ایک اور بجٹ مگر کچھ نہیں!!!!!!!

Hamza Meer

12 جون 2019



ایک اور بجٹ مگر کچھ نہیں!!!!!!!

کالم نگار:حمزہ میر!!!!!!

جوں ہی جون کا گرم ترین مہینہ آتا ہے بجٹ کی آواز ہر طرف گونجنے لگ پڑتی ہے کیونکہ حکومتی نیا سال جون سے شروع ہوتا اس لیے اس مہینے کی اہمیت اپنی ہے ماضی کی طرح اس سال بھی جون کے مہینے میں مالی سال 2020-2019 کا بجٹ پیش کیا گیا اور یہ بجٹ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے پیش کیا اور شروع میں بتایا کہ پاکستان Pakistan کا پہلے بیرونی قرضہ تقریبا 97 ارب ڈالر billion dollor تھا لیکن اب آئی-ایم-اف کے پاس جانے سے یہ قرضہ 106 ارب ڈالر billion dollor ہو گیا ہے اسٹیٹ بینک کے فارن reserves کم ہو کر 10 ارب ڈالر billion dollor ہو گئے ہیں-عالمی سطح پر تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر billion dollor تک پہنچ گیا ہے لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا بس اتنا کیا گیا ہے کہ شبر زیدی کو آئی-ایم-اف سے اٹھا کرلے آئے ہیں حفیظ شیخ کو بھی لے آئے ہیں- وزیر موصوف نے بتایا کہ اس سال کے بجٹ میں برآمدات میں اضافے کے لیے درآمدات پر مزید ٹیکس لاگو کیا گیا ہے لوگوں کو ماضی کی طرح ٹرک کی بٹی کے پیچھے لگایا گیا ہے کہ آسان قرضے دیے جائیں گے چین China سے 313 اشیا کی درآمد کو ڈیوٹی فری بنانے کا پلان کیا گیا ہے-سول حکومت کے اخراجات 460 ارب سے کم ہو کر 437 ارب ہو گئے ہیں دفائی بجٹ ماضی کے بارابر ہے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا 1150 ارب ہی رہے گا- کم بجلی استعمال کرنے والے لوگوں کو سبسڈی دئی جائے گی، لوگوں کو صحت کارڈ دیے جائیں گے 42 اضلاح کے 32 لاکھ غریب خاندانوں کو صحت کارڈ دیے جائیں گے ، صحت، تعلیم اور پانی کے لیے 93 ارب روپے رکھے گئے ہیں- ایک اچھا اقدام مزید کیا گیا کہ قومی ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا گیا قومی ترقیاتی بجٹ سے مراد سڑکیں، پل ، معاشی ترقی ہے اس کے لیے 1863 ارب روپے رکھے گئے ہیں- مختلف ڈیمز کے لیے 70 ارب روپے رکھے گئے ہیں- کسان پھر مر گیا ہار گیا زراعت کے لیے صرف280 ارب روپے رکھے گئے ہیں- صنعتی شعبہ میں روزگار کے لیے بجلی اور گیس پر 40 ارب کی سبسڈی دی گئی ہے- منی لانڈرنگ Money laundering کے لیے نیا قانون بنایا گیا ہے- سرکاری ملازمین کی تنخواوں میں اضافہ کیا گیا ہے- کم سے کم تنخوا 17،500 مقرر کر دی گئی ہے، آلو، پیاز، سبزی، پھل سب پر ٹیکس عائد عام الفاظ میں مہنگی، چینی 3.25 روپے فی کلو مہنگی جہاز مافیا زندہ باد، سیمنٹ 2 روپے فی کلو مہنگا، کھاد سستی کر دی گئی ہے، آٹا مہنگا چاولوں کا 50 کلو کا تھیلا 7000 روپے کا ہو گیا گھی، آئل مہنگا سیگرٹ کی فی ڈبی 10 سے 14 روپے مہنگی کر دی گئی ہے ، کولڈڈرنک پر 13.5 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے 17٪ سیلز ٹیکس فکس کر دیا گیا ہے نان فائلز کو سہولت دی گئی ہے نان فائلرز 50 لاکھ سے اوپر کی بینک ٹرانزیکشن بھی کر سکتے ہیں اور پراپرٹی بھی خرید سکتے ہیں –

مختصر یہ کہ غریب کا اس بجٹ کے بعد زندہ رہنا بہت مشکل ہے مڈل کلاس بھی مشکلات کا شکار ہونے والی ہے امیر کو قوائد ہی قوائد ہیں کیونکہ مڈل کلاس کے لیے مہنگائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس نے اپنی ضروریات ایک خاص رقم کے اندر رہتے ہوئے پوری کرنی ہیں ہائے رے بجٹ ہائے رے بجٹ--

 38