موت کے بعد کا معافی نامہ

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

13 جون 2019

Mout kay bad ka mafi nama

'' ناقص اور جھوٹی من گھڑت اطلاعات پر ہمارے ہاتھوں اسامہ بن لادن اور اس کے خاندان کا قتل ہو گیا۔ آج ہم لادن اور اس کے اہل خانہ سمیت ان کے ساتھیوں کو واپس تو نہیں لایا جا سکتا؛ چونکہ یہ سب کچھ غلط فہمی اور غلط اطلاعات کی وجہ سے ہوا۔ اس لئے اسامہ بن لادن کی موت پر ہم نادم ہیں کہ اس کا امریکیوں کے ہاتھوں بے گناہ خون بہا یا گیا۔ افسوس کہ ہماری وجہ سے ان کی زندگی چھن گئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسامہ بن لادن ہمارا ایک بہترین دوست تھا۔ اس نے روسی کمیونزم کو شکست دینے میں افغان جہاد میں رضا کارانہ طور پر شامل ہو کر امریکہ United States اور تمام مغربی دنیا کی بے لوث خدمت کی۔ اس نے روس Russia اور افغانستان Afghanistan کی کمیونسٹ طاقتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے عرب اور دنیا بھر سے مجاہدین تیار کرنے میں کروڑوں ڈالر اپنی جیب سے خرچ کئے ۔ ہماری بہت بڑی غلطی کی وجہ سے وہ ہم میں نہیں رہے اور بد قسمتی سمجھ لیجئے کہ امریکیوں کے پاس اب سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں ۔امریکہ United States بن لادن خاندان کو اپنے اس جرم پر 18 ملین ڈالر بطورِ تاوان ادا کر رہا ہے۔ امید ہے کہ آپ سب لوگ امریکیوں کو دلی طور پر معاف کرتے ہوئے اسے قبول کر لیں گے۔ امریکہ United States اور اس کی تمام خفیہ ایجنسیاں آپ کے والد اور خاندان کے تمام افراد سے انتہائی شرمندہ ہیں اور آپ سے اپنی غلطیوں اور زیا دتیوں کی معافی چاہتے ہیں ۔ ہمیں حال ہی میں ملنے والی تازہ اطلاعات اوراس پر کی جانے والی تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ اسامہ بن لادن بے قصور تھا۔ اس کا نائن الیون کی دہشت گردی سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ امریکی حکومت اور عوام بن لادن خاندان سے سخت شرمندہ ہے۔ امریکہ United States کو اسامہ بن لادن اور اس کے ان تمام ساتھیوں کے ساتھ اٹھارہ برس میں کی جانے والی زیا دتیوں پر ندامت ہے۔ امریکہ United States سے غلطی یہ ہوئی کہ ایک ایسے شخص کی گواہی کو تسلیم کر لیا‘ جس نے ایک چشم دید گواہ کے طور پر امریکہ United States کو اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کئے‘ لیکن آج وہ گواہ مکمل طور پر اپنے تمام بیانات سے منحرف ہو چکا ہے۔ امید ہے کہ بن لادن خاندان امریکہ United States کو دل سے معاف کر دے گا۔ اس کیلئے ہم مستقبل میں ان کی ہر طرح سے مدد کرنے کو تیار ہیں‘‘۔

نائن الیون کے 18 سال بعد اچانک امریکی سی آئی اے سمیت ایف بی آئی ‘ پینٹاگان اور برطانوی MI6 نے ایک مشترکہ رپورٹ تیار کرنے کے بعد جب اسے وائٹ ہائوس کے مکین مسٹر ٹرمپ کے سامنے رکھا‘ تو اس رپورٹ کو پڑھتے ہوئے ان کے اوسان خطا ہو گئے۔ دو گھنٹے سے زیا دہ جاری رہنے والی اس میٹنگ میں جب امریکی صدر کو تمام تفصیلات اور ان کے شواہد دکھائے گئے‘ تو کچھ لمحے چپ رہنے کے بعد فیصلہ ہوا کہ بن لادن خاندان کو امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے معذرت کا خط لکھنے کی بجائے یہ فریضہ سی آئی اے کو نبھانے کا کہہ کر میٹنگ برخواست کر دی جائے اور پھر وہ خط تیار کیا جانے لگا‘ جس کے مندر جات کو کئی بار درست کرنے کے بعد اس پر ڈائریکٹر سی آئی اے Gina Haspel نے دستخط کرنے کے بعد ایک خصوصی نمائندے کے ذریعے بن لادن خاندان کے حوالے کیا اور یہ خط گزشتہ بدھ کو لکھا گیا‘ جس میں بن لادن خاندان سے انتہائی معذرت خواہانہ انداز میں اسامہ بن لادن پر نائن الیون کو ہونے والی دہشت گردی کے احکامات اور پس پردہ تیاری میں مدد دینے جیسے الزامات پر پینٹاگان اور ٹریڈ سینٹر پر طیاروں کو ہائی جیک کراتے ہوئے دہشت گردی کے جھوٹے الزمات عائد کئے۔ اس خط میں لکھا گیا ہے کہ اختیار کئے گئے غلط اندازوں کو سی آئی اے سمیت امریکہ United States اور برطانیہ کے جاسوسی اداروں کی جلد بازی قرار دیتے ہوئے اسامہ بن لادن کے بارے دیئے گئے تمام احکامات کو آج سے واپس لیا جاتا ہے۔ امریکی سی آئی اے کو اپنے کئے گئے ان تمام اقدمات پر انتہائی دکھ اور افسوس ہے کہ ایک ایسے انسان اور اس کے خاندان کے علا وہ اس کے دوستوں کو بے گناہ ہلاک کرنے کے علا وہ ان پر برسوں عرصۂ حیات تنگ کئے رکھا۔جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے ‘کم ہے۔ افسوس کہ ہم اس گزرے وقت کو واپس نہیں لا سکتے ‘جس کا ہمیں افسوس رہے گا۔امریکہ United States کی بد حواسیاں کہہ لیں یا گھر بیٹھے مفروضے یا پھر دنیا بھر کے افراد کی زندگیاں بر باد کرنے کا شغل ‘ آج اسامہ بن لادن کے خاندان سے معذرت کرتے ہوئے انہیں اٹھارہ ملین ڈالر بطور ہرجانہ ادا کیا جا رہا ہے‘ جبکہ تین ماہ قبل یکم مارچ2019ء کو اسامہ کے بیٹے حمزہ بن لادن کی گرفتاری پر ایک ملین ڈالر کا انعام رکھتے ہوئے سعودی حکومت کو مجبور کیا گیا کہ اس کی سعودیہ کی شہریت منسوخ کی جائے۔

اسامہ کے بیٹے نے امریکی حکومت کو خط لکھتے ہوئے درخواست کی تھی کہ اسے اس کے والد اسامہ بن لادن کی موت کا'' ڈیتھ سرٹیفکیٹ‘‘ جاری کیا جائے‘ جس پر امریکی حکومت نے ریاض میں اپنے سفارت خانے کے قونصل جنرل گلن کائزر کے دستخطوں سے9 ستمبر2011ء کو خط لکھا کہ ہم یہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے مجاز نہیں۔امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی نے‘ جس چشم دید گواہ کے بیانات اور ثبوتوں کی بنیاد پر القاعدہ اور اسامہ بن لادن کو دہشت گرد قرار دیا‘ آج اس گواہ نے اپنے تمام بیانات اور ثبوتوں سے لا تعلقی اعلان کر دیا ہے اور سی آئی اے نے اس کے ان بیانات کی مکمل تحقیق کی‘ اس کے ایک ایک پہلو کا جائزہ لیا‘ دنیا کی جدید ترین جھوٹ اور سچ پکڑنے والی مشینوں کے ذریعے اس کے متعدد ٹیسٹ بھی کئے اور بالآخر سب کو تسلیم کرنا پڑا کہ یہ شخص ‘جو امریکہ United States کے پاس واحد چشم دید گواہ کے طور پر ثبوت تھا۔ آج سب کے سامنے اپنے تما م سابقہ بیانات اور شواہد سے منحرف ہو چکا۔ افسوس کہ یہ ہم سب امریکیوں کو بیوقوف بناتا رہا۔وائٹ ہائوس اور سی آئی اے اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ نائن الیون کی دہشت گردی صرف زکریا موسوی کی پلاننگ تھی ۔آج امریکہ United States کے پاس ساتھ ہاتھ ملنے کے اور کچھ نہیں ۔کاش کہ ہم اسامہ بن لادن اور اس کے خاندان کے ان تمام افراد کو واپس لا سکتے‘ جو امریکی غلط فہمی اور جلد بازی کی وجہ سے اپنی قیمتی زندگیوں سے محروم کر دیئے گئے۔

زکریا موسوی Zacarias Moussaoui فرانسیسی شہری تھا‘ جو30 مئی1968ء کو فرانس میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین کا تعلق مراکش سے تھا۔ اس پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ ٹریڈ سینٹر کی طرح وائٹ ہائوس کو ٹارگٹ کرنا چاہتا تھا۔ زکریا موسوی یکم اگست کو فلائٹ ٹریننگ سکول میںداخل ہوا‘ جہاں نائن الیون سے25 روز قبل امریکہ United States میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور ایف بی آئی کے ایجنٹس اس سے بار بار سوال کرتے رہے کہ وہ'' جمبو جیٹ جہاز اڑانے اور اس سے متعلق معلومات اور تربیت کس لئے حاصل کر رہا ہے؟‘‘15 اگست2001ء کوMinnesota میں فلائٹ سکول کے انسٹرکٹر نے ایف بی آئی کو مطلع کیا کہ پوری کلاس میں صرف یہی ہمہ وقت پوچھتا رہتا ہے کہ جہاز کو کس طرح ٹیک آف اور لینڈ کیا جاتا ہے۔ اس طرح مجھے یہ شخص مشکوک لگتا ہے۔ ایف بی آئی نے فیصلہ کیا کہ اس شخص کو واپس فرانس بھیج دیا جائے اور اس کیلئے وہ فرانسیسی حکومت کو یہ خط بھی لکھنے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ اس کے گھر کی اچھی طرح تلاشی لی جائے ۔ایف بی آئی کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ابھی اس کو ڈی پورٹ کرنے اور فرانسیسی حکومت کو خط لکھنے کیلئے مطلوبہ کاغذات کی تیاریاں کی جا رہی تھیں کہ نائن الیون ہو گیا؛ اگر یہ خط لکھ دیا جاتا‘ تو شاید یہ سب کچھ نہ ہوتا۔

 493