عقابوں کے پر اور نشیمن

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

12 جون 2019

Aqabon kay par nasheen

9 جون1982ء کو جنگ شروع ہوتے ہی اسرائیلی ائیر فورس نے شامی فوج کو روس Russia کے مہیا کئے گئے زمین سے فضا تک مار کرنے والے 29 سام میزائل بیٹریز کو حرکت میں لانے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔ ابھی ان روسی ساختہ سام میزائلوں کے شعلے اٹھے ہی تھے کہ اسرائیلی ائیر فورس کے دوسرے سکواڈرن نے شامی ائیر فورس کے100 فائٹر طیاروں کو ان کے ہوائی اڈوں سمیت نیست و نا بود کردیا اور جنگی تاریخ کا سب سے حیران کن باب تحریر کرتے ہوئے اسرائیلی ائیر فورس اپنا مشن مکمل کرتے ہوئے تمام جہازوں سمیت صحیح سلامت اپنے ائیر بیس پر اتر نے میں کامیاب ہو گئی۔ کس قدر حیران کن ہے کہ 29 سام میزائل بیٹریز اور شامی ائیر فورس کے دس بیس نہیں ‘بلکہ ایک سو جنگی طیارے ‘اسرائیلی ائیر فورس نے زمین پر کھڑے شامی طیاروں کو بطخوں کی طرح زمین بوس کر دیا۔ جیسے ہی یہ خبر مختلف ٹی وی چینلز پر آن ائیر ہوئی ‘ دنیا بھر میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ کوئی یقین کرنے کو تیار ہی نہیں ہو رہا تھا‘ لیکن جب اسرائیلی وزارتِ دفاع نے ایک پریس کانفرنس میں اور دنیا بھر کے میڈیا نے شام میں اپنے کیمروں کی آنکھوں سے یہ تباہی کے منا ظر دکھانے شروع کئے تو یقین کرنے کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہ رہا ۔

دنیا بھر کے دفاعی ماہرین اور جنگی وقائع نگار حیران تھے کہ یہ وہی اسرائیلی ائیر فورس ہے اور اس کے مقابلے میں مصر اور شام کی وہی ائیر فورس تھی‘ جس نے1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلی ائیر فورس کوایسے ناکوں چنے چبوائے کہ اسرائیل کی فوجی قوت اور اس کی فوج اور ائیر فورس کا سارا غرور و تکبر جھاگ کی طرح ہوا برُد ہو گیا تھا۔ اسرائیل کے کئی طیارے اڑنے سے پہلے ہی اپاہج کر دیئے گئے اور جو مقابلے میں آئے‘ وہ اپنا سب کچھ گنوا کر راکھ بن کر بکھر گئے ۔اس وقت دانتوں میں انگلیاں دبائے ہر کوئی یہی سوال کر رہا تھا کہ ایساکیا ہوا کہ 1973ء میں شامی ائیر فورس کے ہاتھوں ملنے والی عبرتناک شکست کو ابھی گیارہ سال بھی نہیں ہوئے کہ اسرائیلی ائیر فورس نے شامی فوج کا غرور سمجھے جانے والے سام میزائل بیٹریز اور روسی طیاروں کو منٹوں میں تہس نہس کر کے رکھ دیا۔

پلوامہ Pulwama میں ہونے والے خود کش حملے کا بدلہ چکانے کیلئے 27 اور28 فروری کو پاکستان Pakistan پر سرجیکل سٹرائیک کی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں انڈین ائیر فورس کی پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں ہونے والی مر مت سے بھارت India ہمہ وقت کسی خارش زدہ کتے کی طرح تلملاتا پھر رہا ہے اور اگر کوئی سمجھ رہا ہے کہ نریندر مودی narendra modi اپنی کمر پر پاکستانی ائیر فورس کی پڑنے والی اس لات کو بھول جائے گا تو یہ ذہن سے نکال دیجئے‘کیونکہ وہ اس کا بدلہ چکانے کی پوری کوشش کرے گا ۔نریندر مودی narendra modi دوبارہ بھر پور کامیابی کے بعد پہلے سے بھی زیا دہ خطرناک ثابت ہو گا اور وہ اسی دن سے جب اس کے جدید مگ طیارے پاکستان Pakistan کی ٹھوکروں سے اوندھے منہ زمین پر گرتے ہوئے دنیا نے دیکھے‘ وہ مناظر اس انتہا پسند ہندو راشٹریہ سیوک سنگھ کے کارکن کی آنکھوں میں کانٹوں کی طرح چبھ رہے ہیں اور وہ انتظار میں ہے کہ کب وہ وقت آئے‘ جب وہ پاکستان Pakistan سے اس بدلہ لے ‘جس طرح اسرائیل نے جون1982 ء میں شامیوں سے لیاتھا۔

1982ء کی شام سے ہونے والی اسرائیل کی اس مختصر سی جنگ میں حیران کن طور پر مصرکو اس نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘ کیونکہ امریکہ United States کی سربراہی میں وہ مصر کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ کی یخ بستہ سردی میں خوش ذائقہ کافی پی چکا تھا۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جس قدر بھر پور طریقے سے نریندر مودی narendra modi نے 2019ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے‘ وہ راشٹریہ سیوک سنگھ کے منشور مہا بھارت India کے مینڈیٹ کے ساتھ دوبارہ اقتدار حاصل کر چکا ‘ اب اس کا سب سے پہلا نشانہ پاکستان Pakistan ہو گا۔ اس لئے پاکستان Pakistan کو اس طرح چوکنا اور خبردار رہنا ہو گا کہ ایک ہلکی سی اونگھ بھی اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے ‘ لہٰذااسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

1973ء میں مصر اور شام کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد اسرائیل گیارہ برس تک اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا احتساب کرتا رہا۔ سب سے پہلے اپنی اس خامی پر قابو پایا‘جس کی وجہ سے اس کی ائیر فورس کو دشمن پر جھپٹنے کا موقع ہی نہ مل سکا تھا اور وہ سب سے بڑی خامی تھی surprise attack‘جس میں وہ مار کھاگیا۔ اس وقت تک اسرائیلی ائیر فورس کو وہ مہارت ہی حاصل نہیں تھی کہ جنگ شروع ہوتے ہی سرپرائز اٹیک کرتے ہوئے شامی فوج کو سنبھلنے سے پہلے ہی اس کی ائیر فورس کو زمین بوس کر دیتا۔جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بھارت India امریکہ United States اور اسرائیل ایک ہمسایہ مسلم ملک کی مدد سے 2025 ء تک پاکستان Pakistan کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کیلئے اس کا گھیرائو کئے ہوئے ہیں‘ تو ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ہم اپنی آخری گولی اور آخری ہتھیار کو بطخ کی طرح دشمن کا شکار ہونے کی بجائے اسے surprise attackدینے کیلئے ہمہ وقت الرٹ رہیں ۔

آرمی افسران کی تنخواہوں اورا لائونسز کو دفاعی بجٹ میں کمی کے نام سے منجمد کرنا ایسا ہی ہے‘ جیسے کسی بھی انجن کا موبل آئل کم کر دیا جائے۔ یہ مثال سب کو عجیب سی لگے گی ‘لیکن افسران کی مراعات میں کمی کرتے ہوئے کسی کو ایک لمحے کیلئے بھی خیال نہیں آیا کہ پٹرول کی آج کیا قیمت ہے؟خدا کا واسطہ ہے‘ وزیر اعظم Prime Minister صاحب !اس وقت ہماری آدھی سے زیادہ فوج بلوچستان‘ وزیرستان کے پی کے اور سرحدوں پر تعینات ہے اور وہاں تعینات افسران کو ملنے والی تنخواہوں سے دو جگہ اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں ‘ یعنی حالت جنگ میں اپنی پوسٹنگ والی جگہ پر اور دوسرے اپنے گھر میں‘ جہاں ان کے اہل خانہ رہ رہے ہیں۔جناب وزیر اعظم Prime Minister !ایک طرف اراکین قومی و صوبائی اسمبلی‘ وزراء اوران گنت کمیٹیوں کے اراکین اور پارلیمانی سیکرٹریز کی تنخواہوں میں چار گنا اضافہ اور دوسری جانب محاذ جنگ پر اپنی جانوں کے نذرانے دینے والوں کی تنخواہوں پر بندش‘یہ کہاں کا انصاف ہے۔

جناب وزیر اعظم Prime Minister ! اس فیصلے کو واپس لیتے ہوئے فوری طور پر بریگیڈیئر کے عہدے تک کے افسران کی تنخواہوں میں اضافہ اور حاصل تمام الائونسز کو بحال کیا جائے ۔شاید آپ کو کسی نے بتانے کی کوشش نہیں کی کہ سیکنڈ لیفٹیننٹ سے بریگیڈیئر تک خاندانوں کی کچن سے تعلیم اور دوسری ضروریات پر اٹھنے والے اخراجات وقت کے ساتھ کس طرح بڑھتے جا رہے ہیں۔ بچت کے نام پر یا بجٹ کے حوالے سے ‘اگر ہمارے ان فوجی افسران کے جسموں کی قربانی کے علا وہ ان کی تنخواہوں کی قربانی ضروری ہے تو پھر جناب والا! فوجی افسران ہی کیوں؟ تمام اراکین ِاسمبلی کو ملنے والے بھاری مشاہرے‘ ہوائی سفر کے مفت ٹکٹ‘ پانی ‘بجلی سمیت گیس اور ٹیلیفون کی مفت سہولت میں بھی کمی کی جائے ‘ ہزاروں کی تعداد میں ملک پر حکومت کرنے والے سی ایس ایس اورتمام پی سی ایس افسران کی تنخواہوں کو بھی منجمد کر دیا جائے ‘کیونکہ قوم اور ملک کی معیشت کو سنبھلانے کیلئے فوجی افسران کے ساتھ ساتھ پوری قوم کو بھی اجتماعی طور پر قربانی دینا ہو گی۔

سورۃ الانفال میں حکمِ خدا ہے(ترجمہ) '' اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے زیا دہ سے زیا دہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے‘ ان کے مقابلے کیلئے مہیا رکھو‘ تاکہ اس کے ذریعے اﷲ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے دشمنوں کو خوف زدہ کرو‘ جنہیں تم نہیں جانتے... ‘‘جناب وزیر اعظم Prime Minister !آگے بڑھیے اور اس بجٹ میں عقابوں کے پر اور نشیمن Yemen پہلے سے بھی مضبوط کیجئے !

 94