھریں، خیر تو ہے حکومت نے آج کا کام، کل پر کیسے چھوڑ دیا۔

 242